استعانت، انسان دوستی اور وبا کا دور —-احمد جاوید

0

یہ ہول اور خوف کا وقت جب مسلط ہوجائے، یعنی بے بسی کا ماحول پیدا ہو جائے اور آدمی میں بالکل جیسے اپنے اوپر اعتبار سا اٹھ جائے، کہ میں کچھ کر سکتا ہو ں، تو ایسے موقعوں کی ایک بہت گہری افادیت ہوتی ہے اور وہ افادیت یہ کہ بندگی کےلئے عاجزی کے جس جوہر کا ایکٹو ہونا ضروری ہوتا ہے، وہ جوہر کسی کوشش، محنت اور مجاہدے کے بغیر خودبخود بیدار ہوجاتا ہے۔ تو اس (کرونا کی عالمی وبا) کے وقت کا فائدہ اٹھائیں اور عاجزی کے اس جوہر کی طرف نظر کریں، جو ان حالات کی رعایت سے ان شاءاللہ حالت بیداری میں ہوگا۔ یہ کرنے کے بعد، یعنی اللہ کا بندہ بننے کی جو سب سے بڑی نفسیاتی قوت ہے، یعنی اس کے حضور میں عاجزِ محض ہوجانا اور اس عاجزی کو، اس مطلق عاجزی ہی کو اپنی سب سے بڑی قوت سمجھنا۔ کیونکہ اہل ایمان کا جو تصور قوت ہے، جو نظریہ طاقت ہے، وہ یہی ہے کہ جتنا اللہ کے حضور میں عاجزی بڑھے گی، اتنا اتنا اپنے نفس اور اپنی دنیا پر پر تصرف بھی بڑھے گا۔ ہمارے ہاں قوت کی کی پوری ڈیفینیشن یہی ہے کہ اللہ کے حضور میں عاجزی کی دولت کے میسر آجانے کے نتیجے میں اس اختیار کا بیدار ہو جانا، جو نفس پر بھی تصرف کرکے اسے حالت تزکیہ میں رکھتا ہے اور دنیا پر بھی تصرف کر کے اسے احوالِ سلامتی میں رکھتا ہے۔ یعنی کہ انسان کا کام یہ ہے، وہ انسان جس نے اللہ کو، اپنے مالک کو، اپنے معبود کو مان لیا، اس کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کو بھی ہر آلودگی سے پاک رکھے اور اپنی دنیا کو بھی ہر کھوٹ سے، ہر دھوئیں سے، ہر پولیوشن سے صاف رکھے۔ تو دنیا میں پولیوشن پھیلانا گویا چیزوں پر عرصہ وجود تنگ کرنا ہے اور نفس میں آلودگی ٹھونسنا، نفس میں آلودگی کے پھہلاؤ پر راضی رہنا، گویا ہم جس وجودِ حقیقی کے امیدوار ہیں، اس وجود حقیقی کو پانے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی ہوتے دیکھ کر ان سے راضی رہنا ہے۔

تو خیر مطلب یہ تھا ہم اتنے ہی طاقتور ہیں، جتنا اللہ کے حضور میں جھکے ہوئے ہیں، عاجز ہیں۔

تو تکلیف، آرام، مصیبت، راحت ؛یہ سب اللہ کی نشانیاں ہیں اور اللہ کی وہ نشانی بہت بڑی ہوتی ہے جو آفاقی سکیل پر ہو۔ وہ نشانی، ہر طرح کی نشانی، چاہے وہ ہمارے باطن میں ہو چاہے، وہ ہمارے باہر میں ہو، ہر نشانی چاہے وہ ہمارے لیے تکلیف دہ ہو یا آرام کا سبب ہو، چاہے وہ ہم مانگتے ہوں چاہے ہم اس سے بھاگتے ہوں، دونوں طرح کی نشانیوں میں اللہ سے تعلق کو بہتر بنانے کا موقع چھپا ہوا ہوتا ہے، خداداد موقع۔ تو عقلمندی یہی ہے کہ آدمی ان مواقع سے فائدہ اٹھائے، آئے تو تکلیف کو رائیگاں نہ جانے دیں، آرام کو ضائع نہ ہونے دیں۔ تو یہ وقت تکلیف کا ہے، یہ وقت خوف کا ہے، یہ وقت پریشانی کا ہے، یہ وقت بے بسی کا ہے، اس سب میں گویا ایک مدد چھپی ہوئی ہے، کہ اے لوگو! تم نے جو ہماری بندگی کے بنیادی تقاضے کو پورا کرنے میں مسلسل غفلت اور کوتاہی کا مظاہرہ کیا ہوا تھا، اس زحمت کے پردے میں چھپی ہوئی ہماری اس رحمت کو دیکھ کر اس کی طرف لپکو، اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اپنی اختیاری کمزوری، اپنی بے وفائی کے سب سے بڑے ثبوت کو ختم کر دو، ہم آج بھی تمہاری توبہ کو قبول کرنے پر آمادہ ہیں آج بھی چاہو تو یہ رکھی ہوئی ہے وہ عاجزی، جس کے بغیر بندگی کے کوئی معنی نہیں۔ یہ رحمت کتنی بڑی ہے، کہ ایک وائرس کے آگے عاجز ہونے کا تجربہ مجھے اللہ کے آگے عاجز ہونے کی تربیت دے رہا ہے، تو اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہیے، دل کو شکر گزار کر کے، نفس کو تائب بنا کر، نفس کو استغفار میں رکھتے ہوئے، دل کو تشکر میں رکھتے ہوئے، آپ بھی اس کی طرف لپکو۔ تو ان شاءاللہ ہر آدمی، ہم میں سے ہر شخص اپنی اس کھوئی ہوئی متاع کو پالے گا، جس کو کھونے میں خود اس کا اپنا ہاتھ تھا، جسے اس نے گنوا دیا تھا اپنے اختیار سے، اپنی مرضی اور اپنی خواہش سے۔ تو اتنے بڑے جرائم کی معافی مل جاتی ہے تکلیف اور مصائب کے اوقات میں، بشرطیکہ آدمی بالکل ہی ہٹ دھرمی اور سرکشی اور غفلت کو اپنا شعار بنانے پر ضد نہ کرے۔ یہ جو عاجزی ہے، یہی دین ہے۔ بندگی دین ہے، دین عاجزی ہے اللہ کے حضور۔

دین دو چیزوں کا مجموعہ ہے، یعنی قرآن کئی مواقع پہ کہتا ہے نا، کہ اللہ کے لیے لئے دین کو خالص کرو۔ جہاں جہاں یہ کہتا ہے، لگتا ہے کہ یہ ایسا حکم ہے جس کی خلاف ورزی کی ادنیٰ سی رخصت بھی وہ کسی کو نہیں دے گا۔ یعنی اللہ کے لیے اپنے دین کو خالص کرو، یہ ایک ایسی آواز ہے جس کے اگر ہزار مطالبات ہیں تو وہ ہزار میں سے ایک مطالبے کو فوت کرنا بھی معاف نہیں کرے گا ، مطلب اس حکم میں ایسا شکوہ، ایسی گونج ایسی یونیورسیلٹی، ایسا تحکم ہے۔ تو دین کو خالص کرنا، کیا مطلب ہے، کہ دین کو اس کے مکینیزم، جو اس کا بلٹ ان (فطری) مکینیزم ہے، اس دین کا جو کانٹینٹ ہے، جیسے پانی کا کونٹینٹ نمی ہے، آگ کا کانٹینٹ حرارت ہے، اسی طرح اس دین کا بھی ایک نیچرل کانٹنٹ ہے، ایک ایسنس یعنی جوہر ہے، جس کو اگر نکال دیا جائے، تو اس دین کے کوئی معنی نہیں، وہ جو کانٹینٹ ہے، ہے، وہ ہے عبادت اور استعانت!

ایاک نعبد و ایاک نستعین
 یہ پورا دین ہے، کہ تجھی کو پوجتے ہیں، تجھی کو مدد کے لئے پکارتے ہیں!

 استعانت کا مطلب محض مانگنا نہیں ہوتا، استعانت کا مطلب مدد کے لئے یقین کی کیفیت اور بےبسی کی انتہا پر پہنچ کر کسی کو پکارنا ہے۔ یقین یہ کہ وہ پکار ضرور سنے گا، یقین یہ کہ وہ میری پکار پر خوش ہوگا، یقین یہ کہ اس پکار کے ذریعے سے میں اس سے جو مانگ رہا ہوں، وہ سب دینے پر وہ قادر ہے، بلکہ اسے بن مانگے دینے پر بھی قادر ہے اور یہ بھی یقین کہ نہیں دے گا تو وہ اس کے دینے سے زیادہ میرے لیے مفید ہوگا، کہ جو میں اس سے مانگ رہا ہوں، اگر وہ میرے باربار مانگنے کے باوجود مجھے عنایت نہیں فرما رہا، تو مجھے یقین ہے کہ میری اس دعا اور پکار کو قبول نہ کرنا ہی اس کا زیادہ بڑا احسان ہے مجھ پر، یعنی میرے مطلوبِ عارضی تک مجھے نہ پہنچنے دینا گویا اس کا یہ احسان ہے، جس احسان کی بدولت میں مطلوبِ حقیقی یعنی اس تک پہنچنے کے راستے کو زیادہ ہموار پاؤں گا۔

 مجھے (صحیح) پتہ نہیں، (غالباً) دس سال سے، میں طبعاً، ازروئے تربیت، ازروئے تعلیم، ازروئے مزاج صوفی ہوں۔ میری تربیت، یعنی دیندار بننے میں، اللہ مجھے معاف کرے دیندار ہم کہاں کے، لیکن ویسے کہہ رہا ہوں کہ دین سے قریب لانے میں ساری جو تربیت اور کنٹریبیوشن ہے، وہ تصوف کا ہے اور طبعاً اور مزاجاً میں جیسے تصوف سے مناسبت رکھتا ہوں اور تین سلسلوں کا کا تفصیلی سلوک، کلاسیکل سلوک کر رکھا ہے، محنت کے ساتھ، توجہ کے ساتھ، ذوق کے ساتھ اور ایثار کے ساتھ۔ اور اپنے بڑوں سے یعنی بڑوں سے مراد جنہیں دیکھا، ان سے بھی، جنہیں نہیں دیکھا، جن کے بارے میں مستند ذرائع سے سنا، ان اسلاف سے بھی، یعنی صحابہ سے لے کر اپنے اساتذہ ومشائخ تک، یعنی دینی معنوں میں، بڑائی کے عارفانہ معنوں میں عظمت کے جو مظاہر تھے، ان سب سے والہانہ محبت ہے، جو مطلب سالک بننے کی ضرورت ہے، یہ سب ہوتے دس برس سے زائد عرصہ ہونے کو آرہا ہے، کہ میرے دل کو ایک خوف نے پکڑ لیا اور وہ خوف یہ ہے کہ ہم استعانت کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ہم نے پوجنے کے لیے تو اللہ کو رکھ رکھا ہے، مانگنے کے لیے ہم دوسروں کی طرف دوڑتے ہیں اور غیر اللہ سے استعانت ہماری اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہے، اس نے موجودہ تصوف کے سارے جسم کو ایک خونخوار مگرمچھ کی طرح اپنے جبڑے میں اتنی سختی سے جکڑا ہوا ہے، کہ اس جسد ِتصوف کو، آج کے جسد تصوف کو، جو اس کے جبڑے سے کھینچنے کی کوشش کرے گا، یہ جسد سالم حالت میں نہیں نکل سکت۔ ا تو پورے تصوف کو کھا گئی ہے یہ استعانت میں بے وفائی، تو میں اپنے بس بھر جوش کے ساتھ، جذبے کے ساتھ، حساسیت کے ساتھ، اس سب کو مطلب، طرح طرح سے سے مختلف پرتوں میں، کبھی چھپا کر، کبھی ظاہر کرکے صوفیانہ مجالس اور صوفیانہ حلقوں میں یہ پیغام دیتا آرہا ہوں، دس نہیں شاید پندرہ برس سے کہ خدا کے لئے امر استعانت کی خلاف ورزی نہ کرو۔ خدا کے لئے، یہ شرک، جو شرک فی العبادت کے برابر کا شرک ہے ، اس کا ارتکاب نہ کرو اور خاص طور پر ندا الی لغائب، اس کا کوئی جواز، کوئی تک ہی نہیں ہے۔ تو ان سب سے توبہ کرو، ان سب کو ایک طرف کرو، یہ خیرالقرون کیا، کئی صدیوں تک صوفیا کے ابتدائی سلف تک کے لئے بالکل نامانوس بات ہے، جو آج کل اشغال تصوف کی روح بنا ہوا ہے۔ ہیں توجہ کے عنوان سے، کہیں فیض کے عنوان سے، کہیں کرامت کے عنوان سے، وغیرہ وغیرہ، تو اس میں نہ کرو، اللہ پکڑ لے گا۔ تو اللہ نے پہلے ہی پکڑا ہوا تھا کہ کوئی بھی مقصودِ تصوّف خانقاہوں میں حاصل نہیں ہے، یعنی الاماشا اللہ، کوئی مقصود تصوف، کوئی مقصود تصوف نہیں ہے!

 مقصودِ تصوف ہے، زہد، یعنی دنیا کی محبت سے دل کا ایک سو دس فیصد پاک ہونا، مقصود تصوف ہے سخا، یعنی ساری دنیا اکٹھی ہو جائے تو زیادہ دلچسپی اسے بانٹنے میں ہو، مقصود تصوف ہے حیا، اخفاء کا اہتمام ہو، اپنی نیکیوں کے اخفاء کا اہتمام ہو، مقصود تصوف ہے تواضع، یعنی جس پر نظر پڑے، اس کو اپنے سے بہتر جان، ا مقصود تصوف ہے فتوۃ، کہ نفس کی ہر امارگی کا استقامت سے مقابلہ کرنا اور دنیا میں حق کو مغلوب ہوتے دیکھ کر کر حق کے غلبے کے لئے جہاد کرنا، یہ فتوۃ ہے، یعنی مردانگی۔ تو اب یہ مقصودِ تصوف ہے، تسلیم مقصودِ تصوف ہے، توبہ اللہ کی طرف، اس کے ڈر اور اس کے خوف کو یکجان کر کے مار کھاتے ہوئے چھوٹے بچے کی طرح لپکنا۔

تو میں یہ جانتا ہوں اپنے رابطوں سے، اِن سے اُن سے، کہ یہ سب مقاصد رہ ہی نہیں گئے، نہ یہ تعلیمات میں رہ گئے ہیں، نہ تلقینات میں رہ گئے، نہ نصابِ سلوک میں رہ گئے ہیں۔ کچھ نقشبندی ہیں، تو وہ لطائف ہلنے لگتے ہیں تو واصل سمجھنے لگتے ہیں خود کو، کچھ چشتی ہیں، ان کو قوالی میں وجد آجاتا ہے تو خود کو قربِ حق میں پہنچنے کا وسوسہ پال لیتے ہیں۔

مطلب، ایک عجیب و غریب ہمارے ساتھ شیطان کھیل رہا ہے، صر ف اس غلطی کی وجہ سے کہ ہم نے شرک فی الاستعانت کا ارتکاب کیا ہے اور انسٹی ٹیوشنل ارتکاب کیا ہے، اس ارتکاب کو سلوک کی شرط بنایا ہے۔ بالکل نہیں، اس سب سے توبہ کرو، اللہ سب دیکھ رہا ہے اور ہمیں اور آپ کو کیا فکر ہے، مطلب ہمارے سامنے پورے آپ ﷺ کے معجزات ِ ارشاد موجود ہیں، آپﷺ کی ارشاد یافتہ، ہدایت یافتہ جماعت کے بڑے بڑے حضرات موجود ہیں، ان حضرات کی زندگی پوری روز روشن کی طرح ہے، ان میں کہیں بھی، کسی ایک ذرے کا بھی ثبوت نہیں ملتا استعانت بغیر اللہ کا۔ تو یہاں مطلب فنا فی الشیخ اور فلاں اور ڈھماں۔ شیخ کو وہ مقام دینا، جو صحابہ کو تعلیم کیا گیا رسول اللہ ﷺ کے لیے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ تو بِلا ادھر ادھر دیکھے، مطلب اس موجودہ وارننگ کی آواز سنیں، بلا ادھر ادھر دیکھے سجدے میں گر جائیں کہ یا اللہ اب وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اتباع میں، میری سوئی اور بالکل معمولی چیز بھی اگر کھو جائے اور وہ مجھے چاہیے ہو، تو وہ بھی تجھ سے مانگوں گا۔ تو اللہ نے الوہیت تھوڑی کسی عطا کی ہے، یہ سب فراڈ ہے کہ یہ عطائی چیزیں ہیں، کیا مطلب اللہ اپنی الوہیت کسی کو عطا کردے گا، اللہ اپنا مستعان ہونا اپنے بندوں کو عطا کر دے گا، تو یہ سب چیزوں میں نہ پڑیں اور اللہ سے اب اپنا معاملہ درست کر لیں استغفار کے ساتھ اور استعانت میں اخلاص کے ساتھ، یعنی دین کو خالص کرنے کے حکم پر عمل کرنے کی نیت اور جذبے سے اب یہ طے کر لو، کہ کوئی قادر نہیں، کوئی متصرف نہیں، کوئی ماورائے اسباب تصرف نہیں رکھتا، کوئی تکلیف کو راحت سے نہیں بدل سکتا، کوئی نہیں دے سکتا، کوئی نہیں چھین سکتا، مگر اللہ کے اذن سے اور وہ اللہ کا اذن میری ڈائریکٹ رسائی کا تقاضا کرتا ہے، یعنی اللہ تھوڑی چاہتا ہے کہ میں تھرو پراپر چینل اس کی طرف جاؤں، اللہ تو چاہتا ہے مضطرب کی طرح میری طرف لپکو۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاؤ تو مجھے گویا اپنے سامنے پاؤ۔ تو یہ بہت ضروری ہے، اس میں خیال کریں، اس میں اپنے اوپر بھی تشدد برتیں، سختی کریں اور اس میں کسی بھی طرح کے تعصب، تہذب اور اپنی اپنی روایتوں کی بلاوجہ دفاع اور پاسداری کا کوئی جذبہ نہیں رکھیں اور بس سیدھا سیدھا اللہ سے اپنا معاملہ صاف کریں۔

استعانت میں وسیلہ یہی ہوتا ہے کہ میں کسی کو اچھا سمجھتا ہوں، اسے کہوں کہ میرے لیے دعا کر دو۔ وہ دعا اپنے لیے میں بھی کر رہا ہوں، اس سے بھی کہہ دیتا ہوں، کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ غائب کی دعا جلدی اثر کرتی ہے، یہ بس استعانت میں اگر کوئی واسطہ ہے تو وہ اس طرح کے نیچرل وسائل اور وسائط ہیں۔ ان کو بالکل عقائدی وسائل و وسائط بنا لینا بہت زیادہ ظلم ہے۔ تو میرے خیال میں اگر اللہ ہمیں خیریت سے، سلامتی سے اس وبا سے نکال لیتا ہے، تو یہ وبا گویا مذکر (نصیحت کرنے والی) اور ذریعہ ہدایت بن کر آئی ہو گی، اگر میں اپنی اس مسلسل غلطی ک، مزوری اور کوتاہی کا ازالہ کرنے میں، اس سے ڈر کر ہی سہی، مگر کامیاب ہو جاؤں۔ بھائی وہ اللہ ہے، وہ ان شاءاللہ نہ کہنے پہ نبیوں کو پکڑ لیتا ہے، وہ واضح رکھتا ہے ہر ہر نبی کی دعوت، یعنی ہر ہر نبی، جن انبیاء علیہم السلام کی دعوت قرآ ن میں رپورٹڈ ہے، وہاں تم واضح طور پہ یہ نہیں دیکھتے، کہ سارا دارومدار اللہ پر ہے۔ کیا انبیاء علیہم السلام کے کلام کا تمہیں پتا نہیں ہے، کہ کس طرح وہ اللہ کے حضور اپنی عاجزی کو حدِ کمال پر لے جا کر ایکسپریس کرتے تھے۔ نہیں، اس میں کوئی تاویل نہ کریں، جو محکمات ہوتے ہیں، ان میں تاویل نہیں ہوتی۔ اس کے بغیر توحید خالص نہیں، اس کے بغیر دین خالص نہیں، اس کے بغیر بندگی خالص نہیں، اس کے بغیر ایمان خالص نہیں ہے، اگر استعانت صرف اور صرف اللہ سے نہیں ہے۔

 ایک تو یہ بات کہنی تھی، اور دوسری یہ بات کہنی تھی کہ اس طرح کی آزمائشوں میں، جس نے کافر و مومن، سب کو اپنی لپیٹ میں یکساں طور پر بلا امتیاز لے رکھا ہو، اس میں دو چیزوں کا بہت اہتمام اور خیال رکھنا چاہیے ، عملاً۔

 وہ یہ ہے کہ مواخات ایمانی اور مساوات انسانی !

اللہ نے یہ دو اصول رکھے ہیں، کہ اہل ایمان آپس میں بھائی بھائی بن کے رہیں اور تمام انسان آپس میں برابری کے مراسم رکھیں، تاوقتیکہ اس برابری کا انکار کرنا واجب ہو جائے۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا، جیسے فقہ میں یہ اصول ہے کہ اشیاء کی اصل اباحت ہے، یعنی نیوٹرل زون میں ہیں، جب تک ان کا حرام ہونا شرعاً پتا نہ چل جائے، تو انہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تو اباحت کہتے ہیں، کہ جو حرمت ابھی اس کی واضح نہیں ہے، واضح ہو جائے گی تو چھوڑ دیں گے اور واضح نہیں ہے تو اسے معمول میں رکھیں گے، اس پہ پکڑ نہیں ہے۔ تو انسانوں کے درمیان تعلق کی اصل مساوات ہے، یہ درجہ اباحت ہے، یعنی جب تک اس برابری اور مساوات کا محدود پیمانے پر، کسی خاص گروہ کے لیے انکار کرنے کا حکم نہیں ملے گا، اس وقت تک ایک مسلمان سب انسانوں کو برابری کے رویے کے ساتھ ڈیل کرے گا۔ تو اس برابری کو صرف سچوایشنل احکام متاثر کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پہ وہ اللہ کا دشمن بن جائے، وہ رسول اللہﷺ سے عداوت پیدا کر لے، وہ مسلمانوں پر ظلم کرے، مسلمانوں پہ حملہ کرے، وہ چاہے قوم ہو یا کوئی گروہ ہو یا کوئی شخص ہو، تو وہ میرے لیے مساوی ہونے کے حق سے محروم ہو جاتا ہے اور لائقِ تحقیر بن جاتا ہے۔

واضح ہے نا؟
تو اب جو سچوایشن ہے، اس میں محاربے کی کوئی صورت جو کہیں ہے، تو وہ محدود ہے، عمومی صورت حال یہ ہے کہ ساری انسانیت ایک تکلیف سے گزر رہی ہے، اس تکلیف میں سب انسانوں کی غم خواری اور خیر خواہی اور ان کی مدد پر جتنی قدرت ہو، اس قدرت کو پوری فیاضی کے ساتھ صرف کرنا ضروری ہے۔ تو یہ بھی ایک بڑا موقع مل رہا ہے، کہ مذہبی طبقے میں کچھ کیے کرائے بغیر ایک بلاوجہ کا گھمنڈ اور سب کے لیے نفرت کے جذبے کی پرورش کا پورا نظام موجود ہے۔ وہ خود کچھ کرتے نہیں، کہ چلو کوئی آپ نے بندگی کے اعلیٰ تقاضے پورے کرنے کے بعد ان تقاضوں سے منحرف لوگوں سے، یا محروم لوگوں سے یا غافل لوگوں سے کوئی لڑائی جھگڑا چھیڑ رکھا ہے، چلو وہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن خود بھی کچھ نہیں کر رہے، کہ جس کی بنیاد پر آپ کو کوئی شرف حاصل ہو، خود بھی بندگی کے شرف سے محروم ہیں اور پھر دوسروں کو انسان کی حیثیت سے برابر ہونے کا حق بھی نہیں دے رہے، یہ کیسی سنگ دلی کی بات ہے۔ تو اس وبا میں یہ سبق بھی لینا چاہیے کہ سب اہل ایمان کو آپس میں مؤاخات کی تجدید کرنی ہے، جو کانٹیکٹ میں ہیں، وہ ایک دوسرے کی ہر طرح کی خیر خواہی اور مددگاری کے لیے بالکل آمادہ اور کمربستہ رہیں، اور جو کانٹیکٹ میں نہیں ہیں، ان کے لیے بھائیوں کے سے جذبے کے ساتھ دعا کریں، دعائے حفاظت و سلامتی کریں، یااللہ سب کے جان و ایمان کو سلامت رکھیں، سب کو ہر طرح کے خطرات اور تکالیف سے محفوظ رکھیں

تو یہ جو ہے، یہ تو مؤاخات کا تقاضا ہے۔ لیکن انسانی مساوات کا بھی یہ تقاضا ہے کہ جو مجھ سے محارب نہیں ہے، جس کو میرا دین محارب نہیں کہہ رہا، جو غیر مسلم ہے، مگر محارب نہیں ہے، جو میرے شعائر پر حملہ آور نہیں ہے، تو اس سے انسان کی خِلقی مساوات کے پہلو سے مجھے معاملہ کرنا ہے۔ اس کی خیر خواہی میں حساس رہنا ہے، اس کی ضرورتوں، اس کی تکلیفوں میں، اس کے کام آنے کی ہر ممکن کوشش کرنئ ہے اور اگر وہ میرے کانٹیکٹ یا میرے مقدور سے، یعنی میری استطاعت سے باہر ہے اس کی مدد کرنا، تو پھر اس کے لیے بھی دعا کرنی ہے، کہ یااللہ اپنی ساری مخلوق کو تکلیف سے محرورمرکھ، یااللہ ان کی یہ فوری تکلیف ہے، اسے بھی ان سے دور کر دے، اور یاللہ یہ جو تیری رحمت ہے، جس سے تو ان کی فوری تکلیف ہٹائے گا، اسی رحمت سے ان کی اخروی تکلیف کا بھی پیشگی ازالہ کر دے، انہیں ایمان کی دولت دے دے۔

تو یہ جو انسان دوستی ہے، یہ رسول اللہﷺ کا اسوہ مبارکہ ہے۔ اور اس کا بہت بڑا لارج سکیل پر اظہار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوا ہے۔ کہ جب اسلام ایک بین الاقوامی دین بن گیا تھا ، جزیرہ ۃ العرب سے باہر نکل گیا تھا اور دنیا کی دو سب سے بڑی تہذیبوں پر حاکم ہو گیا تھا، تو اس وقت آپ دیکھتے ہیں کہ کس طرح غیر مسلموں کی کیسی نگہداری کی جاتی تھی، ان کی ضرورتوں کا کیسے خیال رکھا جاتا تھا۔ آں جناب رضی اللہ عنہ کی عدالت میں مسلموں اور غیر مسلموں کے جو جھگڑ ے پیش ہوتے تھے، ان میں سے اکثر اور اکثر سے مراد ننانوے فیصد میں فیصلے غیر مسلموں کے حق میں ہوتے تھے۔ اور جب ایک مسلمان نے شکایت پیش کی کہ یا امیر المومنین آپ نے ہمارے اسلام کابھی خیال نہیں کیا، تو فرمایاکہ اسلام کاا جر تمہیں اللہ دے گا، یہاں میرے لیے سب برابر ہیں۔ یہ الہامی فقرہ ہے حاکمِ وقت کا، انصاف کی نظر، وہ جو حاکم پر واجب ہے، اس کی رو سے سب برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عراق سے فوج نکالنے کی ضرورت پیش آئی ایرانی محاذ کی طرف، تو آپ نے ایک علاقے کے لوگوں کو آزاد کر دیا، آزاد ان معنوں میں کہ اس علاقےکو آزاد کر دیا کہ تم دوبارہ سلطنتِ روما کا، جس سے ہم نے تمہیں فتح کیا تھا، یعنی اپنی ہی عیسائی حکومت کا دوبارہ حصہ بن جاؤ، وہ عیسائی لوگ تھے۔ تو ان کا وفد مدینے آیا، درخواست کی کہ ہمیں پرانی سلطنت میں نہ بھیجیں، ہم آپ کی فوج میں شامل ہونے کو تیار ہیں، اور ہمارا آپ کے اوپر اب کوئی ذمہ نہیں، ہماری حفاظت کا ذمہ آپ کے اوپر نہیں، آپ ہمیں اپنے ساتھ ایران کے محاذ پہ لے جائیں یا جیسے چاہیں رکھیں، لیکن ہمیں وہاں نہ بھیجیں۔ تو یہ کس وجہ سے تھا، مسلمانوں کے حسن سلوک اور عمر رضی اللہ عنہ کی پالیسی کے نتیجے میں تھا۔

 مساواتِ انسانی اسلام کا آئیڈیل ہے۔ یعنی اسلام کا مقصود ہے کہ انسانوں میں خِلقی مساوات تو فطری اصول کے طور سے اللہ کی طرف سے جاری ہے، ان کے درمیان مواخاتِ ایمانی ہو جائے، اسی مساوات کی بنیاد پہ، جیسے رسول اللہ ﷺ نے مشرکینِ عرب کو فرمایا تھا، خاص طور پہ قریش یعنی اپنے قبیلے کو مخاطب کر کے، قرآن میں اس کا ذکر ہے، کہ میں تم سے کچھ نہیں چاہتا، مگر قرابت کی محبت تو چاہتا ہوں۔ یعنی قریش کے مشرکین سے یہ کہنا، کہ میں تم سے قرابت کی طلب رکھتا ہوں، یعنی تم میں قرابت کی وہ محبت دیکھنا چاہتا ہوں، جو میرے اندر ہے۔

تو اس بات کو اچھی طرح سمجھیں کہ مسلمانوں کا تعارف اب سنگ دل لوگوں کی طرح ہونے لگا ہے، ہو سکتا ہے کہ ہمارا یہ رویہ، (یعنی) مساوات ِانسانی کے اسلامی آئیڈیل کو عمل میں لانے کا یہ اہتمام، مسلمانوں کے منفی تعارف کے خاتمے کا سبب بن جائے، جس کی ہمیں بہت زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ مغرب وغیرہ میں ہمارا جو بھی منفی تاثر ہو گا، وہ ہمارے لیے مہلک ہو گا۔ تو ہم اپنے آپ کو اس تہلکے اور پسپائی سے بچائیں گے، اپنے ہی دین کے ایک آئیڈیل کو عمل میں لا کر۔

تسوید کار: بابر نثار، ابو عمر شبیر

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20