پرفکشنزم یا کمال پرستی خوبی ہے یا خامی؟ خبیب کیانی

0

ایک تحقیق کے مطا بق انٹر ویوز کے دوران جب امیدواروں سے یہ سوال کیا جاتاہے کہ ان کی خوبیاں کیا ہیں تو امیدواروں کی ایک بڑی تعداد قابلیت، محنت، لگن کے ساتھ ساتھ پرفکشنزم یا کمال پرستی کا بھی ذکر کرتی ہے۔ عام طور پر کمال پرست افراد کے بارے میں پایا جانے والا تا ثر یہی ہے کہ یہ ہر کام کو انتہائی باریک بینی اور مستعدی سے سرانجام دیتے ہیں۔ ان کی اسی خوبی کی وجہ سے یہ گمان بھی کیا جاتا ہے کہ یہ زندگی کے زیا دہ تر معاملا ت میں کامیاب ٹھہرتے ہیں۔ شاید آپ میں سے کچھ افراد کے لیے یہ بات حیران کن ہو کہ علم نفسیات کے ماہرین کی رائے اس عام تاثر سے قدرے مختلف ہے۔ نفسیات میں تحقیق کے حالیہ رجحانات پرفکشنزم کو خوبی اور خامی دونوں طرح سے سمجھنے کی کوششوں پر مشتمل ہیں۔ یقینا اب آپ کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہو گا کہ پرفکشنزم ایک خا می کیسے ہو سکتا ہے؟۔ آئیے اس سوال کے جواب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر پرفکشنزم کا رجحان کسی فرد کی زندگی کے صرف کسی خا ص شعبے تک محدود ہو اور اس کے نتیجے میں زندگی کے دیگر شعبہ جات میں اس فرد کی کارکردگی کو متاثر نہ کر رہا ہو تو یہ خوبی میں شمار ہوتا ہے اور ایک صحتمندانہ رجحان کہلاتا ہے۔ مثلا اگر ایک کھلاڑی اپنے کھیل میں نکھار لانے کے لیے مسلسل اپنی تکنیک پہ کام کرتا ہے تا کہ وہ اس تکنیک پہ کاملیت کی حد تک عبور حاصل کر لے یا اگر ایک سائنسدان کسی خاص نکتے کو سمجھنے کے لیے ہر ممکنہ زاویے سے اس نکتے کو پرکھ رہا ہو تو یہ دونوں افراد مثبت پرفکشنزم کا رجحان رکھتے ہیں۔ یہا ں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ دونوں افراداپنی اپنی زندگی کے خاص شعبہ جات میں بہترین مہارت کے لیے کوشاں ہیں اور ان کی یہ لگن ان کی زندگی کے دیگرمعاملات پہ قابل ذکرمنفی اثر نہیں ڈال رہی۔ اپنے متعلقہ شعبوں میں یہ دونوں افراد حقیقت پسندانہ اندازمیں چھوٹے چھوٹے اور قابل حصول اہداف کی مدد سے پرفکشنزم کی طرف کوشاں ہیں۔
اب کچھ بات ہو جائے منفی پرفکشنزم کی یا ایسے پرفکشنزم کی کہ جس کو خوبی کے بجائے خامی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ آپ زندگی میں کچھ نہ کچھ ایسے افراد سے ضرور ملے ہوں گے جو بیک وقت زندگی کے بہت سے معاملات میں پرفکشنزم کے حصول کے لیے سر گرداں رہتے ہیں۔ اب ہوتا کچھ یوں ہے کے بیک وقت کئی معاملات میں پرفکشنزم کے حصول کی خواہش ان افراد کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو منتشر کر دیتی ہے۔ یہ افراد غیر حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کرنے کے بعد ان کے حصول میں بری طرح ناکام رہتے ہیں اوریہ بات ان کو پریشانی ، بے چینی اورڈپریشن جیسے مسائل کا شکار کر دیتی ہے۔ انتہائی غیر حقیقت پسندانہ توقعات کی وجہ سے نہ صرف ایساہوتا ہے کہ یہ اپنے بہت سے کام رد کیے جانے کے خوف سے ادھورے چھوڑ دیتے ہیں بلکہ بہت سے کاموں کو جن کو یہ کرنا چاہتے ہیں اور کر نے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں اس خوف سے شروع ہی نہیں کرپاتے کہ یہ کام ان کی پرفیکشن کے معیار پر پورا نہیں اتریں گے۔ یوں یہ اپنے گمانوں کے زیر اثر اپنے بہت سے خوابوں کو کھو بیٹھتے ہیں۔ معروف مصنفہ الزبتھ گلبرٹ کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پرفیکشن دراصل خوف کا ہی دوسرا نام ہے یا یوں کہہ لیجیئے کہ یہ خوف کا ایک فینسی نام ہے جس کے زیر اثر ہم اپنے بہت سے اہم کاموں کو یا تو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں یا پھر کبھی بھی شروع ہی نہیں کر پاتے۔تو اب بتائیے، کیا آپ پرفکشنسٹ یا کمال پرست ہیں؟ اگرہا ں تو امید ہے کہ آپ اپنی ترجیحات کو جانتے ہیں اوراس حقیقت سے واقف ہیں کہ کسی بھی شعبے میں اپنے آپ کواور اپنے کام کو منوانے سے پہلے ہم میں کئی بار خود کو اوراپنے کام کو رد کروانے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ آپ سب کے لیے سلامتی اور کامیابی کی دعائیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: