تاریخ کیسے کام کرتی ہے؟ —— قاسم یعقوب

0

عام طور پرتاریخ کو ماضی کے واقعات کا مجموعہ قرارد دیا جاتا ہے جس میں سماجی اداروں کے جملہ اعمال، اُن کی ابتدا و نشوونما، ترقی و تنزلی کے واقعات درج ہوتے ہیں۔ تاریخ کے اندر وہ سب کچھ ہوتا ہے جو ماضی میں بیت گیا۔ ہم حال میں جاری انسانی سرگرمی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انسانی سرگرمی کوئی ایک واقعہ یا چند واقعات تک محدود نہیں ہوتی۔ تاریخ میں سماجی سرگرمی سے منسلک سب کچھ ہورہا ہوتاہے، جس طرح حال میں کوئی ایک سرگرمی نہیں لاتعداد انسانی سرگرمیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔ ہم حال میں رہتے ہوئے بھی مجموعی منظر نامے کو گرفت میں نہیںلے سکتے ہیں۔ تاریخ بھی ایسے ہی کام کرتی ہے۔ کچھ واقعات سطح پر پیش کرتی ہے اور کچھ واقعات کو پس منظر میں بھیج دیتی ہے۔ تاریخ میں چھپی تہذیبی، سیاسی، معاشی، مذہبی قوتیں اس رَد و انتخاب میں شامل ہوتی ہیں۔ یہ قوتیں ہی ہوتی ہیں جو تاریخ میں موجود انسانی سرگرمی کے چند اعمال سامنے لانے کی اجازت دیتی ہیں اور باقیوں کو حاشیے پہ دھکیل دیتی ہیں۔ بعد میں یہ رَو انتخاب کا جبر مورخ کے پاس آجاتا ہے جس کے بَل بوتے پر وہ تاریخی داستان کی تشکیل کرتا ہے۔

ایڈورڈ ہیلٹ کار (Edward Hallett Carr) نے اپنی کتاب ’’تاریخ کیا ہے‘‘ میں تاریخ کو صرف مورخ کا انتخاب قرار دیا ہے۔ ہیلٹ کار اسے مغالطہ قرار دیتا ہے کہ تاریخ کا کوئی واقعہ حقیقت (Fact) ہوسکتا ہے۔ وہ مختلف واقعات کے سلسلوں کو مورخ کے تعصب (opinion)کے بغیر نامکمل دیکھتا ہے۔ یعنی تاریخ کے وہ حقائق جسے ہم کل تاریخ سمجھ رہے ہیں وہ مورخین کے انتخاب کا نتیجہ ہیں کہ سامنے آ گئے ہیں ورنہ ایسے ہی بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات میں گم پڑے ہیں۔ یہ تاریخ نویسوں نے واقعات کو کچھ اس طرح پیش کیا ہے کہ پوری تاریخ کا بیرونی (Objective) ڈھانچہ بنا کر پیش کر دیا۔ اس کے نزدیک (تاریخ میں )حقائق اُس مچھلی کی طرح ہرگز نہیں ہوتے جو مچھیرے کے سامنے تختے پر پڑی ہوتی ہے بلکہ یہ تو اُس مچھلی کی طرح ہوتے ہیں جوایک وسیع اور ناقابلِ دسترس سمندر میں تیرتی ہے۔ تاریخ نویس اس میں سے کیا پکڑتے ہیں یہ کسی حد تک موقع پر ہی منحصر ہے۔

’’حقائق ہرگز مچھیرے کی سلیب پر پڑی ہوئی مچھلی کی طرح نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک وسیع اور بعض اوقات غیر محدود (رسائی سے باہر) سمندر میں تیرتی مچھلی کی طرح ہوتے ہیں اور (اُس سمندر سے) مؤرخ کیا پکڑتا ہے یہ جزوی طور پر اس بات پہ منحصر ہے کہ اُس کو کیا موقع مِلا۔ لیکن بنیادی طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ وہ مچھلی پکڑنے کے لیے سمندر کے کون سے حصے کا انتخاب کرتا ہے اور کس دائو پیچ کا انتخاب کرتا ہے۔ ان عوامل کا فیصلہ یقیناً مچھلی (حقائق) کی قسم کرے گی جو وہ (مؤرخ) پکڑنا چاہتا ہے۔ مجموعی طور پر مؤرخ حقائق کی وہ قسم حاصل کرے گا جو وہ چاہتا ہے۔ تاریخ کا مطلب ہی توضیح و ترجمانی کرناہے۔ ‘‘٭

کار نے تمام ذمہ داری مورخ کے کاندھوں پر ڈال دی ہے کہ وہی تاریخ کو خارجی صورت میں پیش کرتا ہے لہٰذا جس طرح کا نقطہ نظر وہ رکھتا ہوگا وہی واقعات منظر عام آئیں گے۔ یوں تاریخ کا معلوم منظر نامہ تعصب سے خالی نہیں۔ اصل میں معلوم منظر نامہ صرف مورخ کے جبر تک محدود نہیں ہوتا۔ ایڈورڈکار نے تاریخ کے حقائق (Facts) کومورخ کی ذمہ داری قراردیا مگر یہ سب مورخ کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ سماجی جبربھی بہت سے واقعات یا سماجی عمل (Practice) کو دبا دیتا ہے، کچھ واقعات میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ طاقت ور واقعات کے آگے خود کو قائم رکھ سکیں۔ یعنی وقت کا بہائو خود بھی بہت سا انتخاب کرتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہُوا، طاقت ہی ایک ایسا مظہر ہے جس کے ہاتھ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ طاقت بھی واقعات کا انتخاب کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مورخ کے تعصبات بھی کام کرتے ہیں کیوں کہ مورخ ماضی سے باہر ہوتا ہے اور وہ اشیاو واقعات کو اس طرح دیکھ رہا ہوتا ہے جیسے اُس کے سامنے ظاہری (Objective) حالت میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ واقعات کی خام حالتوں سے آگے کچھ سمجھ ہی نہیں سکتا جب تک اپنے تعصب یا دوسرے لفظوں میں اپنی رائے (Openion) کی نظر سے ان کو ملا نہیں پاتا۔ اشیا کی شناخت اسی صورت میں ممکن ہے جب Objectiveیا خارجی سطح پر اشیا کے درمیان مشترکہ صفات کو تلاش کرکے ان کو باقی اشیا سے الگ کیا جائے۔ مورخ بھی تاریخ کی مشترکہ صفات کو (غیر شعوری یا شعوری طور پر) ملاتا ہے اور ایک کل کی صورت میں اپنے ماضی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مورخین نے تاریخ کو کبھی بادشاہوں کے تناظر میں دیکھا، کبھی معاشی اُتار چڑھائو کے خانوں میں بانٹا یامذہب کی متنوع اشکال کے دائرے کھینچ کے تاریخ کی گتھی سلجھائی۔ کوئی واقعہ اپنے دیگر واقعات (Practices) سے کٹ کے وقوع پذیر نہیں ہوتا مگر تاریخ اُسے تنہا دکھا رہی ہوتی ہے جو کبھی بھی وہ شکل نہیں بنا پاتا جس طرح حال میںسماجی سرگرمی کسی واقعے کو ہمارے سامنے لاتی ہے۔ تاریخ کو دیکھنے کا یہ عمل ان کے ہاں بھی موجود ہے جو تاریخ کو دائروی حرکت کہتے آئے ہیں۔ دائروی حرکت کا تصور مستقیمی حرکت کی ضد کہلاتا ہے۔ تاریخ کی مستقیمی (Linear) شکل اشیا کو ہمیشہ ایک ہی طرح آگے بڑھتے ہوئے دیکھتی ہے (جیسے نشوونما کا تصور) جب کہ دائروی حرکت اُسے آگے اور بیک وقت پیچھے کی سمت بڑھتا دیکھتی ہے اور بلاخر ایک دن اپنی انتہا(یا اختتام) کو پہنچ جانے پر یقین رکھتی ہے۔

افلاطون جیسا عقل پرست بھی تاریخ کی دائروی حرکت کا قائل تھا۔ یعنی کائنات کا یہ سارا سفر بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ تاریخ بھی خود کو دوہرا (Recurrence) رہی ہے۔ اس سلسلے میں یونانیوں کے ہاں عظیم سال کا تصور موجود تھا جب ستارے ایک مخصوص گردش کے بعد اپنی پہلی والی جگہ دوبارہ پہنچ جاتے۔ (۲)

ہندوستان میں تناسخ ارواح کا نظریہ بھی تاریخ کے اسی قسم کے خیالات پر مبنی ہے۔

دائروی حرکت بھی واقعات یا سماجی تحریکات و اعمال کو ایک ترتیب میں دیکھنے کا عمل ہے اور بلاخر اُن کے زوال کی قائل ہے جب کہ مستقیمی حرکت بھی وقوعۂ انسانی کو ایک ترتیب کے عمل سے مستقیمی انداز میں آگے بڑھتے ہوئے دیکھنے کا نام ہے۔ تاریخ کا پورا سماجی عمل کبھی بھی گرفت میں نہیں لیا جا سکتا۔ تاریخ کے مجموعی عمل کی شناخت کرنا ناممکنات میں سے ایک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ:

۱۔ تاریخ کو گرفت میںلینے والا تاریخ کے مجموعی سماجی وتہذیبی اعمال(Practices) سے نا آشنا ہوتا ہے۔
۲۔ وہ تاریخ کے گزشتہ عہد کا ادراک اپنے موجودہ عہد کے تناظر سے کر رہا ہوتاہے، لہٰذا اپنے تعصبات اور تناظرات کے بغیر وہ گزشتہ عہد تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔

یہاں یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا ہم اپنے زمانے یا حال کے تمام اعمال سے آگاہ ہیں؟ کیا ہمارے اور سماج کے درمیان بھی سماجی آئیڈیالوجی کا پردہ نہیں ہوتا۔ ہم حال میں رہتے ہوئے بھی بہت سی طاقتوں کے زیرِ سایہ نہیں ہوتے؟ جو واقعات (Practices) کو اپنے جبر کی وجہ سے کم یا زیادہ اہمیت دینے پر قدرت رکھتی ہیں؟

جی ہاں، طاقت کے جبر کا اطلاق حال پر بھی ہوتا ہے۔ مگر چوں کہ ہم زمانے کے اعمال کو خود بھی دیکھ سکتے ہیں اس لیے طاقت اپنے آئیڈیالوجیکل جبر سے اتنا متاثر نہیں کرتی جتنا تاریخ کے راستے سے کرتی ہے۔ تاریخ کے راستے ہم پورا کا پورا اُنھی واقعات اور منظر نامے تک محدود ہو جاتے ہیں جو ہم تک پہنچ پاتے ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ ہم تاریخ میں پوری طرح طاقتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ ہم حال کا ادراک صرف واقعات یا ظواہر سے نہیں کر رہے ہوتے۔ اپنے زمانے کے اُن خاص میلانات اور طاقتوں کے مرہونِ منت بھی سمجھتے (یا دیکھ رہے ہوتے) ہیں جوغیر شعوری طور پر پوری سماج کی حرکیات کو متعین کر رہی ہوتی ہیں۔ ان کے اپنے ضوابط ہوتے ہیں۔ یوں عہد حاضر کا پورادھارا متعین ہوتا ہے۔ جس کی ایک روح (Spirit) ہوتی ہے ایک ضابطہ (Pattern) ہوتا ہے جو پورے عہد کی فکری تشکیل کرتا ہے۔
_________________________

٭ Edward Hallett Carr, What is history ,1966, page 23
اصل الفاظ یہ ہیں:

The facts are really not at all like fish on the fishmonger’s slab. They are like fish swimming about in a vast and sometimes inaccessible ocean; and what the historian catches will depend, partly on chance, but mainly on what part of the ocean he chooses to fish in and what tackle he chooses to use – these two factors being, of course, determined by the kind of fish he wants to catch. By and large, the historian will get the kind of facts he wants. History means interpretation.

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20