اماں ——– عاطف ملک

0

اپنی والدہ مسز کلثوم منصورکی یاد میں، اپنے جواں سال بیٹے لیفٹیننٹ ضرار کی شہادت کے بعد انکی زندگی کا مقصد بیٹے کے نام پر فلاحی ہسپتال قائم کرنا تھا۔

اماں کے ہاتھ میں سلائیاں ہوتیں، مختلف رنگوں کے اون کے گولوں کے ساتھ، جن کے نرم دھاگے وہ مہارت سے اُن سلائیوں کی مدد سے ایک دوسرے سےجوڑ دیتیں، اُلجھی ہوئی ڈوریں سیدھی کردیتیں۔ مختلف رنگ دھاگے ایک دوسرے سے ریشے، طوالت اور ملائمت میں فرق رکھتے۔ مگر وہ ایک سلائی سے ایک دھاگے کو اُٹھاتی٘ں، اُس کو اہمیت دیتیں، دوسری سلائی سے دوسرے کو قریب لاتیں، دونوں کو بغلگیر کرتیں اور ٹانکا لگا کر ہمیشہ کے لیے جوڑ دیتیں۔ اور پھر جب وہ سویٹرتیا ر ہوتا تواُن کی مہارت نظر آرہی ہوتی، کہیں رنگوں کا مقابلی امتزاج، کہیں رنگوں کی یک رنگی، کہیں بازووں پر خانہ دار اُبھرے ڈیزائن، کہیں ایک چلتی ہمواریت، کبھی گول گلا اور کبھی وی ڈیزائن، کبھی سامنے سے بند، کبھی سامنے سے بٹن دار۔ اور جب وہ سویٹر پہنتا تواُن کی خوشبو، محبت، گرمائش سب سینے کے ساتھ ہوتی۔

اُنہیں پتہ تھا کسے کیا پسند ہے، انہیں پوچھنا نہ پڑتا تھا۔ اُن کے پاس اپنا کوئی آلہ تھا، نہ نظر آنے والا، بہت حساس، ہمارے تمام احساسات خیالات کو ماپ لینے والا، ہماری موجودگی یا غیرموجودگی سے بالاتر، صحیح پیمائش کرنے والا۔ اگر دفتر سے کسی بنا پرمیں پریشان ہوکر گھر آتا تو پتہ نہیں کیسے اُن کو پہلے سے ہی پتہ ہوتا۔ ہماری خوشیاں، ہمارے غم، ہماری کامیابیاں، ہماری ناکامیاں، ہماری ہنسی، ہمارے آنسو سب اُن کی ذات کا حصہ تھے، بن کہے، بن بتائے۔ میں اپنی پریشانیاں خود اُٹھانا چاہتا تھا، اُن کو بتائے بغیر مگر وہ تو پوچھے بنا آپ کا وزن اُٹھا لینے والا خدمتگار تھیں اور مجھے یہ بات بحثیت بیٹا تکلیف دیتی تھی، مگراماں— وہ ایسے ہی تھیں، وہ تمام عمر خدمتی رہیں۔ ما ں جی نے تمام عمر خدمت کی، اپنے بچوں کی، اپنے خاوند کی، رشتہ داروں کی، محلہ داروں کی، واقف کاروں کی، غیروں کی، اپنوں کی، پرائیوں کی۔

وہ کیا تھیں۔ کیا میں، اُنکا بڑا بیٹا، اُنہیں جانتا ہے۔ شاید ہاں، شاید نہیں۔
وہ دستکار تھیں، زندگی کی اُلجھی ڈوریں کمال ہنرمندی سے سلجھا دینی والی۔
وہ ایک جنگجو تھیں، زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک معرکے سے نکل کر اگلے معرکے میں لڑنے والی۔
وہ ایک دیہاتی عورت تھیں، سادہ، محنتی، محبت آمیز، خود دار۔
وہ ایک خدمتگار تھیں، کندھے پر کپڑا ڈالے، جو ویسے کہیں نظرنہ آئے مگر ضرورت پڑتے ہی جھٹ پٹ کام کرکے غائب ہوجائے۔ بنا کچھ چاہے، بنا صلہ مانگے۔
کیا میں، اُنکا بڑا بیٹا اُنہیں جانتاہے۔ شاید ہاں، شاید نہیں۔
یقیناً نہیں، ماں کو کہاں اولاد جان سکتی ہے۔

اور زندگی میں بہت جگہ پر اماں نے مجھے حیران کیا۔ اُنکی معاملہ فہمی اور موقع کو احسن طریقے سے نمٹانا ایک بڑی صلاحیت تھی۔ کئی قصے ہیں۔ میں بوجہِ نوکری اسلام آباد میں تعینات تھا۔ اماں کبھی کبھی ہمارے پاس چند دن کے لیے آتی تھیں اور پھر واپس لاہور چلی جاتی تھیں۔ ایک دفعہ اماں کو میں اپنی گاڑی میں لیکر براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔ صبح گیارہ کے لگ بھگ کا وقت ہوگا، کھاریاں سے گذر کر ہم پوٹھوہار کےعلاتے میں داخل ہورہے تھے کہ عقب سے آتی ایک کار نے باربار لائیٹ مارنا شروع کردی۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آرہی تھی، کار کے درمیانی شیشے میں دیکھا تو ایک صاحب تنہا ٹویوٹا کرولا کار میں تھے اور مسلسل ہیڈ لائیٹ جلا بُجھا رہے تھے۔ کئی خیالات ذہن میں آئے؛ شاید کوئی واقف کار ہے، شاید میری گاڑی سے کوئی چیز گرگئی ہے، شاید گاڑی میں کوئی مسلہ ہے جو اُس گاڑی کے ڈرائیور کو نظر آرہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ خیرمیں نے گاڑی کو سڑک کے کنارے پر روک دیا۔ وہ صاحب اپنی گاڑی سے اترے اور چل کر ہماری گاڑی میں ماں جی کی سیٹ کی جانب آ گئے۔ کہنے لگے کہ منڈی بہاو دین سے آرہا ہوں اوراسلام آباد جارہا ہوں، ابھی کسی ہوٹل پر چائے کے لیے رکا تو دیکھا کہ بٹوہ تو وہیں بھول آیا ہوں۔ اب گاڑی میں پٹرول بھی ختم ہوا چاہتا ہے۔ آپ کی گاڑی کا نمبراسلام آباد کا دیکھا توآپ کو روکنے کا خیا ل آیا۔ مجھے ایک ہزار روپیہ ادھار دے دیں، ایک کاغذ کو بڑھایا کہ یہ میرا نمبر ہے اور پشاور موڑ اسلام آباد پرمیرا سنگِ مرمر کا اِس نام سے کاروبار ہے۔ میں ابھی سوچ میں ہی تھا کہ ماں جی نے اپنا پرس کھولا اوراُن صاحب کے ہاتھ میں ہزار کا نوٹ رکھا اور مجھے کہا گاڑی چلاو۔ گاڑی چلتے ہی ماں جی نے کہا کہ یہ آدمی فراڈ ہے۔ میں حیران پریشان تھا، پہلے تواُن صاحب کے طور طریقے سے مجھے یہ خیال نہ تھا کہ وہ کوئی نوسر باز ہیں۔ اگر ماں جی کو یہ یقین تھا تو اُسے پیسے کیوں دیے۔ سو میں نے اماں سے یہ پوچھا کہ آپ نے اسے پیسے کیوں دیے۔ کہنے لگیں تو نے اچانک گاڑی روک دی تھی، کوئی اتنی آمدورفت والی جگہ نہ تھی اگر وہ شخص پستول نکال لیتا توہم کیا کر لیتے۔ میں نے تو تیرا صدقہ جان کر ہزار روپیہ اُس کے حوالے کیا۔ مجھے یقین نہ تھا کہ وہ شخص جھوٹا ہے۔ خیر اسلام آباد پہنچ کر اگلے دن اُس نمبر کوبند پایا اوراُس کے دیے گئے پتے پر کوئی سنگ مرمر کا کاروبار نہ تھا۔ ماں جی نے اُس دن کے بعد کبھی اُس واقعے کا ذکر نہ کیا کہ جیسے کبھی وہ پیش ہی نہ آیا ہو۔

ہماری بہن کی شادی تھی، شورمچ گیا بارات آگئی، بارات آگئی۔ استقبال کے لیے ہم گھر کے باہرکھڑے تھے۔ اماں کے ہاتھ میں دلہا کی والدہ اوربہن کو آمد پردینے کے لیے کچھ زیورایک پوٹلی میں تھے۔ بارات کی آمد کےہنگامےمیں کوئی موقٰع پاکر پوٹلی کو کاٹ کر لے گیا۔ ماں جی کو جب اِس واردات کا احساس ہوا توانہوں نے کسی کو بتانے کی بجائے اپنے پاس پڑے کچھ اور زیورات سے اس موقع کو سنبھال لیا۔ والد صاحب اور باقی گھر والوں کو اگلے دن بتایا۔ کہنے لگیں، جو مال جانا تھا وہ تو چلا گیا تھا۔ شادی کے موقع پرکوئی بدمزگی نہ ہونا چاہیئے تھی اس لیے اُس وقت چپ رہی، اللہ نے دیا تھا سو کام آگیا۔

ایک اور قصہ ہے۔ محلے کی مسجد میں مغرب کی نماز کے بعد ایک عمررسیدہ شخص کھڑا ہوا۔ اپنے غم اورمصیبت کا بیان رقت آمیز طریقے سے کیا کہ محتاج ہے، بیٹا جوانی میں مر گیا اوراب ایک ہفتے بعد بیٹی کی شادی ہے، ہاتھ خالی ہیں، تمام نمازیوں سے مدد کی درخواست ہے۔ ضرورت مند نے اپنی حالت یوں بیان کی کہ لوگوں نے اپنی بساط کے مطابق خوب مدد کی۔ میں خالی ہاتھ تھا سواُن صاحب کو گھرلے آیا اور برآمدے میں بٹھایا۔ اماں کو جا کر سارا معاملہ بتایا۔ وہ اُن صاحب سے ملنے آگئیں اوراُن کی تمام بات سنی۔ ماں جی نے اُن صاحب کو کہا کہ میں آپ کی بیٹی کے لیے کپڑے دیتی ہوں۔ اماں گھرپران سلے کپڑے رکھتی تھیں کہ عید تہوار یا تقریبات پرتحفے کے طور پردے سکیں۔ میں اندرگیا تو دیکھا کہ صندوق سے دو ریشمی جوڑے نکا ل رہی ہیں۔ مجھے کہنے لگیں کہ یہ آدمی فراڈ ہے۔ میں نے کہا کہ پھر آپ اُسے کیوں کپڑے دے رہی ہیں؟ جواب دیا جواُس کا کام ہے اُسے کرنے دیجیئے، جو ہمارا کام ہے وہ ہم کرتے ہیں۔ اماں کے کہنے کو میں چیک کرنا چاہ رہا تھا سواُن صاحب سے کہا کہ میں کل اپنے دوستوں سےاورمدد اکٹھی کر کےاُن کے گھر پہنچا دونگا۔ میرے اصرار پرانہوں نے اپنا پتہ بتلایا۔ اگلے دن اس پتے پرمیں اُنہیں ڈھونڈتا رہا مگر وہ وہاں کہیں نہ رہتے تھے۔

ایک دفعہ ایک نوکرانی چوری کرتے پکڑی گئی۔ معاملے کو مزید پرکھا گیا تو علم ہوا کہ کافی عرصے سے یہ سلسلہ شروع تھا۔ اماں نے اُس سے چوری شدہ رقم کی وصولی کا ایک عرصہ مقر ر کیا اور بدستورکام پررکھا۔ میں نے کہا کہ اسے فوراً نکال دینا چاہیئے۔ اماں نہ مانی، کہنےلگیں بیٹا، اُسے کام کی ضرورت ہے۔ اس کا میاں نکھٹو ہے، بچے بیماری کا شکارہیں۔ اس کی چوری کے باوجود میں اُسے نہیں نکال سکتی۔ کچھ عرصے بعد اُس نوکرانی کا دس سالہ بیٹا گم ہوگیا۔ اگلے دن ایک گندے نالے سے اُس کی لاش ملی کہ مرگی کے دورے کے باعث وہ نالے میں گر گیا تھا۔ ہم سب بہت دکھ کا شکار ہوئے۔ اماں آڑے وقت اُسی نوکرانی کے ساتھ کھڑی تھیں۔

اماں ساری عمر اپنا جو کام ہے وہ کرتی رہیں، یہ دیکھے بغیر کے کہ اگلا کیا کر رہا ہے۔
ماں جی کی زندگی کی کہانی انسانی جدوجہد کی کہانی ہے، اور ہمارے معاشرے کے لحاظ سے عورت ہونے کے ناطے یہ کہانی اور بھی پُر اثر ہے۔

اماں نے اپنے شہید بیٹے کے نام پر ہسپتا ل بنانا شروع کیا۔ یہ عجب بات تھی، بیٹے ماوں کے نام پر یادگاریں بناتےہیں، یہ تو اُلٹ معاملہ تھا۔ مگر اماں کہاں عام عورت تھیں وہ خاص عورت تھیں۔ اور جب اماں نے یہ کام شروع کیا تو اُن کی عمر ساٹھ سال تھی۔ وہ دو دن قبل ہی سرکاری نوکری سے ریٹائر ہوئی تھیں۔ میرے خیال میں تو اُن کی عمر شاید تین چار سال زیادہ ہی ہو گی۔ پاکستان بننے سے پہلےآپ گورداسپور کے ایک گاوں میں پیدا ہوئِیں۔ اُس وقت کون پیدائش کی تاریخ کا خیال رکھتا تھا اورماں جی تو بہت عرصہ بعد سکول داخل ہوئیں۔ خیال ہے کہ اُس وقت استاد نے جو دل چاہا تاریخ ڈال دی ہوگی۔

ماں جی پا کستان بننے سے قبل گورداسپور کےایک گاوں میں پیدا ہوئیں- آپ کے ماں باپ دونوں ان پڑھ تھے۔ شاید تین چار سال کی عمر کی ہوں گی کہ اُن پر پہلا دکھ آیا۔ شام کو جلتے دیے کے ساتھ کھیل رہی تھیں کہ دوپٹے اور کپڑوں کو آگ لگ گئی۔ گاوں میں کوئی نیم حکیم تھا جس نے علاج خراب کر دیا۔ اماں نے ایک دفعہ مجھے بتایا کہ حکیم نے چونے کا لیپ کر دیا تھا۔ چونے کے پانی سے لوگ جلے کا دیسی علاج کرتے ہیں، مگر حکیم شاید جانتا نہ تھا۔ نتیجتاً اماں کے چہرے پر بچپن سے ہی جلنے کے مستقل نشان پڑ گئے تھے اور اس سے بڑھ کے اُن کے دونوں ہاتھوں کی ایک ایک انگلی ضائع ہوگئی۔ بچپن میں جب میں نے ہوش سنبھالا تو اماں کے ہاتھوں کو دیکھتا اور اپنے ہاتھوں کو دیکھتا تو سمجھ نہ آتی، بہت عرصہ لگا ایک ننھے ذہن کو اس معمے کو سمجھنے میں، اور پھر اِس معمے کی جگہ ایک خاموش درد نے لے لی۔

اماں آٹھ نو سال کی ہونگی کہ 1947 کے ہجرت کے خون آلود سفر سے گذریں۔ گورداسپور ابتدائی اعلان اور نقشے کی رو سے پاکستان کا حصہ تھا سو وہاں کےمسلمان باسی مطمن تھے۔ مگر عین وقت پراُسے بھارت کا حصہ بنادیا گیا اورقتل وغارت کا ایک بازار گرم ہوا۔ بے سروسامانی کی حالت میں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر جان بچانے کو نکلے۔ وہ جگہ جہاں آپ کے بزرگوں کی قبریں ہوں، جہاں کی ہوا میں آپ کے بچپن اورجوانی کی یادوں کی آمیزش ہو، جن گھروں کی تعمیرآپ کے بزرگوں نے اپنا پیٹ کاٹ کرکی ہو، وہ آ پکی پشتی زمین جس نے آپکے پرکھوں کو اناج دیا ہو، جس کا کونہ کونہ آپ کے بزرگوں کی محنت سے مہکا ہو، جہاں اُن کا خون پسینہ گرا ہو۔ وہ چھوڑنا کہاں آسان ہے۔ کسان کے لیے تو زمیں ماں کی مانند ہے کہ وہ اُسے پالتی ہے، اپنی کوکھ سے رزق دیتی ہے اور پالے جانور کسان کو اولاد کی مثل ہوتے ہیں۔ اوران سب کو چھوڑنا، ہمیشہ کے لیے چھوڑنا، کبھی نہ واپس آنے کے لیے۔ کیا کوئی لفظ اس دکھ کو بیان کرسکتا ہے۔ الفاظ کا دامن خالی ہے، بے معنی، کسی نہ کام کا، بے یار و مددگار۔ یہ دکھ الفاظ کی استطاعت سےکہیں آگے کا ہے۔ اماں آٹھ نو سال کی ہوں گی کہ یہ دکھ آن پہنچا۔

اماں نے پیدل قافلے کے ساتھ دریائے راوی پار کیا اور پاکستان میں داخل ہوئیں۔ یہ سفر خوف کے سائے تلے تھا؛ سکھوں کے نہتے قافلوں پر حملے، جا بجا بکھری لاشیں، لاشیں نوچتے گدھ اور ایک آٹھ نو سال کی بچی غیر یقینی مستقبل کی راہ پر۔ اماں کے ذہن میں یہ سفر نقش تھا۔ اُس بچی کو یوں یاد پڑتا تھا کہ وہ لٹے پٹے قافلے کے ساتھ لاہور کی مال روڈ یا ملتی جلتی روڈ سے ننگے پیرگذری تھی تواُس کے پیریوں جلے تھے کہ مال روڈ سے گذرتے یخ بستہ کار میں بھی اماں گبھرا کر پاوں جوتوں سے نکال کر سیٹ پر رکھ لیتی تھیں۔

اماں مرتے دم تک اپنے گاوں کو نہ بھولیں، انکی باتوں میں گورداسپور، کلانور، ڈھیسیاں کا ذکرآتا رہتا۔ کبھی اماں اور انکے ہم عمراکٹھے ہوتے تو چھوڑ آئے گاوں کے درختوں، مکانوں، حویلیوں، گلیوں، نہروں کا ذکر ہوتا۔ ایسے میں اُنکی آ نکھوں میں عجب اداسی ہوتی، اُ نکی آنکھوں میں ایک نہ نظر آ تی نمی ہوتی۔ یہ ایک غمزدہ نسل تھی۔ وہ پودے جنہیں اپنی زمین سے اکھاڑ کرنئی زمین میں لگا دیا گیا۔ وہ اس نئی زمین میں جڑ پکڑ تو گئے مگر پرانی زمین کی باس، اُس کی خوشبو وہ کبھی نہ بھلا پائے۔ یہ ایک غمزدہ نسل تھی۔ اماں نے اس غم کو پاکستان سےگہری محبت میں بدل لیا۔ اماں نےہمیں بتلایا کہ اس ملک کی کیا اہمیت ہے، اس کےحصول کے لیے کیا قیمت ادا کی گئی ہے۔ ہم سالہا سال لاہور میں رہے۔ یہ دور انڈین فلموں اور دور درشن کی مقبولیت کا تھا مگر ہمارے گھر میں کبھی ٹی وی پرانڈین چینل نہ لگا۔ ہمارے گھر کی چھت پر لگے انٹینا کا رخ ہمیشہ پاکستان کی طرف ہی رہا۔

پاکستان ہجرت کے بعد اماں کے والدین کو جڑانوالہ کے قریب ایک گاوں میں زمین ملی اور وہ وہاں آباد ہو گئے۔ مگرابھی زندگی رواں بھی نہ ہوئی تھی کہ اگلا دکھ بھاگا آیا۔ گاوں میں کسی معمولی بات پررشتہ دار لڑ پڑے، ایک شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اب یہ تھانہ کچہری کا معاملہ چل پڑا۔ غریب لوگ لٹ پٹ کے آئے تھے مگر انا پرستی، عدم برداشت اور عزت کے ایک سراب کے زیرِاثر اپنی ہی جان کے درپے ہوگئے۔ مقدمہ چل رہا تھے، دونوں فریقوں کے مرد حوالات میں تھے۔ ایسے میں فریقِ مخالف کی کسی عورت نے اماں سے چھوٹے بھائی اوراس سے چھوٹی بہن کو زہرآلود مکئی کی چھلی دے دی۔ دونوں معصوم کہاں دشمنی کی بات جانتے تھے، دونوں زہرکا شکار ہوکر مر گئے۔ اماں کبھی اپنے چھوٹے بھائی اور بہن کو نہ بھولیں۔ اُماں اور اُنکے بھائی ہیرے میں دو یا تین سال کا فرق تھا- کبھی کبھی اماں بھائی کو یاد کرتیں تو کہتیں آج ہیرا زندہ ہوتا تو اتنے سال کا ہوتا۔ انکے لہجے میں ایک تاسف ہوتا، ایک دکھ۔ ایک بہن کا دکھ جو کوئی طاقت نہ رکھتے ہوئے بھی سوچتی کہ کاش وہ کسی طرح اپنے ہیرے کو بچا لیتی۔ میں اُنکا چہرہ دیکھتا اورچپ سوچتا کہ انسان کی پتھر دلی نے کتنے ہیرے مٹی میں رول دیے۔

اب دشمنی کی ماہیت بدل گئی تھی، نسلیں ختم کردینے کے ارادے تھے۔ ایسے میں اماں کے والدین نے گاوں چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ ایک ہجرت کے بعد یہ دوسری ہجرت تھی۔ جڑانوالہ سے اب یہ اندرون سندھ کی جانب نقل مکانی تھی۔ اوراس سفر میں ایک بچی تھی، قسمت کے ہاتھوں ایک صعوبت سے نکل کر دوسرے امتحان کی جانب جاتی۔ اندرون سندھ میں رزق ڈھونڈتے یہ خاندان مختلف قصبات سے ہوتا بلآخر نواب شاہ تحصیل کے ایک قصبے ٹنڈوآدم میں جاکر سکونت پذیرہوا۔

میرے ذہن میں ٹنڈو آدم کی اولین یاد میرے نانا کی چارے کی دکان ہے، ایک جانب ایک کتر مشین تھی جسے میں ایک جانب سے مکئی کے سبز پودے ڈالے جاتے تھے اور کتر مشین کے گول پہیے کے ہینڈل کو گھمایا جاتا تھا تو دوسری جانب سے کٹا ہوا سبز چارہ نکلتا تھا- اسے کپڑے کی چادریا بوری میں ڈال کر گدھا گاڑی والے لے جاتے تھے۔ اکثر اونٹ والے بھی آتے، اونٹ کو دکان کی ایک سائیڈ پر بٹھاتے اور چارا باندھ کر اونٹ پر لادتے اور چل پڑتے۔ میری فرمائش اور نانا کی سفارش پر اکثر مجھے گدھے اور اونٹ کی سیر کو موقع مل جاتا، ورنہ میں دکان کے کونے میں پڑے مکئی کے پودوں میں سے کوئی نرم چھلی ڈھونڈتا رہتا۔ ان پودوں کے تنے میں ایک نرم گِلی بھی ہوتی جسےدانتوں میں رکھ کر دبائیں تو رس چھوڑتی، وہ مل جاتی تو پنجاب سے آیا یہ بچہ بہت خوش ہو جاتا۔ زندگی میں بہت کچھ پایا ؛ انعام، فتح، کامیابی، جیت۔ بعض کے لیے بہت محنت کرنا پڑی، بعض بخشش کے طور پرخود بخود جھولی میں آن پڑا۔ ہنسے، خوشی منائی، ناچے، مبارکبادیں وصول کیں۔ مگروہ مکئی کے پودے سے ڈھونڈ کے پانے والی ڈلی کی خوشی کچھ عجب تھی۔ کسی کامیابی نے ویسی مسرت نہ دی۔ عرصے بعد یہ سمجھ آئی کہ جب آپکی زندگی کا کینوس محدود ہوتا ہے، تو برش کا ایک ہاتھ ہی آپ کو مکمل گل رنگ کر جاتا ہے۔

زندگی بھی کیا کتر مشین ہے، لمبے تڑنگے بانکے ادھیڑ کر ریزہ ریزہ کر دیے۔ وہ جو کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے، زندگی کے پہیے کی زد میں آئے تو کٹے چارے کی مانند ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے- مگراُن میں وہ خوش قسمت ہیں جنہوں نے اپنا اندر سبز رکھا کہ کسی کے کام آتے رہے۔ اماں آخری وقت تک خدمت کی بدولت سرسبز تھیں، آخری وقت تک مجھے اُن کے پاس آکر وہی خوشی کا احساس ہوتا تھا جو بچپن میں سبز چارے سے رس بھرے ٹکڑے کے ملنےسے ہوتا تھا۔
ساتھ والی دکان آٹا چکی کی تھی۔ ایک مشین جسے جب آن کیا جاتا تو خوب شور ہوتا، پٹے چلنے لگ جاتے۔ مشین پر ایک جانب بہت بڑا ٹین کا بنا چوکور سا ڈبہ ہوتا جس میں گندم کے دانے ڈال دیے جاتے اور مشین کے ایک اور جانب ٹین کی ہی بنی ایک تنگ ہوتی چوڑائی سے سفید آٹا نکلتا ۔ پھرتی سے اِس کے نیچے بوری لگائی جاتی جس کو بھرتے ہی تیزی سے دوسری بوری سے تبدیل کر دیا جاتا۔ چکی پرکام کرنیوالوں کے کپڑے، بال، چہرے سب آٹے سے سفید ہوئے ہوتے اور تمام فضا گرم تا زہ آٹے کی خوشبو دے رہی ہوتی ایک سوندھی خوشبو۔ مجھے یہ کام کرنے والے ہمیشہ سفید روحیں لگتیں۔ سفید شلوارقمیص، سر پرسفید کپڑا باندھے محنت کش۔ گندم کوئی اتنا سستا سودا بھی نہ تھا کہ جس کے لیے جنت چھوڑی گئی۔

آٹےکی خوشبو کا مقابلہ صرف بارش کی خوشبو کرتی ہے، وہ جب کوری زمین پر بارش کے قطرے گرتے ہیں تو وہ خام خوشبو اٹھتی ہے کہ اعلی بنائے گئے پرفیوم بھی اُس کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ گرم آٹے کی خوشبو ہویا مٹی کی، دونوں خام ہیں، خالص، بغیرکسی ملاوٹ کے، کسی سنگھار کے بغیر، کسی دکھاوے کی بیساکھیوں کےبغیر۔ ٹنڈوآدم میرے لیے ہمیشہ ایسے ہی خالص رہا، کورا، مٹی کی بنی صراحی کی مانند جس کا پانی عجب مسرت دیتا ہے، ٹھنڈا، میٹھا، مٹی کی خوشبو لیے۔ پی لینے کے بعد خصوصاً شکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ حلق سے نیچے جاتا پانی ہی جسم کے رواں رواں کوشکرمیں مصروف کرجاتا، بن کہے، کسی عقلی تقاضےسے ماورا۔ احساس کے معنی محسوس کرنے ہوں توکسی صراحی کا ٹھنڈا پانی پی کردیکھیں۔

اماں کی وفات ہوئی تو میں اُن کےپاس تھا۔ ان کے آخری وقت میں ان کے بستر کے پاس تھا۔ انہوں نے آخری سانس لی اور اگلے سفر کی اڑان پر چل نکلیں اور میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ میں ماتم کروں کہ یہ ایک شکر کی گھڑی ہے۔ اللہ نے مجھے کیا خوبصورت موقع دیا تھا، اُس عورت کے پاس رہنے کا، اُس کو دیکھنے کا، اُس سے سیکھنے کا، جو کہ ایک رہبر تھی۔ میں اماں کی موت کے لمحے سے اُس وقت کا احساس کر پایا تھا جب مالکِ کائنات نے فرشتوں کو آدم کا سجدہ کرنے کا کہا تھا۔ وہ اُسی اسرار کی ایک کڑی تھیں جب مالکِ ارض و سما نے ملائکہ کو کہا تھا کہ اِس مٹی کی تخلیق کو سجدہ کرو کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے اپنے کرم سے مجھے اُس اسرار کو محسوس کرنے کا موقع دیا تھا، یہ اُس کی عطا کا شکر ادا کرنے کا موقع تھا۔

اماں دو تین ماہ سے ہی کہہ رہی تھیں، “جانے کا وقت آ گیا ہے”۔ مگرمجھے لگتا تھا کہ ابھی کچھ وقت باقی ہے۔ رمضان کے آنے میں ابھی کچھ وقت تھا اور مجھے یقین تھا کہ اماں کے سفر کے لیے رمضان کا ہی مہینہ ہوگا۔ ایسا ہی ہوا، 2016 کے رمضان کے آخری عشرے میں وہ اطمینان کے ساتھ چلی گئیں۔ ان کے چہرے پر سکون اور وقار تھا، ایسا جو کسی وفا شعار کے چہرے پر ہوتا ہے جس نے اپنے سپرد کام پوری دیانتداری، ایمانداری اور محنت سے پورا کردیا ہو۔ ایسی محنت کہ جس سے ہڈیاں چٹخ گئی ہوں، جسم شل ہو گیا ہو، بدن کا رواں رواں ٹوٹ گیا ہو، مگر وہ محنت خود کو شانت کر گئی ہو کہ ذمہ داری ادا کرنے میں کوئی کو تاہی نہیں ہوئی۔ میں نے اماں کے ماتھے کو چوما اور ہاتھوں سے اُنہیں محسوس کیا۔
اب کے بعد وہ نہ ہوں گی۔

بہن اور چند رشتہ دارخواتین جنہوں نےانہیں غسل دیا بتلایا کہ جسم بالکل تروتازہ تھا، اور خواہش کی کہ ایسی موت اُن کو بھی میسر ہو۔ جنازہ ظہر کی نماز کے بعد تھا۔ فیصل مسجد کے ساتھ کے گراونڈ میں لوگ اکٹھے تھے، میں میت کے ساتھ کھڑا تھا۔ لوگ آکر افسوس کر رہے تھے- ایسے میں ایک دیہاتی آگے بڑھا، ادھیڑ عمر، سفید ریش، سر پر سفید کپڑا باندھے ہوئے۔ میں انہیں نہ جانتا تھا، میرے گلے لگا اور کہنے لگا کہ ضرار شہید ٹرسٹ ہسپتال کے ساتھ کے گاوں سے آیا ہوں، آپا کی وفات کا پتہ لگا، جنازہ کے لیے حاضر ہونا ضروری تھا۔ میرے کان میں کہا، “پتہ نہیں تجھے پتہ ہے کہ نہیں، تیری ماں ولی اللہ تھی”۔ میں کیا جواب دیتا، میں تو پہلے ہی اُنہیں ماں کے طور پرجانتا تھا۔

غضب کی گرمی پڑرہی تھی، روزہ بھی تھا۔ ظہرکی نماز کے بعد جب امام صاحب جنازہ پڑھنے لگے تو آسمان پر بادل کا ٹکڑا آ گیا اور ہوا چلنے لگ گئی۔ ایک نمازی نےاپنے ساتھ والے سے اس یکایک تبدیلی کا ذکر کیا تو دوسرے نے فوراً کہا، “چپ رہو، یہ بولنے کا نہیں محسوس کرنے کا لمحہ ہے”۔

ماں جی، کبھی اپنے بیٹے کی قبر پر نہ گئیں۔ اپنا مقصد اس کے نام پر ہسپتال کی تعمیر بنا لیا۔ آتے جاتے، دن میں کئی چکر قبرستان کے سامنے سے لگتے، کبھی نہ رکیں۔ صبر کا پتھرسینے پر رکھ لیا تھا، اپنی زندگی میں ایک دفعہ بھی ضرار کی قبر پر نہ گئیں۔ آخر سترہ سال بعد کاندھوں پر سوارآئیں، شہید بیٹے کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئیں۔ میں نے اُنہیں قبر میں اتارا اور اُن کے ساتھ ہی اپنا ایک حصہ بھی چھوڑ آیا۔ اب کون میری پریشانیوں کو بن کہے محسوس کریگا، کس کی دعائیں میرے گرد حصار ہوں گی، کون میرے دیر سے آنے پر دروازے پر کھڑا ہوگا، کون ہے جو بن کہے میرے پسند کے کھانے سامنے رکھے گا۔ آہ، ایک در بند ہوا ہمیشہ کے لیے۔ مگر باخدا، میں خوش قسمتوں میں سے ہوں میں نے اُس عورت کو قریب سے دیکھا جس نے اپنی مثال سے مجھے عورت کے مرتبے کا بتلایا ہے۔

اول و آخر فنا، باطن و ظاہر فنا
نقش کہن ہو کہ نو، منزل آخر فنا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20