میاں بیوی اور رسہ —– حبیبہ طلعت کا شگفتہ انشائیہ

0

یہ اس تحریر کا نصف حصہ ہے اور باقی نصف کا کوئی وعدہ نہیں کہ نفسانفسی کے اس دور میں نصف بھی انصاف ہے۔ جیسا کہ پہلے زمانہ میں ہوا کرتا تھا جب شادی کے ہفتہ بعد شوہر بمشکل اپنی نصف بہتر کے قریب پھٹک سکتا تھا کیونکہ رخصتی کے ساتھ ہی دلہن کی خالہ یا کوئی رشتہ دار مع دو خواتین ساتھ ہی آتی تھیں۔ آگے مکلاوے میں دلہن کی سہیلیوں میں سے دو چار کا آنا لازمی ہوتا تھا جو ہفتہ بھر رہتیں۔ ویسے بھی ان دنوں، عشق قبل از شادی کا رواج کم اور عشق مابعد نکاح کا رواج تھا جب شوہر شرم کے مارے اپنی بیوی کے کمرے کی طرف چوری چوری دیکھتا تھا اور گھبرا جاتا تھا کہ گھر والے پوچھیں گے تو کیا کہے گا۔۔۔؟

گھونگھٹ نکالے ادھر ادھر پھرتی، اپنی ہی بیوی کا ہفتہ بعد چہرہ دیکھ لینا بھی کمال ہوتا تھا۔ وہ لطیفہ بھی آپ سب نے سنا ہی ہو گا کہ ایک صاحب کو تیسرے بچے کی پیدائش پر اپنی زوجہ کا نام معلوم ہوا تھا امکان قرین قیاس یہی ہے کہ نام لینے کی بے تکلفی کی ابتدا بھی ایک دو بچوں کے بعد حاصل ہوتی تھی۔۔۔۔۔ ذرا وقت نے کروٹ بدلی تو اب آگے کا منظر عطاء الحق قاسمی کی منظر کشی سے بخوبی ظاہر ہے کہ

“شادی سے پہلے میں شادی شدہ جوڑوں کی تصویریں دیکھ کر گذارا کیا کرتا تھا اور بعض جوڑوں کی تصویریں اپنے بیڈ روم میں سجا لیتا تھا، جیسے آج کل کے لڑکے کھلاڑیوں یا فلمی ستاروں کی تصویریں سجا لیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر تصویریں آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔ لیکن اب وہ دیواروں پر نہیں میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ ” ایسی ہی ایک جھلک انہوں نے دکھانا چاہی کہ “ایک تصویر میں دوہرے بدن کا ایک نوجوان شخص بیگم کو سامنے سٹول پر دھرے اسکی پاسبانی کر رہا ہے۔ وضع قطع سے یہ کھلاڑی معلوم ہوتا ہے اپنے حریفوں کو شکست دینے کے بعد اب یہ فاخرانہ انداز میں سینہ پھلائے، اور گردن اکڑائے اپنی جیتی ہوئی ٹرافی کے ساتھ کھڑا ہے۔ ٹرافی بھی ماشاء اللہ خوب چمک رہی ہے۔ جن مشکلوں کے بعد اسے مسکرانے اور خوشیاں منانے کا حق حاصل ہوا ہے، اس سے شک گزرتا ہے کہ وہ شادی کو بھی ایک کھیل ہی سمجھتا ہے۔ “

لیکن اب زمانہ ایڈوانس ہے۔ ۔ ۔ ہال میں بیٹھی ماڈرن دلہن نہ صرف فیس بک پر اپنی تصاویر کے ساتھ دلچسپ اسٹیٹس اپلوڈ کرتی ہے بلکہ نیے نویلے میاں جی کی فرینڈ ریکوئسٹ ڈیلیٹ بھی کر دیتی ہے تاکہ میاں صاحب، دوستوں کے الٹے سیدھے کمنٹس دیکھ کر غیرت نہ کھا جائیں۔

اب وہ ٹرافی اور فاتح کی جگہ بھی بدلی جاچکی ہے۔ شوہر کے بازو کو جکڑے ہوئے یا اس کے کاندھوں کو دبوچے ہوئے بیوی کا انداز فاتحانہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس انداز میں ادائے دلبری سے زہادہ ادائے چوکیدارانہ بھی شامل ہوتی ہے جو صرف اپنی شادی کی تصاویر میں ہی نہیں بلکہ بعد کو خاندان میں ہونے والی تمام شادیوں کی تصاویر میں نمایاں نظر آتی ہے۔

پسندیدہ رنگ میں جوڑا دلوانے، گجرا لینے، کہیں باہر ڈنر کروانے کی فرمایش اپنی جگہ اب تو سپر کارڈ بروقت نہ ملنے پر بیوی کو شوہر پر برسنے کا حق از خود تفویض ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جدید بیوی، اپنے پکائے کھانے پر تنقید تو برداشت کر سکتی ہے لیکن سپر کارڈ سے ہاتھ دھونا برداشت نہیں ہوسکتا ہے۔۔۔۔ اب پچھلے دنوں کی بات ہے کہ ہماری ایک دوست نے صبح میاں جی کو بتایا کہ آج میرا اکاونٹ ختم یت یاد سے، ری چارج کروا دیجیے گا۔ میاں جی دفتر کے فری وائی فائی کے مزے اڑانے کے بعد حسب معمول بھول بھلا کر شام کو گھر پہنچے تو بیگم نے دروازے سے ہی واپس بھیجا کہ ابھی جائیں اور بریڈ کرمبز بھی لا کر دیں۔ میاں جی تھکے تھکے مگر خوشی سے واپس ہوئے کہ پتہ نہیں آج کیا کھانے کو ملے۔ دل میں پھلجڑیاں پھوٹ رہی تھیں گویا آج کوئی شاندار سی ڈش ملے گی بروسٹڈ یا پھر فش چپس۔۔۔ دکان پر پہنچتے ہی بیگم کا واٹس ایپ آیا کہ سپر کارڈ بھی لیتے آئے گا۔۔۔ چار رونا چار دونوں مطلوبہ اشیا کے ساتھ گھر پہنچے تو دسترخوان پر ٹینڈے پڑے منہہ چڑا رہے تھے۔

اب لاک ڈاون میں قید جوڑوں کی سنئیے۔ جن میں اب نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز، بس ایک بیوی ہے ایک میاں ہے۔ اور جہاں دونوں ہوں گے لازم نہیں ہے کہ برتنوں کے کھڑکنے کی آواز ہی آئے۔ بعض رجائیت پپسند فلاسفروں کے نزدیک کورونا نے دنیا ہی نہیں میاں بیوی کے مابین خانگی تعلقات پر بھی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ خوشی خوشی سے زیادہ مجبوری مہجوری میں گھر کے سکون کی خاطر، ایک دوسرے پر سے دھیان بٹائے رکھنے کو ڈراموں یا انٹرنیٹ پر ہی دھیان دینا لازم ٹھہرا۔ بیوی نے بھی سوچا چلو میاں جی اب مکمل چوبیس گھنٹے اس کی تحویل میں ہیں ہی سو قیدی کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے شوہر کو کھانا اور چائے کے ساتھ ساتھ تفریح کے نام پر لاسلکی دنیا میں گھومنے کی اجازت بھی دے دیتی ہے۔ اور بخوشی فون اور فون کی اسکرین پر جگمگاتی تصاویر سے دل بہلانے کا موقع بھی دیتی ہے۔ اس سے دوگنا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ میاں بھی تفریح سے شاد ہوجاتے ہیں اور گھر کے کاموں میں مین میخ نہیں نکالتے آگے جدید بیوی کے پھوہڑ پنے یا سستی پر بھی پردہ پڑا رہتا ہے۔

لاک ڈاؤن نے وہ کمال بھی کر دکھایا ہے جو تمام ناصحین مل کر آج تک نہیں کر پائے تھے۔ سب کے عشق کی ہوا ہی نکال دی۔ جو عالم وصال میں تھے ان کا وصال انہیں لے ڈوبا، اور جو عالم ہجر میں تھے وہ مہجور ترین ہو گئے۔

مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید میاں بیوی کی پہلی دنیا یعنی کہ ترقی یافتہ امریکہ میں تو پوسٹ لائک نہ کرنے پر طلاق کا مقدمہ بھی بن جاتا ہے۔ مشرقی مردوں کو بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، دیکھیے تو اب اتنی اندھیر بھی تو نہیں ناں کہ جدید بیوی کے کھانے کی تعریف بھی نہ کی جائے، حسن کی تعریف میں بھی کنجوس کی جائے اور پھر اسکی پوسٹ کو لائک بھی نہ کیا جائے۔ ۔ ۔ ویسے جدید اور سمجھدار میاں بیوی ہرگز بھی ایک دوسرے کے مواصلاتی معاملات میں دخل نہیں دیتے ہیں۔ یہ انڈر اسٹینڈنگ باہمی انڈر اسٹینڈنگ کا ہی نتیجہ ہے۔ بقول سرفراز شاہد

منافع مشترک ہے خسارے ایک سے ہیں
کہ دونوں کی قسمت کے ستارے ایک سے ہیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20