تصوف اور روحانی علاج —– گل رحمان ہمدرد

0

تصوف کے تین نمایاں شعبے ہیں۔
١۔ طریقت
٢۔ عرفان
٣۔ روحانی علاج

ان میں سے طریقت اصل میں ایمانیات و اخلاقیات سے عبارت ہے۔ یہ تصوف کا وہ حصہ ہے جو براہِ راست تنزیلاتِ ربانیہ سے ماخوذ ہے۔ عرفان کسی صوفی کے ذاتی نفسی تجربات و ادراکات کا نام ہے جو کشف کے ذریعہ اس پر منکشف ہوتے ہیں۔ اس کے ذریعہ صوفی پر اس کی ذہنی و وجودی استعداد کے مطابق عالَم کے بارے میں وہ باطنی حقیقت منکشف ہوتی ہے جو اشیا ٕ کے درجاتی قیام [Gradational existence] کا باعث بنی ہوٸ یوتی ہیں۔ مخلوقاتِ عالَم کے باطنی اور روحانی جہات و ابعاد کے براہِ راست مشاہدہ سے صوفی کو اس کے احوال کے مطابق کاٸنات میں صفاتِ الہی کی مظہریت و عملیت کی وجدانی معرفت حاصل ہوتی ہے، جس کے باعث عظمتِ خداوندی، تقدیسِ کاٸنات، تکریمِ انسانیت اور جمالیاتی و اخلاقی اقدارپر اس کا ایمان وایقان مزید مستحکم ہوجاتاہے۔ وحدت الوجود، وحدت الشہود، تجدُدِ امثال، اعیانِ ثابتہ، تنزلاتِ سِتّہ، اصالتِ ماہیت اور اصالتِ وجود کے مباحث اور ان کے ساتھ ہست ونیست، حیات وممات، جبر وقدر، زماں ومکاں، خیر وشر، جمال و کمال اور بقاۓ دوام عرفان کے مختلف فکری اور نظری تناظرات ہیں۔ جن سے ظاہری علوم کے نظریات کی طرح ہی اتفاق و اختلاف کی گنجاٸش ہمیشہ موجود رہی ہے۔ چنانچہ شیخ احمد سرہندی نے محی الدین ابنِ عربی کے نظریہ وحدت الوجود کے مقابلے میں نظریہ وحدتِ الشہود پیش کیا۔ اسی طرح صدرالدین شیرازی نے شہاب الدین سُہروردی کے اصالتِ ماہیات کے نظریہ کے مقابلے میں اصالتِ وجود کا نظریہ پیش کیا۔

روحانی علاج تصوف کا تیسرا شعبہ ہے۔ لیکن یہ تصوف کے لوازمات و اساسات یا مقاصد میں سے نہیں ہے بلکہ نتائج و ثمرات میں سے ہے۔ جن لوگوں کو ان کے مجاہدات و ریاضات کے باعث ولایتِ عظمیٰ نصیب ہوتی ہے، اُن کو فطرت کی جانب سے کرامات کی صورت میں مختلف انعامات و اکرامات ملتے ہیں۔ انہی کرامات میں سے ایک روحانی علاج کی کرامت ہے جو خدا اپنے مخصوص و محبوب بندوں میں سے چند ایک کو عطا ٕ کرتا ہے۔

تصوف کی اقلیمِ فکر کو سمجھے بغیر روحانی علاج کے بارے میں اُس کے نقطہ نظرکو کامل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ تصوف میں بنیادی حیثیت اس کے فلسفہ ٕ توحید کو حاصل ہے۔ صوفیا ٕ نے توحید کو جس طرح متصور [conceptualize]کیا ہے، اس کے مطابق توحید کے تین مدارج ہیں; توحیدِ ذاتی، توحیدِ صفاتی اور توحیدِافعالی [توحیدِ عملی]۔ ان میں سے توحیدِ ذاتی سے مُراد ذاتِ الہی ہے جو کہ وریٰ الوریٰ ہے اورجس کا ادراک انسانوں کےلیۓ ممکن نہیں۔ توحیدِ صفاتی سے مُراد کاٸنات میں کارفرما صفاتِ الہی کا ادراک ہے۔ اور توحیدِ افعالی [توحیدِ عملی] کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس قابل بن جاٸیں کہ کاٸنات اور سماج میں تحقیق، تخلیق اور تطبیق کے امکانات کو بروۓ کار لاکر نیۓ افکار کی دریافت اور نٸ ایجادات کے ذریعہ بنی نوع انسان کی خدمت کو ممکن بنا کر عملاً صفاتِ الہی [خاص کر صفتِ سماعت و بصارت، علمیت، خالقیت و تخلیقیت، رزاقیت و ربوبیت، اور رحمانیت و رحیمیت وغیرہ] کا عملی مظہر بن جاٸیں۔ اور مخلوق کی خدمتِ خلق[جو کہ مذہب کا حقیقی مقصود ہے] کے ذریعہ خدا کی خوشنودی حاصل کی جاۓ۔ اہلِ تصوف کے نزدیک اخلاقِ حسنہ اور خدمتِ خلق کے بغیر کسی انسان کے لیۓ رضاۓ الہی کا حصول ممکن نہیں ہے۔

طریقت بَجزخدمتِ خلق نیست
بتسبیح و سَجّادہ و دَلق نیست

تصوف میں تمام دیگر تصورات کی طرح خدمتِ خلق کا تصور بھی بہت وسیع ہے۔ تخّلقو باخلاق اللہ کے مصداق خدا کی تمام صفات کا عملی مظہر بنے بغیر خدمتِ خلق ممکن نہیں ہے۔ خدا عالِم ہے، انسان کو بھی علم دوست بنناچاہیۓ کہ فروغِ علم کے بغیر انسانیت کی خدمت ممکن نہیں۔ اسی طرح خدا خالق ہے انسان کو بھی اپنی ذہنی قوتوں کو استعمال کرکےمختلف فنون و افکار اورمختلف اشیا ٕ کی ایجاد و تخلیق کے ذریعہ خدا کی صفتِ خالقیت کا مظہر بننا چاہیۓ ۔ خدا رازِق، رحمان ہے، رحیم ہے، انسان کو بھی اپنے اندر ان صفات کو فعال کرناچاہیۓتاکہ انسانیت دیگر مخلوقات کےلیۓ وہ سراپا رحمت بن جاۓ۔ تمام دیگر صفات کی فاعلیت وعملیت کا بھی یہی حال ہے۔

اپنے تصورِ علم، تصورِ تخلیق اور اپنے تصورِ خدمتِ خلق وغیرہ کی وجہ سے صوفیا ٕ ہمیشہ فلسفیوں اور ساٸنسدانوں کے قدردان رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تصوف کی ہر اہم کتاب میں فکرونظر کے اختلاف کے باوجود فلسفیوں اور ساٸنس دانوں کےلیۓ تعظیم و احترام کے الفاظ آپ کو ملیں گے۔ وہ اپنی کتابوں میں جب لکھتے ہیں کہ ”حکما ٕ گُفتہ اند“ تو اس سے اُن کی مرادہند ویونان اور عرب وایران وغیرہ کے فلسفی اور ساٸنس دان ہوتے ہیں۔ جلال الدین رومی جب اپنے قلب کو افلاطون [Plato] اور جالینوس [Galen] سے تشبیہ دیتے ہیں [اے تو افلاطون و جالینوسِ ما] تو اِس سے ایک طرف وہ جسم میں قلب کی اہمیت اجاگر کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف عظیم فلسفی افلاطون اور عظیم ساٸنس دان اور معالج جالینوس یونانی کو خراجِ تحسین پیش کرکے خدتِ انسانیت کےلیۓ فلسفہ و ساٸنس کی افادیت کا اقرار کر رہے ہوتے ہیں۔ صوفیا ٕ کی فکری اقلیم کےمطابق نیۓ علم اور نٸ ایجادات کے بغیر خدمتِ خلق کا وہ کام سرانجام نہیں دیا جا سکتا جو کہ کاٸنات کی تقدیس اور انسانیت کی اخلاقی تعظیم و تکریم کے ذریعہ خدا کی خوشنودی کے لیۓ ضروری ہے۔ توحید، اخلاق اور خدمتِ خلق کے برعکس عبادات اور تمام شرعی احکام کو وہ مذہب میں ثانوی اہمیت کی چیز سمجھتے تھے۔ یادش بخیر، ”اے علما ۓشریعت!تم نے مغز کو چھوڑ کر چھلکے پہ قناعت کرلی“ اُس دور میں صوفیا ٕ کا مشہور و معروف سلوگن تھا ۔
صوفیا ٕ کے حوالے سےاوپر جو کچھ عرض کیا گیا ہے، اس کی تفصیل اگر کوٸ جاننا چاہے تو فلسفہ و ساٸنس کی قدردانی کے باب میں تاریخ میں صوفیا ٕ کے مثبت رویّوں پر ایک طاٸرانہ نظر ڈال کر سمجھ لے سکتا ہے۔ جبکہ جنہیں کتابی حوالے درکار ہوں وہ نامور فلسفی اور ساٸنس دان ابنِ سینا [جو تصوف و عرفان کاقدردان تھا] کی کتاب ”اشارات“، شہاب الدین سُہروردی مقتول [جنہیں علما ٕ کے فتوے پر سلطان صلاح الدین ایوبی نے دار پہ چڑھایا تھا] کی کتاب ”حِکمتُ الاشراق“، اور صدر الدین شیرازی کی کتاب ”اسفارِ اربعہ“ کی سیر کر لے۔ علاوہ ازیں شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی کے آثار میں بھی یہ چیز بہت نمایاں
ہے۔
اوپر کی اس بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ تصوف جہاں ایک طرف باطنی راستے سے خدا کی صفات کی معرفت کے ذریعہ اس کی ذات کی معرفت کے قاٸل تھے، وہیں تحقیق کے ذریعہ قوانینِ فطرت کی دریافت، خدمتِ خلق کے لیۓ کارِ تخلیق کی حوصلہ افزاٸ، احترامِ انسانیت کا درس، اخلاقِ عالیہ کی ترویج اور کاٸنات سے ہم آہنگی کی تعلیم بھی اُن کی اقلیمِ فکر کے مستقل اجزا ٕ رہے ہیں۔

خدا نے کاٸنات کی تخلیق اپنےقوانین کے تحت کی ہے۔ جس کو وہ سنت اللہ سے تعبیرکرتاہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے الہامی کلام کے ذریعہ انفس وآفاق میں غوروفکر وتدبر کرنےکی طرف انسانوں کو متوجہ کرکے اُن قوانین کو دریافت کرنے اور کارِ تخلیق میں حصہ لینے کی طرف اُن کو بار بار متوجہ کرتا یے۔

خدا کا اصل قانون چونکہ اُس نے کاٸنات میں جاری کیا ہے، رسمی طور پر تمام دیگر معاملات کی طرح بیماریوں کا علاج بھی اِنہیں قوانینِ طبعی و حیاتیاتی و نفسیاتی کے دریافت سے ہی ممکن ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا تصوف میں اِسے توحیدِ عملی یا توحیدِافعالی کہتے ہیں۔ روحانی علاج کوٸی مستقل عمل نہیں بلکہ شاذ عمل ہے۔ یعنی تمام بیماریوں کےعلاج کی صلاحیت صوفیا ٕ کو نہیں دی جاتی کیونکہ ایسا کرنا خدا کے قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ تاہم کچھ بیماریوں کا علاج کی صلاحیت چند مخصوص بندوں کو عطا کردی جاتی ہے تاکہ لوگوں کو مادی دنیا کے قوانین سے بالاتر ہوکر سوچنے کی طرف ماٸل کیا جا سکے۔ جس طرح رسولوں کے معجزات قانونِ طبعی کے تابع نہیں ہوتے، اِسی طرح اولیا ٕ کی کرامات بھی قانونِ طبعی کے تابع نہیں ہوتے۔

یہ خیال کہ دنیا کی تمام جسمانی و نفسیاتی بیماریوں کا علاج تصوف میں موجود ہونا چاہیۓ تعلیماتِ اسلامیہ کے خلاف ہے۔ چند انتہاٸ استثناٸ حالتوں کے سوا ٕ خدا اپنے مقرر کردہ قوانینِ فطرت سے انحراف نہیں کرتا ولَن تَجِدَ لِسُنتِ اللہِ تَبدِیلا۔ اپنے بعض محبوب بندوں کو بعض مخصوص بیماریوں کی روحانی علاج کی صلاحیت عطا ٕ کرنا انہیں استثناٸ حالتوں میں سے ایک ہے۔

صوفی جب اپنی ریاضات و مجاہدات کے ذریعہ ولایتِ عظمیٰ کے منصب پر فاٸز ہو جاتا ہے تو اُسے مختلف انعامات و ثمرات عطا ہوتے ہیں۔ یہ انعامات صوفی کی اپنی مرضی کے تابع نہیں ہوتے بلکہ عطا کرنے والے کی ذاتی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کِس کو کیا عطا کرتا ہے۔ اُن میں سے بعض کو گاہے بگاہے لامکان کی پہناٸیوں کا مُشاہدہ کرایا جاتا ہے۔ بعض کو داٸمی انجذاب کا انعام ملتا ہے۔ اور مجذوبی کی اِسی حالت میں ”پیشِ یار می رقصم“کے مصداق خود کو منہک رکھتے ہیں۔ اُن کےلیۓ ممکن ہی نہیں ہوتا کہ اہلِ دنیا کی طرف توجہ دے سکیں۔ بعض کو اعلٸٰ ترین عرفانی دانش کی نعمت مل جاتی ہے، بعض کو دیگر منفرد کرامات عطا کی جاتی ہیں اور بعض کوکسی خاص بیماری کی روحانی علاج کی کرامت عطا ہوتی ہے۔ جس طرح ظاہری علوم کے مختلف شعبے ہیں، اِسی طرح صوفیا ٕ کے بھی روحانی طور پر مختلف شعبے ہیں۔ تمام صوفیا ٕ روحانی علاج کے شعبے سے منسلک نہیں ہوتے۔ پھر جو روحانی علاج کے شعبے سے منسلک ہوتے ہیں وہ بھی تمام بیماریوں کے معالج نہیں ہوتےبلکہ چند مخصوص بیماریوں کے علاج کے ماہر ہوتے ہیں۔ جس کا اِذن اُنہیں کشف کے ذریعہ سے ملتا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ علوم کی کسی بھی شاخ میںں ہزاروں سال میں گنتی کے پانچ دس جینٸس افراد ہی ایسے پیدا ہوتے ہیں جو علم کے اُس خاص شعبے میں اپنی ذہنی استعداد اور خداداد صلاحیت سے اتنا اہم کنتروبیونت کرتے ہیں کہ اُس علم میں انقلاب برپا کر دیتےہیں۔ افلاطون اور ارسطو، ابنِ سینا اور ابنِ رُشد، ابنِ تیمیہ اور ابنِ قیم، زمخشری اور فراہی، حافظ شیرازی اور غالب، جمال الدین افغانی اور ابولکلام آزاد، اقبال اور وھاب سوری، مودودی اور اصلاحی، غامدی اور خِضریاسین، کوپرنیکس اور گلیلیو، شیکسپٸر اور ورڈزورتھ، کانٹ اور ہیگل، ایڈم اِسمتھ اور کارل مارکس، ڈورکھاٸم اور میکس ویبر، فراٸڈ اور مکسڈوگل، مِل اور روالز، ابنِ خلدون اور ٹویٸن بی، نطشے اور کرکیگارڈ، شوپن ہاور اور برگساں، ہاٸڈیگر اور ڈیلیوز، نوم چومسکی اور ہابرماس، کیپلر اورڈارون، نیوٹن اور آٸن اسٹاٸن، جیسے جینٸس لوگ صدیوں بعد کہیں پیدا ہوتے ہیں۔ تصوف کا معاملہ بھی علوم کے دوسرے شعبوں سے مختلف نہیں۔ یہاں بھی جینٸس لوگ [عبقری صفت اکابر اولیا ٕ] کبھی کبھارہی پیدا ہوجاتے ہیں۔ جنید اور شبلی، بایزید بسطامی اور منصورابن حلاج، شیخ عبدالقادر جیلانی اور خواجہ محمد عثمان ہارونی، محی الدین ابن عربی اور شہاب الدین سُہروردی، غزالی اور رومی، داراشکوہ اور صدرالدین شیرازی، علی ابن عثمان ہجویری اور خواجہ معین الدین اجمیری، صوفی عبدالر حمان مہمند اور لال شہباز قلندر، بہاٶالدین زکریا اور خواجہ نظام الدین اولیا ٕ۔ فرید الدین گنج شکر اور شاہ عبدالطیف بھٹاٸ، جیسے لوگ آۓ روز کہاں پیدا ہوتے ہیں۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے، تب کہیں جا کر چمن میں کوٸ دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔ صدیوں بعد آسمانِ معرفت پر وہ آفتاب طلوع ہوتا ہے جس کی روشنی سے افلاکِ روحانیت کے تمام چاند منّور ہو تے ہیں۔ مدتوں بعد اِس صحرا میں وہ ساربان نمودار ہوتا ہے جو اپنی حُدی خوانی سے قافلوں کو محظوظ کرتاہے یا جیسا کہ اقبال نے کہا، ہزارہا سالوں تک کعبہ اور بُت خانے میں لوگ خدا کے حضور گڑگڑا کر دعاٸیں مانگتے ہیں تب کہیں جاکر بزمِ عشق میں فطرت کے پوشیدہ رازوں کو جاننے والا کوٸ داناۓ راز پیدا ہوتا ہے۔

عُمر ہا در کعبہ و بُت خانہ می نالِد حیات
تا بَزمِ عشق یک داناۓ راز آٸید بَروں
یا جیسا کہ فارسی کے صوفی شاعر نے کہا ہے۔
دورہا باید کہ تا یک مردِ حق پیدا شُد
بایزید اندر خُراساں یا اویس اندر قِرن

یہ بھی معلوم ہے کہ کسی بھی شعبہ میں جینٸس لوگوں کا پیدا ہونا صرف اُسی صورت میں ممکن ہے جب وہ روایت مستحکم ہو اور سماج میں اپنا تسلسل قاٸم کرچکی ہو۔ قدیم ہندوستان میں ویدانت کی روایت کے بڑے دماغ اُس وقت پیدا یوۓ جب یہ روایت اُس وقت کے ہندوستانی معاشرے میں اپنا تسلسل قاٸم کر چکی تھی۔ قدیم یونان میں جب فلسفہ کی روایت مستحکم ہوٸ تو تب ہی افلاطون اور ارسطو جیسے شہ دماغ پیدا ہوۓ۔ جب مسلمان اقوام میں ساٸنس کی روایت مستحکم تھی تو وقت کے بڑے بڑے ساٸنس دان پیدا ہوۓ اور جب ساٸنسی علوم کی یہ روایت زوال پزیر ہوگٸ تو اب مسلمان اقوام میں بڑے ساٸنس دان پیدا نہیں ہو رہے۔ گزشتہ چارسوسالوں میں مغربی اقوام میں ایک کے بعد ایک بڑا ساٸنس دان پیدا ہوا، وجہ صرف یہ تھی کہ وہ اپنے ہاں ساٸنسی علوم کی روایت مستحکم کرچکے ہیں۔ کسی بھی شعبہ کے جینٸس لوگ آسمان سے نہیں ٹپکتے بلکہ ایک خاص مطلوبہ سماجی حالت اور نفسیاتی محرکات کے تحت سماج میں اُبھرتے ہیں۔ تصوف کا شعبہ بھی فطرت کے اِس قانون سے مستثنیٰ نہیں۔

مسلمانوں میں مختلف اسباب سے جن میں سے بعض کا ذکر آگے آۓ گا تصوف کی روایت زوال آشنا ہوکر تقریباً موت کے گھاٹ اُترچکی ہے۔ اب جو کُچھ موجود ہے وہ روایت نہیں بلکہ اُس کے کھنڈرات ہیں۔ اِس زوالِ یافتہ روایت میں کسی شیخ عبدالقادر جیلانی، کسی خواجہ محمد عثمان ہارونی یا کسی علی ابنِ عثمان ہجویری کے ظہور کی توقع رکھنا علمِ سماجیات [Sociology] سے عدم واقفیت کی دلیل ہے۔ آپ اگر سماجیات کے ماہر ہوتے، سماجی اداروں اور روایتوں کے تشکیل، استحکام اور ارتقا ٕ کے قوانین پر آپ کی نظر ہوتی، اُن ک زوال کے عوامل و عناصر کا آپ کو علم ہوتا، ساتھ ہی تصوف کی روایت کی تاریخ پر آپ کی نظر ہوتی کہ کس طرح اِس روایت نے اپنی شناخت قاٸم کی، کس طرح معاشرے میں اس کی جڑیں مظبوط ہویٸں، کس طرح ظاہر پرست علما ٕ سے تعبیرِ دین کےباب میں اِن کی کشمکش رہی، کس طرح علما ٕ نے جابر مسلمان بادشاہوں کے ساتھ ایکا کر کےصوفیا ٕ پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے اور کس طرح اِس روایت کو موت کے گھاٹ اُتاراگیا، تو آج آپ کسی صورت میں بھی تصوف پر متعرض نہ ہوتے۔

آپ کے اعتراضات مجھے مجبور کر رہے ہیں کہ میں تاریخ کے سیاہ ابواب کے چند نقوش آپ کی خدمت میں پیش کروں تا کہ آپ کو اپنے اعتراضات کے جوابات مل جایٸں۔

داورِ حشر میں مجھ سے میرے اعمال کا حساب نہ مانگ
اِس میں کُچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

سب جانتے ہیں کہ صوفیا ٕ اور علما ٕکا فہمِ دین ایک دوسرے سے مختلف ہی نہیں یکسر متضاد بھی ہے۔ یہ نظریاتی اختلاف اسلام کی ابتدایٸوں صدیوں سے ہی موجود رہا ہے۔ کربلا کے حادثہ ٕ فاجعہ کے بعد اہلِ تصوف[جو کہ عاشقانِ حسین تھے] کو حکومت و سیاست اور ریاستی معاملات سےبے دخل کر کے اُن پر عرصہ ٕ حیات تنگ کر دیا گیا۔ جبکہ چند ایک کو چھوڑ کر باقی علما ٕ نے مِن حیثُ الجماعت درباروں سے مُصالحت اختیارکرلی۔ اُنہوں نے ظالم مسلمان بادشاہوں کے درباروں میں بیٹھ کر ایک طرف اسلام کے مولویانہ تصور کو جو کہ تنزیل وروایت کے فرق سے بے نیاز ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کی سطحی اور ظاہری تعبیر پر زور دیتا ہے کو معاشرے پر ڈنڈے کے زور سے مسلط کیا۔ ساتھ ہی اہل ِ تصوف وعرفان کی فکر کو مٹانے کےلیۓ تمام دستیاب حربے استعمال کیۓ۔ صوفیا ٕ کو کوڑے مارے گیۓ، انہیں گمراہ قرار دے کر جیلوں میں ڈالا گیا، گاہے دار پر بھی چڑھادیا گیا۔ اگر آپ کو کبھی موقع ملے تو اٸمہ ٕ اہلِ بیت [جو کہ تصوف وعرفان کے اولین پاسبان تھے] کے حالاتِ زندگی پڑھ لیں۔ کن کن الزامات کی بنیاد پر اُن کو جیلوں میں ڈالا جاتا رہا اورکس طرح اُن میں سے ہر ایک کو شہید کیاگیا۔ علما ٕ اورظالم بادشاہوں کا یہ ظلم وستم اٸمہ اہلِ بیت کی اپنی ذات تک محدود نہ تھا بلکہ اُن کے پیروکاروں اور مُریدین بھی اُن کے وحشت وبربریت سے محفوظ نہ تھے۔ منصور سے جہانگیر سمنانی تک اور شہاب الدین سُہروردی مقتول سے محمد داراشکوہ تک خون و الم اور ظلم وعدوان کی دل خراش داستان ہے جو رقم ہوٸ۔
ہندوستان میں علما ٕ اور بادشاہوں کے سیاہ کردار کوعظیم المرتبت ابوالکلام آزاد نے بے نقاب کیا ہے۔ شورش کاشمیری کو دیۓ گیۓ انٹرویو میں اُنہوں نے فرمایا:

”اسلام یہاں [ہندوستان میں] صوفیوں کی بدولت پھیلا، مسلمانوں کا سوادِ اعظم ان اہل اللہ کا مرہون ہے اسلام کی دولت اُنہی [صوفیا ٕ] کے معرفت ملی۔ کٸ بادشاہوں نےاُن کے ساتھ بہیمانہ سلوک کیااور اپنے گردوپیش اِس قسم کے علما ٕپیداکیۓ جو اِشاعتِ اِسلام کی راہ میں ایک بڑی روک تھے“

اِسی حوالے سے اُنہوں نے اپنی مشہور کتاب ”تذکرہ“ میں لکھا ہے:

”علماۓ دُنیا کو فقراۓ حق کی اذیت و تضلیل کے لیۓ ہر عہد میں کسی نہ کسی آلہ ٕ تضلیل وحیلہ ٕ قتل کی تلاش رہی ہےاور وہ ڈھونڈھ ڈھانڈھ کر نکال ہی لیتے ہیں۔ پھر جہاں کسی کو راہِ حق و اصلاح میں سرگرم اور اپنی نفس پرستیوں کی راہ میں مُخل دیکھا، جھٹ وہی الزام اُس کے سر تھوپ دیا اور عوام و حکومت، دونوں کا فتنہ اُس کے پیچھے لگا دیا“ [تذکرہ صفحہ 98_297]

مزید وضاحت کرتے ہوۓ مولانا آزاد لکھتے ہیں:

”حضرت خواجہ معین ا لدین اجمیری، شیخ الاسلام ملتانی[خواجہ بہاٶالدین زکریا]، خواجہ بختیار کاکی، خواجہ نظام الدین اٶلیا ٕ ٕ[رضی اللہ عنھم]، اُن میں سے کوٸ بھی ایسا نہیں ہے جِن کو وقت کے فقیہوں اور قاضیوں نے چین سے بیٹھنے دیا ہو۔ ۔ ۔ افسوس، اِن بندگانِ نفس کو کون سمجھا ۓ کہ کارخانہ ٕ الہی کے تعزّز اور تذلّل کا صرف وہی قانون نہیں ہے، جو تم نے مولویت و مشیخیت کی مسندوں پر بیٹھ کر سمجھ رکھا ہے۔ مدرسوں کی دماغ سوختگیوں کے علاوہ بھی کچھ کرنے کے کام ہیں، اور شاید سارا دارومدار انہی پر ہے“[تذکرہ، 298]

ہندوستان میں اہلِ شریعت اور اہلِ طریقت کی کشمکش کا آخری معرکہ فقیہانہ مزاج اور متشدد ذہنیت رکھنے والے مُغل فرمانروا اورنگ زیب عالمگیر کے دربار میں ہوا، جس میں اِس مغل حکمران نے محمد درا شکوہ جو کہ ایک نامور صوفی تھے کو گمراہ قرار دے کر فتویٰ کی تلوار سے شہید کیا۔ ابوالکلام آزاد نے 1940 میں ”رباعیاتِ سرمد“ کے دیباچہ میں اِس پر ماتم کرتے ہوۓ لکھا:

”سلسلہ ٕ مغلیہ میں داراشکوہ عجیب وغریب طبیعت اور مزاج کا شخص گزرا ہے۔ اِس پر ہمیشہ افسوس کرنا چاہیۓ کہ تاریخِ ہند کا قلم ذیادہ تر اُ س کے مخالفین کے ہاتھوں میں رہا ہے“

داراشکوہ کی شہادت کے بعد مسلم معاشرہ میں تصوف کی روایت جو کہ ہزار سالوں کے ظلم وجبر کی وجہ سے پہلے ہی سے انتہاٸ کمزور ہوچکی تھی مکمل طورپر زوال پزیر ہوگٸ اور مذہب کی مولویانہ تعبیر معاشرے پر غالب آگٸ، جس نے مسلم معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیا۔ پس آج ماتم اِس بات پر نہیں کرنا چاہیۓ کہ آج اہل ِ تصوف کے پاس بعض مخصوص بیماریوں کے روحانی علاج کی اہلیت موجود نہیں، بلکہ ماتم اِس بات پر کرنا چاہیۓ کہ مسلمان بادشاہوں اور ظاہر پرست علما ٕ کے مسلسل جبر وظلم کی وجہ سے مسلم معاشرے میں تصوف کی روایت آج کھنڈرات کا نقشہ پیش کر رہی ہے۔

رہا نہ حلقہ ٕصوفی میں سوزِ مُشتاقی
فسانہ ہاۓ کرامات رہ گیۓ باقی

ہاں البتہ، جب تصوف کی روایت مسلم معاشرے میں مستحکم تھی تو اکابر اولیا ٕ تسلسل سے پیدا ہوتے تھے۔ اُس دور میں بعض اکابر اولیا ٕ کو[سب کو نہیں] بعض مخصوص بیماروں کی[تمام بیماریوں کی نہیں] روحانی علاج کی صلاحیت بطورِ کرامت عطا ہوٸ تھی، جس کے ذریعہ وہ جانوروں، پودوں اور انسانوں کی مختلف بیماریوں کا روحانی علاج کرتے تھے۔ اور اُن کے اِذن سے آج بھی اُن کے بعض پیروکار اُن مخصوص بیماریوں کا روحانی علاج کرتے ہیں۔ ہم میں سے سینکڑوں نہیں، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ اس کے چشم دید گواہ ہیں۔

آخر میں تصوف پر اعتراض کرنے والوں کی خدمت میں تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ جناب افتخار عارف کے یہ اشعارغور و فکر کے لیۓ پیش کرتاہوں۔

خوابِ دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں
کسی نے پہلے بھی پوچھا ہے کہ اب پوچھتے ہیں

کیسے خوش طبع ہیں اس شہرِ دل آزار کے لوگ
موجِ خوں سر سے گزر جاتی ہے تب پوچھتے ہیں

خاک اُڑاتی ہوئی راتیں ہوں کہ بھیگے ہوئے دن
اوّلِ صبح کے غم آخرِ شب پوچھتے ہیں

کرمِ مسند و منبر کہ اب اربابِ حَکَم
ظلم کر چکتے ہیں تب مرضیِ رب پوچھتے ہیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20