ڈائیاسپورک ادب اور ہجرت کے دکھ درد —- لالہ صحرائی

0

روزگار کی ضرورت اور ماحولیاتی جبر کے تحت انسان ازل سے نقل مکانی کرتا آیا ہے، اس تبدل سے ہمیشہ نئی بستیاں اور نئے کلچر پیدا ہوتے رہے ہیں۔

سماجی تنوع اور ارتقائی لحاظ سے ہجرت اور ڈائیورسٹی یعنی مخلوط معاشرتی نظام پیدا ہونے کے جہاں کچھ فائدے ہیں وہاں یہ انسان کی نفسیات پر کئی منفی اثرات بھی مرتب کرتی ہے کیونکہ ہجرت سے صرف انسان کی جگہ تبدیل نہیں ہوتی بلکہ اس کی نفسیاتی ٹرانسفرمیشن بھی ہوتی ہے۔

اس ٹرانسفرمیشن کو دو متضاد الفاظ کے کمبینیشن سے واضح کیا گیا ہے جس میں ڈائیا انتشار یا بکھراؤ کا نمائندہ ہے اور سپورا نئے سرے سے نمو پانا، نئی جڑیں پیدا کرنا یا ری۔ گرو کرنے کا نمائندہ ہے، اس لحاظ سے ڈائیاسپورا کا مطلب بنتا ہے، منتشر ہو کر دوبارہ مجتمع ہونا، یعنی کسی نسل یا فرد کا روزگار یا سماجی جبر کے تحت اپنے آبائی ماحول سے دور چلے جانا اور پھر خود کو ایک اجنبی ماحول کے مطابق ڈھال لینا۔

یہ ٹرانسفرمیشن کوئی آسان کام نہیں، یہ نوسٹیلجیا سے بھی زیادہ تکلیف دہ عمل ہے، نوسٹیلجیا اور ڈائیاسپورا میں نفسیاتی احساس کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں، یہ دونوں اپنے ماحول کو کھو دینے سے پیدا ہوتے ہیں لیکن نوسٹیلجیا میں ہجرت کرنا ضروری نہیں، یعنی اپنے آبائی ماحول اور آبائی ثقافتی دائرے میں رہتے ہوئے نئے سماجی نظام اور نئے سماجی رویوں کی وجہ سے اپنا پرانا کلچر کھو دینا نوسٹیلجیا کو جنم دیتا ہے۔

اس کے برعکس جب انسان کو اپنا آبائی دائرہ، آبائی کلچر، جنم بھومی اور رشتے ناطے چھوڑ کے کسی دوسری جگہ پر ایک نئے کلچر میں اپنے بنیادی حوالوں اور قریبی سہاروں کے بغیر جینا پڑے تو یہ جبر انسانی شخصیت میں مختلف طرز کے خلاء پیدا کرتا ہے، ان تمام فیکٹرز کیساتھ ایڈجسٹ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔

ان مشکلات کو قلمبند کرنے کیلئے انیسویں صدی میں ڈائیاسپورک ادب وجود میں آیا تھا، جس میں پہلے پہل افریقی غلاموں کی زبوں حالی کا عکس ملتا ہے، دوسرا یورپیئنز کی امریکہ کی طرف نقل مکانی، تیسرا نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کی بیدخلی، جنگ عظیم کے متاثرین اور فلسطینیوں کی بیدخلی اور چوتھا ادب ایشین نقل مکانی پر ہے۔

ایشیا میں سب سے بڑی ہجرت تقسیم ہند کی ہے، اس کے بعد ان دونوں ممالک سے اب تک کم و بیش تین سو ملین لوگوں نے روزگار کی خاطر یورپ اور عرب ریاستوں کی طرف ہجرت کی ہے۔

ہر ملک کے اندر ہونے والی ہجرتیں اس کے علاوہ ہیں، ان کی کلاسیفکیشن بھی الگ ہے، اس کے باوجود دنیا بھر کے ادب میں ڈائیاسپورک ادب کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔

اردو ادب کے اندر تقسیم ہند کی ہجرت کو بڑی شدت سے محسوس کیا گیا ہے، مگر کوانٹم اس کا بھی کافی کم ہے، حقیقت میں لاکھوں کہانیاں لکھنے سے رہ گئی ہیں جو اب بھی ان بڑے بوڑھوں کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہیں جو اپنے پچھلے گھروں کو جاکے ایکبار دیکھنا چاہتے ہیں۔

ہجرت کے بعد یہاں سماجی بھلائی کا ایک آئیڈیل نظام بن جاتا تو شائد اردو ادب میں اس کا کوانٹم اور بھی کم ہو جاتا مگر سماجی ناہمواری نے کئی مصنفین کو قلم اٹھانے پر مجبور کیا، ان میں زیادہ تر بذاتِ خود مہاجرین تھے۔

اس سلسلے میں انتظار حسین کا شہرِ افسوس اور گلی کوچے، عبداللہ حسین کی اداس نسلیں، خدیجہ مستور کا آنگن اور زمین، قرۃ العین کا آگ کا دریا، میرے بھی صنم خانے، جلا وطن اور پت جھڑ کی آواز، ایم اسلم کا رقصِ ابلیس، نسیم حجازی کا خاک و خون، فکر تونسوی کا چھٹا دریا، فیض رامپوری کا خون اور بے آبرو، قدرت اللہ شہاب کا یاخدا، شوکت صدیقی کا خدا کی بستی، مستنصر حسین تارڑ کی دیس ہوئے پردیس، اے غزالِ شب، عصمت چغتائی کا معصومہ اور جڑیں، منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ اور عنایت اللہ التمش کی خاک اور خون جیسی چند کتابیں بھی اسی ڈومین کا حصہ ہیں۔

بابا جی اشفاق احمد، بانو آپا اور احمد ندیم قاسمی صاحب نے کچھ جزوی تصورات شئیر کئے ہیں لیکن کوئی بھرپور اِن-پُٹ نہیں دیا، قاسمی صاحب کا “پرمیشر سنگھ” ہے، بانو آپا کا مختصر مونولاگ “حاصل گھاٹ” ہے اور بابا جی کی طرف سے شائد گڈریا کو پیش کیا جا سکتا ہے۔

رفیع مصطفےٰ صاحب کینیڈا میں ایک آئی-ٹی کمپنی کے ایگزیکٹیو ہیں انہوں نے انڈیا سے پاکستان اور پھر پاکستان سے کینیڈا میں اپنی ہجرت کے تناظر میں ایک انگریزی ناول لکھا ہے:
Tales From Birehra: A Journey Through A World Within Us

ہجرت برائے روزگار پر بات کرنے سے پہلے مہرونہ لغاری صاحبہ کے ایک تھیسز سے چند اقتباسات پیش کرنا چاہوں گا جو تقسیم ہند کی ہجرت سے متعلق ہیں۔

“پاکستان کے افسانوں اور ناولوں میں ہجرت کے کرب کا اظہار ان ادیبوں نے کیا ہے جو ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے، انہوں نے ہجرت تو کی مگر اپنی یادوں میں اپنے آبائی وطن کو بسائے رکھا”
۔پاکستان میں اردو افسانے کے پچاس سال از شہزاد منظر۔

“ہجرت کا سفر جسمانی ہی نہیں ذہنی سفر بھی ہے جو انسان کو بیک وقت حال اور ماضی میں یکساں متحرک رکھتا ہے، یہ چیز ناسٹیلجیا کو جنم دیتی ہے اور ناسٹیلجیا ادب تخلیق کراتا ہے”

“یہ سفر مکانی ہونا ضروری نہیں بلکہ استحصالی اور جبریہ صورتحال انسان کو اپنے گھر میں بھی جلا وطن بنا سکتی ہے، جیسے یورپی نو آبادیاتی نظام نے انیسویں اور بیسویں صدی کی دنیا کو اپنے گھروں میں ہی بے گھر بنا رکھا تھا، ان میں انڈیا بھی شامل تھا، الجزائر کے ادب میں بھی اس بات کو بیان کرتی ہوئی نگارشات ملتی ہیں”
۔اردو افسانے میں جلاوطنی کا اظہار، روبینہ الماس۔

“جو لوگ اپنی جنم بھومی سے زبردستی، سیاسی، معاشی یا معاشرتی دباؤ کے تحت جدا کر دئے جاتے ہیں وہ اپنے احساس مہاجریت کے ساتھ کسی اجنبی دیس میں اجنبی لوگوں کیساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، شعوری یا لاشعوری طور پر وہ میزبان ملک میں اپنی جڑیں پیوست نہیں کرنا چاہتے، اپنے ماضی اور وطن کی یاد کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں”

“پاک و ہند کے ڈائیاسپورا اپنے آبائی وطن سے کٹر لگاؤ رکھتے ہیں، وہ اپنے ملک کی ترقی اور خیرخواہی کیلئے بھی کوشاں رہتے ہیں، اور یہ نہیں بھولتے کہ بلآخر انہیں اور ان کی اولاد کو یہ ملک چھوڑ کر واپس جانا ہے کیونکہ نیا ملک اور کلچر انہیں کبھی قبول نہیں کرے گا، لہذا بیگانگی اور اور اجنبیت کا احساس ان کے ہاں دوچند رہتا ہے، نئی سرزمین ان کیلئے اجنبیت، بیگانگی، ذہنی تنہائی اور فرقت کا رنگ غالب کرتی ہے اور یہ احساس لگاتار کراتی ہے کہ ان کا پشتینی وطن ہی ان کا اصل وطن ہے، نئے ملک کی ثقافتی روایات انہیں اجنبی، سرد مہر اور نامانوس لگتی ہیں، وہ اپنی یا اپنی نسلوں کو اس اجنبی ثقافت میں مدغم نہیں کرنا چاہتے، ان کا مذہبی و نسلی شعور بھی انہیں اپنی شناخت کی حفاظت پر مجبور کرتا ہے، وہ بے جڑ ہونے کے کرب میں مبتلا رہتے ہیں لہذا اپنی شناخت اور تشخص ان کیلئے سب سے بڑا مسئلہ بن کے سامنے آتا ہے”۔  ۔ولیم سافران۔

Related image“ہندوستانی ڈائیاسپورا اجنبی دیسوں میں اپنی کمیونٹی کے ارتباط اور باہمی میل جول سے اس احساس تنہائی کو بہت حد تک کم کر نے میں کامیاب ہوئے ہیں، جوگندر پال کا ناول “خوابرو” بین الاقوامی ترک وطن پر اس بصیرت کو پیش کرتا ہے کہ جب ہجرت ہی مقدر بن جائے تو روگی بن جانے کی بجائے نئی سرزمین میں دوسرے پودوں کیساتھ اپنا پودا لگایا جائے کیونکہ سروائیول اسی میں ہے ورنہ مقامی آبادی سے ٹکراؤ میں سماجی اور معاشی انتشار کا شکار ہوں گے”۔   اردو ناول کے ہمہ گیر سروکار، از ڈاکٹر ممتاز احمد

“ہجرت کے وقت کسی خاندان کے سب لوگ یہاں سے چلے گئے سوائے ایک بوڑھے کے، جو جائیداد کی بجائے ان گہری چھاؤں والے درختوں کی خاطر یہ کہہ کر رک گیا کہ میری قبر کیلئے ایسے گہرے سایہ دار درخت وہاں کہاں ملیں گے، یہاں پیچھے رہ جانے والے بوڑھوں کو دیکھ کر میں نے جانا کہ مسلمانوں میں قبر کتنی بڑی طاقت ہے”

“یار یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جس بستی سے انسان ہجرت کرگیا وہ بستی اس کیلئے پہلے سے بھی زیادہ بامعنی ہو جاتی ہے، انسان اسے خوابوں میں دیکھتا ہے اور جس نے ہجرت نہیں کی اس کیلئے ایسے کوئی معنی نہیں رکھتی جو پہلے کے پاس ہیں”۔  بستی از انتظار حسین۔

یہ اصل میں ڈائیاسپورک نوسٹیلجیا کی کیفیت ہے جو اپنی جگہ چھوڑنے کے بعد ہی وارد ہوتی ہے، ورنہ اس کا جزوی یا کلی تجربہ نہیں ہو سکتا۔

شہزاد منظر کی کتاب کراچی کے کسی پبلشر سے یا کراچی یونیورسٹی سے مل سکتی ہے، روبینہ الماس صاحبہ کی کتاب مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد نے شائع کی ہے، ولیم سافران کے آرٹیکلز نیٹ پر مل جائیں گے، ڈائیاسپورا لٹریچر تلاش کرنے سے اور بھی مغربی ادیب پڑھنے کو مل جائیں گے۔
۔۔۔۔

ڈائیاسپورک ادب میں سب سے بڑا سوال حقیقت میں تہذیبی شناخت کا ہے، اور یہ مسئلہ تارکینِ وطن میں سے ہر کسی کو درپیش ہے، اس پر ایک مغربی مفکر اسٹورٹ ہال کہتے ہیں:
Our capacity to live with differences is the question of 21st century.

اس گلوبل ولیج کے اندر بھی یہ سوال کتنا اہم ہے، اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے علاقے کا ایک بندہ جو کئی سال سے لندن میں مقیم تھا، اچانک وہ سب کچھ بیچ باٹ کے واپس چلا آیا اور اپنے آبائی شہر میں مستقل سیٹل ہو گیا، اس کے پیچھے وجہ یہ بنی کہ ایکدن وہ کسی پارکنگ لاٹ کی واحد خالی جگہ پر اپنی گاڑی پارک کر رہا تھا کہ عین اسی وقت ایک انگریز بھی اسی جگہ پہنچ گیا مگر اِس کا فاصلہ کم تھا سو اس نے اپنی گاڑی لگا دی تو انگریز نے اسے “یو براؤن باسٹرڈ” کہہ دیا، انگریز کا خیال تھا کہ مقامی ہونے کی وجہ اُس کا پہلا حق تھا جبکہ باری کے اعتبار سے پہلا حق اس دیسی کا ہی بنتا تھا، یوں دوسرے دیس میں نیشنیلٹی ہولڈر ہونے کے باوجود اپنے ساتھ دوسرے درجے کا سلوک دیکھ کر وہ دل شکستہ ہو کر واپس آگیا۔

ہجرت برائے روزگار کے بیحد مسائل اور تنگیاں ہیں، آسائشوں کیساتھ درد بھی بہت ہیں، لیکن اس موضوع پر تو بالکل ہی نہ ہونے کے برابر لکھا گیا ہے، میں نے اب تک اس موضوع پر صرف ایک ہی ناول پڑھا ہے جو لیلپور کی نیلی بار پر لکھا گیا ہے۔

Related imageانگریز نے پنجاب میں جو باریں بسائی تھیں، اس پر ایک “پیلو” نام کا بڑا خوبصورت ناول ہے، شائد کسی پرانی لائبریری میں ملے، میں نے بھی اپنے کالج کی لائبریری سے لیکر پڑھا تھا، ترک وطن برائے روزگار کے حوالے سے “پیلو” بہت اوپر کی چیز ہے اور میرا سب سے فیورٹ ناول ہے۔

بھارت کی ایک مصنفہ ڈاکٹر زرنگار یاسمین صاحبہ کا اسی موضوع پر ایک مقالہ ہے۔
۔اردو فکشن اور ہجرت کے مسائل۔

اس میں وہ توجہ دلاتی ہیں کہ اردو ادب میں ہجرت کے موضوع کو خاطر خواہ جگہ نہیں ملی، مصنفین کو اس موضوع کا احاطہ کرنا چاہئے۔

بھارت میں تقسیم ہند کی ہجرت پر بھی کوئی خاص ادبی کام نہیں ہوا، اور ہجرت برائے روزگار بھی ان کے ہاں کلی طور پر نظرانداز شدہ سبجیکٹ ہے جبکہ ان کی نئی نسل جوق در جوق آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزیلینڈ کی طرف بھاگ رہی ہے۔

فکشن کے مصنفین کو اس طرف توجہ تو دینی چاہئے مگر مسئلہ یہ ہے کہ تارکین وطن برائے روزگار کا دکھ درد معروف مصنفین کے مشاہدے میں نہیں آتا، ناول یا افسانہ نویسی کیلئے معلومات کا ہونا بہت ضروری ہے، مصنفین اگر اس کی کھوج کریں یا تارکین وطن رضاکارانہ طور پر اپنی کہانیاں بیان کریں تو ادب کا یہ خالی آنگن بھر سکتا ہے۔

اس موضوع پر میں نے تین سال قبل ایک افسانہ لکھا تھا، ذائقہ، وہ ابھی تک شئیر نہیں کیا۔

اس میں ایک بندے کی کہانی ہے جو نوجوانی میں روزگار کیلئے جرمنی بھاگ جاتا ہے، چند سال بعد واپس آکر شادی کی تو بیوی کو ساتھ رکھنے کی اجازت نہ مل سکی، پھر اس کا بچہ بھی نوجوانی کے دور میں دو نمبری کر کرا کے باپ کے پاس چلا جاتا ہے، پھر جب اس کی بیوی بیمار ہوتی ہے تو وہ اپنے بیٹے سے واپس چلنے کو کہتا ہے، بچہ پس و پیش کرتا ہے تو وہ اسے سمجھاتا ہے کہ پہلی بار میں باپ کے مرنے پر گیا تھا دوسری بار ماں کے فوت ہونے پر، ان دو قبروں کو چومنے کے بعد اب میرے ہونٹوں پر صرف مٹی کا ذائقہ رہتا ہے، میں تو اپنے گھر کی غربت مٹانے آیا تھا اسلئے تسلی ہوتی ہے کہ میں نے بوڑھے والدین سے دور ہو کر کوئی غلطی نہیں کی تھی لیکن تمہیں غربت درپیش نہیں اسلئے واپس چلنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے ورنہ یہ ذائقہ تم سے برداشت نہ ہوگا۔۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20