مکی ماؤس تک رسائی —- فرحان کامرانی

0

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لڑکا اپنے رشتیداروں سے ملنے جرمنی سے پاکستان آیا۔ اسکے رشتہ دار بہت ادبی لوگ تھے۔ وہ لوگ ادب کی باتیں کرتے اور سوشل میڈیا پر ادیبوں شاعروں اور مفکروں کے فرمودات شیئر کرتے رہتے۔ لڑکا (جسکا نام اکبر تھا) اِن لوگوں اور اِنکی ان ادبی سرگرمیوں سے بہت متاثر ہوا۔ اُس نے اِن لوگوں پر غور کرنا شروع کیا۔ وہ لوگ مشاعروں میں جاتے، ادبی نشستوں کا حصہ بنتے اور سب سے بڑھ کر اُن میں ادب و شاعری کو لے کر ایک نوع کا مباحثہ بھی جاری رہتا۔ اکبر نے یورپ کی ٹھنڈی فضاؤں میں پرورش پائی تھی۔ اُسکو جرمنی کی آٹو بان پر ہیوی بائک چلانے کا شوق تھا۔ اِسکے علاوہ وہ چھٹیوں میں کیمپنگ اور مچھلی کے شکار پر جایا کرتا۔ وہ اِس ملک اور یہاں کی عجیب ادبی سوغات سے بہت حیران ہوا۔

ایک روز اکبر نے سنا کہ اُسکے ادبی رشتہ دار کسی ”مِکّی ماؤس کے تکیہ“ کا تذکرہ کررہے ہیں۔ وہ اولاً سمجھا ہی نہیں کہ یہ کیا بات ہے۔ اُسکے نذدیک تو تکیہ صرف ”پلو“ تھا جسے سر کے نیچے یا پھر ٹانگوں کے درمیاں لگایا جاتا مگر یہاں تکیہ سے مراد ’آستانہ‘ تھا۔اور وہ آستانے وغیرہ کے کہ تصور کو بھی نہیں جانتا تھا۔ ہاں وہ مِکّی ماؤس سے واقف تھا۔ اور پھر اُسے اپنی ادبی رشتیداروں سے پتہ چلا کہ وہ سب ایک ادیب کی تقریباً پرستش کرتے ہیں۔ اُن ادیب کا نام جمّن آرائیں ہے اور وہ ساٹھ کی دہائی سے افسانے، ڈرمے، سفرنامے اور ناول وغیرہ لکھ رہے ہیں۔ آرائیں صاحب کو پاکستان کا سب سے بڑا ادیب تصور کیا جاتا تھا اور جو مقام کارٹون کی دنیا میں مِکّی ماؤس کو حاصل ہے وہی ادباء میں اُنکو حاصل ہے۔ جیسے مِکّی ماؤس سب سے قدیم کارٹون کا کردارہے اسی طرح آرئیں صاحب سب سے قدیم زندہ ادیب ہیں۔ اِسی لئے انکو مِکّی ماؤس بھی کہا جاتا تھا۔ وہ اپنی اردو میں گندھی پنجابی کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ انکینثر سے پنجاب کے کھیتوں کی خوشبو آتی۔ وہ خود بھی مٹی کی مہک سے بھبھکتے رہتے۔ اکثر وہ اپنے فارم ہاوس میں بنے کھیت سے نکلتے نظر آتے اور انکی دھوتی کھلی ہوتی۔

وہ سال میں ایک مرتبہ کسی بھی شہر میں معتقدین سے خطاب فرمایا کرتے۔ خطاب کی جگہ کا تعین لکی ڈرا کے ذریعے ہوتا۔ اِن خطبات میں آرائیں صاحب مجذوب کی بڑ نما باتیں کرتے جن میں سے انکے چاہنے والے بڑی بڑی پیشنگوئیاں تلاش کرلیتے۔ اِن خطبات میں سب ہی لوگ مِکّی ماؤس کا ماسک لگا کر شریک ہوتے اور آرائیں صاحب بھی ہجوم میں ہی کہیں پوشیدہ رہتے۔ کسی کو معلوم نہ ہوتا کہ اصل مِکّی ماؤس یعنی آرائیں صاحب کہاں ہیں۔ ایسے میں اچانک ایک مِکّی ماؤس اسٹیج پر چڑھ جاتا اور سب پہچان جاتے یہ یہی دراصل آرائیں صاحب ہیں۔ لوگ انہیں انکی سات رنگ کی دھوتی سے پہچانتے۔خطاب کے کسی اہم نکتے پر اُنکی دھوتی اگرجایا کرتی مگر وہ اُسے اٹھانے کی زحمت نہ کرتے۔ اور لوگ بھی انکے خطاب میں اتنے محو ہوتے کہ گری ہوئی دھوتی نظر ہی نہ آتی۔ آرائیں صاحب کی شکل بھی کسی نے کبھی نہ دیکھی تھی۔ اُنکی کتابوں کے پیچھے مِکّی ماؤس کی ہی تصویر بنی ہوتی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ پیدہ بھی مِکّی ماؤ س کا ماسک لگا کر ہی ہوئے تھے۔

اکبر نے جب اتنے پراسرار شخص کے بارے میں سنا تو اُسمیں اُن سے ملنے کاا شتیاق پیدہ ہوا۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ آرائیں صاحب کے سالانہ خطاب میں جائے۔ اُس نے اِس خواہش کا اظہار اپنے ادبی رشتیداروں سے کیا اور وہ خوشی سے ناچنے لگے۔ انٹرنیٹ پر خبر آئی کہ دسمبر کی پانچ تاریخ کو آرائیں صاحب وادی ِ شمشال میں اپنے معتقدین سے خطاب فرمائیں گے۔ اس خبر سے رشتیداروں میں سراسیمگی کی لہر دوڑ گئی،
ایک بولا: ”ارے دسمبر کی برفوں میں شمشال کے چار چفیرے میں معتقدین نے کیسے پہنچنا ہے؟“
دوسرا بولا: ”ارے فکر تو آرئیں صاحب کی ہورہی ہے۔ انہوں نے تو صرف ایک دھوتی پہننی ہے، انہوں نے کیسے شمشال کی سردی برداشت کرپانی ہے؟“
تیسری بولی ”کچھ بھی ہو، میں نے تو جانا ہے بس!“
”اور میں بھی جانا شمشال!“ کبر نے بھی مصمم ارادے سے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دسمبر کی سخت سردی میں شمشال وادی کے ایک برف پوش میدان میں اکبر دبیز جیکٹ اور دیگر گرم لباس کے ساتھ چہرے پر مِکّی ماؤس کا ماسک لگائے کھڑا تھا۔ وہ بڑی شدت سے منتظر تھا کہ کب آرائیں صاحب اسٹیج پر جلوہ گرہونگے اور کب خطاب شروع ہوگا۔ اِس شدید موسم میں بھی میدان میں کم از کم ڈھائی تین سو لوگ تو جمع تھے ہی۔ اکبر کو پیاس لگی تو منرل واٹر کی بوتل منہ سے لگائی۔ اُسمیں تھوڑا ہی پانی تھا جو ایک گھونٹ میں ہی ختم ہوگیا۔ اکبر کی پیاس باقی تھی اُس نے سوچا کہ تھوڑے ہی فاصلے پر ایک برفانی نالہ جنگل سے گزرتا ہے کیوں نہ وہاں جاکر تازہ برفانی پانی پیا جائے۔ نالے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک سات رنگ کی دھوتی ایک بڑے سے پتھر پر پڑی ہے۔ اور سامنے ایک شخص برفیلے پانی میں ننگا نہا رہا ہے۔ دھوتی کے ساتھ ہی ’رولکس‘ گھڑی اور جوتے بھی پڑے تھے۔سامنے نہاتا شخص بمشکل چار فٹ کا تھا۔ اسکا رنگ سیاہ تھا، پیٹ باہر نکلا ہوا تھا، گردن چھوٹی تھی۔ کندھے اوپر کو اُٹھے ہوئے تھے۔ اُس شخص کے موٹے موٹے سیاہ ہونٹ تھے۔ نیچے والا ہونٹ آگے نکلا ہوا تھا۔
اکبر نے ننگے کو مخاطب کرکے کہا،
”تجھے شرم نہیں آتی؟ کھلے عام ننگا نہاتا ہے؟“
سیاہ فام نے جھرجھری لی اور اکبر کی طرف رؤدیکھ کر للکارا،
”اوئے تو کون ہے بے غیرتا!۔۔۔۔“اسکے بعد اس نے اکبر کو مادر زاد گالیاں بکنی شروع کردیں۔

اکبر کو گالیاں سننے کی عادت نہیں تھی۔ اُس نے آگے بڑھ کر بونے کو تماچہ رسید کردیا۔ تماچہ جرمن قسم کا تھا۔ بونے کے پاؤں اُکھڑ گئے اور وہ لڑکھڑا کر گرا۔ اسکا سر ایک بڑے پتھر سے ٹکرایا اور وہ اسی لمحے مرگیا۔ اکبر کے ہوش اُڑ گئے۔ اسکے کچھ سمجھ نہ آیا۔ اسنے جلدی سے اپنے کپڑے اتار کر لاش کو پہنا دیئے۔ لاش کو ندی میں بہایا اور اور پیچھے پڑی سات رنگ کی دھوتی اور رولکس گھڑی پہن لی۔ اکبر نے اپنی جیکٹ لاش کو نہ پہنائی تھی وہ ابھی تک اُسکے پاس تھی۔ وہ نجانے کیا سوچ رہا تھا؟ وہ جب ندی سے میدان کی طرف واپس آیا تو اُسے یاد آیا کہ اسکی پتلون کی جیب میں تو اسکا پاسپورٹ بھی تھا۔ وہ بہت پچھتایا مگر اَب کیا ہوسکتا تھا،پاسپورٹ تو بونے کی لاش کے ساتھ بہہ چکا تھا۔ وہ میدان میں لوگوں کے درمیان پہنچا تو کسی کی نظر اُسکی سات رنگ کی دھوتی پر پڑگئی اور ہر جانب سے ”آرائیں صاحب، آرائیں صاحب“کے نعرے بلند ہونے لگے۔ اسکو یاد آیا کہ وہ تو ماسک لگایا ہوا ہے۔ وہ فوراً اسٹیج پر چڑھ گیا۔
اکبر نے بھی ؎ ندی والے بونے کے لہجے میں باتیں شروع کردیں۔ سب کو گالیاں بکیں اور ہذیان جیسی باتیں کیں لیکن سب لوگ تالیں بجاتے رہے، جھومتے رہے اور نعرے لگاتے رہے۔ اکبر کو اپنی طاقت کا احساس ہوا۔ وہ سمجھ گیا کہ اب وہی مِکّی ماؤس ہے۔ اب آرائیں کا سب کچھ اکبر کا ہے۔ اُسکا گھر، گاڑیاں، نوکر، معتقد، سب کچھ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سال بعد اکبر نے انٹر نیٹ پر خبر پڑھی کہ جرمنی میں ہیوی بائیکس کی ریس ایک اکبر نام کے پاکستانی نژاد لڑکے نے جیت لی۔ اُس نے ریسر کی تصویر پر غور کیا تو وہی ندی والا بونا یعنی اصلی آرائیں تھا۔ اُس نے جلدی سے اپنا منہ مِکّی ماؤس کے ماسک میں چھپا لیا مگر اسکی دھوتی گرگئی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20