انسانی حِسّیات : ہیلن کیلر —— ترجمہ: تنزیلہ افضل

2

(ہیلن کیلرایک امریکی لکھاری تھیں جو قوتِ گویائی اور سماعت سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ قوتِ بصارت سے بھی محروم تھیں۔ درج ذیل حصہ انکے ایک طویل مضمون ’’بینائی کے تین روز‘‘ سے لیا گیا ہے جو انہوں نے۱۹۳۳ء میں تحریر کیا)


ہم میں سے اکثر لوگ زندگی ناشکر گزاری میں ہی گزار دیتے ہیں۔ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ ہمیں ایک دن مر جانا ہے لیکن عموماً ہم اس دن کو دور کے مستقبل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جب ہم اچھی صحت میں ہوں تو موت تقریباً ناقابلِ تصور چیز ہوتی ہے۔ ہم اسکے بارے میں خال خال ہی سوچتے ہیں۔ ہمارے سامنے دِن لا محدود تسلسل کے طور پر پھیلے ہوئے ہوتے ہیں، لہٰذا ہم اپنے غیر اہم چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگے رہتے ہیں اور زندگی کے بارے اور اپنے اس لایعنی روّیے کے بارے میں کم ہی با خبر ہوتے ہیں۔

میں نے اس بارے میں اکثر سوچا ہے کہ اگر ہر انسان اپنی ہوش کے ابتدائی سالوں میں اندھا یا بہرا ہوجائے تو یہ ایک نعمت ہو گی، اندھیرا اسے روشنی کا زیادہ معترف کر دے گا، خاموشی اسے آواز کی خوشیاں کا ادراک کروائے گی۔
بارہا میں یہ دریافت کرنے کے لیے کہ وہ کیا دیکھتی ہیںاپنی بصار ت کی صلاحیت رکھنے والی دوستوں کا امتحان لیتی ہوں۔ حال ہی میں میری ایک دوست جو جنگل کی طویل سیر سے لوٹی تھی اور مجھ سے ملنے آئی تھی، اس سے میں نے پوچھا کہ اس نے کیا مشاہدہ کیا؟ ’’کچھ خاص نہیں‘‘ اسکا جواب آیا۔ مجھے شاید بے یقینی سی ہوتی اگر میں اس سے پہلے بھی اسطرح کے جوابات کی عادی نہ ہوچکی ہوتی۔ کیونکہ بہت عرصہ پہلے سے ہی مجھے یہ یقین ہوگیا تھا کہ بینائی درحقیقت بہت کم چیزوں کو دیکھتی ہے۔

’’یہ کیسے ممکن ہے؟ ‘‘ میں نے اپنے آپ سے پوچھا، ’’کہ آپ ایک گھنٹہ درختوں کے بیچ میں سے سیر کریں اور کوئی قابلِ غور چیز نہ دیکھیں؟‘‘ میں خود جو دیکھ نہیں سکتی محض چھونے سے ہی سینکڑوں ایسی چیزیں پاتی ہوں جو میری دلچسپی کا باعث ہوں۔ میں ایک پتّے کا نازک تناسب محسوس کرتی ہوں۔ میں نقرئی سندر کے درخت کی ملائم کھال یا پھر صنوبر کی کھردری روئیں دار چھال پر محبت سے ہاتھ پھیرتی ہوں۔ موسمِ بہار میں نئی کونپلوں کی تلاش کی اُمید پر درختوں کی شاخوں کو چھوتی ہوں، جب فطرت موسمِ سرما کی نیند کے بعد جاگتی ہے تو یہ اسکی پہلے علامت ہے۔میں ایک پھول کی مسرت بخش مخملی ساخت کو محسوس کرتی اور اسکے غیر معمولی پُرپیچ انداز کو دریافت کرتی ہوں، اسطرح سے فطرت کے کچھ معجزے مجھ پر عیاں ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار جب میں خوش قسمت محسوس کر رہی ہوں تو میں اپنا ہاتھ نرمی سے چھوٹے درخت پر رکھتی ہوں اور پوری محویت سے گنگناتے پرندے کی خوشگوار تھرتھراہٹ محسوس کرتی ہوں۔ میں ازحد خوشی محسوس کرتی ہوں جب ایک ننھی ندی کا ٹھنڈا پانی میری کھلی ہوئی انگلیوں کے درمیان سے گزرتا ہے۔ میرے لیے صنوبر کی سوئی نما گھاس کا شاداب قالین یا نرم گھاس مہنگے ترین ایرانی غالیچے سے کہیں بڑھ کر ہے۔میرے لیے موسموں کا پُرشکوہ منظر ایک پرُجوش اور نا ختم ہونے والا سوانگ ہے، جسکے افعال میری انگلیوں کی پوروں میں سے گزرتے ہیں۔

کبھی کبھار میرا دل ان سب چیزوں کو دیکھنے کی خواہش میں تڑپتا ہے۔ اگر میں محض چھونے سے ہی اسقدرلُطف لے سکتی ہوں تو دیکھنے کی صلاحیت کے بعد کس قدر مزید خوبصورتی عیاں ہوگی! اسکے بر عکس جو لوگ بظاہر دیکھ سکتے ہیں وہ درحقیقت بہت ہی کم دیکھتے ہیں۔ رنگوں اور افعال کا مسلسل بہاؤ جو کائنات میں جاری و ساری ہے اسکو لوگ محض سطحی لیتے ہیں۔ شاید یہ انسانی فطرت ہے کہ جو چیز ہمارے پاس ہو اسکی ہم خال ہی قدر دانی کرتے ہیں اور جو چیز موجود نہ ہواسکے حصول کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن یہ ایک انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اس روشن کائنات میں ہم بصارت کی نعمت کو محض اپنی آسانی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور زندگی کی خوبصورتی کی تکمیل کے لیے نہیں۔

مجھے یقین ہے کہ اگر آپکو نابینا ہونے کا خطرہ ہو تو آپ اپنی آنکھوں کو ایسے استعمال کریں گے جیسے پہلے کبھی نہ کیا ہو۔ آپ جو کچھ دیکھیں گے اسے عزیز رکھیں گے، آپکی آنکھ ہر اس چیز کو چھوئے گی اور قریب تر کر لے گی جو اسکی بصارت کے احاطہ میں آجائے۔ تب کم از کم آپ چیزوں کو حقیقتاً دیکھنے لگیں گے اور خوبصورتی اور دلکشی کی ایک نئی دنیا آپ کے سامنے عیاں ہو جائے گی۔

میں جو خود نابینا ہوں ان لوگوں کو جو دیکھ سکتے ہیں ایک اشارہ دے سکتی ہوں کہ اپنی آنکھوں کو ایسے استعمال کیجیے گویا کہ کل آپ بصارت سے محروم ہونے جا رہے ہیں، اور یہی طریقہ کار دیگر حسّوں پر منطبق کیا جا سکتا ہے۔ آوازوں کی موسیقی کو سنیے، ایک پرندے کے گیت کو، آرکسٹرا کے تاروں کو، اسطرح سے گویا آپ کل سماعت سے محروم ہونے جا رہے ہوں۔ ہر چیز کو ایسے چھوئیں گویا کہ آنے والے کل آپکے لمس کا احساس ختم ہو جائے گا۔ پھولوں کی خوشبو کو سونگھیں، ہر لقمے کو لطف سے چکھیں، گویا آپ کبھی دوبارہ کبھی اس چیز کو سونگھ یا چکھ نہیں پائیں گے۔ہر حِس کا بہترین استعمال کیجیے۔ انبساط اور خوبصورتی کی ہر حال میں توصیف کیجیے جو کہ کائنات آپ پرعیاں کرتی ہے۔ لیکن تمام حسّوں سے زیادہ مجھے یقین ہے کہ بینائی سب سے زیادہ مسرت بخش ہوگی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. Shah jahan Iqbal on

    آہ ادراکِِِ مشترک ایک ایسا جنگشن ہے جہاں ہر حس مخمور نیّا کھڑی ہوکر اپنے اپنے اسٹیشن کو لوٹ جاتی ہے۔مگر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ حسیات کے مفقود ہونے سے اس حس کے مسافر کسی اور حس کی گاڑی میں سوار ہو کہ اپنی منزل پہ پہنچ جاتے ہیں۔آہ ۔۔۔۔۔یہ کیا کرامت ۔۔۔۔۔کیا آرٹ ہے ؟
    کہ کوئی کانوں سے خواب دیکھے۔۔۔۔آہ کوئی آنکھوں سے سنے۔۔۔۔کوئی لمس سے چکھے۔۔۔۔اللہ اللہ ایک ایسی دنیا کی دریافت جہاں حسیات سے ماورا کی جلوہ آرائیاں ہوں۔۔۔جہاں لفظ و زباں سب ختم ہوئے۔۔۔جہاں زماں و مکاں کا نشان نہیں۔۔۔۔جہاں من و تو میں غیریت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ ہاں۔۔۔

  2. منہاج علی on

    محترمہ تنزیلہ خدا آپ کو سلامتی عطا کرے آمین۔ بہت آکھیں کھول دینے والا اقبتاس پڑھوایا ہے آپ نے۔ مَیں نےاس تحریر کی انگریزی عبارت تو نہیں پڑھی لیکن دل کہتا ہے کہ یہ اردو ترجمہ اُس انگریزی عبارت کا آئینہ ہی ہے۔ دوبارہ شکریہ! خوش رہیے۔

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20