بیش قیمت ——– شہزاد حنیف سجاول کا افسانہ

0

پانچ بجنے والے تھے اور بازار کی رونقیں جو کچھ بھی تھیں مانند پڑنے والی تھیں۔ لاک ڈاون کے باعث سارے بازار ۵ بجے بند ہو جاتے ہیں اور یک دم تمام شہر میں سنسانی قبضہ جما لیتی اور وحشت دوڑنے بھاگنے لگتی ہے۔ زندہ رہنے کی چاہت میں انسان کچھ بھی سہہ جاتا ہے۔ اس وبا کا ایسا خوف طاری ہے کہ انسان خود سے بھی خوفزدہ سہما ہوا رہتا ہے۔ باہر سے گھر جائے تو بچوں سے دور دور رہتا ہے۔ احتیاط اگرچہ ضروری ہے لیکن خوف بجائے خود ایک بیماری ہے۔ ایک شدید نفسیاتی بیماری۔ جو انسان کی صلاحیت کار کو چاٹ لیتی ہے قوت فیصلہ کو منجمند کردیتی ہے۔ بے خوفی ہی دراصل کامیابی کی کلید ہے۔ انسان دنیا میں بڑے بڑے معرکے بے خوفی کے ہتھیار سے ہی سر کرتا ہے۔ اندیشوں اور وسوسوں میں گھرا آدمی کچھ بھی نہیں کر سکتا خوف اس کے اندر سما جائے تو رات کو اُٹھ کر کچن سے پانی نہیں لاسکتا اور خوف کی چادر اتار دے تو ان دیکھی دنیائیں بھی اس کی ہیبت سے لرزہ بر اندام ہو جاتی ہیں اور دشت و صحرا اس کی ٹھوکر سے دو نیم ہونے لگتے ہیں۔

یہ تمام تر فلسفیانہ خیالات اگرچہ قاسم کے ذہن میں نہیں گھوم رہے تھے بلکہ وہ تو اپنے رکشے میں بیٹھا حساب کم و پیش میں مگن تھا۔ وہ کرنسی نوٹ شمار کر کے تہہ لگا کر اپنی جیب میں ٹھونس چکا تو اس کی نگاہیں بے رنگ آسمان کو ٹٹولنے لگی تھیں۔ جیسے کچھ شکائیت کرنا چاہتا ہو لیکن نفس مضمون سمجھ میں نہ آرہا ہو۔ لیکن اس کی خالی نگاہوں کا مرکز کوئی بھی نہیں تھا وہ بظاہر مطمئن تھا لیکن فی الاصل مایوس تھا کیونکہ تیل پانی کا خرچہ نکال کر اسے اتنی یافت ہو چکی تھی کہ شام کو بچوں کا پیٹ پل جائے گا اور منّے کا دودھ بھی آجائے گا۔ اس کی خالی خالی نگاہوں میں ایک ملفوف شکوہ بھی تھا۔ کیونکہ وہ پچھلے کئی دنوں سے وہ اس قدر رقم پس انداز نہیں کر سکا تھا کہ استاد جی کے لیے حسب وعدہ کوئی تحفہ خرید سکے۔ استاد جی بے شک اسے اس خیال سے باز رہنے کی تلقین کرتے رہتے تھے لیکن وہ اپنی عقیدت کو ان کی مروت کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہتا تھا۔ اور پھر اس کا کیا حل ہو کہ پورے ملک میں ایک ماہ سے شدید لاک ڈاون تھا۔ لوگ گھروں میں قید ہو کر بیٹھے تھے۔ بازار بندے پڑے تھے سواری اول تو ملتی نہیں مل جائے تو اس کی منت سماجت کرنا پڑتی ہے۔ بہت کم اور بعض اوقات تو انتہائی نامناسب کرائے پر سواری اٹھانا پڑتی ہے۔ پھر یہ خیال بھی اس کی گدگدی کرنے لگتا تھا کہ رمضان کا مہینہ آ رہا ہے۔ گو چنے چاٹ فروٹ چاٹ، شربٹ پکوڑے پر کچھ زیادہ خرچ تو نہیں ہوتا لیکن ان حالات میں اس قدر کرنا بھی بہت مشکل ہو جائے گا۔

بازار اب مکمل طور پر خالی ہو چکا تھا اور وہ قبرستان والی گلی کے پاس جنگلی شہتوت کے درخت کے نیچے کھڑا تھا۔ اس گلی میں استاد جی کا گھر تھا وہ منتظر تھا کہ استاد جی نظر آ جائیں یا ان کا بیٹا ہی مل جائے تو اس نے ان کے لیے کچھ خرید رکھا تھا جو وہ انھیں دینا چاہتا تھا۔ کوئی قیمتی تحفہ خریدنے کی ابھی اس میں سکت نہیں ہے لیکن وہ چاہتا تھا کہ کوئی معمولی ہی سہی فی الحال کوئی نہ کوئی چیز انھیں بھیج دے اس لیے اس نے کچھ خرید لیا تھا اور اب گلی کی نکڑ پر استاد کی آمد یا انے کے بیٹے کے لیے منتظر تھا۔ اب وہ یاد کر رہا تھا کہ استاد جی اس کا تعارف کیسے ہوا تھا۔ ایک دن وہ عصر کی نماز کےذرا پہلے وہ مظہر استاد کی ورکشاپ میں پہنچا تو مظہر استاد کہیں جانے کے لیے تیار کھڑا تھا اور شاگرد پیشہ کو ہدایات دے رہا تھا قاسم نے اس کے پاس پہنچ کر رکشے کی خرابی کے حوالے سے بتایا تو مظہر استاد نے کہا کہ ابھی تو وہ کہیں جارہا لہذا وہ یعنی قاسم کل صبح کے وقت آئے یا ظہر کی نماز کے بعد۔ قاسم نے منت سماجت کی لیکن مظہر استاد کو مانناتھا نہ مان کر دیا۔ ذرا کریدنے پر پتا چلا استاد اس وقت قرآن اکیڈمی عربی کی کلاس لینے جاتا ہے۔ پہلے تو قاسم کی ہنسی چھوٹ گئی۔ لیکن مظہر استاد کی آتشیں نظروں نے اس کی ہنسی کو جلد ہی نگل لیا۔ قاسم کہنے لگا استاد ورکشاب چھوڑ کر کوئی مسجد سنبھالنے کا ارادہ ہے یا سودی عرب میں کوئی نوکری مل گئی ہے۔ قبر میں فرشتوں کے سامنے شرمندہ ہونے تو بچ جائوں گا۔ مظہر استاد اب سنجیدہ ہو گیا تھا۔ قاسم اور مظہر استاد ایک ساتھ ہی اکیڈمی کے لیے نکلے اور قاسم اسے اکیڈمی اتار کے لاری اڈے کی جانب نکل گیا۔

اگلے روز قاسم دن کا کھانا کھا کے مظہر استاد کے کی ورکشاپ پہنچ گیا اور سے خرابی کے بارے میں بتایا مظہر استاد نے چند اوزار پکڑے اور رکشے کی مرمت میں جت گیا۔ قاسم بھی اس کے پاس کھڑا ہو گیا اور نرمی سے پوچھنے لگا کہ عربی سیکھنے کی خیال اسے کیسے آیا۔ مظہر استاد کہنے لگا یہ جو اپنے حاجی صاحب ہیں ناں انجمن تاجران والے یہ کئی روز سے کہہ رہے تھے کہ تو دن بھر گاڑیوں کی مرمت میں جتا رہتا ہے۔ کبھی اپنی مرمت پر بھی کچھ دھیان دے لو۔ میں سمجھا تبلیغی دورے کا کہیں گے لیکن کہنے لگے نہیں عربی کی کلاس کا آغاز ہو رہا ہے اس میں شامل ہو جاو اس کے بعد تم لوگوں کی مرمت کرنے لگو گے۔اور میں اس شوق میں چلا گیا۔ وہاں جا کے پتا لگا کہ حاجی صاحب درست کہتے تھے ہمیں مرمت کی ضرورت ہے۔ بڑا ہی سادہ ماحول اور بڑی ہی سیدھی باتیں جو دل کو بھی لگتی ہیں اور سمجھ بھی آتی ہیں۔ تو میں کہا مظہر استاد یہ کام کو انجن بنانے سے بھی آسان ہے اور میں نے تہیہ کر لیا کہ آئندہ چالیس روز تک بلا ناغہ آیا کروں گا خواہ کچھ پلے پڑے نہ پڑے۔ اور آج دسواں دن ہو رہے ہیں یقین کرو اب تو دن اس انتظار میں گزرتا ہے کہ کب نماز عصر ہو کب میں کلاس میں پہنچ جاوں۔پھر اس نے قاسم سے کہا تو بھی چلا کر یار قسم سے ایمان تازہ ہو جاتا ہے میری مان اور تو بھی آ جایا کر قسم سے زندگی بدل جائے گی۔ قاسم کہنے لگا یار میرے پاس فیس وغیرہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ مظہر استاد نے اسے بتا یا کہ یہ کورس تو فری ہے کوئی فیس وغیرہ نہیں لی جاتی۔ چائے اپنے حاجی صاحب انجمن تاجران والے لے آتے ہیں اور بسکٹ پیسٹری کرنل صاحب کی طرف سے آجاتی ہیں۔ یہ بات سن کر قاسم بھی اس کے ہمراہ جانے پر آمادہ ہوگیا۔

کلاس کے اختتام پر اسے اس بات کا شدید افسوس اور رنج ہو رہا تھا کہ اسے دس دن قبل اس بات کا علم کیوں نہ ہو گیا۔ کیونکہ جب استاد جی کو اس بات کا علم ہوا کہ قاسم آج پہلی بار کلاس میں آیا ہے تو انہوں خاص اس کے لیے گذشتہ اسباق کا خلاصہ پیش کیا اور آئندہ دس دن کے لیے کلاس کے دورانیے میں دس منٹ کا اضافہ بھی تجویز کیا تاکہ قاسم گزشتہ اسباق کی تکمیل کر سکے۔ اس اہمیت نے قاسم کے وجود میں ایک سرشاری سی بھر دی اور وہ مظہر استاد کو دل سے دعائیں دیتا ہوا نکلا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مہینہ گزر گیا اور کلاس مکمل ہو گئی قاسم کو اگرچہ عربی پر کوئی عبور تو حاصل نہیں ہوگیا لیکن اس کی مبادیات سے آگہی کے سبب اس کے اندر اس کی للک اور دینی امور کی انجام دہی ایک داعیہ پیدا ہو گیا اور سی داعیے کے سبب اس نے آئندہ کلاس میں بھی شمولیت کا فیصلہ کر لیا اور ساتھ اس نے یہ بات بھی ٹھان لی کہ وہ استاد جی کو اپنی عقیدت کے اظہار کے لیے کوئی تحفہ ضرور پیش کرے گا اور اس نے کچھ لے لیا تھا جو شاید قیمتی تو نہ تھا لیکن اس سے کم از کم استاد جی سے اس کی عقیدت کا اظہار ضرور ہو رہا تھا۔ اور اب وہ یہاں کھڑا ان کی راہ دیکھ رہا تھا۔ استاد جی آج دوسرے راستے سے گھر پہنچ گئے۔ انھیں چائے پینے کی شدید طلب ہو رہی تھی تو انہوں نے گھر پہنچتے ہیں بیگم سے چائے بنانے کی فرمائش کی لیکن بیگم نے بتایا کہ چینی ختم ہے لا دیں تو وہ چائے بنادیتی ہیں۔ استاد جی نے جب اپنی گرہ میں موجود رقم کا شمار کیا تو کھلا کہ اس میاع حیات میں سے اگر چینی خریدنے کی عیاشی کی گئی تو آمدہ دنوں میں سے کسی روز بات فاقے تک پہنچ جائے گی سو انہوں نے چائے پینی کی آرزو کو آرزو ہی رہنے دیا اور کپڑے بدل کربستر پر دراز ہو گئے۔ کچھ ہی دیر گذری تھی جب ان کا بیٹا ہاتھ میں ایک شاپر تھامے ان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ پوچھنے پر اس نے بتا یا کہ قاسم بھائی ملے تھے انہوں نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا ہے۔ یہ بات سن کو اُٹھ بیٹھے اور بچے پر برہم ہونے لگے کہ اس نے کیوں اس سے شاپر لیا ہے۔ شور سن کر بیگم بھی جو ساتھ والے کمرے میں تھیں بھی آ گئیں اور پوچھنے لگیں کہ کیا بات ہے تو استاد جی نے بتایا کہ قاسم ان کا ایک شاگرد ہے اور رکشہ چلاتا ہے وہ کئی دن سے انھیں تحفہ دنیے کی بات کر رہا تھا اور اس نے حسن کے ہاتھ یہ بھِیج دیا ہے انہوں نے قریب میز پر رکھے شاپر کی طرف اشارہ کیا۔ تو اس میں بچے کا کیا قصور ہے اسے کیا پتہ تھا کہ آپ تحفہ نہیں لینا چاہتے۔ اس بات پر وہ کچھ شرمسار سے ہوئے اور حسن کو لاڈ کرنے لگے۔ غریب آدمی ہے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں خواہ مخواہ کوئی قیمتی چیز خرید لی ہوگی اس نے اور پتہ نہیں کتنی رقم خرچ کی ہوگی۔ بیگم کہنے لگیں چلیں کھول کر دیکھیں تو سہی کہ کیا چیز ہے۔شاپر کھولتے ہوئے وہ استاد جی سے پوچھ رہی تھیں کہ اپ تو چائے کے لیے چینی لینے نہیں گئے میں پانی چڑھا رکھا ہے استاد جی نے جب بیگم کو اصل حقیقت سے آگاہ کیا تو بیگم کے ہاتھ شاپر کی گرہ پر کچھ دیر کے لیے ٹھہر گئے وہ کچھ ملول سی ہو گئی استاد جی حسن سے پیار کرنے لگے تو بیگم نے شاپر کی گرہ کھول دی تو اندر سے ایک اور شاپر برآمد ہوا جو کسی تحفے کے لحاظ سے کچھ وزنی تھا بیگم کہنے لگیں لگیا ہے کچھ قیمتی ہے شاپر وزنی ہے اور پھر انہوں سے دوسرا شاپر بھی کھول دیا اور شاپر کے اندر جو کچھ تھا اسے دیکھ کر چونک سی گئیں ان کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ بھی چونکے کہ ماجرا کیا ہے بستر سے اُٹھ کر وہ میز کے قریب آ گئے کیونکہ بیگم کے آنسو بہہ نکلے تھے انہوں نے جب شاپر میں دیکھا تو جو کچھ ان کے روبرو تھا وہ بہت بیش قیمت تھا دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو دونوں کے چہرے دھند میں لپٹ رہے تھے کیونکہ دونوں آبدیدہ تھے شاپر میں چینی تھی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20