کورونا، تخلیقی عمل اور بیگ احساس —- محمد حمید شاہد

0

ایک نام اور ادبی دنیا کی دو شخصیات۔ ایک اِدھر، ایک اُدھر۔ اِدھر والے مجتبیٰ حسین بھی پہلے اُدھر تھے 1948 میں پاکستان آئے اور کراچی میں بس گئے۔ اپنے نام کے ساتھ سید لکھتے تھے۔ محکمہ تعلیم میں رہے جب انتقال ہوا تو بلوچستان یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔ ریڈیو کے لیے بھی لکھا۔شعبہ تعلیم سے وابستگی کے علاوہ ان کی وجہ شہرت تنقید بھی تھی۔کہتے ہیں ان کی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے ہوا پھر تنقید کی طرف نکل گئے۔دوسرے والے مجتبی حسین اُدھر ہندوستان میں ہیں۔ 84 برس کے ہو چکے ہیں اور اس عمر میں بھی سنجیدگی کے مزاح لکھ رہے ہیں۔ اُن کی تحریروں کا کوئی قائل ہے تو کوئی گھائل۔ وہاں کی حکومت نے انہیں پدم شری ایوارڈ سے نواز رکھا ہے۔ ان دو مجتبی حسینوں سے آج کی نشست میں مجھے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ میرا مکالمہ تو حیدر آباد، ہندوستان والے بیگ احساس سے ہے۔ افسانہ نگار بیگ احساس۔ جی وہی جو اردو دنیا میں اس نام کے ایک ہی ہیں۔ اور جن کے بارے، اُدھر والے مجتبی حسین نے کہہ رکھا ہے کہ وہ خوش شکل، خوش جمال، خوش باش، خوش پوشاک، خوش اطوار، خوش اخلاق، خوش سلیقہ اور خوش آثار ہیں۔ یہ “خوش” کی گردان یہاں رکتی نہیں اور آگے چلتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

“بیگ احساس کو دیکھنا بھی ایک خوشگوار تجربہ سے کم نہیں ہے۔ انہیں دیکھ کر دل کے فسردہ ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو سراسرخوش ذوقی، خوش مذاقی، خوش دلی، خوش سلیقگی اور خوش مزاجی کا پیکر ہیں۔”

اب اگر میں یہاں یہ وضاحت کروں کہ یہ کہنے والے مجتبی حسین تنقید نگار نہیں مزاح نگار ہیں تو اس کا قطعاًیہ مطلب نہیں ہے کہ ایسا کہتے ہوئے وہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ وہ سنجیدہ ہیں اور اپنی تنقیدی بصیرت کو کام میں لا کر یہ فیصلہ بھی دے رہے ہیں:

“میری شخصی رائے ہے کہ عصر حاضر کے اگر پانچ بڑے افسانہ نگاروں کی کوئی فہرست مرتب کی جائے تو اس میں بیگ احساس کا نام ضرور شامل رہے گا۔”

بیگ احساس کا یہ خاکہ یوں یاد رہ گیا کہ “دخمہ” افسانے کا نام پڑھتے ہوئے جو ردعمل مجتبیٰ حسین نے اس میں تحریرکر رکھا ہے کوئی پانچ سال پہلے وہی ردعمل میرا رہا تھا۔ ہم دونوں کو لغت سے رجوع کرنا پڑا تھا کہ آخر “دخمہ” ہے کیا۔میں پارسیوں کے “ٹاور آف سائلینس” کی بابت جانتا تھا مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ “مینار خاموشاں” کو ہی “دخمہ” کہتے ہیں۔

پروفیسر بیگ احساس کا افسانہ”دخمہ“ ایم۔اے اردو الہ آباد یونیورسٹی ...خیر، دخمہ کا ذکرآیا تو بتاتا چلوں کہ بیگ احساس کے تین مجموعے چھپ چکے ہیں ۔ ریختہ پر دو ہی موجودہیں۔ پہلے میں نے وہاں ان کا تیسرا مجموعہ “دخمہ” پڑھا۔ وہی جس کا بھرپور مقدمہ ڈاکٹر مرزا حامد بیگ نے لکھا ہے۔ پھر دوسرا، یعنی”حنظل” دیکھا۔ پہلا مجموعہّ “خوشہ گندم” جو 1979 میں چھپا تھا میری دسترس سے پرے رہا۔ بیگ احساس نے لکھا دوسرے مجموعے میں تھا کہ پہلا مجموعہ انہوں نے نقادوں کو نہیں بھیجا تھا کیوں کہ جد ید نقاد، جدیدیت کے نام سےلکھی گئی تحریروں کی تفہیم میں مصروف تھےاور ترقی پسند نقاد یہ ثابت کرنے پر مصر تھے کہ جدیدیت کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ جدیدیوں اور ترقی پسندوں سے حذر کرنے والا یہ افسانہ نگار مجھے ستر کی دہائی میں اپنی علامت نگاری سے نام کمانے والوں سے بہت مختلف لگا۔ عین مین اپنے دعوے کے مطابق۔ جی، یہ دعویٰ مجھے اس بیان میں نہاں ملا ہے جس میں وہ “جدید افسانے ” کو افسانہ نہیں”تحریریں ” کہہ رہے ہیں اور ترقی پسندوں کو ان سے الجھتے۔ خیر یوں ہے کہ بیگ احساس کو پڑھتے ہوئے میں دیکھ سکتا تھا کہ بیانیہ صاف رواں تھا، کٹا پھٹا نہ تھا۔کہہ لیجئے ہر کہانی واضح تھی اور ترسیل مکمل مگروہ تخلیق کا اپنا جادو متن تشکیل میں جگا لیتے تھے، متن کی گہرائی میں، اسے دھیرے دھیرے اور سہج سنبھال کر لکھتے ہوئے۔ انسانی جبلت کے تضاد ات ان کا موضوع بنے اور بار بار بنے مگر ہر بار نئے کرداروں کو ایک الگ ماحول میں رچا بسا دکھا کر۔ہر نسل اپنا مزاج لے کر آتی ہے اپنے مسائل کے ساتھ، یہی سبب ہے ان میں تنائو پیدا ہوتا ہے، یہ ان کے ہاں موضوع ہوا۔ مذہب، سیاست اور تصادم یہ بھی ان کی توجہ کھینچتے رہے۔ یہ سب آج کے موضوعات ہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ہونے والا تماشا اور ہماری حسوں پر یغار کرتی لمحہ رواں کی حقیقتیں۔ گویا آج کو لکھنا محض ترقی پسندوں کو ہی محبوب نہیں رہا، ان کا مسئلہ بھی ہوا ہے جو ترقی پسندی کی نیت باندھ کر افسانہ نہیں لکھتے تھے۔

ترقی پسندی والی بات کو میں نے حال ہی میں چند سطروں کے ان پیغامات سے جوڑ کر دیکھا ہے جن کا تبادلہ میرے اور بیگ احساس کے درمیان ہوا۔

ہوا یوں کہ کووڈ 19 کی وبا کے پھیلائو کو روکنے کے لیے جب حکومت کی طرف سے لاک ڈائون کی پابندی لازم ٹھہری اور زندگی سمت سکڑ سمٹ کر رہ گئی تو مجھ پر اوّل اوّل ڈپریشن کا حملہ ہوا۔ تاہم کئی دوست مدد کو آئے مجھے حوصلہ دیا آصف فرخی نے راہ سجھائی کہ پڑھنے لکھنے سے ناتا ٹوٹنے نہ دو۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد لگ بھگ تین سال سے گھر میں تھا پڑھنا لکھنا ہی معمول تھا مگر اس ناگہانی آفت کے سبب میرا سارا معمول بکھر کر رہ گیا تھا۔ کچھ پڑھنا چاہتا تو کتاب سامنے رکھی رہ جاتی اور دھیان کہیں اور بہک رہا ہوتا۔ خدا خدا کرکے میں نے اپنی کیفیت پر کچھ قابو پایا، قلم اٹھایا تو جو دیکھ سن اور محسوس کر رہا تھا اسے تخلیقی سطح پر برتنے کی راہ خود بخود سوجھتی چلی گئی۔ یوں اوپر تلے پانچ چھ تحریریں ہو گئیں۔ ان میں سے “کرونا اور قرنطینہ” پر بیگ احساس کارد عمل آیا۔ ہمارے درمیان یہ چند سطری مکالمہ کیا تھا، ہو بہ ہو نقل کر رہا ہوں کہ اس میں بھی دو لکھنے والوں کے درمیان تخلیقی عمل کی ایک جہت پر بات ہوئی ہے۔

بیگ احساس:۔ عمدہ افسانہ۔ آپ پر ترقی پسندوں کی تقلید کا الزام عائد ہو سکتا ہے۔ ہوا کرے، کیا فرق پڑتا ہے۔ ابتدا میں بانسری کی لیے اونچی ہے۔
محمد حمید شاہد:۔ ترقی پسندوں سے قصدا بچ کر نکلتا رہا یوں یہاں بھی میرے پاس کوئی نعرہ نہیں ہے کہ لے اونچی ہوتی۔ آپ کو اچھا لگا بہت شکریہ
بیگ احساس :۔ ترقی پسندوں کی تقلید یوں کہ وہ تازہ اہم واقعات پر فوراً ردِعمل کا اظہار اپنے افسانوں میں کرتے رہے۔ آپ کا افسانہ “لاجونتی” اور “کورانٹین” کی سطح کا ہے۔ مبارک باد۔
محمد حمید شاہد:۔ یہ آپ کی محبت ہے۔۔۔ ہاں مجھے تازہ واقعات سے تخلیقی سطح پر معاملہ کرنے میں لطف آتا ہے۔ لیکن وہاں جہاں یہ انسانی وجود میں اتھل پتھل مچاتے ہوں۔ ایک بار پھر شکریہ آپ نے افسانہ پڑھا اور آپ کو اچھا لگا۔

اس پر مجھے کچھ اضافہ نہیں کرنا سوائے ایک سوال اٹھانے کے، کہ کیا ترقی پسندی کی یہ تعریف کافی ہے کہ وہ تازہ اہم واقعات پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے تھے، یا پھر اس میں یہ اضافہ بھی ضروری ہے کہ ایک منشور کے زیر اثر وہ ایسا کیا کرتے تھے۔ میرا خیال ہے ان کے ہاں پارٹی لائن بہت اہم رہی ورنہ لگ بھگ ہر تخلیق کار نے اپنی حسوں کو ہر زمانے میں بیدار رکھا ہے، ان سانحات پراپنے اپنے ڈھنگ سے لکھنے والوں نے اس زمانے میں بھی لکھا جب وہ ان کے تجربے یا مشاہدے میں آرہے تھے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک تخلیق کار کے سامنے سانحات ہو رہے ہوں اور اس کا تخلیقی عمل دم سادھے پڑا رہے۔ ادیب تو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ زندہ ہوتا ہے اور تخلیق ہی اس کے زندہ ہونے کی گواہی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20