فکر غامدی: جدید ذہن پہ اثر، معاشرے سے لاتعلقی اور مستقبل — میں ان سے کیوں الگ ہوا؟ سجاد خالد

1

سوال: آپ اپنے فکری سفر کے دوران ایک زمانے میں جاوید احمد غامدی صاحب، انکے ادارے اور انکی فکر کے ساتھ وابستہ رہے، پھر ایک وقت آیا کہ آپ ان سے الگ ہوگئے، کچھ اس سفر کی روداد بتائیے کہ کیا اختلاف تھا اور آج کہاں کھڑے ہیں؟

جواب: غامدی صاحب سے ملنے سے پہلے جن دو شخصیات سے متاثر تھا ان میں سر فہرست اقبال تھے اور دوسرے سید مودودی۔ ان دونوں کی فکر کا ایک مرکب تھا جس کے ساتھ میں جی رہا تھا۔ غامدی صاحب سے جب میری ملاقات ہوئی اور میں نے انکے کچھ مضامین پڑھے تو پہلے تو مجھے انکی نثر بہت اچھی لگی، پھر اسکے بعد انکے اشعار اور شاعری دیکھنے کا موقع ملا۔ اگر چہ میں نے یہ کبھی بھی محسوس نہیں کیا کہ وہ اقبال کی طرح ہیں لیکن مجھے یوں لگا کہ جیسے وہ دو شخصیا ت میرے اندر کہین جی رہی ہیں وہ اس شخص کے اندر مجھ سے بہتر انداز میں اپنا اظہار کر رہی ہیں تو اس طرح سے مجھے ان سے رغبت پیدا ہوئی اور میرے بہت سارے سوالات تھےجن کے وہ کامیابی سے جوابات دے پائے۔ اسکے بعد میرے اندر خواہش پیدا ہوئی کہ میں انکے ساتھ کام کروں اور اسکا حصہ بنوں اور دین کی دعوت کا جو کام ہے وہ انکے ساتھ مل کر کیا جائے۔ تو جتنا عرصہ میں انکے ساتھ مل کر دین کی دعوت کا کام کیا، اس دوران مجھے اندازہ ہوا کہ انکا مزاج داعیانہ نہیں، محققانہ ہے۔ ایک محققانہ مزاج رکھنے والا شخص وہ اپیل نہیں رکھتا جس سے لوگوں کے دل بدل جائیں۔ تو پانچ، سات سال میں ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ کام سوائے صوفیاء کے، اس میتھڈ کو، اس کمیسٹری کو کوئی سمجھ نہیں سکا۔ ہمیں صوفیاء کے تصور شریعت سے اختلاف ہو سکتے ہیں لیکن انکے سکھانے کے طریقے سے، انکے انسپائر کرنے کا جو مادہ پایا جاتا ہے اس سے کوئی اختلاف نہیں۔ جس طرح سے وہ down to the earth ہیں، عوام کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں، غیر متعصب ہوتے ہیں وہ غامدی صاحب کے حلقہ کا مزاج نہیں ہے۔ تو پھر مجھے لگا کہ اپنے آپ کو غامدی صاحب سے الگ کر لینا چاہیے۔ اور دین کی دعوت کا کوئی بھی ایسا ادارہ، کوئی بھی ایسا پلیٹ فارم آئندہ مجھے نہیں جوائن کرنا جو صرف محققانہ ہو۔

سوال : خاص طور پر انکی فکر کے حوالے سے آپ نے جو چیزیں دیکھی ہیں، سنی ہیں، محسوس کی ہیں وہ کیا ہیں؟

جواب: جی کچھ چیزیں میں نے ایسی دیکھی ہیں۔ کیونکہ ہم انسان ہیں، ہمارے اندر تضادات موجود ہوتے ہیں، اور یہ دعویٰ کسی بھی شخص کے بار ے میں نہیں کیا جا سکتا حتی کہ میں اپنے پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ میرے ساتھ کچھ وقت گزاریں تو میرے سامنے آپ میرے تضادات رکھ دیں گے۔ اب میرے وصف پہ اسکا دارومدار ہوگا کہ میں ان چیزوں کو قبول کرتا ہوں کہ نہیں، یا اسکو میرے فہم پر بھی چھوڑ دیں کہ اگر میرا ظرف ٹھیک تھا بھی اور اگر مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی تو میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ بھئی میں پوری ایمانداری کے ساتھ آپ کے ساتھ اختلاف کرتا ہوں۔ تو غامدی صاحب کے بارے میں مجھے ان پر یہ اعتبار ہے۔ ایک دفعہ میں نے ان (غامدی صاحب) سے یہ کہا تھا کہ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ آپ جو تصور دین بیان کر رہے ہیں وہ سنداً درست ہے یا نہیں مگر مجھے وہ اپنے دلائل میں درست نظر آتا ہے تو میں آپ کے ساتھ ہوں، کیونکہ میں تو عالم دین نہیں ہوں، آپ کی بات کو میں یوں نہیں چیک کر سکتا کہ آپ جس حدیث کو بیان کر رہے ہیں میں اس حدیث کو جا کر چیک کروں۔ آپ قرآن مجید کی کوئی آیت بیان کر رہے ہیں اور میں قرآن مجید کی زبان، لغت، تفاسیر کی روشنی میں اسکو دیکھنے کا اہل ہوں، ایسا تو کبھی بھی نہیں تھا۔ مجھے تو یوں لگتا تھا کہ جیسے آپ بات کر رہے ہیں اسکے دلائل درست ہیں، تو مجھے ان دلائل میں کبھی کہیں کوئی خامی نظر آئ ہے تو میں نے وہ بیان بھی کیا ہے اور اسی بنیاد پر میں پیچھے بھی ہٹا ہوں۔

مثال کے طور پر غامدی صاحب بڑے اصرار کے ساتھ ایک بات کہا کرتے تھے کہ انسانی فطرت یہ ہے تو میں بھی نفسیات کا ایک طالب علم ہوں اور مین بھی اپنے طور پر انسانی فطرت کے بارے مین جاننے کی کوشش کرتا رہتا ہوں، تو فطرت کے بارے میں انکا ایک لگا بندھا اور ایک اپنا hard rule تھا کہ جس کی بنیاد پر وہ یہ کہتے تھے کہ میں یہ ثابت کر سکتا ہوں۔ پہلی بات یہ علم کی دنیا میں ہم نے تو کبھی ثابت ہوتی ہوئی کوئی چیز نہیں دیکھی، ہر صاحب علم کو اپنے دلائل رکھنے ہوتے ہیں اور پھر اپنے دلائل کو چیک کرنا ہوتا ہے اسکے بعد آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ثابت ہو گیا، اگر آپ ایسا کہین گے تو پھر آپ کا مذاق اڑے گا۔ اگر آپ یہ کہیں گے کہ میں ثابت کر کے جارہا ہوں یعنی آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگ کہیں کہ ہمیں بات سمجھ میں نہیں آئی اور آپ یہ کہہ کر اٹھیں کہ میں تو ثابت کرکے جا رہاہوں تو اس سے بڑا کوئی مذاق نہیں ہوگا۔ غامدی صاحب کی یہ عادت بن چکی تھی کہ وہ ٹی وی پر آتے تھے تو کہتے تھے کہ میں ثابت کرکے دکھائوں دوں گا۔ تو آج تک انہوں نے کسی چیز کو ثابت تو نہیں کیا اور انکے سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں نے بھی کہا ہو کہ ہاں یہ ثابت ہو گیا ہے، ثابت ہونے کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ جس شخص کے ساتھ آپ بات کر رہے ہیں وہ تو کم از کم اعتراف کر لے، باقی لوگوں کو چلئے آپ چھوڑئیے جو باہر بیٹھے ہیں۔ تو ایک تو انکا یہ انداز مجھے پسند نہیں تھا۔

اسی طرح بہت سی باتوں میں انکا بہت جلدی رجوع کر لینا بھی پسندیدہ نہ تھا۔ پہلے یہ میری پسندیدہ چیز ہوتی تھی لیکن بعد میں مجھے اسکا احساس ہوا کہ یہ بہت زیادہ غور و فکر کرکے کام نہین کرتے اور ہر چیز کو بہت جلدی میں بیان کر دیتے ہیں، اپنے نتائج فکر کو پکا کر نہیں دیکھتے بہت جلدی اسکا اظہار کر دیتے ہیں۔ یہ بہر حال انکی اعلیٰ ظرفی رہی ہے کہ جب بھی انکو اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے تو انہوں رجوع کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہان یہ میری غلطی تھی اور مجھے اس سے بہتر خیال مل گیا ہے، تصور مل گیا ہے میں اس پر آ گیا ہوں۔ اسی طرح ایک گفتگو کے دوران انہوں نے خط نسخ کا ذکر کیا، میں خود علم خطاطی کا طالب علم ہوں اور Visual Art میری فیلڈ ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ ایک جملہ کہہ دیا، ایک درس قرآن کے دوران کہ خط نسخ جو ہے یہ ہاتھ اٹھائے بغیر لکھا جاتا ہے تو میں نے دل میں سوچا کہ اگر تو میں ابھی ان سے کچھ کہہ دوں تو انکی insult ہو جائے گی تو مجھے چونکہ ان سے پیار ہے اس لئے بہتر یہ ہے کہ بعد میں کبھی کہہ لیں گے کہ بھئی یہ بات آپ نے کہاں سے لی؟ لیکن اسکے ساتھ ہی میرے اندر ایک احساس پیدا ہوا کہ جن معاملات میں، میں ان پہ اعتبار کرتا ہوں وہ میرے میدان بھی نہیں ہیں تو وہ بھی میرا اعتبار shake ہو گیا۔ اس لئے کہ اس کو تو یہ نہیں جانتے تھے اس لئے انہوں نے غیر ذمہ داری سے اسکو یہاں بیان کر دیا اور یہ میرا چونکہ ڈسپلن ہے اس لئے یہاں میں نے انکی گڑ بڑ دیکھ لی لیکن اگر میں عربی زبان کا ماہر ہوتا، میں تاریخ کا، رجال، فقہ پر، حدیث پر نظر رکھتا تو پھر کیا کیا چیزیں میں نہ دیکھتا، تو یہ احساس مجھے اسی وقت ہو گیا تھا۔ پھر میں نے نجی محفل میں جا کر انہیں کہا اور انہوں نے اعتراف کیا کہ ہاں مجھ سے غلطی ہو گئی تھی، تو یہ ان کا بڑا پن تھا ۔ لیکن آج میں یہ بات شئیر کر رہا ہوں تو اس لئے نہیں کہ مجھے غامدی صاحب کی ذات کو اچھال کر کچھ حاصل کرنا ہے۔ یہاں کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جب بھی کسی شخص کے اندر ہم کوئی ایسی بات دیکھتے ہیں جو ہمارے دائرہ علم کی چیز ہوتی ہے اور اس میں ہمیں لگتا ہے کہ یہ بددیانتی کر رہا ہے تو اسکے اثرات اسکی باقی باتوں پر بھی پڑتے ہیں۔ میں صرف اصول بیان کررہا ہوں اسکا اطلاق آپ کسی اور پر کر لیں یا اپنی ذات پر کر لیں، تو غامدی صاحب اس وقت میرے سامنے موجود تھے اور جب میں نے انکے سامنے اظہار کیا تو انہوں نے فوراً رجوع کیا کہ ہاں اس معاملے میں مجھ سے غلطی ہوئی تھی اور آپ سے پوچھے بغیر مجھے ان چیزوں کو طے نہیں کرنا چاہیے تھا۔

سوال: غامدی صاحب، سوسائٹی کی جس کلاس کو مخاطب کرکے اپنا اثر چھوڑ رہے ہیں وہ کلاس اس سوسائٹی کی کریم ہے۔ پڑھے لکھے لوگ، جدید ذہن، تعلیم یافتہ ذہن، با اثر ذہن، متمول ذہن۔ اس صورتحال کے بعد آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں سوسائٹی میں کوئی کنفیوز نہیں ہو رہا یا وہ عام مسلمان سے مخاطب ہی نہیں ہیں؟

جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ میرا تو یہ تصور ہی نہیں ہے، میں تو اسکو سوسائٹی کی کریم نہیں مانتا جو سوسائٹی پر غیروں کی طرح انگلی اٹھاتے ہیں وہ ذہنی طور پر اس سوسائٹی میں جی ہی نہیں ہو رہے ہوتے۔ وہ ذہنی طور پر اس سوسائٹی سے باہر کسی اور سوسائٹی میں جی رہے ہوتے ہیں اور اسی سوسائٹی کے نکتہ نظر سے اپنی سوسائٹی پر جہاں انکی پیدائش ہوتی ہے اس پر وہ نکتہ چینی کر رہے ہوتے ہیں۔

آپ کو معلوم ہوگا کہ مغرب کے اندر بھی سیکولر ازم پر بھی جب انسان بڑھا ہے تو اسکی ابتدا تو مذہب کے اندر سے شروع ہوئی ہے۔ اسی طرح سے ہمارے ہاں بھی وہ ذہن جسے آپ جدید ذہن کہتے ہیں اگر چہ اس پر طویل بحث کی ضرورت ہےکہ جدید ذہن کسے کہا جائے۔ میں تو جدید ذہن کے بارےمیں مثال کے طور پر غامدی صاحب کہا کرتے تھے کہ میں جدید ذہن سے مخاطب ہوں تو میں ان سے کہتا تھا کہ کونسا جدید ذہن؟ وہ جدید ذہن کہ جب ایک پنڈت انڈیا سے اٹھ کر امریکہ میں جاتا ہے تو اسکو سب سے زیادہ audience امریکہ میں مل جاتے ہیں؟ ایک بھکشو یہاں چین سے اٹھتا ہے، اور یورپ میں جا کر لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے؟ یہی ہے نا جدید ذہن؟ تو اس پر وہ تھوڑے سے کچے بھی ہو گئے تھے۔

جدید ذہن سے مراد کیا ہے؟ آج کے انسان کو آپ اتنا generalize نہیں کر سکتے۔ کہ آپ یہ کہیں کہ آج کا انسان، کسی ایک خطے کے انسان کو کہا جائے اور پھر اس خاص خطے کے انسان کو بھی اگر آپ جدید ذہن کہتےہیں تو اسکا تجزیہ کریں گے تو آپ کا جدید اور انکے جدید کے تصور میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہوگا۔ دوسری بات خود جدید کا لفظ یہ تو ہر زمانے میں ہر جدید قدیم ہوجاتا ہے، تو ایک اصطلاح ہی میرے نزدیک صحیح نہیں ہے کیونکہ آج کا جدید جو ہے وہ کل کا قدیم ہو جائے گا۔ اور ہر وہ بات جو آج آپ کہہ رہےہیں وہ کل کا ماضی ہے تو یہ بات نہین کہنی چاہیے۔

بات یہ ہے کہ غامدی صاحب نے جس طبقے کو متاثر کیا ہے وہ دنیاوی جدوجہد میں، دنیا مین اپنے آپ کو establish کرنے کے حوالے سے نسبتاً کامیاب ہے لیکن اگر آپ کہین کہ یہ ہمارے ہاں دین کی تبلیغ و دعوت، دین سے متاثر ہو کر زندگی بدل دینے والے لوگوں کا کوئی گروہ ہے تو میں نہیں مانتا۔ جن لوگوں کی زندگیاں بدلی ہیں وہ صوفیا کے ساتھ، کم ازم کم ایسے لوگوں کے ساتھ مل کر بدلی ہیں جنکا بہت down to earth، living standard تھا، جو لوگوں کے ساتھ انکے دکھ درد میں شریک تھے۔ مثال کے طور پر مجھے اچھی طرح یاد جب میں غامدی صاحب کے حلقے میں تھا تو ہمارے مختلف مسالک کے جتنے بھی علماء کی اموات ہوئیں انکی نماز جنازہ میں غامدی صاحب خود موجود نہین تھے میرا مطلب ہے ان میں شامل نہیں ہوئے اور میں ہر نماز جنازہ مین ہوتا تھا۔ وہاں جا کر یہ شرمندگی سی محسوس کرتا تھا کہ میرے حلقے کا کوئی بھی آدمی یہاں موجود نہیں ہے۔ مجھے ایک بہت disconnection محسوس ہوا کہ انکا ہمارے ساتھ کوئی بھی رشتہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے کسی دکھ درد میں شریک نہیں ہیں حالانکہ میں وہی نکتہ نظر رکھتا تھا لیکن میرا انہی کے ساتھ انسانی بنیادوں پر ایک رشتہ تھا وہ میرے خیالات کو اسی طرح اجنبی جانتے ہوئے آج بھی مجھے برداشت کرتے ہیں جو غامدی صاحب کے ساتھ رہتے ہوئے میرے اندر پیدا ہوئے تھے۔ وہ مجھ سے یہ باتیں کیوں سن لیتے ہیں اور ان سے وہ کیون نہین سنتے؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ میرے ساتھ انکا ایک انسانی سطح پر ایک رشتہ برقرار ہے جو انکے ساتھ نہیں بن سکا۔ اور یہ جو ہمارے ہاں خیال کیا جاتا ہے کہ سرمایہ دار طبقہ تو سب سے زیادہ باہر ہے اور جن لوگوں کے وسائل پر تسلط اور تصرف ہوتا ہے انکو ہمیشہ سوسائٹی مین اہمیت دی جاتی ہے تو اگر اہمیت اسی بنیاد پر دینی ہے تو ہمارے ہاں میڈیا پر سب سے زیادہ لفٹسٹ چھائے ہوئے ہیں جو خدا تک کو نہیں مانتے تو کیا ہم اس وقت انکے نکتہ نظر کی بنیاد پر ساری چیزوں کو طے کریں گے؟ تو میرے خیال میں یہ تناظر ہی درست نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ کیونکہ یہ لوگ فلاں پوزیشن پر ہیں اس لئے انکی بات کی بنیاد پر تصور دین طے کرنا شروع کر دیں اور انکو ایڈریس کرنے کیلئے ہم سارا بیانیہ بدل دیں، ہم اپنی ساری کیمسٹری تبدیل کر دیں۔

میرا یہ خیال ہے کہ ہمیشہ لوگوں کی بڑی تعداد کو، عوام الناس کو ذہن میں رکھنا چاہیے، یہ لوگ (جو میڈیا پہ چھائے ہوئے ہیں) خود کو اسی وقت بدلتے ہیں جب عوام الناس بدل جاتی ہے۔ انکے اپنے رنگ ڈھنگ سب بدل جائیں گے جب یہ لوگوں کو بدلا ہوا دیکھیں گے۔ یہ آج دیکھ رہے ہیں کہ لوگ اپنے مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں تو لوگ اس پوزیشن میں ہی نہیں ہیں کہ وہ کہیں کہ ہمیں یہ چیز پسند نہیں ہے۔ ہمارا متوسط طبقہ اپنے معاشی مسائل میں اس حد تک گھرا ہوا ہے کہ آپ اس سے یہ توقع نہین رکھ سکتے کہ یہ کہیں کہ بھئی ہمیں یہ چیز نہیں چاہیے، یہ ہماری پسند کی چیز نہیں ہے۔ تو اس بنیاد پر ہر ایک کو حق حاصل ہے کہ وہ چینل پر بیٹھ جائے اور کہتا رہے کہ یہ بات مشہور ہے۔ یہ اور بات پروگرام کی ریٹنگ ہائی ہے تو انکی سننی پڑتی ہے لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ یہی لوگ ہماری کریم ہیں تو یہ غلط ہے۔  میرے خیال میں ہماری کریم ہمارا تخلیقی وجود ہے۔ وہ تخلیقی وجود جو ہمارے ہاں آرٹ پیدا کرتا ہے جو ہمارے ہاں تصویر بنانے والا، خطاطی کرنے والا، ہمارا نقاش، ہمارا معمار، ہمارا ٹیچر، ہمارا مولوی، یہ سارے وہ کردار ہیں جو مل کر سوسائٹی کو بنانے میں اصل میں Contribute کرتے ہیں۔ باقی لوگ جو ہیں وہ ہوائی باتیں کرتے ہیں۔ انکا سوسائٹی کے ساتھ اصل تعلق نہیں ہے۔

سوال : آپ کیا سمجھتے ہیں کہ غامدی صاحب کی فکر کا آج سے دس سال بعد تاریخ میں کیا مقام ہوگا کیونکہ ہمارا معاشرہ تو بہرحال اسی سمت مین جار ہا ہے، روایت سے جدیدیت وغیرہ کی جانب؟

جواب: آپ سوسائٹی کو جس طرف جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں یعنی معاشرہ جہاں جاتا ہوا نظر آرہا ہے تو یہ تناظر بھی آپ کو اس وقت میڈیا اور وہ لوگ دے رہے ہیں جو معاشرے کو بظاہر لیڈ کر رہے ہیں۔ میرا اپنا یہ خیال ہے کہ معاشرہ ہمیشہ ایک نئے راستے پر چل رہا ہوتا ہے ایک مختلف راستے پر چل رہا ہوتا ہے، وہ راستہ جس کے بارے میں ان لوگوں کو جو تہذیبی شعور سے عاری ہیں، اندازہ نہین ہوتا۔

سوال: چونکہ آپ ان سے بہت عرصہ وابستہ رہے ہیں اور یقینی بات ہے کہ علیحدگی کے بعد بھی انکی سوچ اور فکر سے آپ کی دلچسپی رہی ہوگی۔ غامدی صاحب آج جہاں پر کھڑے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں کو، عوام کو مخاطب کر رہے ہیں اور انکے پیش کردہ تصورات کو کسی حد تک قبول بھی کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں غامدی صاحب کو ہمارے بہت سے لوگ، روایتی فکر والے خاص طور پر انکو تھوڑا شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس صورتحال کو آپ بطور ایک طالب علم کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: میں نے یہ بات غامدی صاحب سے خود کہی۔ میں نے ان سے کہا کہ جب آپ ہماری سوسائٹی پر تنقید کرتے ہیں تو کبھی یہ نہیں لگا کہ گھر کا آدمی تنقید کر رہا ہے، یوں لگتا ہے جیسے باہر بیٹھا ہوا کوئی آدمی مذاق اڑا رہا ہو، کہ اس گھر کے لوگ ایسے ہیں، یہ بڑے گندے رہتے ہیں، یہ بڑے غلیظ ہیں، بڑے کم فہم ہیں، یہ بہت جھگڑالو ہیں، زود رنج ہیں، تو اس میں کوئی اپنائیت، کوئی رشتہ، کوئی درد محسوس نہیں ہوتا جو انسان کو بدل کےرکھ دیتا ہے۔ اسکے مقابلے میں صوفی کا درد گھر کے اندر کا درد ہوتا ہے، وہ باپ کا درد، بہن کا درد ہے، وہ ماں کا درد ہے ، وہ بیٹے کا درد ہے، وہ بھائی کا درد ہے، وہ درد، غامدی صاحب کے اس پورے تصور تبدیلی میں، نظر نہیں آتا، اور یہی میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ ان لوگوں کا باطن نہیں بدل سکیں گے۔ آپ لوگوں کے دماغ کی بالکل اوپر کی سطح پر اپنی کوئی جگہ بنا پائے ہیں، آخری منزل میں، اور جو دلوں کی گہرائی ہے وہاں آپ کا کوئی رسوخ نہیں ہے، کوئی اثر نہیں ہوگا۔ ا س لئے کہ لوگ آپ کو دیکھتے ہی محسوس کرتے ہیں کہ آپ ان پر آوازیں کسنے والے ہیں، باہر سے استہزاء کرنے والے ہین، انکی تحقیر کرنے والے کوئی شخص ہیں۔ آ پ کو کوئی درد نہیں ہے، آپ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اس سوسائیٹی کو بدلنے کا۔ آپ باہر کھڑے ہیں، مغرب کی نظر سے دیکھ رہے ہین، اور مغرب کی نظر سے دیکھنے والا ایک آدمی، جو اندر سے مرعوبیت کا شکار ہے اس کو کوئی درد نہین ہوتا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ آپ کی بہت ساری چیزوں سے مجھے اتفاق ہے لیکن مین جب کسی سے بات کرتا ہوں تو وہ بدل جاتے ہیں، میں نے بہت لوگوں سے باتیں کیں اور ساری زندگی کیلئے مجھ سے اٹیچ ہو گئے، وہ مجھے نہیں چھوڑتے، باتیں میں وہی کر رہا ہوں جو آپ کی فکر ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ انہین میرے درد پر کوئی شک نہیں، انہین میرے رشتے پر کوئی اعتراض نہین ہے.

سوال : مگر غامدی صاحب کی فکر سے متاثر، بہت سے افراد اب بھی توان سے وابستہ ہیں، اور انکے ساتھ چل رہے ہیں؟

جواب: جی ہاں، لیکن میرا یہ خیال ہے کہ اسی کیمسٹری کے لوگ انہیں پسند کرتے ہیں جنکا اس سوسائٹی کے ساتھ وہ درد کا رشتہ نہیں ہے، وہ بس اس سوسائٹی کو بس اوپر سے انگلی دکھانے والے ہیں، بس الزام لگانے والے ہیں، وہ سوسائٹی کی کیمسٹری کے اندر اتر کر اور اسکے گھر کا فرد بن کر بات نہیں کرتے، تو وہی قبیلہ انہیں پسند کرتا ہے جس قبیلے کے وہ خود ہیں۔

ایک دفعہ وہ مجھ سے ایک بات کہنے لگے کہ یہ جو آپ مجھے margin نہین دیتے اور آپ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ مجھ مین یہ داعیانہ جذبہ کم ہے اور میں محققانہ نظر سے دیکھتا ہوں تو یہ سوسائٹی مجھے ویسا margin کیوں نہین دے سکتی کہ جیسا کہ اس نے اقبال کو دیا تھا؟ کیا اقبال نے ایسے اعتراضات سوسائٹی پر نہین کیے تھے جیسا کہ میں کر رہا ہوں؟ کیا اقبال نے نہیں کہا تھا کہ تمہاری فکر زنگ آلود ہے، تم قرآن مجید سے تعلق توڑ چکے ہو، کیا میں وہ باتیں نہیں کر رہا؟ میں نے جواب میں ان سے کہا کہ اقبال نے عالم دین ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا، اقبال ایک مذہبی شخصیت کے طور پر سوسائیٹی کے اندر اسٹیبلش نہیں ہوئے تھے۔ وہ ایک آرٹسٹ کے طور پر سوسائٹی میں اسٹیبلش ہوئے تھے اس لئے سوسائٹیی نے انہین ایک margin دیا تھا۔ سوسائٹی پہلے سے یہ margin دیتی ہے، سوسائٹی، ایک فنکارکو، ایک شاعر کو، یہاں تک اجازت دیتی ہے کہ وہ خدا تک کے ساتھ دست و گریبان ہو جائے لیکن ایک عالم دین کو، جو قرآن مجید کو، دین کو لے کر کھڑا ہو، اور وہ درس قرآن میں یہ بات کر رہا ہو اسکو یہ سوسائٹی margin نہین دیتی۔ اور اگر وہ یہ طے کرے کہ اسکو یہ margin ملنا چاہیے تو اسکا یہ مطلب ہے کہ وہ تہذیبی شعور نہیں رکھتا، اسکو یہ علم نہیں ہے کہ جس منبر پر، جس جگہ پر وہ بیٹھا ہے اسکے یہ تقاضے نہین ہیں جو اقبال کی پوزیشن کے تھے۔ اگر آپ اقبال والے margin لینا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو اقبال کے درجے پر ہونا چاہیے، اسی طرح کا آرٹسٹ ہونا چاہیے اور یہ سارے جو آپ کے ساتھ دوسرے سابقے، لاحقے لگے ہوئے ہین یہ نہیں ہونے چاہیے کیونکہ یہ موجود ہیں اور آپ کا ایک خاص پس منظر ہے اس لئے سوسائٹی پھر آپ کو وہ والا margin نہیں دے گی جو وہ ایک آرٹسٹ کو دیتی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اللہ بھلا کرے محترم سجاد خالد صاحب کا، نہایت جچے تلے انداز میں اپنا مافی الضمیر اور مشاہدات بیان فرمائے ہیں۔ لفاظی کے سحر اور نام نہاد منطقیت کا فسوں پھوڑ کر اصلی
    روپ سمجھنے میں مد دی ہے۔

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20