معیشت کی پہلی بیماری   معیشت اور عوام کا نصیب: (4)  لالہ صحرائی

0

پچھلے چیپٹر میں ہم نے کہا تھا، عوام کے ساتھ دو چیزیں براہ راست تعلق رکھتی ہیں، جی۔ڈی۔پی اور انفلیشن اور یہ بھی بتایا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کی شرح گروتھ ایک فیصد سالانہ ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک کی شرح گروتھ چار سے سات فیصد تک ہے۔

اس ضمن میں پہلا سوال یہ بنتا ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک ایسا کیا بناتے اور بیچتے ہیں جس سے ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ان کا گروتھ ریٹ زیادہ ہے جبکہ ایکسپورٹ ریٹ بھی، آٹھ سے بارہ کے درمیان، ان سے زیادہ نہیں، اور ان۔لینڈ پرتعیش لائف اسٹائل بھی حاصل نہیں بلکہ اکثریت غربت کی لکیر یا اس سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے، پھر اگر یہ گروتھ ریٹ واقعۃً حقیقت پر مبنی ہے تو پھر بیس سال میں پسماندہ ممالک ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کیوں نہیں کھڑے ہو جاتے؟

اگر بدعنوانی کی وجہ سے عوام کو فائدہ نہیں پہنچ رہا تو نہ سہی مگر اتنا تو ہو کہ پانچ فیصد اکنامک گروتھ ریٹ سے بیس سال میں ترقی پذیر ممالک کی پر۔کیپیٹا۔انکم یا فی۔کس سالانہ آمدنی ترقی یافتہ ممالک کے برابر پہنچ جائے، ایک فیصد گروتھ رکھنے والے ممالک جرمنی کی آمدنی تیس لاکھ، برطانیہ کی پینتالیس لاکھ اور امریکہ کی پچپن لاکھ فی۔کس ہے جبکہ ترقی پذیر سبھی ممالک کی فی۔کس آمدنی اتنی ہی ہے جتنی بیس سال پہلے تھی یعنی ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے کے اردگرد۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ کسی بھی ترقی پذیر ملک کی اکانومی سوفیصد رجسٹرڈ نہیں، سب کے اکنامک انڈیکیٹرز تقریباً ایک جیسے ہیں، ہر اکانومی کا بیشتر پورشن ان۔رجسٹرڈ اور نان۔ٹیکس پیئر ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک کی اکانومی نوے فیصد رجسٹرڈ ہے، اس فرق کو جاننے کیلئے ترقی یافتہ ممالک کی مثال یوں سمجھ لیجئے جیسے ایک ہال میں سو نشستیں ہوں اور ان پر سو لوگ موجود ہوں، اب ہر سال ایک فرد کی نئی نشست لگا دی جائے اور وہ اپنی جگہ پُر بھی کر دے، اور ہماری مثال ایسے ہے جیسے سو کے ہال میں صرف بیس افراد بیٹھے ہوں باقی نشستیں خالی ہوں اور ہر سال پانچ لوگ آکے وہاں بیٹھ جائیں اور پانچ نشستیں مزید لگا دی جائیں، لہذا نتیجہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

نوین اے منگی کی بلومبرگ نیوز کیلئے چھ اپریل دوہزار بارہ کی ایک اکنامک رپورٹ کے مطابق ہماری انفارمل اکانومی دوہزار ارب روپے ہے، اسی رپورٹ میں مارکیٹ الائینس کے حوالے سے انہوں نے بتایا ہے کہ کراچی میں دس لاکھ اسٹورز میں سے چارلاکھ صرف راشن شاپس ہیں جو نان۔ٹیکس۔پیئرز ہیں، یہ صرف ایک شہر کی صورتحال ہے، باقی ملک کا کیا حال ہوگا؟

ثاقب شیرانی صاحب سابق اکنامک ایڈوائزر ہیں انہوں نے ڈان میں اپنے بائیس فروری دوہزار تیرہ کے کالم میں پی۔آئی۔ڈی۔ای انسٹیٹیوٹ کی ریسرچ کے حوالے سے لکھا ہے کہ سن دوہزار آٹھ میں پچھتر فیصد سے زائد اکانومی انفارمل تھی، اسی رپورٹ میں ایک دوسرے جائزے کے مطابق انفارمل اکانومی پچاس فیصد کے لگ بھگ قرار دی گئی ہے اور دی ایکسپریس ٹریبیون یکم نومبر دو ہزار گیارہ کی رپورٹ میں اسے ایک تہائی قرار دیا گیا ہے۔

یہ تمام جائزے چونکہ مختلف میتھڈولوجیز سے تیار کئے گئے ہیں اس لئے ان میں تغیر کا ہونا لازمی سی بات ہے، کچھ لوگ کمرشل بجلی کی کنزمپشن اور لیبر ایمپلائمنٹ کو بنیاد بناتے ہیں، بعض اربوں روپے کی ایسی پراڈکٹس بھی تیار ہوتی ہیں یا بعض ایسے راء میٹیریل امپورٹ ہوتے ہیں جو عام صارف کے کام کے نہیں ہوتے یہ سب چیزیں کسی ڈاؤن اسٹریم انڈسٹری میں کام آنی چاہئیں لیکن ان کا کوئی ڈیٹا سامنے نہیں آتا، بینکنگ سیکٹر بخوبی جانتا ہے کہ لاکھوں اکاؤنٹ ہولڈرز ٹیکس۔ایبل سطح سے کہیں زیادہ ٹرن اوور کرتے ہیں لیکن وہ ٹیکس گزار نہیں ہیں، پھر بینکنگ سرکلز میں ہونے والی کل ٹرانزیکشنز کے والیم سے بھی ایک محتاط اندازہ لگایا جا سکتا ہے، ایسے بہت سے فیکٹرز کو ملا کر گھوسٹ بزنس یا انفارمل اکانومی کا قابل اعتبار تخمینہ لگایا جاتا ہے، میرے ذاتی تجربے، مشاہدے اور اندازے کے مطابق ان۔رجسٹرڈ اکانومی رجسٹرڈ اکانومی کے ہم پلہ یا چند پرسنٹ تک زائد ہی ہے۔

آج کی رجسٹرڈ اکانومی دو سو پچھتر ارب ڈالر ہے تو اس حساب سے مجموعی اکانومی پانچ سو پچاس ارب ڈالر یا زائد ہونی چاہئے اور اگر آپ اپنے اردگرد ان۔رجسٹرڈ لوگوں کے کاروبار دیکھیں گے تو یہ بات قرین قیاس بھی لگے گی، آگے سی۔پیک کے دھارے میں یہ کوانٹم مزید بڑھ جائے گا۔

بیس سال پہلے جس ملک گیر کاروباری دائرے میں صرف ڈیڑھ دو لاکھ ٹیکس پیئرز تھے آج اسی دائرے میں یہ تعداد نو لاکھ ٹیکس پیئرز تک پہنچ چکی ہے، اگر نو لاکھ ٹیکس پیئرز پونے تین ہزار ارب روپے ٹیکس دے رہے ہیں تو بیس لاکھ لوگ مزید ٹیکس نیٹ میں آجانے سے ریوینیو کی سطح سات ہزار ارب تک پہنچ سکتی ہے جس سے دودھ اور شہد کی ندیاں بہانا کچھ مشکل کام نہیں۔

اب دوسرا سوال یہ ہے کہ جب اڑوس پڑوس سمیت تیسری دنیا کے معاشی انڈیکیٹرز بھی ہمارے جیسے ہی ہیں تو کیا وہاں محرومیوں، بیچینیوں اور علیحدگی پسندوں کی کوئی موثر لہر پائی جاتی ہے؟

اگر دوسری تیسری ہمسر ریاستوں کی گوورنینس اچھی ہے تو اپنی گوورنینس بھی اچھی کرلیجئے، جب ہمارے ہاں بدعنوانیوں کے خلاف کوئی آواز اٹھتی ہے تو اس کے ہم آواز ہونے کی بجائے اکثریت اپنی پارٹی کی طرفداری پر کیوں مائل ہو جاتی ہے؟ بدعنوانی کی اصلاح ہونے دیں، بین الطبقات اور بین الصوبائی منافرت پیدا کرنے، ملک و قوم سے بدظنی پیدا کرنے کی بجائے ان لوگوں سے اپنی محرومیوں کا سوال کرنا چاہئے جو برسہابرس سے حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔

ان بے چینیوں کی لہر کو حق بجانب سمجھنے، ان پر منفی طرزعمل یا ردعمل کا کوئی نامناسب طریقہ اختیار کرنے سے پہلے یہ بھی ضرور سوچئے کہ آپ نے خود اس ملک کو کیا دیا ہے جس کے بدلے میں آپ حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، اگلے چیپٹر میں آنے والے حقائق کے آئینے میں پہلے زرا اپنے کنٹریبیوشن کی بھی ایک تصویر ضرور دیکھ لیجئے۔

عوام میں اگر بذات خود احساس ذمہ داری ہوتا تو ہر بندہ جو اپنی سالانہ انکم میں ٹیکس ایبل شرح کو چھوتا اسے وولینٹیریلی ریکارڈ پہ آجانا چاہئے تھا، مینوفیکچررز اور ٹریڈرز کو بھی اپنی سیلز پرچیز ٹرانزیکشنز پر سیلزٹیکس ادا کرنے کیلئے رجسٹر ہوجانا چاہئے تھا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا نہ آئیندہ کبھی ہوگا بلکہ الٹا احتجاج ہوگا، اس احتجاج کی آئینی و حقیقی حیثیت کا خلاصہ بھی اگلے چیپٹر میں ضرور کریں گے۔

جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ستر سال سے عوام مجبور اور محروم ہے تو یہ بھی سوچیئے کہ نوکری یا ذاتی کاروبار تو ہر کسی کو اپنا ہی کرنا ہے، رہی بات سرکاری نوکریوں کی تو اس کیلئے بجٹ درکار ہے جو ٹیکسز کا رہین منت ہے، مزدوری، پرائیویٹ روزگار اور کاروباری مواقع بوسٹ۔اپ کرنے کیلئے ٹیکسز چاہئیں، انفراسٹکچر، مواصلات اور دیگر سہولتیں پیدا کرنا ٹیکسز کے بغیر ممکن نہیں اور بنیادی سہولتیں پہنچانے والی سرکاری کارپوریشنز چلانا بھی ٹیکسز کے بغیر کارعبث ہے، اپنا کاروبار ریکارڈ پر لانے اور ٹیکسز دینے کیلئے تو کوئی بھی آگے نہیں بڑھتا اور حقوق کا شور مچانے کیلئے سب ہی ایک دوسرے سے آگے ہوتے ہیں۔

۔۔۔۔۔

اگلے چیپٹر میں ٹیکس کلیکشن کی تفصیلی صورتحال پیش کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مضمون کا تیسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: