قادیانی مسئلہ: چھیڑ چھاڑ سب کے لیے نقصان دہ ہے — ڈاکٹر محمد شہباز منج

0

قادیانیوں یا احمدیوں کے قومی اقلیتی کمیشن میں شمولیت سے متعلق حالیہ بحث میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں، ان میں نمایاں سوالات دوہیں:
ایک یہ کہ احمدیوں سے عام اقلیت کا سامعاملہ ہونا چاہیے یا نہیں؟
اور دوسرا یہ کہ 1974ء کی آئینی ترمیم میں احمدیوں کو محض اقلیت قرار دلوانا کافی تھا یا نہیں؟
ان سطور میں انھی دو سوالوں پر اجمالی بحث ہے۔

جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے، ٍ اس کے دو پہلو ہیں: ایک آئینی و قانونی اور دوسرا سماجی و معاشرتی۔ آئینی و قانونی پہلو تو یہی ہے کہ احمدی ایک اقلیت ہیں۔ اس لحاظ سے ان کے ساتھ معاملے میں عام اقلیتوں کا سا سلوک روا رکھا جائے گا، لیکن سماج یا پاکستانی مسلم معاشرت کا عمومی مزاج اسے قبول نہیں کرتا۔ یہ بات عرصے سے کہی جا رہی ہے کہ احمدی چونکہ خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم ہی نہیں کرتے، لہذا ان سے اقلیتوں والا معاملہ کیسے ہو سکتا ہے! یہ دلیل اپنی جگہ بہت وزن رکھتی ہے، ظاہر ہے جب آئینی و قانونی لحاظ سے غیر مسلم گروہ آئین و قانون کی متعلقہ شقوں کی مخالفت کرتے ہوئے، خود کو غیر مسلم تسلیم ہی نہ کرے، تو اس کا معاملہ عام اقلیت جیسا کیوں کر ہو سکتا ہے! اس صورت حال میں ظاہر ہے کہ آئینی و قانونی اور واقعاتی و عملی صورتوں میں تضاد و تخالف سامنے آتا ہے، جس سے آگے کئی مزید مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، مثلاً یہ کہ جب کسی سرکاری یا حکومتی عہدے وغیرہ کےحوالے سے قادیانیوں کے ساتھ آئینی و قانونی پوزیشن کے مطابق معاملہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو مذہبی طبقے اور عوام کی اکثریت کی طرف سے اس کی شدید مخالفت ہوتی ہے، اور مشاہدہ یہ ہے کہ اکثر اوقات اس معاملے میں حکومت یا متعلقہ اداروں کو بیک فٹ پر آنا پڑتا ہے۔ یہ نظری و عملی سطح پر ایک بڑا مخمصہ ہے۔ اس مخمصے سے کیسے نکلا جا سکتا ہے؟ اس کی بدیہی صورت یہی ہے کہ قادیانیوں کے معاملے میں غیر مسلم اقلیت کی الگ آئینی و قانونی تعریف طے کی جائے۔ یہ نکتہ یا سوال قادیانیوں کو عام اقلیتوں سے مختلف قرار دینے کے عمومی مذہبی نظریے کا منطقی نتیجہ ہے۔ ظاہر ہے کہ جب یہ لوگ عام مذہبی اقلیت نہیں تو آئینی طور پر یہ طے کرنا پڑے گا کہ یہ دیگر مذہبی اقلیتوں کی تعریف میں نہیں آتے اور فلاں قسم کی الگ اقلیت ہیں۔ اور اس مقصد کے لیے آئینی ترمیم چاہیے۔ لیکن اس کوشش اور جد وجہد کا ایک منطقی نتیجہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے سابقہ متفقہ فیصلے پر دوبارہ بحث کا آغاز ہو گا۔ اس لیے کہ اب بحث اس نکتے پر آ جائے گی کہ قادیانی اقلیت تو ہیں، لیکن عام اقلیت نہیں۔ یہ ایک بڑا گھمبیر سوال ہوگا، اس سے ایک بڑا مسئلہ یہ پیدا ہو سکتا ہے (جس کو قادیانیوں کی طرف سے اپنی حمایت میں یوں استعمال کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے) کہ مسلمان خود مان رہے ہیں کہ قادیانی عام اقلیت نہیں، لہذا اس سے پہلے جو ان کو عام اقلیتوں کی صف میں شامل کیا گیا تھا یہ فیصلہ درست نہیں تھا، جس کا احساس اب خود مسلمانوں کو ہو رہا ہے! دوسرے لفظوں میں کھنچنے والے عام اقلیت کی نفی کی بات کو سرے سے اقلیت ہی کی نفی کی طرف کھینچ لے جانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے تو بہت سے علما یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ قادیانیوں کو محض اقلیت قرار دلوانا کا فی نہیں تھا، اس سے مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا ہوئے، نیز قادیانیوں کے لیے اس پوزیش کو قبول کرنا فقہی لحاظ سے بھی درست نہیں تھا۔ اس موقف کا لازمی نتیجہ 1974ء والی پوزیشن سے آگے کے لیے کوشش کرنا ہے، جو ظاہر ہے یہی ہے کہ مسلمان قادیانیوں کو کسی بھی قسم کی غیر مسلم اقلیت ماننے کی بجائے مرتد یا زندیق وغیرہ قرار دلوائیں۔ لیکن اس کانتیجہ بھی یہی ہو گا کہ قادیانیوں کے مذہبی اقلیت قراردیے جانے کے گذشتہ متفقہ فیصلے پر دوبارہ بحث کا آغاز ہوجائے گا۔ اس صورت میں بھی مسلمانوں کو نقصان ہو گا، یعنی مرتد یا زندیق قرار دلوانے میں کامیابی یا ناکامی تو بعد کی بات ہوگی، لیکن پہلے ہی قدم پر مسلمان یہ مان چکے ہوں گے کہ قادیانی عام مذہبی اقلیت نہیں۔ اس ضمن میں کئی اور خطرناک نتایج بھی برآمد ہو سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ قادیانیوں کو مرتد قرار دلوانے کا معاملہ لٹک جائے اور اس دوران یہ سوال اٹھائے جانے کا موقع بن جائے کہ قادیانیوں کے اقلیت ہونے کی سابقہ پوزیشن معرضِ بحث میں ہے۔ مزید برآں یہ واضح رہنا چاہیے کہ ارتداد منوانے والا معاملہ بہت ہی مشکل ہو گا، کیونکہ اس کے نتائج سے کسی حکومت کا عہدہ برآ ہونا بہ طورِ خاص موجودہ عالمی حالات میں ناممکنات میں سے ہوگا۔ تو گویا ایک ناممکن یا کم ازکم موہوم معاملے کو شروع کر کے ایک یقینی حاصل شدہ پوزیشن پر سمجھوتے کا ناقابلِ تلافی نقصان مسلمانوں کو اٹھانا پڑے گا۔ اس ضمن میں یہ ہر گز نہ بھولنا چاہیے کہ یہ آپشن کوئی نیا آپشن نہیں، جو اس وقت علما کے سامنے نہیں تھا جب قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے کی جدو جہد کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اُ س وقت بھی مسلمانوں کے نقطہ نظر سے آئیڈ یل یہی تھا، لیکن اس کا کوئی امکان نہ پاتے ہوئے انھوں نے موجودہ پوزیشن قبول کی تھی۔

قادیانیوں کے رویے کے تناظر میں اگرچہ ان لوگوں کی عام اقلیتی پوزیشن مسلمانوں کو ہضم نہیں ہو رہی، لیکن موجودہ حالا ت تک اس سے آگے جا یا بھی نہیں جا سکتا، اس لیے کہ اس کے نتائج جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا اور بھی خطرنا ک ہو سکتے ہیں، بحث شروع ہوئی تو بہت سے لوگ اس بحث پر بھی آجائیں گے کہ قادیانیوں کی موجودہ غیر مسلم حیثیت بھی ختم کی جائے۔ اس مسئلے میں سیاسی و بین الاقوامی عناصر کے متوقع دباؤ کے ساتھ ساتھ وہ مذہبی عناصر بھی کود سکتے ہیں جوپہلے ہی کَہ رہے ہیں کہ ریاست مذہبی نقطۂ نظر سے بھی کسی کے دین و مذہب کا فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں۔ یوں بڑھتے بڑھتے خدا جانے حالات کا رخ کیا ہو جائے!

مسلمانوں کے لیے قادیانیوں کی موجودہ پوزیشن سے متعلق چھیڑ چھاڑ کے امکانی نقصان کے تذکرے کے ساتھ ساتھ اس نقصان پر بھی نظر ڈالنی ضروری ہے، جو اپنی موجودہ آئینی و قانونی پوزیشن کو چیلنج کرنے کے احمدی خواب کے نتیجے میں خود احمدیوں کو یقینی طور پر اٹھانا پڑے گا۔ احمدی اس بات کو کتنا بھی نظر انداز کریں حقیقت یہ ہے کہ احمدیوں کی موجودہ آئینی و قانونی پوزیشن ان کے اپنے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اور یہ پوزیشن، حق یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے حقیقی موقف میں لچک پیدا کرکے ہی ان لوگوں کو مہیا کرنے کا سامان کیا ہے۔ بالفرض اگر اس پوزیشن پر سوال اٹھتا ہے، تو مسلمانوں کی تو ایک بڑی تعداد، جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، پہلے ہی قادیانیوں کی موجودہ پوزیشن کو ان کے لیے رعایت سمجھتی ہے، اور اس کی خواہش ہے کہ انھیں مرتد قرار دلوا کر کر واجب القتل ٹھہرائے۔ فرض کریں ایسا ماحول بن جاتا ہے، تو حکومت کچھ نہ بھی کرے توعام مذہبی طبقے اور مسلم عوام کے غصے اور غضب کا شکار احمدی حضرات لازمی طور پر بن جائیں گے۔ آج مسلمانوں کی اکثریت ان کے خلاف کسی انتہائی اقدام سے جھجکتی ہے تو وہ قادیانیوں کی یہی قانونی حیثیت ہے۔ جب بھی کوئی سخت ا قدم ان کے خلاف اٹھایا جا تا یا اس کی کوشش کی جاتی ہے یا کوئی عوامی ردِ عمل سامنے آتا ہے، تو یہ قانون آڑے آتا ہے کہ قادیانیوں کے ساتھ ایسا کرنا قانوناً روا نہیں۔ خود بہت سے علما، دانش ور، صحافی اور عوام بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرتے ہیں۔ گویا احمدیوں سے متعلق اقلیت کے قانون نے ان لوگوں کو بہ طور اقلیت تحفظ دیا ہوا ہے۔ یہ اقلیت والا قانونی تحفظ ختم ہو گیا، تو موجودہ سماجی ماحول میں قادیانیوں کے لیے جینا بھی محال ہو جائے گا، چہ جائیکہ وہ کسی قسم کے اقلیتی حقوق وغیرہ کے مطالبے کریں۔

یہاں ایک اور اہم نکتہ پیش نظر رہے کہ قادیانیوں کی قانوناً تو اگرچہ نہیں عملا پوزیش یہی ہے کہ وہ المنزلۃ بین المنزلتین یا عام اقلیتوں سے مختلف نوعیت کی اقلیت ہی ہیں۔ اس میں کردار صرف مسلمانوں کا ہی نہیں، قادیانیوں کا بھی ہے، بلکہ قادیانیوں کا کردار زیادہ بنتا ہے۔ ظاہر ہے جب وہ کسی بھی طرح کے حقوق کے حصول یا ان کی کوشش میں اپنے آپ کو مسلمان باور کرانے پر زور دیں گے، تو یہ کیسا مانا جا سکے گا کہ ان کو فلاں فلاں حقوق دینا بہ طور اقلیت ان کا قانونی حق ہے، اس لیے کہ وہ متعلقہ حقوق بہ طور اقلیت تو حاصل کر ہی نہیں رہے، بلکہ بطور مسلم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس الجھن کا عملی حل یہی ہے کہ اگرچہ آئین وقانون میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ قادیانی عام اقلیتوں سے مختلف اقلیت ہیں، ان کے ساتھ معاملے میں ان کی المنزلۃ بین المنزلتین حیثیت ہی کو قبول کیا جائے (کم ازکم اس وقت تک جب تک قادیانی خود اپنی آئینی و قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کر لیتے یا جب تک مسلمان ان کو موجودہ حیثیت میں عام اقلیت باور کرنے میں اتنے حساس نہیں رہتے جتنے اب ہیں) اور حکومت اور متعلقہ اداروں یا افراد کو چاہیے کہ قادیانیوں یا احمدیوں کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت ان سے متعلق سماجی و عوامی حساسیت کو پیشِ نظر رکھیں۔

تو پھر اقلیت، مختلف اقلیت، قادیانی شور وغوغے، مسلم مذہبی طبقے اور عوام کی حساسیت کے تناظر میں پیدا شدہ اس گھمبیرتا کا حل کیا ہے؟ شاید بہت سے لوگوں کو برا یا اجنبی لگے مجھے تو یہی نظر آتا ہے کہ اس ضمن میں سٹیٹس کو کی صورت ہی بہترین حل ہے۔ یہ بات مسلمانوں کے فائدے میں تو ہے ہی، عملیت اور حقیقت پسندی کے تناظر میں دیکھیں تو خود قادیانیوں لیے بھی فائدہ مند ہے۔ یعنی قادیانیوں کو اس وقت جو پوزیشن ملی ہوئی ہے، اس پر حکومت کو بھی اکتفا کرنا چاہیے، مسلمانوں کو بھی اور خود قادیانیوں کو بھی۔ جب بھی اس پوزیشن کو چھیڑا جائے گا فسادات اور معاشرتی انتشار و انارکی یقینی ہے۔ اس خطرناک عملی جنگ میں کودنے سے بہتر ہے کہ دونوں فریق سرد نوعیت کی موجودہ نظری جنگ ہی لڑتے رہیں، جس میں وہ دونوں اپنی اپنی موجودہ پوزیشن پر رہتے ہوئے ایک دوسرے کو استدلال و دلائل سے شکست دینے کی کوشش میں ہیں ( قادیانیوں کو یہ گلہ روا نہیں کہ وہ تبلیغ نہیں کر سکتے۔ قانوناً اگرچہ ان کو مسلمانوں میں تبلیغ کی اجازت نہیں، لیکن حق یہ ہے کہ آج کل سوشل میڈیا اور اس کے زور نے یہ بات محض خواب و خیال بنا دی ہے۔ قادیانی سوشل میڈیا پر پُر زور انداز سے اپنے موقف کو بیان کرتے اور اس کی تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ پھر یہاں نہیں تو بیرونی ممالک میں تو وہ آزاد ہیں ہی)لہذا بات مذہبی و کلامی استدلال پر ہی آتی ہے، اور اسی کے زور پر اس مسئلے کا حل نکلے گا۔ بہ الفاظِ دیگر قادیانیوں کے معاملے میں مسئلے کا حل سب فریقوں کا ان کی موجودہ آئینی و قانونی پوزیشن کو قبول کرنا، ان سے معاملہ کرنے میں قانونی پوزیشن میں لچک کے ساتھ عمومی سماجی حساسیت کا لحاظ رکھنااور اس معاملے کو کسی نئے آئینی و قانونی تنازعے سے بچانا ہی ہے۔ اس ضمن میں کوئی بھی چھیڑ چھاڑ سخت معاشرتی اور ریاستی نقصان کا موجب ہوگی۔ یاد رہنا چاہیے کہ تاریخ اپنا فیصلہ ضرور سناتی ہے۔ کیا لوگوں کو معلوم نہیں کہ تاریخ میں کتنے ایسے بڑے بڑے طاقت ور گروہ پیدا ہوئے، جن کے آج صرف نام ہی رہ گئے ہیں، کوئی شخص ان کی طرف اپنی نسبت کرنا بھی گوارا نہیں کرتا! قادیانیت بھی اسی نوعیت کا ایک گروہ ہے، تو اسی طرح تاریخ اسے اپنی دھول میں گم کر دے گی۔ الحاصل قادیانیوں کے معاملے میں میسر پوزیشن کے اندرتاریخ کے فیصلے کا انتظار ہی بہترین فیصلہ ہے۔ ھذا ما عندی والعلم عنداللہ۔

ڈاکٹر محمد شہباز منج
شعبہ اسلامی و عربی علوم ، یونی ورسٹی آف سرگودھا، سرگودھا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20