ککو بھائی: شادی شہداء کا ایک تاریک ساز کردار — اظہر عزمی

0

ہمارے ایک غیر شادی شدہ دوست جو محلہ چھوڑ کر جا چکے ہیں مگر مہینے میں ایک آدھ چکر لگا لیتے ہیں، شوہروں کو “شادی شہداء” کہتے ہیں۔ جب بھئ آتے ہیں ایک ہی بات کہتے ہیں : شوہروں کی “قبر گیری” کے لئے آتا ہوں۔ فرماتے ہیں:

شادی شوہر کا ایک ایسا “فاتحہ+انہ” اقدام ہے جس کا کھانا سب خوشی خوشی تناول فرماتے ہیں اور جاتے جاتے برے وقتوں کے لئے ایک لفافہ بھی ہاتھ میں دھر جاتے ہیں کہ اب اس سے آگے تم جانو اور جو مقامات شدیدہ آئیں گے وہ تمھارا نصیب، ہمارے طرف سے یہ کیشی امداد ہی زاد راہ ہے۔

میں اس معاملے میں ذرا ہلکا ہاتھ رکھتا ہوں کیونکہ ایک عدد بیوی رکھتا ہوں۔ میرا شوہرانہ عقیدہ ہے کہ شوہر ہر صورت میں پیارا ہوجاتا ہے۔ کچھ اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں اور بچے کچھے بیویوں کو۔ کہتے ہیں کہ جب موت آئے تو بہتر ہے کہ آپ زندہ یوں۔ دوست کہتا ہے کہ شوہروں سے یہ توقع عبث ہے۔

ایک بار آئے تو بولے :
آج کل “شادی شہداء” کے تاریک ساز کردار کے کیا حال ہیں؟
میں نے کہا : کس کی بات کر رہے ہیں۔
بولے : ککو بھائی کا ذکر خیر کر رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ ہنوز زندگی کی قید میں ہیں۔ جوابا بولے: بیویاں کھا گئیں آسمان کیسے کیسے۔

دوست تو کچھ دیر بعد چلتے بنے مگر ککو بھائی کو میرے ذہن میں چپکا گئے۔ ککو بھائی ایک عرصے سے مجھ سے سماجی فاصلے ہر یقین رکھتے ہیں۔ میں چاھتا ہوں کہ یہ خلیج پاٹ دوں مگر وہ رستہ کاٹ جاتے ہیں ۔ وجہ بڑی سیدھی سی ہے کہ ایک زمانے میں، میں نے سماج کی دیوار بننے کی اپنی سی کوشش کی تھی لیکن چند اینٹیں ہی رکھی تھیں کہ پیچھے ہٹ گئے۔ چلیں! ملتے ہیں ککو بھائی جیسے سادہ مزاج انسان سے جس کی محبت کی داستان ایک عرصے تک موضوع سخن رہی اور اس زمانے کے نئے عشاق کو یہ یقین دلاتی رہی کہ مایوسی عاشقوں کے لئے زہر قاتل ہے اور یہ ثابت کردیا کہ جوڑے بنتے اوپر ہیں لیکن سلتے نیچے ہیں۔

ککو بھائی نے زبدگی میں ایک محبت کی اور محبوبہ ان کی جھولی میں آگریں۔ بقول احمد فراز ککو بھائی نے یہ ثابت کر دکھایا:

ہم محبت بھی توحید کے قائل ہیں فراز
ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھنا

یہ قصہ اس زمانے کا ہے کہ جب ہم اسکول میں پڑھا کرتے تھے اور غیر نصابی سرگرمیوں کے لئے تفریح کی تلاش میں گلی گرداں رہتے تھے۔ جب ہم نے ہوش سنبھالا تو ککو بھائی اپنے سے کم از کم پانچ ایک سال بڑا پایا اور ان کی یہ بڑائی آج بھی قائم ہے۔ ککو بھائی سے متعلق ان کی والدہ کے بقول ککو کبھی بڑا نہیں ہوگا۔ جس دن سے پیدا ہوا ہے عقل گھاس چرنے گئی یے۔ بیٹے کے لئے ماں کے کمنٹس پر میں نے ہمیشہ “نو کمنٹس” کا بورڈ لگا رکھا ہے۔ ککو بھائی درمیانہ قامت کے پست ہمت شخص ہیں۔ رنگت ضرور کھلتی ہے اور اگر کبھی لڑائی جھگڑا ہوجائے تو سب سے پہلے رنگٹ اڑتی ہے۔ ککو بھائی کا ایک انداز گفتگو جاسوسانہ ہے۔ ہلکی ہلکی آواز میں بلاوجہ ادھر ادھر دیکھ کر بات ہیں۔ بہت زیادہ جذباتی ہو جائیں تو بات کرنے والے کی کلائی پکڑ لیتے ہیں کہ کہیں بھاگ ہی نہ جائے۔ ایک جملے میں کم از کم دو سے تین بار ہیں ہیں کی تکرار کرتے ہیں۔

ککو بھائی کو ابتدا سے ادھر سے ادھر ٹائم ضائع کرتے دیکھا۔ ککو بھائئ کا اپنا جغرافیہ صحیح نہیں تھا لیکن انہیں دنیا بھر کے جغرافیہ کی خبر تھی۔ کون سا ملک کس کے کولہوں اور گھٹنوں سے لگا بیٹھا اور کون کس کی گود میں بیٹھ کر کس کی داڑھی سے تنکے نکال رہا ہے۔ سب پتہ تھا۔ ہماری معلومات کیونکہ محدود تھی اس لئے اکثر اوقات ملکوں کی سرحدیں تبدیل کردیا کرتے۔ کسی ایک ملک کو براعظم بدر کرنے ان کے لئے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ کھڑے کھڑے دنیا کا نقشہ تہہ و بالا کر دیتے۔ میں دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ عالمی نقشے میں جتنی تبدیلیاں ککو بھائی نے کی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور امریکا تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ عقلی صلاحیت والدہ نے بتا دی۔ جغرافیائی اتھل پتھل آپ نے پڑھ لی۔ تعلیمی قابلیت سے متعلق قرائن یہی بتاتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے ایک دو بار ان کے ہاتھ میں کتاب دیکھی تھی۔ اب یہ نہیں معلوم کہ کتاب نصابانہ تھی کہ بے حجابانہ۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے ککو بھائی نے اپنی تعلیم سے متعلق کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ بولتے بھی کیسے؟ کبھی اس موضوع پر گفتگو ہی نہیں ہوئی۔

ککو بھائئ قبول صورت، معقول سیرت اور نامعقول عادات کا ملغوبہ تھے۔ (تھے سے یہ مت سمجھ لیجئے گا کہ ککو بھائی عالم بالا میں بالا نشیں ہیں۔ ماشاء اللہ بقید حیات ہیں۔ ککو بھائی ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنہیں تھے لکھنے میں کوئی تردود نہیں ہوتا۔ بالآخر سب کو تھے ہوجانا ہے)۔ ککو بھائی نے تعلیم کی طرف اور تعلیم نے ان کی طرف دھیان نہیں دیا۔ نقصان دونوں کا ہوا۔ میرا خیال ہے زیادہ نقصان تعلیم کا ہوا۔ امید یہی تھی کہ ککو بھائی میٹرک کرنے کے بعد NASA میں ملازمت اختیار کر لیتے تو ستاروں ہر کمند ڈالتے نہ ڈالتے مگر کوئی نہ کوئی گند ضرور ڈال آتے۔

عجب مزاج پایا تھا۔ باہر موسلادھار تیز بارش یو رہی ہے۔ سب نہا رہے ہیں اور ککو بھائی کھڑکی میں چائے کا کپ لئے کھڑے ہیں۔ مجال ہے جو کبھی کسی بارش میں پاوں بھی گیلے کئے ہوں۔ اصل میں دل تو ان کا بھی بہت چاھتا تھا مگر وہ جانتے تھے کہ بارش میں باہر نکلتے ہی ان کو ایک خاص نام سے پکارا جائے گا۔ ککو بھائی اصل میں اپنی دونوں ایڑیاں اوپر اٹھا کر چلا کرتے تھے۔ بالکل ایسے جیسے لوگ بارش کے پانی سے بچنے کے لئے چلتے ہیں۔ کسی نے منچلے نے ککو بھائی کو ” بارش کی پیدائش ” کہہ دیا تھا۔ بس یہ بات ککو بھائی کے دل کو لگ گئی۔ لاکھ مینہ برسا مگر وہ گھر سے نہ نکلے۔ اور نکلے بھی تو کب ؟ شدید گرمیوں میں تپتی دوپہر میں ہمارے گھر کے سامنے سے۔ ۔ ۔ شو مئی قسمت دیکھیئے! ہم نے دیکھ لیا کہ اکیلی گلی میں ککو بھائی ہیں اور اس سے 15 سے 20 قدم پر ایک خوش شکل اسکول ٹیچر جو ذرا آگے رہا کرتی تھی، وہ جا رہی ہے۔ پہلے دن تو ہم نے اسے اتفاق کے خانے میں رکھ کر ککو بھائی کو شک کا فائدہ دے دیا کیونکہ ککو بھائی چہرے سے ہی لڑکیوں کے پیدائشی بھائی لگتے تھے مگر لگاتار دو روز یہی ہوا تو پھر شک کا فائدہ دے کر ملزم کو شہ دینا تھی۔

محلے میں اس مرض کے طبیب لڑکوں نے تفتیش کر کے ککو بھائی کو عشق کا مرض تشخیص کیا۔ جب تفصیل سے حال کہا تو طبیبوں نے عندیہ دے دیا کہ اتنی شدید گرمی میں سرسام کا سرعام خطرہ ہے اور اگر دو تین ہفتے ککو بھائی اسی طرح اسکول سے گھر تک جاتے رہے تو ایک دن گھر نہیں جا پائیں گے بلکہ چارپائی پر نہلا دھلا کر سفر آخرت پر روانہ ہو جائیں گے کہ جس کے رستے میں کوئی کوچہ عاشقاں نہیں آتا کہ جہاں عشاق اپنی جان حزیں کو آلودہ خاک کر ابدی نیند سو جائیں۔ ایک طبیب نے تو یہ بھی کہا کہ جس شدت سے یہ مرض ککو بھائی کو لگا ہے گرمیاں نکل جائیں تو بڑی بات ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ خود نکل جائیں گے اور قبر کے کتبے پر ” مریض عشق پر رحمت خدا کی ” لکھوانا پڑے گا۔ خبر افسوس ناک تھی مگر کس سے کہتے ۔ چوتھے دن جب ککو بھائی اسکول ٹیچر سے کچھ دور جاتے نظر آئے تو ہم بھی کچھ فاصلے سے دبے قدموں ان کے پیچھے ہو لئے۔ ہمارا خیال تھا کہ راستے میں کہیں کوئی خط شط دیں گے۔ کچھ نہیں تو ہلکی سئ کھنکار کی جھنکار سنا دیں گے مگر نہیں صاحب ککو بھائی تو فل سنتوش کمار چل رہے تھے۔ گلی کے نکڑ پر رک گئے۔ وہ اسکول ٹیچر انہیں دیکھے بغیر گیٹ سے اندر چلی گئی اور بقول آثم پیرزادہ:

ٹھیک سے دیدار بھی کرنے نہیں دیتی ہے وہ
کھول کر گیٹ ہمیشہ بند کر لیتی ہے وہ

اب سمجھ میں آیا اس پاک و پاکیزہ عشق میں عاشق صاحب اسکول سے گھر تک چھوڑنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں باقی راوی چین لکھتا ہے۔ گلی کے نکڑ پر ککو بھائی پیچھے ہم تھے ۔ اب آپ ہی بتایئے اگر ایسے موقع پر کوئی گانا “کنکنالوں” تو اس میں برائی ہی کیا ہے۔ ماحول ذرا رومانٹیک ہوجائے گا۔ میں شروع ہوگیا:

چپ چپ کھڑے ہو ضرور کوئی بات
کونسی ملاقات ہے جی، کونسی ملاقات ہے

ہمیں قطعا اندازہ نہیں تھا کہ تپٹی دوپہر میں ہماری آواز سر سنگیت کے وہ دریا بہا دے گی کہ ککو بھائی جیسا میوزک نا شناس بھئ ہمارے پیچھے دوڑ پڑے گا۔ ککو بھائئ کو ایک دو بار تو ہم نے ڈاج دیا لیکن ایک مرتبہ ہماری گدی ان کے ہاتھ لگ گئی اور گدی نشین ہو گئے جسے انہوں نے پیار سے دبوچ کر جسم سے 90 ڈگری پر کر دیا۔

ککو بھائی نے گردن پکڑ کر سمجھتا کی گردان لگا دی:
تو سمجھتا کیا ہے؟ میں سمجھتا نہیں ہوں کیا؟”
میں نے ٹیڑھی گردن کے ساتھ بمشکل آواز نکالی:
دیکھو ککو بھائئ ایسا کرو گے تو کون پیچھے آئے گا؟”۔
ککو بھائی نے اپنے پسینہ زدہ ہاتھوں سے گردن کو اور بھی کس دیا:
یہاں سے جائے گا تو آئے گا”۔

گلی میں مکمل سناٹا تھا کوئی بچانے والا نہیں تھا۔ بس ایک ترکیب ذہن میں آگئی:

دیکھو ککو بھائی بتا رہا ہوں گردن چھوڑ دو ورنہ اس کے بھائی کو سب بتا دوں گا۔
بھائی پر وہ چونکے ضرور مگر گردان نہ چھوڑی۔ اکڑ کر بولے:
کیا سمجھتا ہے ڈر جاوں گا کون ہے وہ؟

میری گردن اب اکڑ چکی تھی۔ میں نے سیدھا سیدھا اس کا نام بتا دیا۔ ادھر نام بتایا اور ادھر ککو بھائی کا ہاتھ ہلکا پڑتا چلا گیا۔ چہرے پر خوف کے سائے نمودار ہو چکے تھے۔ بات بڑی سیدھی تھی اسکول ٹیچر کا چھوٹا بھائی باڈی بلڈر تھا۔ اس زمانے میں اسلحہ کلچر نہیں آیا تھا۔ بہت سے بہت چاقو چلتا تھا اور دس گلیوں تک بات پھیل جاتی تھی۔ پچھلے ہی دنوں اسکول ٹیچر کے بھائی کا جھگڑا ہوا۔ سامنے والے نے گراری والا چاقو کھولا تو اس نے وہ چاقو ہی چھین لیا اور اس کی خوب آو بھگت کردی۔ اب وہ محلے میں رابن ہڈ کریکٹر بن گیا تھا۔

عشق و عاشقی میں عدم تشدد کے حامی ککو بھائی نے خاموشی سے گھر کا رستہ لیا۔ اگلے دن پھر دوپہر آئی مگر ککو بھائی نہ آئے۔ ایک بھپکی میں نشہ ہرن ہو گیا بلکہ چوکڑی بھر کر گھر میں قید ہوگیا۔ وہ سمجھے کہ کھیل ختم مگر کھیل تو اب شروع ہوا تھا۔ ہمارے ہاتھ تو نئی کہانی آگئی تھی۔ اپنے ایک اور تفریح باز دوست کو شامل کیا۔ وہ ہم سے بڑا کھلاڑی تھا۔ وہ ککو بھائی کے پاس گیا اور باتوں باتوں میں ان کو بتایا کہ وہ باڈی بلڈر ہے ناں جو آگے رہتا ہے وہ آپ کا پوچھ رہا تھا۔ ککو بھائی کی تو سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ رہی سہی محبت وحشت میں تبدیل ہو گئی اور ککو بھائی شکل سے “وحشت گرد ” نظر آنے لگے۔ اس کے ساتھ یی دوست نے مزید خوف دلا دیا اور باڈی بلڈر کی دو ایک لڑائیوں اور مخالفین کی درگت کے وہ قصے سنائے کہ ککو بھائی کا حلق خشک ہو چلا۔ پھر ایک دم انہیں خیال آیا کہ کہیں انہیں بے وقوف تو نہیں بنایا جارہا۔ تنک کر بولے :

یہ سارے قصے تو مجھے ہی کیوں سنا رہا ہے؟ میرا اس سے کیا جھگڑا؟

دوست نے کہا :
ککو بھائی کسی سے دل لگانے میں بڑئ تکلیف یوتئ ہے اور اگر اس کے بھائی سے پہنچے تو زیادہ ہوتی ہے۔

ککو بھائی نے ہمت سے کام لیتے ہوئے کہا : کیا بگاڑ لے گا وہ میرا۔

دوست دو ہاتھ آگے تھا۔ اپنے بازو کو سہلاتے ہوئے بولا:
میرا کام بتانا تھا ۔ وہ باڈی بلڈر صرف پوچھتا ہی اس کا جس سے اسے دو دو ہاتھ کرنے ہوں۔

دوست تو یہ کہہ کر چلا آیا۔ اب فلم مغل اعظم کا گانا مارکیٹ میں آگیا۔ سارے دوستوں سے کہہ دیا گیا کہ جہاں ککو بھائی آس پاس نظر آئیں تو ایک ہی گانا گانا۔ جب پیار کیا تو ڈرنا کیا، پیار کیا کوئی چوری نہیں ، بھائی سے اس کے ڈرنا کیا

ہمارا ایک دوست نے تو انتہا ہی کر دی ۔ اس کی باڈی بلڈر سے اچھی سلام دعا تھی۔ ایک دن شام کے وقت جب ہم لوگ گراونڈ میں فٹبال کھیل رہے تھے۔ کسی بہانے سے وہ اسے لے آیا۔ ککو بھائی فٹبال کے اچھے کھلاڑی تھے۔ باڈی بلڈر کو دیکھ تو لیا مگر کھیل میں مگن رہے۔ مغرب کی نماز پر کھیل ختم ہوا تو ہم سب کونے والے گھر کے باہر کھڑے ہو گئے۔ دوست نے باری باری باڈی بلڈر کا سب سے تعارف کرایا جب ککو بھائئ کی باری آئی تو اس سے کہا کہ یہ ہیں ککو بھائی۔ باڈی بلڈر کو اللہ جانے دوست نے کیا پٹی پڑھائی تھی۔ اس نے ہاتھ ملاتے ہوئے زور سے ککو بھائی کے ہاتھ کو دباتے ہوئے کہا کہ اچھا تو یہ ہیں ککو بھائی۔ اب ان کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔ کاٹو تو خون نہیں۔

ککو بھائی اس وقت تو جیسے تیسے چلے گئے۔ ہم بھی اپنی ٹھٹھول بازی میں لگ گئے۔ میں رات گھر آگیا۔ رات کوئی 10 بجے خلاف توقع ککو بھائی نے گیٹ پر بیل دی۔ میں نکلا تو ان کو سامنے پایا۔ ہونق چہرہ دیکھ کر میں گھبرا گیا۔ ہاتھ ملایا تو ہاتھ ٹھنڈے۔ بولے :

تو میری جان لے لے گا۔

میں تفریح میں آگیا : ارے ہم آپ کی جان کہاں سے لے لیں گے۔ آپ تو انہیں اسکول سے گھر اپنے پہرے میں لے کر جاتے ہیں۔

میرا موڈ کسی اور طرف دیکھا تو بہت ملتجیانہ اندا سے بولے:

دیکھ میری طبیعت بہت خراب ہو رہی ہے۔ صاف صاف بتا تو نے اس کے بھائی کو کیا بتایا ہے۔ وہ مجھے چھوڑے گا نہیں”۔

مجھے احساس ہو چلا تھا کہ اب ان کے لئے سب کچھ برداشت کے قابل نہیں۔ اعصاب جواب دے رہے ہیں۔ میں نے انہیں تسلی دی اور یہی کہا:

آپ مت گھبرائیں وہ آپ کو کچھ نہیں کہے گا۔ آپ نے کون سا محبت نامہ اس کی بہن کے ہاتھ میں پکڑا دیا ہے۔

جھلا کر بولے ” وہ میرا رنگین خبرنامہ نکال دے گا۔ وہ جما جما کر سرخی جمائے گا میرے منہ پر کہ سب پڑھ لیں گے، بھرکس نکال دے گا تو نے اس کے ہاتھ دیکھیں۔ ایک پڑ گیا تو سانس رک جائے گی۔

پھر مجھے بالآخر ان کو سب کچھ بتانا پڑ گیا کہ اس بے چارے کو تو کچھ پتہ ہی نہیں۔ آپ نے کون سا اس کی بہن سے کبھی کوئی بات کی ہے۔ دو چار دن گھر تک چھوڑنے ہی گئے ہیں۔ گھر تھوڑی گئے ہیں۔ کچھ مطمئن ہوئے، مجھے بے نقاط سنائیں اور تیز تیز قدموں سے گھر کی راہ لی۔ جاتے جاتے ادھر ادھر دیکھتے جاتے کہ کہیں اس کا بھائی نہ آجائے۔

بات آئی گئی ہو گئی۔ ککو بھائی کو پھر کبھی دوپہر کو کیا دن کو نہیں دیکھا۔ ککو بھائی کی اسٹوری بہت جلد ختم ہو گئی۔ ہم محلے میں کسی اور تفریح کی تلاش میں لگ گئے۔ ایک دن ہمارے اس دوست نے جو باڈی بلڈر کا بھی دوست تھا، بتایا کہ اس کی بہن کی شادی ہے۔ ہم کو بھی بلایا ہے۔ یہ زبانی دعوت نامہ ہمارے لئے کافی تھی۔ اس زمانے میں شادی کا کھانا ہماری عمر کے لڑکے بالکل بھی نہ چھوڑتے تھے بلکہ لڑکوں کے گروپ بن بلائے شادیوں میں پہنچ جایا کرتے۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کھانے کے بیچ میں اگر کوئی ان کو تاڑ لیتا تو بڑے بے آبرو ہو کر تیری شادی سے ہم نکلے کی تصویر بن جاتے۔

خیر ہم تین دوست زبانی دعوت نامہ پر ٹینٹ لگی شادی (ابھی شادی ہال اور بینکوئٹ کی کوئی کہانی نہیں تھی) میں پہنچ گئے۔ دولھا آیا تو محلے کے ایک دو لوگ اور نظر آئے۔ ہم نے سوچا ان کو بھی بلایا ہی ہوگا۔ نکاح ہوا اور جناب جب دولھا نے سہرا اٹھایا تو ککو بھائی کا چہرہ نظر آیا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ دولھا کو دیکھیں کہ آسمان کو۔ عقل وقل سب جواب دے گئئ۔ اسٹیج پر گلے ملنے گئے، مبارکباد دی تو خوشی کے مارے ہکلانے لگے۔

ہکلا گیا جو شادی میں دولھا تو کیا ہوا
زیادہ خوشی میں سانس اٹکتی ضرور ہے
خوش ہورہا تھا دولھا تو قاضی نے یوں کہا
“بجھنے سے پہلے شمع بھڑکتی ضرور ہے”

خیر ککو بھائی کی شادی پر ہم اتنے غمزدہ بھی نہیں تھے کہ کھانے میں کم زدہ ہوجاتے خوب ہی ڈٹ کے کھایا بلکہ ہر نوالے کو ڈانٹ کے کھایا۔ جب کھانا منہ تک آگیا تو دماغ نے کام۔ کرنا شروع کیا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا ؟ ککو بھائی نے پیچھے پیچھے کیا گیم کیا؟ بڑے بڑوں کو مات دے دی۔

قصہ بہت ہی دلچسپ ہے۔ ہوا یوں کہ اس ٹیچر کی شادی کہیں طے ہوئی۔ کارڈ چھپ گئے۔ شادی کی شام آگئی۔ لڑکے والوں کی طرف سے فرمائش (ڈیمانڈر) کی ایک لسٹ آگئی۔ لڑکی کے والد انتہائی با!صول شخص تھے۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ یہ بلیک میلنگ ہے۔ اگر ابھی ان کا یہ حال ہے تو بعد میں کیا کریں گے۔ والد نے ڈیمانڈز یکسر مسترد کردیں اور لڑکے والوں نے بھی بارات لانے سے انکار کر دیا۔ منع ہو گیا تو لڑکی کی والدہ کی طبیعت خراب ہوگئی۔ 3 سے 4 گھنٹے بعد بارات آنی تھی۔ ٹینٹ لگ چکا تھا، لائٹس مغرب کے بعد جلنے والی تھیں۔ کھانا پتلی گلی میں قورمہ پکنا شروع ہوچکا تھا۔ باورچی نے چاول بڑے ٹب میں بھگونے کے لئے نکال لئے تھے۔ پیاز کٹ کے ایک کونے میں پڑی تھی مگر یہاں تو بڑی مشکل پڑی تھی۔ دلھن موجود دولھا نادارد۔ بارات نہ آئے تو بے عزتی ایسے میں تو دولھا کرائے پر بھی نہیں ملتا کوئی رشتہ اور رستہ نظر نہیں آرہا تھا۔

بات گلی میں پھیل چکی تھی۔ اسی گلی میں ککو بھائی کئ ایک رشتے دار رہا کرتی تھیں۔ ان کے ذہن میں ککو بھائی آئے۔ لڑکی کی والدہ سے کہا۔ اندھا کیا چاھے دو آنکھیں۔ وہ خاتون پہلے خود ککو بھائی کی اماں کے پاس گئیں۔ ککو بھائئ کی والدہ حیران و پریشان کہ یہ تو چٹ منگنی پٹ بیاہ سے بھی آگے کی کہانی ہے۔ صاف انکاری ہو گئیں اور صاف کہہ دیا اول درجے کا نکھٹو ہے۔ لڑکی کو زندگی بھر حوالے بنا بنا کر کھلانا پڑیں گے۔ وقت گذرا جا رہا تھا۔ ککو بھائی اپنی قسمت سے بے خبر گلیوں میں کہیں پھر رہے تھے یا کسی ملک کے جغرافیہ پر ہاتھ صاف کر رہے ہوں گے۔ گھر آئے، اماں نے بتایا کہ تیرا رشتہ آیا ہے۔ رات میں بارات ہے، شادی کرے گا؟ ککو بھائئ نے کہا:

ایسے ہی کوئی لوٹ کا مال سمجھ رکھا ہے۔

وہ تو جب اماں نے یہ بتایا کہ فلاں رشتے دار کی گلی میں لڑکی والے رہتے ہیں تو ککو بھائی کے کان کھڑے ہوئے۔ فورا گھر سے نکلے اور با پیادہ لیلی کی گلی جا پہنچے۔ بایر ٹینٹ لگا دیکھا تو دل بلیوں اچھلنے لگا۔ آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:

میں تو چھتر سمجھ رہا تھا مگر پروردگار تو چھپر پھاڑ کر دینے کو تیار ہے۔ اب ککو بھائی نے اماں کو راضی کرنا شروع کیا۔ اماں نے کہا کہ یہ تجھے کیا ہوگیا ہے۔ اتنی جلدی تو گڈے گڑیا کی شادی نہیں ہوتی۔ شام 7 بجے تک ککو بھائی کے والد صاحب بھی گھر آگئے۔ ان کو بتایا تو خوب ہی ہنسے۔ آدمی جہاںدیدہ تھے۔ بولے لڑکی کے والد اور والدہ کو لے آو۔ وہ آئے۔ والد نے لڑکی والوں کو ککو بھائی کی اوقات بتا دی بلکہ کچھ زیادہ ہی بتا دی۔ لڑکی کے والد نے ککو بھائی کی اوقات پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ بس یہی بولے کہ لڑکا شریف ہے اور روزی روٹی تو لڑکی کے نصیبوں سے ہوتی ہے۔ لیجئے جناب ککو بھائی کے قریبی دستیاب رشتے دار بلا لئے گئے اور وہ سہرا جو کسی اور کے سر پر سجنا تھا ککو بھائی کے سر بندھ گیا۔ ککو بھائی کی شادی تو ہو گئی مگر بیوی نے تگنی کا ناچ نچا دیا۔ اماں نے وہ راگ چھیڑے کہ انگ انگ اللہ میری توبہ پکار اٹھا۔ بقول شاعر:

بیل کیا چیز ہے گدھا کیا ہے
بے وقوفی کی انتہا کیا ہے
عشق کر کے سمجھ میں آئے گا
“ابر کیا چیر ہے ہوا کیا ہے”

جیسے تیسے ککو بھائی نوکری چڑھ گئے اور عاشقی نے قید شریعت میں جلوہ کثرت اولاد کا آغاز کر دیا۔ پہلے تین لڑکیاں ہوئیں تو اماں نے پوتے کی فرمائش شروع کردی۔ ککو بھائی نے بہت سمجھایا۔ اماں قدرت کے آگے کسی کی نہیں چلتی مگر اماں کی تکرار وہی رہی۔ کسی پہنچے ہوئے نے کہا کہ انجیر کھاو اور اماں کی مراد بر آئئ۔

خشک انجیر کے کھانے سے افاقہ ہوگا
میرے مرشد نے بتایا ہے کہ کاکا ہوگا

اور بھائی پھر لگاتار تین بیٹے ہوئے۔

باقی یہ ہے کہ ککو بھائی اپنی بقیہ زندگی گذار رہے ہیں۔ ککو بھائی کی محبت اپنے منطقی انجام کے ساتھ اپنے “مطلبی” انجام کو بھی پہنچ چکی ہے۔ ان کے 6 بچے ہیں اور خود ککو بھائی بچے ہیں۔


مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20