توجہ کا انتشار : بچاو کیلئے پرہیزی غذا —– Mark Manson ترجمہ: وحید مراد

0

THE ATTENTION DIET : Mark Manson

(آج کے کمپیوٹرائزد دور میں اضطراب، بدحواسی، افراتفری پھیلانے اور توجہ ہٹانے والے انتشاری عوامل اتنے اثر پذیر ہو چکے ہیں کہ ہم انکے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں اور ہم نے انہیں ایک معمول کے طور پر اپنا لیا ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ انہیں ایک نشے کی لت کے طور پر اپنے اوپر سوار کرکے اپنی ذہنی صحت کو تباہ کر لیا ہے۔ لیکن اگر ہم چاہیں تو اپنی توجہ اور انہماک کو انکے شکنجے سے آزاد کرکے دوبارہ دھیان اور ارتکاز کی کیفیت حاصل کرکے اپنی ذہنی صحت کو بحال کر سکتے ہیں۔۔۔ مگر کیسے؟ اسکی تفصیل درج ذیل مضمون میں پڑھئیے)


اس مضمون کو ضبط تحریر میں لانے کا مصمم ارادہ کرلینے کے بعد جب میں نے اپنے ذہن اور توجہ کو اس کا ایک خاکہ بنانے پر مرکوز کر رکھا تھا، اس دوران بھی میں نے تین بار اپنا twitter Account چیک کیا، چاربار ای میل دیکھی، دو لوگوں کو جوابات دئے، ایک بار Slack کو چیک کیا، دو لوگوں کو text messages بھیجے، ایک بار YouTube پر جا کر ایک ویڈیو دیکھی، متعدد بار Amazon پر اپنی شائع شدہ کتب کی رینکنگ دیکھی اور اس دوران میرے قیمتی وقت کا نصف گھنٹہ غارت ہو گیا۔ اسکے بعد کے نصف گھنٹے میں کچھ اسی طرح کی رکاوٹیں سامنے آتی رہیں، میں نے کئی بار اپنے آپ کو جھنجوڑا کہ ان فضولیات سے بچو ورنہ سارا وقت انہی کی نذر ہو جائے گا مگر پھر بھی میں ان سے اپنا دامن نہ چھڑا سکا اور انہوں نے میرے خیالات کی گاڑی کو ایسی غلط پٹڑی پر ڈال دیا کہ میری تحریر کے معیار کا ستیاناس ہو گیا، مجھے متعدد بار اپنے ہی لکھے کااعادہ کرنا پڑا، چند سطریں لکھتا، پھر کاٹتا، کبھی ہجے درست کرتا کبھی املا کی تصحیح کرتا اور میری حالت ایسی مضطرب ہو گئی اور دماغ ایسا خلط ملط ہو گیا کہ جو چیز کاغذ پر تحریر کرنا ہوتی اسے text message میں لکھ کر بھیج دیتا اور جوکسی کے ای میل کا جواب لکھنا ہوتا اسے اپنی تحریر کے پیراگراف میں درج کر دیتا۔ آخر اس صورتحال سے تنگ آکر میں نے ان سب انتشاری عوامل کو ایک طرف کیا اور دوبارہ اپنی تحریر کی طرف متوجہ ہونا چاہا لیکن اس وقت تک میرے دماغ کی دہی بن چکی تھی۔

یہ انتشاری عوامل آپ کی تخلیقی صلاحیت کو صرف متاثر نہیں کرتے بلکہ اگر آپ انکے اسیر ہو جائیں تو یہ تخلیقی صلاحیت کو سرے سے تباہ کر دیتے ہیں۔ جس قدریہ آپ کے کام میں سہولت بہم پہنچاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ یہ آپ کیلئے کام بڑھا دیتے ہیں۔ اغلب امکان یہ ہے کہ اس معاملے میں ہر کسی کے ساتھ اس سے ملتی جلتی ہی صورتحال پیش آتی ہے جس کا میں نےاوپر ذکر کیا ہے لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ پختگی آتی جاتی ہے اور انسان خود بخود انتشاری عوامل سے دور ہوتا جاتا ہے اوراسکی توجہ اور خیالات میں ارتکاز پیدا ہوتا جاتا ہے لیکن یقین مانیئے میرے تجربے کے مطابق یہ صرف ایک مفروضہ ہے اسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ 2007 میں جب میں نے ابھی بلاگنگ blogging کی شروعات ہی کی تھی تو میں صبح اٹھتے ہی چٹکی بجانے جتنی دیر میں ایک ہزار الفاظ کا مسودہ تیار کر لیتا، اسکے بعد ناشتہ کرتا اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ کہیں 2013 کی بات ہے جب میں نے اپنی توجہ اور انہماک کو فیس بک اور ای میل کے ذریعے منتشر کرنے کا آغاز کیا، اور پھر 2015 میں مجھے واضح طور پر محسوس ہونے لگا کہ جس نشے کا میں نے شوقیہ آغاز کیا تھا وہ اب میری عادت بنتا جا رہا ہے اورجب اس نے میری توجہ اور انہماک کو اپنے شکنجے میں کسنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ اب مجھے اپنی “توجہ” پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اب مجھے اپنے “انہماک” پر منہمک ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ میری لئے ایک نئی سوچ اور نیا احساس تھا، میں نے پہلے کبھی اس طرح سے سوچا اور محسوس نہیں کیا تھا۔ گزشتہ سال مجھے ایسا لگا کہ اب یہ انتشاری عوامل میری ضرورت بن چکے ہیں لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ان سے جان کیسے چھڑائی جائےَ؟ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے میں کسی کمپیوٹرائزڈ قید خانے میں اسیر ہوں جہاں نہ صرف یہ کہ اہم اور ضروری امور کے نتائج کا حصول بے ثمر ہے بلکہ شاید توجہ اور انہماک کے ساتھ کوئی امر سر انجام دینا سرے سے ممکن ہی نہیں ہے۔

Weekend Knowledge Dump- July 5, 2019 | Active Response Trainingتاریخ میں زیادہ پیچھے مت جائیں، صرف 50 اور 60 کی دہائی پر نظر ڈالیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ اس وقت اور آج کی دنیا میں کتنا فرق ہے۔ جدید معاشیات نے لوگوں کو گھروں، گائوں، گوٹھوں سے اٹھا کر فیکٹریوں، فارمز اور دفاتر میں لا کھڑا کیا ہے جہاں آپ کو سارا دن کھڑے ہو کر کام کرنا ہوتا ہے اور پیسہ کمانے کیلئے سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ آج کے دور میں اچھی جابز آپ سے یہ تقاضا کرتی ہیں کہ آپ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت ایک ڈیسک پر بیٹھ کر گزاریں اور اٹھنےکا نام تک نہ لیں۔ ظاہر ہے فطری طور پر ہمارا جسم زیادہ دیر بیٹھے رہنے کا عادی نہیں ہوتا اور جب ہم اسے بالجبر اسکا عادی بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ جبر کا احساس بھلانے کیلئے، پورا دن اسکی تواضح برگر، پیزا، ڈونٹس اور سوڈا کے ساتھ کرتے ہیں تونتیجتاً ہماری صحت کا بیڑا غرق ہو نے لگتا ہے، ہم موٹاپے، شوگر، اور امراض قلب میں مبتلا ہونے لگتے ہیں اور اسکے ساتھ سستی اور کاہلی آنے لگتی ہے اور ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہےکہ اب ہمارا جسم کسی کام کے لائق ہی نہیں رہا۔ جب اس صورتحال کو اجتماعی طور پر محسوس کیا گیا تو صحت کے بحران پر قابو پانے کیلئے جسمانی فٹنس کا تصور اور کلچرسامنے آیا، ہر طرف فٹنس کلب کھلنے لگے، پیسے والے لوگوں نے اپنے گھروں اور دفاتر تک میں یہ مشینیں نصب کر لیں۔ لوگوں نے سوچنا شروع کر دیا کہ اگر وائیٹ کالر جاب میں سارا دن ایک اسکرین کے سامنے بت بن کر ہی بیٹھنا ہے، یا بلو کالر جاب میں سارا دن وہ بوجھ اٹھانا ہے جو گدھا بھی اٹھانے سے انکاری ہے تو صحت کا تو ستیا ناس ہو جائے گا، چنانچہ صحت کی بحالی اور بہتری کیلئے ادھیڑ عمر اور بوڑھے لوگوں نے بھی نیکر اور بنیان پہن کر پارکوں اور فٹنس کلبوں میں مضحکہ خیز انداز میں چھلانگیں لگانا شروع کر دیں، بڑےبڑے جمخانے بننا شروع ہو گئے اور پیسے والے لوگوں نے لاکھوں روپے فیس دے کر انکی ممبر شپ لینا شروع کر دی۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ ہمارے جسم کی قدرتی طور پر ایسی تخلیق ہوئی ہے کہ یہ صرف اس وقت صحت مند رہتا ہے جب اسے ایک خاص حد تک جسمانی چیلنج ملتا رہے ورنہ یہ اتنا کمزور اور نا تواں ہو جاتا ہے کہ چند سیڑھیاں چڑھنے یا سبزی وغیرہ کا ایک تھیلا تک اٹھانے کے قابل نہیں رہتا۔

جس طرح جسمانی مشقت کے بغیر انسانی جسم کسی کام کے قابل نہیں رہتا اسی طرح انسانی ذہن بھی مناسب استعمال اور چیلنج کے بغیر سہل پسند، بودا اور زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ جس طرح جسم کو فٹ رکھنے کیلئے فٹنس کلب اور جیمخانے بنائے گئے ہیں یا ایسی مشینیں بنائی گئی ہیں جنہیں گھر میں بھی استعمال کرکے جسم کو تندرست رکھا جا سکتا ہے اسی طرح ضروری ہےکہ انسانی ذہن کو بھی چاک و چوبند رکھنے کیلئے، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت، مختلف قسم کے چیلنج دئے جائیں تاکہ یہ مناسب انداز سے کام کرتا رہے۔ جس طرح موٹاپے، اور شوگر وغیرہ جیسی جسمانی بیماریوں کو کنٹرول کرنے کیلئے ہم کھانے میں کمی کرتے ہیں اور پرہیزی غذا استعمال کرتے ہیں اسی طرح ذہنی بیماریوں سے بچنے کیلئے بھی ضروری ہے کہ ہم بے جا قسم کی آرام طلبی، آسائشوں اور سہولتوں سے پرہیز کریں اور ذہن کو مشقت کرنے کے کام پر لگائیں۔ تحقیق و جستجو، ذہن کیلئے ایک ایسی مشقت ہے جس سے یہ صحت مند بھی رہتا ہے، تیز اور زود فہم بھی ہوتا ہے اور مقصد پر اسکی توجہ بھی مرکوز رہتی ہے۔ المختصر میرا کہنا اور ماننا یہ ہے کہ جس طرح بیسویں اور اکیسویں صدی کی کنزیومر اکانومی نے جسمانی صحت کیلئے پرہیزی غذا کو ضروری قرار دیا ہے اسی طرح توجہ اور ارتکاز کی جدید معیشت کو انسان کی ذہنی صحت کیلئے بھی ایک پرہیزی غذا کو ضروری قرار دیناچاہیے۔

جس طرح موٹاپے، اور شوگر وغیرہ جیسی جسمانی بیماریوں کو کنٹرول کرنے کیلئے ہم کھانے میں کمی کرتے ہیں اور پرہیزی غذا استعمال کرتے ہیں اسی طرح ذہنی بیماریوں سے بچنے کیلئے بھی ضروری ہے کہ ہم بے جا قسم کی آرام طلبی، آسائشوں اور سہولتوں سے پرہیز کریں اور ذہن کو مشقت کرنے کے کام پر لگائیں۔

بہت سے محاذ ہیں جن پر ہماری توجہ اور ارتکا ز پر یورش ہو رہی ہے، پہلے محاذ پر ہماری توجہ کو بانٹنے کیلئے بڑے پیمانے پر فالتو، بیجا، اور بلا ضرورت مواد کو ہمارے اوپر تھوپا جا رہا ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے پرانی اور استعمال شدہ چیزوں کے بازار (کباڑ) میں آپ کو اپنی پسند کی چیز تلاش کرنے میں دقت پیش آتی ہے کہ سمجھ نہیں آتا کس چیز کو لیں اور کس کو چھوڑیں، کبھی منتخب کردہ چیز پر شک ہونے لگتا ہے کہ کہیں اندر سے خراب نہ ہو اور کبھی چھوڑی ہوئی چیز کو حریص نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کہیں یہی تو ہمارا اصل مطلوب نہیں تھا؟ آج کی انفارمیشن مارکیٹ بھی ایک ایسا ہی بازار ہے جس نے ہمارے ذہن کو بد حواس اور مضطرب کر رکھا ہے کہ کس چیز کو لیں اور کس کو چھوڑیں چنانچہ ہماری توجہ اور ارتکاز کا ستیاناس ہو رہا ہے۔ چنانچہ توجہ کی پرہیزی غذا کا پہلا اور اہم مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم شعور ی اور ارادی طور پر، توجہ کو منتشر کرنے والے عوامل کا سامنا، کم سے کم کریں، ہر وقت اپنے آپ کو ان عوامل کے سامنے بے آسرا اور کھلا ہوا exposed نہ رکھیں۔ جیسے جسمانی صحت کی بحالی کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ غذا میں کمی کی جائے اسی طرح ذہنی صحت کی بحالی کا بھی پہلا قدم یہی ہے کہ اپنے آپ سے پوچھا جائے کہ کونسا مواد قابل توجہ ہے اور کونسا نہیں ہے؟؟ جس طرح بازاری خوراک Junk Food جسمانی صحت کیلئے خطرناک ہے اور اکثر لوگوں کی صحت کو تباہ کر رہی ہے اسی طرح Junk Information بھی ہمارے جذبات، احساسات، توجہ، انہماک اور ارتکاز کا ستیاناس کر رہی ہے۔ اس لئے توجہ کی پرہیزی غذا کا دوسرا ہدف یہ ہے کہ قرابت، جڑت اور معلومات کا ایک ایسا مقوی اور متناسب منبع nutritious sources of information and relationship تلاش کیا جائے کہ پھر ہم اطمینان کے ساتھ اپنی ڈور اسکے ساتھ جوڑ لیں اور پھر اسکے سہارے ہماری زندگیاں پروا ن چڑھیں۔ کیونکہ اس سلسلے میں اصل مطلوب معیار ہے، کثرت نہیں ہے۔ لامتناہی معلومات اور مواقع کی دنیا میں، زیادہ تعداد میں آگاہی رکھ کر، زیادہ تعداد میں مواقع حاصل کرکے یا زیادہ تعداد میں امور کی انجام دہی کر کے، زندگی بہتر طور پر پروان نہیں چڑھتی بلکہ نسبتاً کم معلومات اور کم مواقع پر زیادہ توجہ اورانہماک کی صلاحیت پیدا کر لینے سے زندگی زیادہ بہتر طور پر، پروان چڑھتی ہے۔ جس طرح جسمانی غذا میں، ایک دورانیہ کیلئے کٹوتی کرنے سے آپ کی جولانی لوٹنے لگتی ہے، قوت بحال ہونے لگتی ہے اور جسم صحت مند اور توانا ہونے لگتا ہے اور پھر زیادہ کھانے پینے میں رغبت بھی کم ہونے لگتی ہے اسی طرح نسبتاً کم معلومات اور کم مواقع پر تکیہ کر لینے ، ان کی گہرائی پر نظر رکھنے اور ان پر توجہ مرکوز کر لینے سے انسانی ذہن اوراسکے دیگر قویٰ ایک فرحت محسوس کرنے لگتے ہیں اور پھر کچھ وقت کے بعد کثیرمعلومات اور کثیر مواقع کی چکا چوند سے متاثر نہیں ہوتے۔

توجہ کی پرہیزی غذا کے بارے میں اصولی گفتگو کے بعد، اب بعض امور کا ذرا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔ ہم نے اوپر غیر معیاری یا ہلکی معلومات Junk Information کا ذکر کیا، ان سے کیا مراد ہے؟ یہ دراصل سطحی، غیر معیاری، غیر تصدیق شدہ، اورغیر اہم معلومات ہوتی ہیں جن کی نوعیت بناوٹی، پر نمود اور جاذب نظر ہوتی ہے اور بظاہر یہ انسانی نفس کیلئے بہت پر کشش اور جذبات کو ابھارنے والی معلومات ہوتی ہیں لیکن اگر انہیں غور سے دیکھا جائے، ان کا تجزیہ کیا جائے تو ان کے اندر کام کی کوئی چیز بہت معمولی مقدار میں ہوتی ہے یا سرے سے غائب ہوتی ہے اور ان معلومات کو ایک لت اور نشہ کی عادت میں مبتلا کرنے کے ہدف encouraging addictive consumption patterns کے ساتھ تخلیق کیا جاتا ہے۔ ان کے مقابلے میں مقوی اور متناسب معلومات nutritious information وہ ہوتی ہیں جو معیاری، با معنی، تصدیق شدہ، اور اہم ہوتی ہیں اور ہر ذہن کیلئے کسی نہ کسی حد تک متاثر کن ہوتی ہیں اور انسانی ذہن کو مزید سوچنے، تجزیہ کرنے، گہرے ادراک، تحقیق و جستجو کرنے پر اکساتی ہیں اور ان سے انسانی ذہن کی جڑت اور انکی طرف رغب زیادہ گہری اور وسیع ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم نے سطحی تعلقات Junk relationships کا ذکر کیا، ان سے مراد وہ انسانی، انفرادی یا گروہی تعلقات ہیں جن میں آپ دوسرے فرد یا افراد کو ایسے نہیں جانتے جیسے آپ اپنے قرابت داروں اور ہمجولیوں کو جانتے ہیں اسی طرح آپ ان پر ایسے اعتماد نہیں کر سکتے جیسے آپ اپنے جگری یاروں پر کرتے ہیں۔ یہ عام طور پر آپ کو عدم تحفظ کا احساس دلاتے ہیں اور مستقل طور پر آپ کے دل و دماغ میں منفی خیالات و احساسات کی وجہ بنتے رہتے ہیں۔ جبکہ حقیقی اور متناسب تعلقات Nutritious connections سے مراد وہ افراد یا گروہ ہوتے ہیں جن کو آپ ذاتی طور پر جانتے ہیں، ان سے کبھی کبھار ملاقات ہوتی رہتی ہے، ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے اور وہ عام طور پر آپ کے خیر خواہ ہوتے ہیں اور آپ کے آگے بڑھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

 Junk Information  دراصل سطحی، غیر معیاری، غیر تصدیق شدہ، اورغیر اہم معلومات ہوتی ہیں جن کی نوعیت بناوٹی، پر نمود اور جاذب نظر ہوتی ہے اور بظاہر یہ انسانی نفس کیلئے بہت پر کشش اور جذبات کو ابھارنے والی معلومات ہوتی ہیں لیکن ان کے اندر کام کی کوئی چیز بہت معمولی مقدار میں ہوتی ہے یا سرے سے غائب ہوتی ہے اور ان معلومات کو ایک لت اور نشہ کی عادت میں مبتلا کرنے کے ہدف encouraging addictive consumption patterns کے ساتھ تخلیق کیا جاتا ہے۔

توجہ کی پرہیزی غذا کے حوالے سے ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اسکی نوعیت ایسی نہیں ہونی چاہیے کہ اس پر عمل پیرا ہونے سے جذباتی قسم کی مشکلات پیدا ہوتی ہوں کیونکہ غیر معیاری معلومات Junk Information میں ہماری رغبت کی بنیادی وجہ ہی یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنانے میں بہت سہل اور طبیعت کیلئے خوش کن اور مسحور کن ہوتی ہیں۔ ہم ان کے سحر میں بالکل اسی طرح گرفتار ہوتے ہیں جس طرح نشے کا عادی فرد، شروعات میں اپنے بچگانہ عشق وغیرہ میں ناکامی کے غم کو بھلانے کیلئے نشے کے استعمال کا آغاز کرتا ہے۔ ہم بھی اپنے دن بھر کے جھمیلوں سے ملنے والے کرب اور اذیت کو بھلانے کیلئے ان Junk Information کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ اپنے اندر ایک خاص قسم کی جذباتی کشش رکھتی ہیں۔ یہ جذباتی کشش بالکل اسی نوعیت کی ہوتی ہے جو بچوں کو اغوا کرنے والے، انہیں نشہ، جرائم اور جسم فروشی وغیرہ کی طرف مائل کرنے والے افراد اور گروہوں کے چرب زبانی اورپر کشش افعال میں پائی جاتی ہے اور وہ اس صلاحیت کو گھر سے بھاگنے والے ، کسی کرب میں مبتلا، جذباتی اور غیر مطمئن بچوں پر استعمال کرکے انہیں باور کراتے ہیں کہ ان سے زیادہ انکا ہمدرد اور خیر خواہ کوئی نہیں اوروہ بچے، بچیاں ان کی باتوں میں آکر انہیں اپنے ماں، باپ کا متبادل سمجھ کر ان پر اعتماد کر لیتے ہیں لیکن ان بچوں کو ان افراد اور گروہوں کی حقیقت کا علم اس وقت ہوتا ہے جب انکی زندگیوں کا سودا ہو چکا ہوتا ہے۔

اس حوالے سے دوسری اہم بات آپ کے سوشل میڈیا کے رابطوں کی صفائی مہم ہے۔ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر موجود اپنے دوستوں، فالورز اور جن کو آپ فالو کرتے ہیں انکی لسٹ کو چیک کرتے جائیے اور ہر شخص اور ہر گروپ کے بارے میں اپنے آپ سے سوال کرتے جائیے کہ کیا اس شخص یا گروپ کا آپ کی لسٹ میں موجود رہنا آپکی زندگی کیلئے مفید اور منفعت بخش ہے؟ کیا وہ آپ کو آگے بڑھنے میں مددگار ہوتا ہے اورآپ کی پریشانیوں اور اضطراب میں کمی کا باعث بنتا ہے؟ یا خطرات، پریشانیوں اور اضطراب میں اضافے کا باعث بن کر آپ کی زندگی میں مشکلات کا باعث بنتا ہے؟اگر مذکورہ شخص یا گروپ پہلی کی بجائے دوسری کیٹیگری سے تعلق رکھتا ہے تو فوراً اسے ان فرینڈ کیجئے کیونکہ یہ آپکی توجہ اور ذہنی صحت کا سوال ہے۔ اسی طرح فالتو قسم کی نیوز ، میڈیا، اسپورٹس، اور انٹرٹینمنٹ کی دکانوں کو بھی ان فالو کیجئے کیونکہ یہ سب غیر تصدیق شدہ سنسنی خیز خبریں، افواہیں، جذباتیت اور تنگ نظری پھیلا کر ہمارا خون پیتے ہیں۔ ان پر شائع ہونے والے مواد کی ہیڈ لائنز اور سرخیاں ، کسی صداقت و راست گوئی کے اظہار یا کسی منفعت عامہ کیلئے نہیں جمائی جاتیں بلکہ انکی نوعیت اور حیثیت تو کبوتر یا چوہا پکڑنے والی مشین Rat Trap کے جیسی ہوتی ہے کہ آپ کو شکار کرکے اپنی من پسند جگہ پر “کلک Click” کروانے پر مجبور کر سکیں۔ اور سوشل میڈیا تو، اس طرح کا شکار کرنے کیلئے لالچ دینے، لبھانے اور فریب دینے کے معاملے میں حد سے گذر چکا ہے۔ سوشل میڈیا کی کاروائی اور واردات بالکل اسی نوعیت کی ہوتی ہے جو انسانی اعضاء نکالنے والے گروہ کی ہوتی ہے کہ وہ اس وقت تک آپ کو رام کہانی سناتے ہیں اور ہر طرح کا لالچ دیتے ہیں جب تک آپ کا گردہ وغیرہ نکال نہیں لیتے۔ آپ کا گردہ وغیرہ نکال لینے کے بعد انکے گروہ کا کوئی فرد بھی آپ کی بپتا سننے کو تیار نہیں ہوتا۔ اسی طرح سوشل میڈیا آپ سے “کلک click” کے حصول کیلئے کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔ اس لئے بحثیت ذمہ دار شہری ہمارا فرض بنتا ہے کہ معصوم لوگوں کو میڈیا کے اس مسموم عقوبت خانے سے باہر نکلنے میں معاونت کریں اور اس کا سیدھا اور آسان طریقہ یہ ہے کہ ان کو unfollow اور unsubscribe کریں۔ اسی طرح تمام غیرضروری Applications کو بھی uninstall کر دیں۔ شروع میں آپ کو فیس بک، ٹوئیٹر، انسٹا گرام اور اس طرح کے دیگر اکائونٹ وغیرہ بند کرنے یا محدود کرنے پر عجیب محسوس ہوگا لیکن کچھ ہی دنوں میں جب آپ دیکھیں گے کہ آپ کی طبیعت ہشاش بشاش ہے، ذہن میں کوئی انجانی اور ان ہونی پریشانی نہیں ہے اور آپ اپنے تمام ادھورے چھوڑے گئے کاموں پر توجہ دے رہے ہیں، ہر کام پر آپ کی یکسوئی اور توجہ بڑھ رہی ہے، آپ سارا دن خواہ مخواہ ہر اکائنٹ کو بار بار چیک نہیں کر رہے ہیں تو آپ کو بہت اچھا محسوس ہوگا۔ اور آپ اردگرد، حالات و واقعات وغیرہ سے آگاہی کیلئے صحیح خبروں کے حصول کے سلسلے میں پریشان نہ ہوں، ابھی ہم آپ کو بتائیں گے کہ انکے حصول کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ اگر آپ بغیر سنسنی کے خبریں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وکی پیڈیا کے the current events page of Wikipedia صفحہ پر جائیے، یہ صفحہ ہر زبان کیلئے تیار کیا جاتا ہے، یہاں حالات حاضرہ اور اہم تاریخی واقعات کے بارے میں حقائق بتائے جاتے ہیں، اور اگر آپ کو ان موضوعات پر تفصیلی معمولات درکار ہوں تو ہر موضوع پر تفصیلی مضامین کے لنکس بھی موجود ہوتے ہیں جن کو کھول کر آپ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ وکی پیڈیا، تعصب، بدگمانی، طرفداری سیاسی وابستگی اور کسی ایک نکتہ نظر کی طرف جھکائو کےخاتمے کا خصوصی اہتمام کرتا ہے جبکہ دوسرا میڈیا اس اہم چیز کو بالکل خاطر میں نہیں لاتا۔ وکی پیڈیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بورنگ boring ہے۔ یہ بات درست ہے کیونکہ حقائق اگر صاف اور سیدھے طریقے سے بیان کئے جائیں، ان میں تعصب، بدگمانی، اور طرفداری کا مرچ مصالحہ نہ لگایا جائے تو وہ بورنگ ہی ہوتے ہیں۔ اگر کوئی مواد آپ کے اندر ہیجان پیدا کرتا ہے، جذبات کو برانگیختہ کرتا ہے یا بیجا خوشی اور بے قراری کو بڑھاتا ہے تو آپ تعصب اور طرفداری کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن اگر آپ حقائق کے مواد کو ایک ایسے انداز میں پاتے ہیں جیسے ٹی وی یا ریفریجریٹر کی مرمت کرنے کی گائیڈ کا انداز ہوتا ہے تو لازمی بات ہے آپ خالص حقائق جان رہے ہوتے ہیں، وہ تعصب اور ہیجان میں لپٹے ہوئے نہیں ہوتے۔

وکی پیڈیا کے بعد دوسرا اہم ذریعہ Longform.org ہے جہاں طویل دورانیے کا مواد Long form content دستیاب ہے۔ یہ کتب، ڈاکو مینٹری، آڈیو، ویڈیو بکس اور مضامین کی ہر شکل میں، اور ہر موضوع مثلا ً کھیل، تفریح، موسمیاتی تبدیلی، سائنس، فکشن، انسانی حقوق، معاشی نا ہمواری، سیاسیات وغیر و دیگر بہت سے موضوعات پر موجود ہے۔ اس طویل دورانیے کے مواد Long form content کے دو فائدے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ اس میں اوسط درجے کا تحقیقی مواد شامل ہوتا ہے اور یہ مختصر مواد Short form content کی نسبت کہیں زیادہ فکر انگیز ہوتا ہے اور اسکا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جب ہم طویل مواد کا مطالعہ کرنے کیلئے ٹک کر بیٹھتے ہیں تو ایک چیز پر توجہ مرکوز کرنے کی عادت پروان چڑھتی ہے اور ہر وقت ادھر ادھر تانک جھانک، اور کودنے، پھاندنے کی عادت میں کمی واقع ہوتی ہے اور ہمیں موقع ملتا ہے کہ ہم چیزوں کے بارے میں گہرائی میں جا کر سوچیں، انکا تجزیہ کریں اور انکے حق میں یا انکے خلاف تفصیلی دلائل کے بعد رائے قائم کریں۔ اس Long form content میں کھیل اور تفریح کے موضوعات پر بھی بہت مواد موجود ہے، یہاں آپ صرف کلپس نہیں دیکھتے بلکہ اپنے پسندیدہ کھلاڑی کے بارے مکمل معلومات پر مبنی ڈاکومینٹری دیکھتے ہیں، اسی طرح صرف ہٹ گانے نہیں دیکھتے بلکہ ہر گلوکار کے پورے البم کو دیکھ سکتے ہیں، ایک چھوٹا سا معمولی ویڈیو گیم نہیں دیکھتے بلکہ ہر قسم کا طویل ویڈیو گیم دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے آپ کو ہر اسٹوری کے بارے میں تنقیدی نظر سے مطالعہ کرنے کا موقع ملتا ہے اور آپکی ایک چیز پر دیر تک توجہ مرکوز رکھنے کی مشق بھی ہوتی جو ذہنی صحت کیلئے اتنی ہی ضروری ہے جتنی جسمانی صحت کیلئے exercise کرنا ضروری ہے.

جس طرح جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے آپ کھانے پینے کے چارٹ اور شیڈول بناتے ہیں کہ کب کیا کھانا ہے اور کس چیز کا پرہیز کرنا ہے اسی طرح ذہنی صحت کیلئے بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے لئے چارٹ اور شیڈول بنائیں اور اپنے آپ کو اسکا پابند کریں کہ ہر رو ز کتنی ای میل کرنی ہیں، کتنی ویب سائٹس وزٹ کرنی ہیں، کتنی دیر تک سوشل میڈیا (فیس بک، ٹویٹر، انسٹا گرام وغیرہ) پر وقت گزارنا ہے، کتنی دیر تفریح وغیرہ کرنی ہے۔ اسی طرح دن میں دفتری اوقات کے دوران اور رات کو آرام کے اوقات کے دوران پرسنل سیل فون کو دور رکھیں تاکہ کام کے وقت آپ کام پر توجہ مرکوز رکھ سکیں اور آرام کے وقت مکمل طور پر آرام کر سکیں۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اصولوں کو اپنی زندگی میں لاگو کیسے کیا جائے کیونکہ ہمارے ارد گرد سب لوگ جب سوشل میڈیا وغیرہ کے بارے میں باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی ہمارا ہاتھ اپنے سیل فون کی طرف بڑھ جاتا ہے اور ہم کوئی اپلیکیشن کھول کر اسکرول اپ، ڈائون شروع کر دیتے ہیں۔ اپنے آپ کو ان اصولوں کا پابند بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم خود اپنی حدود کا تعین کریں کیونکہ انسانی نفس اور طبع اس قدر چالاک ہوتے ہیں کہ جس طرف رغبت رکھتے ہیں انسان کو نہ چاہتے ہوئے بھی اسی طرف لے جاتے ہیں۔ اس لئے اپنے نفس، طبیعت اور توجہ کی تربیت ایسے ہی کرنی چاہیے جیسے کتے کو سدھایا جاتا ہے اور ہر وقت اس پر نظر رکھنی چاہیے کہ کہیں انجانے میں یہ آپکو غلط سمت میں تو نہیں لے جا رہا ہے۔ اس کے لئے آپ اپنے فون اور دیگر ڈیواسز پر تین قسم کے ٹولز لگا سکتے ہیں مثلاً website blockers، app blockers اور power outlet timers، سائیٹ بلاکرز میں Cold Turkey اور Focus سب سے اچھے ہیں۔ ان سے آپ ہر قسم کی ویب سائٹس، پیجز، اور گوگل کی مخصوص قسم کی سرچز بھی بلاک کر سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ اپنے موبائیل پر اسی قسم کا کام Freedom اور Self Control جیسے سوفٹ فئیر ز سے بھی لے سکتے ہیں۔ لیکن ویب سائٹس اور اپلیکیشنز بلاک کرنے سے پہلے آپ کو اپنے موبائیل فون کی سیٹنگ میں جا کر notification کو بلاک کرنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کی توجہ کو کسی کام پر مرکوز نہیں ہونے دیتے ہیں، ہر سیکنڈ کے بعد ایک نوٹیفیکیشن آجاتا ہے کہ کس نے گھوڑا ریس جیت لی، کس نے کتا لڑائی جیت لی جس سے آپ کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ یہ نوٹیفیکیشن تقریباً ہر شخص کیلئے بہت بڑا درد سر ہیں۔ اسی طرح آپ مختلف قسم کے sounds اور vibrations کو بھی بند کر سکتے ہیں جو ہر لمحہ نہ صرف آپ کو بلکہ آپ کے ارد گرد موجود دوسرے لوگوں کو بھی پریشان کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح آپ کے فون میں موجود مختلف اپلیکیشنز کے icons پر موجود لال لال نکتے بھی آپ کی توجہ اور دھیان کے بہت بڑے دشمن ہیں، جن پر نمبر لکھے ہوتے ہیں کہ ابھی 50 ای میل، ایمیل بکس میں پڑی ہیں جو آپ نے نہیں دیکھیں، فیس بک پر 30 اسٹوریز آپ کی منتظر ہیں، وٹس اپ کے 15 پیغامات آپ کی راہ دیکھ رہے ہیں، انسٹاگرام پر 10 لوگوں کی ویڈیوز آپ کے دیکھنے سے رہ گئی وغیرہ وغیرہ جو شخص بھی ان کو دیکھنا اپنے اوپر فرض کر لیتا ہے پھر حق زوجیت اس پر فرض کفایہ ہو جاتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ان سب سے نجات حاصل کرنا کا کیا طریقہ ہے؟ اگر آپ کے پاس آئی فون ہے تو اس میں ان سب اپلیکیشنز کو آپ کی سہولت کے مطابق عارضی، مستقل طور پر یا مخصوص اوقات کیلئے بلاک کرنا بہت آسان ہے، کیونکہ آئی فون نے خود سے اس سہولت کا آغاز کر دیا ہے لیکن اگر آپ کے پاس کوئی دوسرا فون ہے تو پھر آپ یہ مقاصد حاصل کرنے کیلئے Help me focus یا اسی طرح کا کوئی دوسرا سوفٹ وئیر استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کو زیادہ آرگنائز ہونے کا خیال آجائے اور آپ اپنے ٹی وی، وائی فائی اور دوسری devices کی بھی شیڈولنگ کرنا چاہیں کہ جب ان کو استعمال کرنے کی ضرورت نہ ہو تو وہ آٹو میٹک طریقے سے آف ہو جائیں اور آپ کے ریسورسز اور پاور وغیرہ کا ضیاع نہ ہو یا آپ کے گھر میں موجود بچے آپ کی عدم موجودگی میں کسی چیز کے غلط استعمال سے نقصان نہ اٹھائیں تو اسکے لئے آپ ان سب devices پر timer لگا سکتے ہیں۔

اب آخری بات یہ ہے کہ توجہ، ارتکاز اور ذہنی صحت کے حصول کیلئے تجویز کردہ مذکورہ بالا “پرہیزی غذا” پر کچھ لوگ اعتراضات کرتے ہوئے ایسا ظاہر کریں گے کہ ان سے بڑا بقرا ط کوئی نہیں ہے لیکن ان کے اعتراضات زیادہ سے زیادہ کیا ہو سکتے ہیں؟پہلا یہ کہ ایسا کرنے سے ہم بوریت کا شکار ہو جائیں گے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بوریت ہماری زندگی کی بہت اہم قدر ہے، دنیا میں تمام تخلیقی کاموں کی تخم ریزی کےپیچھے اس بوریت کا عمل ہی کارفرما ہوتا ہے۔ بوریت اگر سوچنے کے عمل کے دوران آپ کے دماغ کو تھوڑی سی پریشانی دیتی بھی ہے تو اس کے نتیجے میں ایک اہم تخلیقی کام سرانجام پاتا ہے جس کی اہمیت اور قیمت اس بوریت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اگر آپ بور نہیں ہونا چاہتے تو اسکا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی توجہ کسی اہم اور تخلیقی کام پر مرکوز کرنا ہی نہیں چاہتے اور آپ کی اسی کمزور ی کا فائدہ اٹھا کر میڈیا اور اس سے متعلقہ انڈسٹری آپ سے اربوں، کھربوں روپے ماہانہ لوٹ رہی ہے۔ اگر آپ جسمانی طور پر فٹ رہنا چاہتے ہیں یا اپنے جسم کو خوبصورت بنانا چاہتے ہیں تو اسکے لئے آپ جو exercises کرتے ہیں کیا وہ بورنگ نہیں ہیں؟ ان کے بورنگ ہونے کے باوجود آپ چیلنج لیتے ہیں تو پھر ذہنی صحت کیلئے بوریت کو برداشت کرنے کو کیوں تیار نہیں ہیں؟ اگر اتنے ہی بور ہو رہے ہیں تو جائیے رشتہ داروں، پڑوسیوں، غریب غرباء کا حال دریافت کیجئے، اپنے ملک اور شہر کے مختلف مقامات کی سیر کیجئے اور بوریت دور کیجئے۔

دوسرا اعتراض یہ ہو سکتا ہے کہ اس طرح ہم کچھ چیزوں کو miss کر دیں گے، کچھ واقعات رونما ہو جائیں گے اور ہم ان سے بے خبر رہیں گے۔ مگر اس اعتراض پر سوال یہ ہے کہ آپ کے نزدیک کس چیز سے بے خبر رہنا زیادہ اہم ہے؟ اپنی توجہ، دھیان، ذہنی صحت سے؟ یا محض بے وقعت قسم کے واقعات سے؟ اگر آپ تمام فضول قسم کے واقعات سے ہر وقت با خبر رہنا چاہیں گے تو اپنی ذہنی صحت سے ہمیشہ کیلئے بے خبر ہو جائیں گے اور اس سے جو نتائج نکلیں گے ان کا تفصیلی ذکر، ہم اوپر کر چکے ہیں اور رہی بات ان فضول قسم کے واقعات کی تو ان سےمکمل طور پر نہ کل آپ با خبر تھے نہ آج ہیں اور نہ آئندہ ہونگیں چاہے اسکے لئے جتنی مرضی ہے کوشش کر لیں۔ ایک زمانے تک تو آپ کو یہ احساس بھی نہیں تھا کہ آپ اپنے اردگرد سے کس حد تک بے خبر ہیں اسکی اہمیت تو آپ کے ذہن میں ابھی حال ہی میں میڈیا نے اجاگر کی ہے اور وہ بھی ایک غلط تاثر کی صورت میں کیونکہ حقیقت یہ ہےکہ میڈیا آپ کو با خبر رکھنے سے زیادہ اپنے قریب رکھنا چاہتا ہے تاکہ آپ اسکے اسیر ہو کر اسکی ہر ہاں میں ہاں ملائیں اور وہ آپ کی توجہ حاصل کرکے پیسہ بنائے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر روز آپ کی آنکھوں کے سامنے سینکڑوں اہم واقعات رونما ہو رہے ہوتے ہیں لیکن آپ ان پر کوئی توجہ نہیں دیتے کیونکہ میڈیا کے اسیروں کو صرف وہی واقعات اہم لگتے ہیں جنہیں میڈیا ہر وقت اچھالتا رہتا ہے۔

تیسرا اعتراض جو انتہائی بھونڈا قسم کا ہے یہ ہوتا ہے کہ لگتا نہیں ہے کہ ہم “توجہ کی غذا” کےان اصولوں پر عمل پیرا ہو سکیں گے۔ یہ اعتراض سن کر حیرت ہوتی ہے کہ جب آپ اپنا وزن کم کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو کیا اس وقت بھی آپ ایسا ہی کہتے ہیں کہ یہ ہم سے نہیں ہو پائے گا؟ نہیں آپ اپنے فریج میں موجود تمام کیک، آئس کریم او ر دیگر وہ تمام اشیاء ہٹا دیتے ہیں جو آپ کی طبیعت کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں اور آپ نہ چاہتے ہوئے بھی کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح صبح سویرے جلدی اٹھنے کی عادت کسی کو نہیں ہوتی لیکن اگر آپ کی جاب کی ڈیوٹی کے اوقات صبح سویرے کے ہوں تو مجبوراً آپ کو جلدی اٹھنا ہی پڑتا ہے اسکے لئے آپ یہ تو نہیں کہتے کہ ہم سے یہ نہیں ہونے کا، بلکہ آپ الارم لگا کر سوتے ہیں اور وقت پر بیدار ہوتے تاکہ صحیح وقت پر دفتر پہنچ سکیں۔ اسی طرح اگر آپ کو اپنی توجہ، دھیان وغیرہ کی بحالی عزیز ہے اور آپ اپنی ذہنی صحت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اسکے لئے مذکورہ اصولوں پر بھی اسی طرح عمل درآمد کرنا پڑے گا جیسے آپ دیگر منصوبوں کی تکمیل کیلئے کرتے ہیں۔ ہمارا دعویٰ یہ نہیں ہے کہ ہم ان اصولوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں کامل ہو چکے ہیں یا آپ عمل درآمد میں کامل ہوجائیں، ظاہر ہے کاملیت کے درجے میں پہنچنا آسان نہیں لیکن اپنے تئیں اتنی بھرپور کوشش ضرور کرنی چاہیے جتنی ہم اپنی زندگی میں دیگر منصوبوں اور مقاصد کے حصول کیلئے کوشش کرتے ہیں۔ (ترجمہ و تدوین: وحید مراد)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20