ٹیپو سلطان پر ایک ٹی وی سیریل —- قاسم یعقوب

0

سری رنگا پٹنم کے قلعے کے دروازے پر شہید ہو نے والا ٹیپو، شیر اور گیدڑ کی زندگیوں کو ماپتے ہوئے یہ اندازہ نہ کر سکا کہ اُسے شیر کی طرح مر کے دکھانا بھی ہے اور وہ اس امتحان میں کامیاب ہوا۔ معیار اور مقدار میں عزت و وقار کا حریت پسند پیغام دینے والا ٹیپو سلطان آج بھی ہمارے لیے اسی طرح زندہ و تابندہ ہے جس طرح ماضی میں تھا۔جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک کے شہر میسور میں تاریخ کے صفحات کھلتے ہیں تو برِ صغیر کی حریت پسندی، آزادی اور بے قیدگی کی ذہنی تاریخ صفحہ بہ صفحہ ترتیب سے کھلتی جاتی ہے۔

ٹیپو بنگلور میں 1750ء میں پیدا ہوا۔ٹیپو کا نام تامل ناڈؤں کی بستی ’آرکاٹ‘ کے ایک بزرگ ’’ ٹیپو مستان اولیا‘‘ کے نام پر رکھا گیا۔ ’’ٹیپو مستان‘‘ ایک مذہبی رواداری رکھنے والے بزرگ تھے۔ کرناٹک کی اس ریاست میں مسلمانوں کی نسبت ہندوئوں کی تعداد زیادہ تھی۔ ٹیپو سلطان کے جد امجد نسلاً افغانی تھے جو ہجرت کرکے جنوبی ہند کے ان علاقوں میں آبسے تھے۔ ٹیپو کے والد حیدر علی خان میسور کے طاقت ور حکمران تصور کیے جاتے تھے۔چوں کہ یہ علاقہ ہندوئوں اور کثیر مذہبی روایات کا مرکز تھا اس لیے یہاں مختلف قوموں کا مذہبی، ثقافتی اور سیاسی ٹکرائو جاری رہتا۔ ٹیپو بہت چھوٹی عمر میں ہی اپنے والد کے ساتھ اُمورِ سلطنت میں شامل ہو گیا تھا۔

ٹیپو کی زندگی سادگی کی مثال تھی۔ سادہ ہونا زندگی کے اُس لمس کو محسوس کرنا ہوتا ہے جسے عموماً طاقت ایک فاصلے پر رکھتی ہے۔ٹیپو نے اپنی طاقت کوزندگی کی جمالیاتی اور سماجی اقدار سے دور نہیں ہونے دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اُسے کتاب سے بے پناہ محبت تھی۔ اُس کے کتب خانے میں ہزاروں کتابوں کا ذخیرہ تھا، جس میں عربی، فارسی ادبیات اورمابعدطبیعاتی علوم کے علاوہ سائنسی معلومات پر کتابیں تھیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ راکٹ سازی جیسی سائنسی ایجادات کے بہت قریب پہنچ گیا تھا۔اسی سادگی نے اسے عوام الناس کے بہت قریب رہنے دیا۔ وہ زندگی کا اصل چہرہ محسوس کر سکتا تھا جسے گلی محلوں میں بکھرا ہونے کے باوجود حکمران دیکھ نہیں پاتا، کیوں کہ طاقت آنکھوں سے نہیں باطن سے اندھا کرتی ہے۔ٹیپو نے خود کو اس نابینائی سے بچائے رکھا۔

Imageٹیپو سلطان محض جذباتی اورصرف تلوار پر اعتماد کرنے والا حکمران نہیں تھا بلکہ دورِ جدید کے تمام علمی و عملی مسائل کا بخوبی ادراک رکھتا تھا۔ایک طرف وہ سیاسی دانش مندی سے چل رہا تھا تو دوسری طرف جنگی سازوسامان میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی اس کا ثانی نہیں ملتا۔اُسے اندازہ تھا کہ انگریز طاقت جدید جنگی طاقت کے ساتھ اُس کے خطے میں برسرِ پیکار ہے۔ لہٰذا اس نے پہلی دفعہ برصغیر میں بحری بیڑے بنائے اور ان میں توپیں نصب کروا کے بحری علاقوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کی۔بحری طاقت کا یہاں سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس بیس بڑے اور بتیس چھوٹے جہازوں کی پوری بحری پلاٹون تھی، جو کسی بھی بڑی طاقت سے لڑنے کے لیے کافی تھی۔ یہ جو بار بار کہا جاتا ہے کہ ٹیپو، میر صادق کی غدارانہ پالیسی کے ہاتھوں شکست کھا گیا تو اس کی بڑی وجہ ہی یہ تھی کہ اُسے آسانی سے شکست نہیں دی جا سکتی تھی۔اس کی اپنی فوج میں اس کے علاقے کے ہر مذہب کا سپاہی تھا۔ اسے کسی بھی مذہب سے بیر نہیں رکھا تھا۔ ٹیپو کو مذہبی رواداری کا علمبردار کہا جاتا ہے۔

ٹیپو اصل میں اپنے والد کی ہی توسیع تھا۔ میسور پر حکمرانی کرتے ہوئے اُسے نصف صدی ہو چکی تھی۔ ٹیپو اپنے والدکی زیرِ نگرانی سب کچھ سیکھتا رہا۔بہت سی مہمات میں خود شامل رہتا۔ میسور ریاست پر مرہٹوں کی نظریں تھیں۔ مرہٹوں نے انگریزوں سے لڑنے کی وجہ سے حیدر علی کے علاقوں پر حملوں کا کئی بار پروگرام بنایا۔ ۱۷۵۶ء کی مرہٹوں کے ساتھ سری رنگا پٹنم کی جنگ میں حیدر علی نے لاکھوں روپے کے عوض اپنے علاقوں کو جنگی خانہ جنگیوں سے محفوظ بنانے کا اہم اقدام کیا مگر انگریز جانتا تھا کہ اس علاقے میں قدم جمانے کے لیے حیدر علی کو شکست دینا ضروری ہے۔ حیدر علی کی وفات اور ٹیپو کا علاقے میں بطور حکمرانی کاآغاز انھی اینگلو جنگوں کے دوران ہوا۔ ٹیپو نے کمال دانش مندی سے ان جنگوں اور سماجی معاملات کو نبھایا مگر چوتھی انگلو جنگ میں قلعہ سری رنگا پٹنم میں محصور ہو کے شکست کھا گیا۔

ٹیپو کو شکست پر بھی اتنی شہرت کیوں ملی؟ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اُس کے پاس بھاگنے کا بہت سنہری موقع تھا۔وہ دوبارہ منظم ہو کے انگریزوں کے خلاف لڑ سکتا تھا مگر وہ لڑتے لڑتے ان غداروں کو پیغام دینا چاہتا تھا کہ زندگی طاقت کے سامنے ہتھیار ڈالنا نہیں بلکہ طاقت کو زیر کرنا ہے اور طاقت صرف طاقت سے زیر نہیں ہوتی بلکہ کم طاقتی سے بھی شکست کھا سکتی ہے۔تاریخ کے اوراق گواہی دے رہے ہیں کہ ٹیپو کو آج تک کوئی شکست نہیں دے سکا۔وہ آج بھی زندہ ہے اور کھلی آنکھوں سے ہمارے زمانے سے آنکھیں ملا کے دیکھ سکتا ہے۔

انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کے حکمران لارڈز ویلزلی کو کیا خبر تھی کہ لالچ کس طرح گیدڑ کی ذہنی سوچ کو مسلط کرنے کا اہتمام کر سکتی ہے۔میر جعفر نے تنخواہوں کے بہانے فوج کو قلعے کی دوسری جانب بلا لیا تھا یوں ٹیپو کے لیے سری رنگا پٹنم کی چاردیواری کھل گئی۔ کہتے ہیں کہ ٹیپو بھاگا نہیں بلکہ وہیں لڑتے لڑتے مارا گیا۔ انگریزوں نے چوں کہ اسے آنکھوں کے سامنے دیر تک لڑتے دیکھا تھا اس لیے اس کی بہادری کی وجہ سے اُس کے قریب جانے سے ڈرتے رہے۔ تاریخ کے بولتے صفحات بتاتے ہیں کہ فیڈم فائٹر ٹیپو مرتے ہوئے بھی اپنی تلوار نہیں چھوڑ رہا تھا۔ یہی وہ تلوار ہے، جسے خراج عقیدت کی غرض سے انگریز اپنے ساتھ لے گیا اور اُسے میوزیم کا حصہ بنا دیا گیا۔ حال ہی میں اسے ایک بھارتی بزنس مین نے کروڑوں روپوں کے عوض خرید کے اُسی خطے میں درآمد کر لیا ہے۔

ٹیپو کا پیغام اس کی زندگی کی طرح بہت سادہ ہے۔وہ اپنے خطے کی فلاح چاہتا تھا۔ خطہ اصل میں جغرافیہ کا نام نہیں بلکہ انسانوںسے بھرپور زندگی کا نام ہے، غیرت اور عزت کی زندگی کا نام، شیر کی طرح جئے جانے والی زندگی۔آج کا بنگلور (کرناٹک) اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ وہ مذہبی رواداری رکھنے والا حکمران تھا۔ اس کی فوج اور علاقے میں مسلمانوں سے زیادہ ہندو اور دیگر قومیں تھیں اور یہ سب حسنِ سلوک سے ہی ممکن ہے۔وہ سیکولر ذہن رکھتا تھا، مگر اپنے دینی عقائد پر بھی مضبوطی سے کاربند تھا۔

یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ ٹیلی فلم پروڈیوسر حیدر علی خان صاحب اس عظیم فریڈم فائٹر پر ایک سیرل بنا رہے ہیں، جس میں اس کی زندگی کے سماجی پہلوئوں کو بھی دکھایا جا ئے گا۔ اینگلو جنگوں کے ساتھ ساتھ اس وقت کی مذہبی برداشت اور رواداری کے خوبصورت نمونوں کو عکس بند کیا جائے گا۔ ٹیپو کے علاقے میں ہندو اُسے اپنا رہنما تصور کرتے تھے، سری رنگا پٹنم میں آج بھی ٹیپو کے دور کے کئی مندر دیکھے جا سکتے ہیں، مگر گزشتہ کچھ برسوں سے ہندو تنظیمیں آر ایس ایس اور بی جے پی کی طرف سے ٹیپو کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ جیسے وہ ظالم حکمرا ن تھا، اس نے جبراً ہندوئوں کو مسلمان بنایا۔ اس طرح کی سیریل کی بہت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

اس منصوبے کے بانی حیدر علی دائود خان کی یہ ٹیلی سیریل’’ فریڈم فائٹر ٹیپو سلطان‘‘ کی زندگی کی درست تفہیم کروائے گی۔یہ سیریل ٹیپو کی 221ویں برسی (4مئی) کو آغاز کر رہی ہے۔حیدر علی دائود خان کی طرف سے ایک پریس ریلیز میں عزم دہرا گیا ہے کہ ’’ڈیجیٹل پیش رفت، مواد اور اجتماعی پلیٹ فارم کی آمد نے ہمارے ٹیلی ویژن کو سمجھنے کے انداز کو نئی جلا بخشی ہے۔ تاریخی تناظر پر مشتمل ٹی وی سیریلز نے عالمی سطح پر بے مثال میڈیا ریٹنگ حاصل کی ہے۔ اس منسوبے نے حیدر علی اور ٹیپو سلطان پر ایک اعلیٰ معیار کا ٹی وی سیریل تیار کیا ہے، باپ بیٹے کی جوڑی نے سامراجی قوتوں کے ظلم کے خلاف کھڑے ہو کر شمع حق افروزاں کی اور اس عمل میں آزادی کے حقیقی معنی کو جنم دیا۔‘‘

ہم امید کرتے ہیں کہ اس سیریل سے ہمارے ماضی کو آج کے لیے معتبر بنانے کا عمل جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیئے: ٹیپو سلطان انگریزی ادب میں — اعجاز الحق اعجاز

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20