قومی بچت کا ادارہ : اک مسلسل اذیت —– نعیم صادق

0

اگر آپ آشوز، گلیگ اور گوانتانامو جیسے الفاظ سے بے زاری محسوس کرتے ہیں تو ہم آپ کی بدسلوکی کے خلاف شفافیت کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم، بہت سوں کو یہ احساس نہیں ہے کہ ہمارے پاس ہی، ہمارا اپناقومی بچت کا ادارہ ہے، جو پاکستان میں سب سے بڑا اذیت سازی کا ادارہ ہے۔ یہ خصوصی طور پر ان شہریوں کو اذیت دینے کے لیئے بنایا گیا ہے، جن کا جرم یہ ہے کہ انھوں نے نے اپنی زندگی کی ساری کمائی یہاں بچت کے لیے سرمایہ کاری کی ہے، اور پھر ہر ماہ منافع کے لئے بھیک مانگتے ہیں۔ یہ ادارہ اس پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ “اذیت نہ صرف دی جانی چاہئے، بلکہ اسے دیتے ہوئے دیکھا بھی جانا چاہئے۔”

ذرا تصور کریں ایک 70 سالہ بیوہ کے بارے میں جو کچھ دن پہلے قومی بچت کے مرکز کے باہر کھڑی پائی گئی۔ یہ اس کا دوسرا چکر تھا اور وہ دو گھنٹے سے انتظار کر رہی تھی۔ اس ’ٹارچر چیمبر‘ میں ایک وقت میں صرف چار افراد کو اندر جانے کی اجازت تھی۔ اس بیوہ کا جرم یہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی کی جمع پونجی پانچ لاکھ کی رقم بچت سرٹیفکیٹ میں لگائی۔ یہ سسٹم اب اسے مجبور کرتا ہے اور سزا دیتا ہے کہ وہ وہ ہر مہینے ایک، دو بسیں بدل کر، اپنا پیسہ اور وقت لگا کر، کبھی ایک یا دو چکر اپنے ماہانہ منافع کی بھیک مانگنے کے لیے لگائے۔

گذشتہ تین دہائیوں سے، قومی بچت کا ادارہ عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے کہ وہ اپنے ریکارڈ کو ’کمپیوٹرائزڈ‘ کر رہا ہے۔ تقریبا ایک سال پہلے، عوامی دباؤ میں، اس نے ایک اور پیچیدہ اور نامکمل طریقہ کار متعارف کرایا۔ جس کے تحت ایک شہری کے لیے ضروری ہے کہ وہ (ا) پہلےکسی سیونگ ادارے میں اپنا سیونگ اکاونٹ کھولے (ب) ہر ماہ ہونے والے منافع کا تخمینہ لگائے (سی) قومی بچت کا چیک جمع کروانے کے لئے اپنےبینک کا دورہ کرے (د) چیک جمع کرانے کے کچھ دن بعد اپنا منافع حاصل کرنے کے لیے بنک آئے۔ اگر کسی وجہ سے چیک باؤنس ہوجائے (جو سرٹیفکیٹ کی میعاد ختم ہونے یا صحیح رقم کی وضاحت کرنے میں کسی غلطی کی وجہ سے اکثر ہوتا ہے۔ تو ایسے افرد کو قومی بچت میں واپس جانا ہوگا۔ اس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا اور پھر سے یہ کاروائی نئے سرے سے شروع کرنی ہوگی۔

اس فرسودہ نظام میں کسی بینک کے کم از کم دو لازمی چکر لگانے ضروری ہیں، ایک قومی بچت کا چیک جمع کروانے کے لئے اور دوسرا نقد رقم کے وصول کرنے کے لیے۔ قومی بچت کا ادارہ اپنے لاکھوں صارفین کو بنک کے یہ اضافی چکر کیوں کٹواتا ہے۔ جبکہ وہ منافع ہر ماہ الیکٹرانک اور خود کار نظام کے تحت صارفین کے کھاتوں میں با آسانی منتقل کرسکتا ہے۔ ایک ایسی ٹیکنالوجی جس کو کم از کم 40 برس سے نسل انسانی اچھی طرح جانتی پہچانتی ہے، اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جاتا۔ کیا ضروری ہے کہ ہم سو جوتے، اور سو پیاز کھانے کے محاورے ہی پر عمل پیرا ہوتے رہیں۔

قومی بچت کے ادرے کو یہ کام کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کسی شہری کو تکلیف دیئے بغیر ہر شخص کے ماہانہ منافع کو خود بخود ہر ماہ اس کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرے۔ اور جو لوگ جو اپنے موبائل اکاونٹ میں براہ راست ماہانہ منافع حاصل کرنے کے خواہاں ہیں انہیں بھی یہ سہولت مہیا کی جائے۔ کسی فرد کو منتقلی کی صحیح رقم اور اس کی تاریخ سے آگاہ کرنے کے لئےخودکار ایس ایم ایس پیغام بھی بنایا جاسکتا ہے۔ تاکہ کسی بھی صارف کو کبھی بھی محض اپنا منافع حاصل کرنے کے لئے کسی بھی بچت کے مرکز میں جانے کی ضرورت نہیں ہو۔ قومی بچت کے 376 ‘ٹارچر سیل’ چلانے والے 500 یا اس سے زیادہ گریڈ 18 سے 21 کے افسران اور ادارے کے 5000 ملازمین، ہر ماہ پاکستان کے سات لاکھ شہریوں پر یہ ظلم کیوں روا رکھنا چاہتے ہیں؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ محض اپنی ملازمتوں کے تحفظ کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔

کیا وجہ ہے کہ تانیہ ایڈوریس، رضا باقر اور حافظ شیخ کی عوامی سطح پر مشہوری اورعظمت کے گیت کے ساتھ، کیا عوامی سیکٹر میں ڈیجیٹل اصلاحات لانے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ انھیں ضرور اس کام کو کرنا، اور اس کے لیے راستہ بنانا چاہیئے۔ یہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں 5فیصد سے بھی کم ایسے رہنما اور بیوروکریٹس ہیں، جو رابطہ کرنے پر کسی ای میل کا جواب دیتے ہیں۔ یہ ہماری ڈیجیٹل تیاری پر افسوسناک تبصرہ ہے۔ قومی بچت کا ادارہ، اس آئس برگ کی مانند ہے جو ماضی کے اندھیروں میں منجمد ہے۔ بلکہ اسے پگھلنے سے بھی انکار ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20