بے گھر ہونا ——– شہزاد حنیف سجاول

0

“دسمبر کے مہینے میں نیوبارک میں ہونا اور بے گھر ہونا کسی لعنت سے کم نہیں”۔ کرسٹوفر کو اپنے لعنتی ہونے کا کامل یقین ہو چکا تھا اسے نہیں یاد اس نے جملہ کہاں پڑھا تھا لیکن وہ اس بات پر صدقِ دل سے یقین رکھتا تھا خون جما دینے والی سردی میں رات کے چوری شدہ بن اور باسی پنیر کا نوالہ اس کے کپکپاتے ہاتھ اس کے منہ تک بمشکل پہنچا رہے تھے اس کے دانت ان کی سختی کو بمشکل چبا پاتے تھے سردی کی شدت نے انھیں بھی پتھر بنا دیا تھا۔ اس سال شائد گزشتہ سو برس کے مقابلے میں سب سے زیادہ سردی پڑ رہی تھی یا بے در ہونے کے باعث اُسے محسوس ہو رہی تھی۔ اُس نے بمشکل تمام ناشتے سے فراغت پائی جو فرحت بخش نہیں بلکہ ایک انتہائی اذیت ناک عمل تھا۔ اس کے جبڑے دُکھ گئے تھے۔ پُل کی جُھری سے درآمدہ روشنی نوید تھی کہ آج سورج نکلے گا اور اس بات نے کرسٹوفر کو مسکرانے پر مجبور کردیا تھا۔ نامعلوم کس سن اور کس دن کا اخبارتھا جو اس نےاپنے سامنے ایسا پھیلا لیا تھا جیسے آج ہی کا ہو اور ابھی ابھی آیا ہو۔ کچھ دیر کے بے سود مطالعے کے بعد اس نے پتھر کی سل کے ساتھ سر ٹکا لیا اور اپنی بے دری کی وجوہات تلاش کرنے لگا۔
اُس کا بچپن کسی بھی امریکی بچے کی طرح انتہائی پُر مسرت تھا۔ اُس کے والدین اگرچہ باہم دست و گریبان رہتے تھے لیکن وہ اس سے بہت پیار کرتے تھے اسے ہر وہ شے میسر تھی جو اسے خوشی دے سکتی تھی اس کی ماں بہت محنتی عورت تھی وہ ملازمت بھی کرتی تھی اور گھر کے کام بھی کرتی تھی لیکن اس کا باپ پتا نہیں کیا کام کرتا تھا شاید کو ٹرک چلاتا تھا لیکن انتہائی کاہل اور سست الوجود شخص تھا جو گھر آ کر صرف واش روم تک جاتا تھا اس کے علاوہ اپنے کائوچ سے ہلتا بھی نہیں تھا اور ہر منٹ پر کسی نہ کسی چیز کا مطالبہ کرتا رہتا تھا اس بات پر میاں بیوی میں تُو تُکار ہوتی اور کبھی کبھی وہ ماں کو کچھ نہ کچھ مار بھی دیتا تھا لیکن کرسٹوفر کے ساتھ اس رویہ مشفقانہ تھا اس کے لیے وہ چاکلیٹ لاتا تھا کھلونے لاتا تھا اسے ویک اینڈ پر باہر گھمانے بھی لے جاتا تھا اور بالخصوں جن دنوں ڈیٹرائٹ ٹائیگرز کا میچ ہوتا اس دن تو خاص اہتمام ہوتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کرسٹوفر کے باپ کی شراب نوشی کی مقدار اور اپنی بیوی کے ساتھ جھگڑوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا کرسٹو فر کا باپ اب زیادہ وقت گھر سے باہر رہتاتھا جب گھر آتا کسی نہ کسی بات پر جھگڑا کرتا کرسٹوفر کی ماں کو مارتا پیٹتا اور چلا جاتا تھا۔ ایک دن جب باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی کرسٹوفر کی والدہ کچن میں سوپ بنا رہی تھی جب جانسن نشے میں دھت گھر آیا اور چپ چاپ ٹی وی دیکھنے لگا۔ کرسٹوفر اپنے کمرے میں کوئی گیم کھیل رہا تھا اور وہ ان دونوں کی بات چیت سے یکسر بے خبر تھا ماریہ جب کھانا بنا چکی تو اُسے لینے اس کے کمرے میں آئی تو وہ سو چکا تھا اسے نہیں معلوم کہ اصل وجہ کیا تھی جس پر دونوں میں جھگڑا ہوا جانسن کرسٹوفر کے باپ نے اس کی ماں کا گلہ اس شدت کےساتھ دبایا اور اس وقت تک دبائے رکھا جب تک کہ اس کا انتقال نہیں ہو گیا۔ نہ معلوم کب پولیس آئی جو اس کے باپ کو گرفتار کر لے لے گئی۔ یہ تو ان کی پڑوسن تھی جس نے اسے بیدار کرایا اور اپنے ساتھ لے گئی تھی اُس دن سرما کی پہلی برف باری ہوئی تھی اور وہ پہلی بار اپنے گھر سے باہر رہا تھا۔

مِشی گن سے وہ نیویارک کیسے آیا کرسٹوفر کو کچھ یاد نہیں تھا اُس گھر کا کیا بنا جس میں وہ رہتا تھا وہ اکثر سوچتا تھا لیکن نیو یارک آکر وہ بے گھر تو نہیں تھا جہاں وہ رہا کرتا تھا وہ اُس کی خالہ کا گھر تھا لیکن وہ وہاں سے کیسے نکلا کیا واقعہ پیش آیا کب آیا اسے کچھ یاد نہیں آتا تھا اور اس بات پر وہ جھنجھلا جایا کرتا تھا اور اپنے بال نوچنےلگتا تھا اس کی سانسین تیز ہو جاتی تھیں اور پھر بے بسی میں رونے لگتا تھا روتے روتے اس کی ہچکی بندھ جاتی تھی اور اس بات پر اسے مزید رونا آتا تھا کہ اسے چپ کرانے والا بھی کوئی نہیں۔ کبھی کبھی کسی خواب کی مانند اسے یاد آنے لگتا تھا وہ خود کو کسی سکول میں دیکھتا تھا کبھی کبھی اسے کچھ شناسا سے چہرے بھی دکھنے لگتے تھے لیکن وہ انھیں مکمل طور پر پہچان نہیں پاتا تھا۔ وہ دراصل شیزوفرینیا اور Dissociative Amnesia کا شکار تھا اسے آج جو کچھ یاد آتا کل بھول جاتا تھا اس کے ذہن کی سلیٹ پر یاد نام کی کوئی تحریر زیادہ دیر تک محفوظ نہ رہ سکتی تھی وہ بہت سے نفسیاتی عوارض کا شکار تھا اور کوئی اس کی دیکھ بھال کربے والا نہیں تھا۔ کوئی اسے یہ بتانے والا بھی نہیں تھا کہ وہ بیمار ہے اسے علاج کی ضرورت ہے۔ واقعی نیویارک میں ہونا بے گھر ہونا اور بیمار ہونا لعنت سے کم نہیں۔

سورج اب پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا پاس پڑوس کی عمارتوں کے شیشوں کے عکس اس کی آنکھیں چندھیا رہے تھے ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کی بلندی اسے حیرت میں ڈال دیتی تھی اور وہ سوچنے لگتا کہ جب افقی استحصال کے راستے مسدود ہونے لگے تو لوگوں نے عمودی استحصال کا راستہ پیدا کر لیا۔ خود کو اونچا کرنےکیے لیے کتنوں کو اپنے پیروں تلے دفن کردیا۔ وہ سوچنے لگتا یہ کیسی رفعت ہے جو تہذیب کو پست کر رہی ہے اقدار مٹا رہی ہے اس پر جنجھلاہٹ طاری ہونے لگتی تھی اس کا پورا وجود کپکپانے لگا تھا کچھ دیر وہ وہاں بیٹھا خود سے لڑتا رہا اور پھر وہ وہاں سے چل دیا۔ بے ارادہ قدموں سے وہ ڈگماگاتا کپکپاتا چل رہا تھا اور نہیں جانتا تھا کدھر جا رہا ہے کوریا ٹاؤن پہنچ کر وہ کچھ دیر کے لیے رک گیا اسے وہان ایک جانی پہچانی صورت نظر آئی جسے دیکھ کر وہ کافی دیر تک سوچتا رہا یہ کون ہے کیا وہ اسے جانتا ہے۔ اس نے اسے کہا دیکھ رکھا ہے۔اسے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا وہ جنجھلا گیا۔ وہ بار بار سر کو جھٹکتا رہا لیکن اسے کچھ بھی یاد نہیں آرہا تھا پھر وہ زور زور سےسر کو جھٹکنے اور بال نوچنے لگالیکن کچھ دیر اس حالت میں گزارنے کے بعد وہ یہ بھی بھول چکا تھا کی وہ کیا یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کچھ دیر ایک بنچ پر بیٹھے بیٹھے اسے اونگھ سی آ گئی اس کا وجود اب سورج کی گرمی سے نرم ہو رہا تھا۔ وہی شکل اسے دوبارہ دکھی۔ وہ کرسٹی تھی پچھلے دسمبر وہ اس کے گھر رہا تھا وہ صدر دروازے اور چوبی سیڑھیوں کے درمیان سوتا تھا۔ کرسٹی کوئی غیر قانونی کام کرتی تھی۔ اکثر اوقات اسے عجیب و غریب طرح کے لوگ ملنے آیا کرتے تھے۔ وہ اسے روز کھانا دیتی تھی اور بہت بے ہودہ عورت تھِی گھر میں ننگی گھومتی تھی۔ کرسٹو فر نےزیر لب اسے موٹی سی گالی دی اور پھر یاد کرنے لگا کہ ایک روز جب بارش ہو رہی تھی تو اس نے اسے گھر سے نکال دیا تھا اس لیے کہ وہ اسے آسودہ کرنے کے قابل نہیں تھا۔ اس نے پھر سے غلیظ گالی دی۔ اور سورج کی جانب رخ موڑ کر بیٹھ گیا۔

36th ایونیو پر چلتے چلتے وہ ناردرن بلیوارڈ تک پہینچ گیا لیکن سمتوں زاویوں اور راستوں سے بے خبر وہ نہیں جانتا تھا کہ کدھر جا رہا ہے۔ ایک جگہ وہ بیٹھ گیا اس کی سانس پھول رہی تھی اور اسے سینے میں درد بھی محسوس ہو رہا تھا۔ کچھ دیر قبل ہی اسے کسی ایک برگر کھانے کو دیا تھا وہ اس نکال کر کھانے لگا۔ بادلوں کی آنکھ مچولی شروع ہو گئ تھی مشرق سے آتی خنک ہوائیں عندیہ دے رہی تھیں رات کو پھر بارش ہو گی۔ برگر کھا چکنے کے بعد اس پر کچھ غنودگی سی طاری ہو گئی اور وہ وہیں ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر لیٹ گیا۔ کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اسے کچلنے کو شش کر رہا ہے۔ لیکن اس کے اس پاس کوئی نہیں تھا اس کے سینے میں شدید درد تھا اس نے اٹھنے کی کوشش کی لکین گر گیا۔ دوسری بار تیسری بار لیکن چوتھی بار جب وہ گرا تو کسی نے اسے گرتے دیکھ لیا وہ نہیں جان سکا کہ کون تھا اور کیسے اسے ہاسپٹل لے گیا۔ کارڈیک اریسٹ کا شدید حملہ ہوا اور پسپا ہو گیا۔ کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ دسمبر کے مہینے میں نیویارک میں ہونا اور بے گھر ہونا کسی لعنت سے کم نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20