شیشے کے اس پار —— شہزاد حنیف سجاول کا افسانہ

0

ہمارا اور ان کا گھر ساتھ ملے ہوئے تھے پتھر کی ایک دیوار دونوں گھروں کے صحن کو تقسیم کرتی تھی اتنی بلند کہ دونوں اطراف کے بچے اور اکثر بستی کے سب بچے اس پر سے کودتے پھلانگتے رہتے تھے۔ برآمدے میں بچھے تخت پر بیٹھی دادی کی تنبیہ کے باوجود بھی باز نہیں آتے تھے۔ حالانکہ ہر چھلانگ کے ساتھ دادی کی دھمکی سنائی دے جاتی تھی کہ آ لینے دو تمہارے باپ کو میں آج تو ضرور ہی بتا کر رہوں گی کہ پورا دن کیسا اودھم مچاتے ہو تم اور مجھے ذرہ بھر آرام نہیں کرنے دیتے۔ ابا روز گھر آتے لیکن دادی نے کبھی بتا کر نہ دیا کہ کیسا کیسا اودھم مچتا ہے اس گھر میں۔

اس اودھم مچانے میں تاجی سب سے ممتاز تھی اپنے نام کی طرح۔ اس کا نام ممتاز تھا لیکن سب اسے تاجی کہہ کہ بلاتے تھے۔ ہم دونوں بستی کے سب سے شریر بچے شمار ہوتے تھے۔ ہمارا زیادہ تر وقت ایک ساتھ گزرتا تھا۔ پہل تو نہیں لیکن پھر نہ معلوم وجوہات کی بنا پر اس کو مجھے ستا کر مزہ آنے لگا تھا اور وہ کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ضرور کرتی تھی جو مجھے زچ کر سکے۔ کبھی میرا بستہ چھپا دیتی۔ کبھی کاپیوں پہ سیاہی تھوپ دیتی، سیاہی کی دوات میں پانی ملا کر اسے بد رنگ بنا دیتی۔ میرے کپڑے کاٹ دیتی اور مجھے اماں کی مار سہنا پڑتی تھی۔ ہم ان کے صحن میں بیری کے درخت کے ارد گرد بنے تھڑے پر بیٹھ کر سکول کا کام کرتے تھے۔ میں تختی لکھ چکتا تو آنکھ بچا کر اس پر پانی گرا دیتی۔ اور بھاگ کے دادی کے پیچھے چھپ جاتی تھی۔ اور میں بس دانت نکوس کے واپس آجاتا۔ ہم پراِئمری سکول تک ایک ساتھ پڑھٹے تھے۔ چھٹی جماعت سے ہمارا سکول الگ الگ ہو گیا۔ وہ لڑکیوں کے ہائی سکول میں چلی گئی اور مجھے شہر کے بورڈنگ سکول داخل کر دیا گیا۔ میں جمعرات کی شام کو گھر آتا تھا جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی۔ بس ہفتے میں ایک ہی دن کا ساتھ رہ گیا تھا اور اب تاجی کی طبعیت میں اعتدال آ گیا تھا چاچی کہتی تھیں جب سے تو شہر گیا ہے تاجی مسلمان ہو گئی ہے۔ اب شرارتیں نہیں کرتی۔ نہ دیوار پھلانگتی ہے نہ دوسرے بچوں کو مارتی پیٹتی ہے۔ دادی کے ساتھ تخت پر بیٹھ کر سکول کا کام کرتی اور مسجد کا سبق پڑھ کے بیٹھی رہتی ہے۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں پھر وہی اودھم مچنے لگا۔ اب دادی کی دھمکی بدل گئی تھی اب وہ کہتی تھیں۔ آ جائے تیرا باپ میں اسے کہوں گی تجھے واپس شہر چھوڑ آئے۔ یہاں تو تُو لمحہ بھر کو نہ آرام کرتا ہے نہ کسی کو کرنے دیتا ہے۔ ایک دن تاجی کا چار آنے کا سکہ کھوہ (کنواں) کے پاس گر کر گم ہو گیا۔ ہم دونوں نے بہت تلاش کیا لیکن وہ مل کر نہیں دے رہا تھا۔ تاجی کھوہ کی منڈھیر پر بیٹھ گئی اور میں گھاس کا ایک ایک تنکا الٹ کر دیکھتا رہا جب تک کہ مجھے نکسیر نہ پھوٹ بہی۔ چاچی ہمیں ڈھونڈتے ہوئے ادھر آ نکلیں پہلے تو انہوں نے کھوہ سے پانی نکال کر میں سر پر ڈالا پھر ہمیں گھر لے جا کر میری کم اور تاجی کی زیادہ مرمت کی۔ کیونکہ سکہ تاجی کو مل چکا تھا لیکن اس نے مجھے نہیں بتایا اور ڈھنڈواتی رہی تھی۔ رات کو جب ہم اپنے اپنے صحن میں لیٹے ہوتے تو چاجی با آواز بلند کہانی سناتی تھی تاکہ میں بھی سن لوں۔ جب کبھی مجھے کسی بات کی سمجھ نہ آتی تو میں چاچی سے دوبارہ سنانے کی فرمائش کرتا تو تاجی کی مخالفت کے باوجود چاچی وہ حصہ دوبارہ سناتی جو میں کہتا تھا۔ ایک بار تاجی کی گڈی کی میری بڑی بہن کے گڈے کے ساتھ شادی ہوئی تو پوری بستی کے بچے اس شادی میں شریک ہوئے۔ ہم نے چاول پکا کر اور شربت سے سب کی تواضع کی۔ رخصتی کے بعد گڈی ہمارے گھر آ گئی اور ساتھ تاجی بھی۔ لیکن رات کو اپنی گڈی واپس لے گئی کہ کہتے ہوئے کہ اس کی گڈی ہمارے گھر نہیں رہنا چاہتی۔

آٹھویں جماعت پاس کر لینے کے بعد میں راولپنڈی چلا گیا اور لمبے لمبے عرصے کے لیے وہی رہتا تھا۔ جب واپس آتا تو تاجی کے ساتھ کھیلنے کا وقت کم ہی ملتا تھا۔ لیکن اب جب بھی واپس آتا وہ میرے لیے کچھ نہ کچھ پکا لاتی تھی۔ اپنی موجودگی میں کھلاتی اور زبردستی پکوان کی تعریف کراتی تھی۔ یوں کرتے کرتے میں ایف کے امتحان کے بعد گھر ایا۔ ایک دن دوپہر کے بعد وہ ہمارے گھر آئی میں کوٹھی میں سو رہا تھا (کوٹھی سے مراد وہ پرانا کمرہ ہے جو دادا کے زمانے کا اور پتھر کا بنا تھا ااور اسی کی دیواریں موٹی اور چھت کچی ہوتی تھی گرمیوں میں یہ دیگر کمروں کی بہ نسبت زیادہ ٹھنڈا رہتا تھا) اس نے مجھے جگایا۔ مٹھائی اس نے اپنے دوپٹے کے نیچے چھپا رکھی تھی۔ مجھے کھلا کر بولی۔ تُو جانتا ہے میری شادی ہو رہی ہے۔ میں نے کہا میں نہیں جانتا تو کہنے لگی تو جانتا ہوتاتو ناں ہوتی۔ اس کے لہجے کی تھکاوٹ نے مجھے کچھ پریشان سا کردیا تھا۔ لیکن میں غنودگی میں تھا اور صحیح طرح سے اس کی بات میرے پلے نہ پڑی تھی۔ اس کی شادی ہو گئی اور جس دن اس کی ڈولی اُٹھی اس دن مجھے ادراک ہوا میرے اندر کچھ ہل سا گیا ہے۔ کچھ کٹ سا گیا ہے۔ کچھ دن وہ بعد وہ لوٹی تو مجھے ملنے آئی اور کہنے لگی تو جانتا ہے میں سسرال میں سب سے زیادہ کس کو یاد کرتی ہوں تو میں نے کہا مجھے کیا معلوم ! کہنے لگی۔ تجھے یاد کرتی ہوں۔ وہ یکدم روہانسی ہو گئ۔ مجھے شادی کے بعد پتا چلا کہ میں تجھ سے محبت کرتی ہوں۔ مجھے امی ابا بھائی بہن سے دور جانے کا ارمان نہیں ہے لیکن تجھ سے بچھڑ جانے کا رنج ہے۔ تو نے بڑی زیادتی کی ہے میرے ساتھ، دیکھنا تو عمر بھر پچھتائے گا۔ بد دعا تو نہ دے تاجی، میں نے کہا۔ میرے منہ پہ ہاتھ رکھ کے بولی بد دعا نہیں ہے۔ بس میرا جی چاہتا ہے تو بھوندلایا سا پھرا کرے۔ تو نے میرے ساتھ بڑا ظلم کمایا ہے یہ کہہ کر وہ بھاگ کے نکلی اور روتی ہوئی چلی گئی اور میں ابھی تک بھوندلایا ہوا پھرتا ہوں۔

وقت بہت تیزی سے گزر گیا میری بھی شادی ہو گئِ۔ تاجی اپنے شوہر کے ساتھ دساور چلی گئی۔ ہمارے درمیان اب رابطہ تقریباََ ختم ہو چکا تھا۔ میرے شادی کے کچھ عرصہ بعد وہ اپنے سسرال کے ساتھ گجرات چلی گئ تھی۔ اور اب وہ مرے بارے میں بات نہ کرتی تھی وہاں سے وہ انگلستان چلی گئی۔ محض اتفاق کی بات ہے کچھ عرصہ قبل مجھے انگلستان جانے کا اتفاق ہوا تو ایک روز ہم ایک شاپنگ سنٹرکی پارکنگ میں کھڑے تھے جب میں نے اسے شاپنگ سنٹر سے نکلتے دیکھا ایک لمحے کو میری سانس رک گئی۔ کیونکہ مجھے اندازہ تھا کہ اگراس نے مجھے یہاں دیکھ لیااور پہچان لیا تو اس کا رد عمل کیا ہوگ اور کیسا ہوگا۔ میں ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ اس سے کیا بات کروں گا۔ اس نے مجھے دیکھ لیا اور ٹھٹھک سی گئی۔ چند ثانیے اس نے مجھے دیکھا اور پھر پہچان کی سرشاری کے ساتھ کمان سے نکلے تیر کی سی رفتار کے ساتھ میرے جانب آئی۔ مجھے دونوں بانہوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے ہولی اوئے تو یہاں ہے اور میرے شہر میں ہے اور مجھ سے ملا بھی نہیں۔ بہت ہی کوئی بے شرم انسان ہے اور میں اپنی شرم کو بے شرمی کی بُکل میں چھپاتے ہوئے مسکرا رہاتھا۔ اس کے گھر کا پتا اور فون نمبر لیکر اس کے ساتھ یہ عہد کیا کہ واپسی قبل ایک روز اس کے گھر قیام کروں گا۔

اپنی واپسی سے ایک دن قبل میں اس کے گھر گیا جو طیران گاہ سے قریب ترین علاقے میں ہے۔ اس کی خوشی دیدنی تھی وہ ہوا کی طرح گھر بھر میں تیرتی پھرتی تھی۔ میں نے اس سے کہا اس کا شوہر کیا سوچے گا بولی جس دن میں نے بیٹے کا نام تمہارے نام پہ رکھا تھا اسے پتا چل گیا تھا۔ اب کچھ نہیں سوچتا وہ جانتا ہے۔ میرے وجود پر تو اس کی حکومت ہے لیکن میری روح کے آئنے میں کسی اور عکس جھلکتاہے۔ رات بے چینی اور بے تابی میں گذری بچپن سے آج تک کی یادیں بادل بن کر اُمنڈ آئیں اور پورے انگلستان پر ٹُوٹ کر برسیں۔ اس برسات نے مجھے اندر باہر سے بھگو دیا تھا۔ اگلے روز میں گھر سے طیران گاہ کے لیے نکلا تو وہ گاڑی کے ساتھ ساتھ چلتی رہی اس نے بے دھیانی میں عقبی کھڑکی کے شیشے پر ہاتھ رکھ دیا اور میں نے بے قراری سے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اگرچہ ہمارے درمیان شیشے کا دبیز اور خنک پردہ تھا لیکن اس کے اخلاص کی حدّت مجھ تک پہنچ رہی تھی۔ اور مجھے لگا اس نے میرا ہاتھ تھام کر میرے بھوندلائے پن کا علاج کر دیا ہے۔ میری بے چینی کو قرار آگیا ہے۔ یہ تصویر دیکھتے ہوئے اور یہ سطور لکھتے ہوئے اس کے ہاتھ کی حدت اور گداز محسوس کرتا ہوں۔ میں اسے بتانا چاہتا ہوں کہ اب میں بھوندلایا ہوا نہیں۔ اس کے احساس کے غنچے میں خوشبو کی طرح سمایا ہوا رہتا ہوں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20