آئیے! انگریزی انگریزی کھیلیں —- اظہر عزمی

0

ترجمے کی مضحکہ خیزیاں اور روزمرہ کی تفریح

کورونا کے باعث Social Distancing کا لفظ سامنے آیا تو اس کے اردو ترجمے کے لئے مختلف الفاظ ڈھونڈے گئے۔ بالآخر سماجی فاصلہ زبان زد عام ہوا۔ ویسے ہمارے ایک دوست نے Social Distancing کا ترجمہ “تن دوری” بھئ کیا ہے جو کہ بر محل لگتا ہے۔ ایک دوست نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ترجمے سے شوہرانہ بو آتی ہے۔

مجھے اس موقع پر اپنا پہلی مرتبہ دبئی جانا یاد آگیا۔ تعلق کیونکہ ایڈورٹائزنگ سے ہے اس لئے دکانوں کے سائن بورڈز اور ہورڈنگز دیکھنے کی بیماری ہے۔ دبئی ائیر پورٹ سے شارجہ کی جانب روانہ ہوئے تو شاپنگ سینٹرز سے گذرے ہوئے “خصم الخاص” جابجا لکھا ہوا دیکھا۔ سوچ میں پڑ گیا کی یہ کہاں آگیا۔ ہمارے ہاں تو خصم شوہر کو کہا جاتا ہے تو کیا یہاں شاپنگ سینٹرز میں خاص شوہر بھی ملتے ہیں۔ ذہن اسی ادھیڑ بن میں تھا۔ چھوٹے بھائی سے یہ بات پوچھنا مناسب نہ لگی۔ دوسرے دن جب اکیلا باہر نکلا تو عقدہ کھلا کہ یہاں Speicial Discount کا ترجمہ “خصم الخاص” کیا گیا ہے۔

اسی طرح ایک اور لفظ نے خاصا مزاح پیدا کیا۔ وہاں عوامی مقامات ہر مرد وزن کے لئے ٹوائلٹ کا رواج بھی عام ہے۔ خواتین ٹوائلیٹ کے کے لئے “حمام النسا” لکھا دیکھا تو فورا ایک خیال آیا کہ اگر کوئی گاوں، دیہات کا پاکستانی یہاں آگیا تو بعید نہیں کہ وہ عربی زبان سے عقیدت کی بنا پر اپنی کسی بیٹی کا نام “حمام النسا” ہی نہ رکھ دے۔

چلیں بات ترجمے کی ہو تو لسانی مجبوریاں سے مزاح کی کیفیت پیدا ہو ہی جاتی ہے لیکن یہ جو ہمارے ملک میں اردو انگریزی کا بے دریغانہ ملاپ کیا جارہا ہے اس کا بھی کوئی علاج ہے کہ نہیں۔ ہمارے ایک دوست نے گفتگو کرتے کرتے کہا “اب آپ کا یہ رویہ میرے لئے “ان برداشت ایبل” ہو گیا ہے”۔ انہوں نے یہ سب اتنے یقین اور روانی سے کہا کہ ایک دو سیکنڈ تو میں بھی محسوس نہ کر پایا۔ پھر خیال آیا کہ یہ کیا کہہ گئے۔

ہماری ایک عزیزہ گھر والوں کے ساتھ کسی جگہ جا رہی تھیں۔ پتہ معلوم نہ تھا۔ تقریب میں پہنچنے کی جلدی تھی۔ گھر مل نہیں پارہا تھا۔ ایک جگہ پر شوہر نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا کہ تم ٹیکسی روکا۔ میں سامنے دکان والے سے پوچھ کر آتا ہوں۔ شوہر ضعیف العمر ہونے کے ساتھ ساتھ جوانی سے ہی کاہل الوجود بھی تھے۔ خراماں خراماں دکان کی طرف جانے لگے۔ بیوی سے برداشت نہ ہوا۔ جل کر بولیں کہ ان میں تو “ایکٹیوپنا” بالکل بھی نہیں۔

سب سے دلچسپ واقع جو میری زندگی میں سب سے یادگار رہا۔ اس کی تفصیل بھی سن لیجئے۔

ہمارے آفس میں ایک کشمیری لڑکا منظور حسین پیوئن ہوا کرتا تھا۔ اسے انگریزی بولنے کا بہت شوق تھا۔ لنچ ٹائم کے وقت وہ ریسیپشن پر بیٹھا کرتا تھا اور ضروری فون ملا کر کے دے دیا کرتا۔ یار رہے کہ اس وقت تک موبائل فون نہیں آئے تھے اور ریسیپشن کے ذریعے ہی بات ہوا کرتی تھی۔ اتفاق دیکھیں کہ ایک دن لنچ ٹائم پر ایم ڈی صاحب کو کلائنٹ سے ضروی بات کرنی تھی۔ منظور کو انٹرکام کر کے نمبر ملانے کو کہا۔ منظور نے کلائنٹ کے ریسیپشن پر فون ملایا اور انگریزی جھاڑ دی۔

May I talk to Mr. Jawed ?

دوسری طرف سے خاتوں کی انتہائی سحر انگیز آواز آئی۔

May I know who is speaking ?

منظور اس ہوشربا جواب کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ جواب تو کیا دیتا، گھبرا کر بولا۔

Sorry Madam … I am Urdu Speaking.

ہمارے ایک جاننے والی انگریزی بولنے کی طرف راغب نہ تھیں مگر کبھی کبھی کوئی چارہ بھی نہ رہتا۔ ایک دن W 18 ویگن سے کسی کے گھر گئیں۔ پسینے سے بڑا حال تھا۔ میزبان خاتون نے پوچھا کہ کیسے آئیں۔ بولیں ذبلو ڈولا سے آئی ہوں۔ ایک خاتوں کے شوہر کلیئرنگ اینڈ فارورڈنگ کمپنی میں ملازم تھے۔ کسی خاتون نے پوچھا کہ شوہر کیا کرتے ہیں۔ انگریزی کا لفظ تو نہ بولا گیا ، بڑے اطمینان سے بولیں فائر بریگیڈ میں کام کرتے ہیں۔ بڑی حیران ہوئیں اور بولیں: آپ کے شوہر فائر بریگیڈ میں ہیں اور ہمیں پتہ ہی نہیں۔

ایک ہماری جاننے والی کو انگریزی سے انتہائی شغف ہے۔ میں ان کے گھر گیا۔ پوچھا کیا بات ہے گھر میں بہت سناٹا ہے، بولیں : بھیا وہی کم بخت مارا کھانے گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا؟ بولیں Singer Burger ایک عزیز کی طبیعت خراب ہوئی۔ اسپتال سے گھر آکر بتایا کہ سارا مسئلہ سڈنی کا ہے۔ سب حیران کہ مریض اسپتال میں اور سڈنی کہاں سے آگیا۔ میں نے کہا کہ کیا علاج کے لئے سڈنی جانا ہوگا وہ تو بڑا مہنگا پڑ جائے گا ؟ اللہ نہ کرے کیا ٹراننسپلانٹ کا کیس ہے۔ ٹرانسپلائنٹ تو اب یہاں بھی ہوجاتا ہے۔ چڑ گئیں اور بڑے طنز سے بولیں “تمھارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا۔ سڈنی ہی تو خراب ہے۔ میں نے کہا کہ سڈنی خراب ہے؟ پھر مجھے ایک دم ان کی انگریزیت کی بلند پروازی کا اندازہ ہوا اور سمجھ گیا کہ ان کی مراد کڈنی سے ہے۔

محلے کی ایک خاتوں کی بیٹی شام کو پرائمری کلاس کے بچوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتی تھی۔ ایک دن وہ نہ تھی۔ یہ خاتون جن کی تعلیمی قابلیت بہت ہی واجب تھی۔ بس اتنی کہ دھوبی کو دیئے جانے والے کپڑے لکھ لیا کرتی تھیں۔ وہ بھی اس طرح کے خود ہی پڑھ لیں۔ خیر ایک بچہ آیا اور اس کو انگریزی میں گنتی پڑھنا شروع کی۔ گنتی شروع کی 91 سے۔ بولیں 91 92 93 94 95 96 97 98 99۔ بچہ بھی دھراتا رہا۔ 99 کے بعد سمجھ میں نہ آیا کہ 100 کو کیا کہیں۔ دوبارہ دہرایا 91 92 93 94 95 96 97 98 99۔ کچھ دیر سوچا اور پھر ایک دم بولیں انگلینڈ۔

بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ شوہر انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ میں نے کہا کیسے؟ بولے انگریزی میں لکھ کر دیکھ لیں . لکھا تو Show her بنا۔

چلیں چلتے چلتے ایک انگریزی قوافی کے تین اشعار بھی سن لیں۔ اللہ جانیں کس کے ہیں مگر ہمارے حافظے میں سالوں سے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی حافظے کا ہاضمہ سلامت ہے۔

جا تجھ سے محبت کا contract نہیں ہو گا
جس pact کا سوچا تھا وہ pact نہیں ہوگا

یہ دل جو دھڑکتا ہے دائیں کہ کبھی بائیں
تم غور سے دیکھو تو intact نہیں ہوگا

یہ عشق ہے مجنوں کا اور تم ابھی بچے ہو
کرنے کو تو کر لو گے perfect نہیں یوگا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20