فلسفہ نظری تاریخ: ایک تنقیدی مطالعہ —- قسور عباس خان

0

فلسفہ تاریخ کی بحث تاریخی مطالعہ کے شائقین کیلئے ہمیشہ دلچسپی کا باعث رہی ہے۔ مغربی ممالک کی بیشتر دانش گاہوں میں اور کچھ مشرقی ممالک میں بھی فلسفہ تاریخ پورے اہتمام کے ساتھ تدریس کیا جاتا ہے۔ لہذہ اس موضوع پر دلچسپ تحریریں اخبارات اور جرائد کی زینت بھی بنتی رہتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں یہ روایت کمتر دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس لئے ضرورت محسوس کی گئی کہ فلسفہ تاریخ کے بنیادی تصورات کو اردو میں بیان کیا جائے۔ اگرچہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ موضوع ہے لیکن حتی المقدور کوشش کی گئی ہے بحث کو آسان اور عام فہم مطالب میں ڈھال کر قارئین تک پہنچایا جائے۔ فلسفہ تاریخ ابتدائی طور پر دو قسموں “فلسفہ نظری تاریخ” اور “فلسفہ تنقیدی تاریخ” پر مشتمل ہے۔ یہ تحریر فلسفہ تاریخ کی پہلی قسم کا احاطہ کرتی ہے۔

مصنف

فلسفہ نظری تاریخ (Speculative Philosophy of History) کے حوالے سے سب سے پہلا نکتہ جو ہمارے سامنےآتا ہے وہ یہ ہے کہ تاریخ ایک زندہ مخلوق کی طرح سفر میں ہے، جسکی اپنی ایک روح، ارادہ، جسم، حرکت، رفتار، ہدف، منزل، قانون، نظام، محرک اور راستہ ہے۔ تاریخ ایک خاص شکل و شباہت کی حامل ہے جو نہ فقط خود اپنا سفر طے کر رہی ہے بلکہ بنی نوع انسان کو بھی اپنا مطیع کرتی چلی جا رہی ہے۔ یعنی وہ انہیں اپنے بھاری اور تند و تیز پہیوں تلے روندتی ہوئی گامزن سفر ہے۔ ایک خاص نکتہ سے اس نے اپنے سفر کا آغاز کیا ہے، ایک راستہ سے گزر رہی ہے اور آخرکار اپنی منزل مقصود پر پہنچ کر دم لے گی۔ اس طرح فلسفہ نظری تاریخ کا کام تاریخ کی حرکت اور پھر انسانوں کو روندنے کی کیفیت کو بیان کرنا اور اس نکتہ کی نشان دہی کرنا ہے جہان پہنچ کر تاریخ متوقف ہو گی۔ مختصر یہ کہ فلسفہ نظری تاریخ کے ذریعے مختلف تہذیبوں اور تمدنوں کی پیدائش اور ان کے عروج و زوال کی تصویر کشی کی کوشش کی جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ آیا تاریخ کا یہ سفر جبری ہے یا فقط حادثاتی؟ یعنی اپنی مختلف منازل اور مراحل کو طے کرکے آگے جانا تاریخ کے اپنے اختیار میں ہے یا وہ بے اختیاری میں ایسا کر رہی ہے؟ کیا اس حرکت کیلئےکوئی خاص قانون موجود ہے؟ اور کیا اس قانون (یا قوانین) کا دریافت کرنا ہمارے بس میں ہے؟ نیز اگر تاریخ حرکت میں ہے تو اس حرکت کے محرکات کیا ہیں؟ فلسفہ نظری تاریخ در حقیقت اس طرح تاریخ کی علمی تفسیر کرتی ہے کہ ایسے سوالات کا جواب مل سکے۔ پس فلسفہ نظری تاریخ وہ علم ہے جو تاریخ کی حرکت، محرک، راستہ اور منزل کے بارےمیں بحث کرتا ہے۔ فلسفہ نظری تاریخ جن سوالات کا جواب دیتا ہے ان سوالات میں سے بنیادی یہ تین ہیں۔

Related image(الف) تاریخ کس لئے حرکت میں ہے یعنی اسکا ہدف اور مقصد کیا ہے؟
(ب) کس طریقہ سے گامزن سفر ہے یعنی تاریخ کی حرکت کا میکانزم اور محرک کیا چیز ہے؟
(ج) تاریخ کس راستہ کو طے کرتی ہوئی جا رہی ہے۔ یعنی تاریخ کی حرکت کی منازل کیا ہیں؟

فریڈرش ہیگل، کارل مارکس، آرنلڈ ٹوئن بی اور آسولڈ سپینگلر جیسے مورخین اور فلاسفہ نے بھی انہی موضوعات پہ کام کیا ہے۔ یہ سب لوگ اس کوشش میں رہے ہیں کہ مندرجہ بالا سوالات کا جواب پا سکیں۔ ان محققین کی نظر میں تاریخ ایک حقیقت اور ہویّت کی حامل ہے۔ انسان اور حوادث خود تاریخ نہیں ہیں بلکہ تاریخ کے اندر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ تاریخ نے انسانوں کو اپنے دائرہ کار میں گھیر رکھا ہے۔ اور ان کی گردنوں پر سوار ہو کر جہاں چاہتی ہے انہیں لے جاتی ہے۔ ہیگل کے بقول تاریخ انسانوں کے انفرادی ارادوں کی قتل گاہ ہے۔ اس نے تاریخ کی اس حرکت کو شیطنت فریبکاری اور مکاری سے تعبیر کیا ہے۔ مارکس کے مطابق انسان تاریخی حوادث کے مقابل بے بس ہیں۔ وہ تاریخ کے ساتھ گام بہ گام چلنے پر مجبور ہیں بلکہ تاریخ ایک منہ زور گھوڑے کی طرح انہیں کھینچ کر اپنے ہمراہ لے جارہی ہے۔ انسان تاریخی جبر کے سامنے ایسے ہی بے بس ہیں جیسے کوئی دایہ، ایک حاملہ عورت کے وضع حمل میں اسکی مدد تو کرسکتی ہو مگر نوزاد کوقتل کرنے یا سقط جنین میں کوئی کردار ادا نہ کر سکتی ہو۔

سپینگلر ان دونوں(ہیگل اور مارکس) سے زیادہ بدگمان دکھائی دیتا ہے اسے یہ کہنے میں ذرا بھی تردید نہیں کہ ہر تہذیب و تمدن کی سرنوشت اس گھاس کی سی ہے جو اگتا ہے، بڑھتا ہے، اور مرجھا کر خشک ہوجاتا ہے۔ کسی شخص یا قوم کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ مٹتے ہوئے تمدن کے پیکر میں نئی روح پھونک دے اور اسے دوبارہ اپنے پاوں پہ کھڑا کر دے۔ اس کے بقول تاریخ میں حیات جدید کا کوئی وجود نہیں اور کسی نسل یا قوم کا موت کی نیند سے بیدار ہونا کسی صورت ممکن نہیں۔ تہذیب و تمدن کے لیے بھی موت ایسے ہی فطری اور حتمی ہے جیسے انسانوں اور جانوروں کیلئے ہے۔ ٹوئن بی اس معاملے میں دوسروں سے زیادہ محتاط ہے۔ وہ بطور ایک ماہر تاریخ جب تاریخ کے انجام پر غور کرتا ہے تو اس کے خاتمہ بالخیر اور مقدس ہونے کا فتوی دیتا ہے اور از لحاظ علمی یہ پیشگوئی کرتے ہو نظر آتا ہے کہ مستقبل میں پوری دنیا پر کلیسہ کا غلبہ اور حکومت قائم ہو گی۔

اب فلسفہ نظری تاریخ کے بارے ہیگل، مارکس اور ٹوئن بی کےنظریات کا قدرے تفصیل سے جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

جارج ولہلم فریڈریک ہیگل - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیاہیگل کا نظریہ : ہیگل کے مطابق کائنات کی شکل اور بنیادی ڈھانچہ کو فکر یا تفکر تشکیل دیتا ہے۔ ایک ایسا آزاد اور متعالی تفکر (Transcendental Thought) جو ذات خدا وند سے جدا ہوتا ہے اور خارج میں اپنی ایک شناخت، موضوعیت اور محدودیت کو وجود میں لاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ دنیا خدا ئی فکر کا نتیجہ ہے۔ بہرحال جیسے ہی یہ تفکر خدا سے جدا ہوتا ہے اور خارجی حقیقت کی صورت اختیار کرتا ہے، فراق اور خود بیگانگی (Alienation) کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمیشہ اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح اپنی “اصل” سے پیوست ہونے میں کامیاب ہو سکے۔ ہیگل کے مطابق تاریخ جہان کی مثال اس بانسری کی طرح ہے جو جب سے درخت سے کٹ کے جدا ہوئی ہے (جیسے ہی لوگ اسے بجاتے ہیں) گویا اپنی جدائی کی شکایت کرتی نظر آتی ہے۔ وہ کسی صورت بھی اپنی دوری پر راضی نہیں ہوتی بلکہ مسلسل اس کوشش میں ہے کہ اپنی اصل سے ملحق ہو جائے۔ بالکل ایسے ہی حرکت تاریخ، متعالی تفکر کے پےدر پے جلووں کا نام ہے جو ہمیشہ اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح آزاد ہونے کے بعد اپنی “اصل” سے وصل ہو جائیں۔ ہیگل کی نظر میں تفکر متعالی کا گوہر اور اساس اس کی آزادی تھی مگر اس تفکر کے جہانی ہونے نے اسے قیدی بنا رکھا ہے۔ زندان میں جکڑے اس تفکر کا پختہ ارادہ ہے کہ کسی طرح قید سے چھٹکارا پاکر دوبارہ اپنا دور آزادی حاصل کرسکے۔

فراق و وصال اور دوری و قربت وہ فضا ہے جس میں تاریخ جھاں اپنا سفر طے کر رہی ہے۔ تفکر متعالی کا مسلسل خود آشنائی اور خود فراموشی کی حالت میں رہنا اور فراق سے وصل کا عشق وہ محرک ہے جو “تاریخ جہاں” کو حرکت میں رکھنے کا ضامن ہے۔ ہیگل کے مطابق کائنات کی گرہ اسی حد تک باز ہوتی ہے جس حد تک ذہن وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔ انسانی ذہن نقد و تنقید کی کسوٹی سے گزرنے کے بعد اپنی خطاؤں اور محدودیت سے واقف ہوتا ہے۔ ایک قدم بلندی کی طرف اٹھاتا ہے اور وسعت کا حامل ہوتا چلا جاتا ہے۔ تاریخ جہاں (جو دراصل فکر انسانی کے ارتقا کا دوسرا نام ہے) تضاد و تصادم کے راستے سے گزر کر آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ تاریخ میں آنے والا ہر نیا مرحلہ دراصل اپنے گذشتہ متضاد مراحل کا منطقی نتیجہ ہوتا ہے۔ ہیگل کے مطابق ہر نیامرحلہ نہ فقط وسیع تر ہے بلکہ اپنے سابقہ مراحل کی نسبت آزاد تر بھی ہے۔ لہذہ کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ جھاں تفکر مطلق کے پرتو کے علاوہ کچھ نہیں یا تاریخ جھاں تفکر مطلق کی تجلی کا دوسرا نام ہے۔ تاریخ جھاں جس حد تک پیش قدمی کرتی ہے اسی حد تک آزادی سے بہرہ مند ہوتی چلی جاتی ہے۔

مندرجہ بالا مختصر بیان کے بعد یہ بات قابل فہم ہے کہ ہیگل فلسفہ نظری تاریخ کے بنیادی سوالات کا جواب اس طرح دیتا ہے۔
(الف) تاریخ، تفکر متعالی کو زیادہ سے زیادہ آزادی دلانے کی راہ پر گامزن ہے۔
(ب) اس حرکت کا میکانزم اس دائمی جنگ و جدل کو سمجھا جاتا ہے جو تفکر مطلق اپنی ذات سے کرتا ہے اور حرکت کا محرک تفکر کا وہ عشق ہے جو وہ فراق سے آزادی کی خاطر اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔
(ج) تاریخ تفکر مطلق کے جلووں پر (یعنی اقوام کو روندتے ہوئے) راستہ بناتی ہوئی سفر طے کرتی ہے۔

ہیگل کے مطابق کسی بھی زمانے میں تعالی تفکر کی سطح آزادی کا اندازہ اس دور کے تاریخی لوگوں کے احساسات سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس کی نظر میں قدیمی ہندی اور چینی لوگ مطلقا غیر تاریخی انسان تھے۔ اس لئے کہ ہمیشہ ظلم اور استبداد کے شکنجے میں جکڑے رہے ہیں ا ور ذرا بھی آزادی سے لطف اندوز نہیں ہو سکے۔ اس طرح وہ میدان تاریخ میں وارد نہیں ہو سکے۔ بالفاظ دیگر تفکر مطلق کی حرکت اور آزادی انہیں نصیب نہیں ہو سکی۔

ہیگل تمدن ایران کو تفکر مطلق کی آزادی کی طرف پہلا قدم شمار کرتا ہے۔ وہ اس ضمن میں ایرانی پادشاہ داریوش کی (کسی حد تک) فیڈرل حکومت کو علامت کے طور پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہی وہ تمدن تھا جس نے دور قدیم کے ظلم و ستم کا خاتمہ کیا اور گھٹن کے ماحول میں نرم اور ٹھنڈی ہوا کا پہلا جھونکا ثابت ہوا۔ ہیگل کی نظر میں یونان کی شکوفائی اور اقتدار روم کا دور تفکر جھان کے عروج، عشق، بلوغت اور پختگی کا زمانہ شمار ہوتا ہے۔ اس کے خیال میں اس زمانے کے لوگ نہ تو کاملا اسیر تھے اور نہ مطلق آزاد۔ بقول ہیگل، انقلاب رنساس کے بعد پارلیمانی حکومت کے دور میں اور بالخصوص پروس کی حکومت میں تفکر جہانی اپنی آزادی کے عروج پر پہنچا۔

تئوری شناخت از نظر مارکسمارکس کا نظریہ: مارکس نے فلسفہ نظری تاریخ کے بارے غیر منظم اور زوال پذیرنظریہ کو قواعد و ضوابط فراہم کیے ۔ البتہ اس نےتفکر کی بجائے مادے کو بافت جہان کے طور پیش کیا۔ اگرچہ اس نے جدال تاریخ کو قبول کیا لیکن اس طرح اسکی تشریح کی کہ ثابت کر سکے جنگ تفکر متعالی اور اس کی اپنی ذات کے درمیان نہیں بلکہ طبقات اقتصادی کے درمیان جاری ہے۔

اس نے ہیگل کی طرح تفکر کے جلووں کو تاریخ کا راستہ نہیں کہا بلکہ اسکی نظر میں آلات تولید کی پیشرفت کے مختلف مراحل تاریخ کا راستہ ہیں۔ وہ یہ بھی تسلیم نہیں کرتا کہ تاریخ کا ہدف فراق سے رہا ئی ہے بلکہ طبقاتی نظام سے رہائی کو ہدف تاریخ گمان کرتا ہے۔ فلسفہ تاریخ کے بارے میں مارکس کا نظریہ دراصل ہیگل اور ڈاروین کے نظریات کی ترکیب سے وجود میں آیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا نظریہ ماہرین اقتصاد اور عیسائی علماء کے افکار سے بھی جڑا ہوا ہے۔ فلسفہ نظری تاریخ کے بنیادی سوالات کا مارکس نے اس طرح جواب دیا ہے۔
(الف) تاریخ ایک غیر طبقاتی معاشرہ کی طرف گامزن سفر ہے۔
(ب) آلات تولید کی پیشرفت اور اسی طرح طبقہ جدید اور طبقہ قدیم کے مابین جنگ و جدال دراصل تاریخ کی حرکت کا ضامن اور محرک ہیں۔
(ج) غلامی کا دور، فیوڈلزم کا دور اور بورژوائی دور، تاریخ کے مختلف مراحل ہیں۔

فلسفہ تاریخ سے مربوط ان دو بڑے نظریات کے ردّ و قبول اور اثبات و بطلان سے صرف نظر کرتے ہوئے جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ یہ جاننا ہے کہ مارکس اور ہیگل کے مابین ایک اساسی تفاوت موجود ہے۔ اور وہ یہ کہ ہیگل کی گفتگو اور فلسفہ میٹافزکس کے دائرہ میں ہے اور وہ خود بھی اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اس کا فلسفہ میٹافزیکل روح کا حامل ہے۔ جبکہ مارکس باوجود اس کے ہیگل ہی کے میٹافزیکل اصول اور نسخہ کو ایک نئی شکل میں پیش کرتا ہے کھلم کھلا اس بات کا انکار کرتا ہے کہ اس کی گفتگو میٹا فزیکل پہلو کی حامل ہے۔ در اصل وہ مدعی ہے کی اس کی گفتگو مطلقا علمی بنیاد پر استوار ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ کوئی بھی فلسفہ نظری تاریخ اس عظیم میٹافزیکل فرضیہ کا قطعاََ انکار نہیں کر تا کہ تاریخ ایک زندہ، مستقل، متحرک اور قانون مند شناخت کی حامل ہے۔ ہیگل بالصراحت اعتراف کرتا نظر آتا ہے کہ تاریخ ایک ایسی روح کا نام ہے جسے آزاد کر دیا گیاہے اور یہ سرگرداں روح اس کوشش میں ہے کہ فراق سے چٹکارا پا کر کسی طرح دوبارہ وصال تک پہنچ سکے۔ اسی بنا پر وہ تمام انسانیت حتی کہ نابغہ ترین شخصیات کو بھی اسی تاریخی روح کے ہاتھوں میں بازیچہ اطفال اور کٹھ پتلیاں سمجھتا ہے۔

ادھر مارکس ہے کہ ایک طرف تاریخ کی بنیاد مادے پر استوار کیے اسے انسانوں کے ماتحت تصور کرتا ہے تو دوسری طرف وہی نتائج اخذ کرتا ہے جو ہیگل نے اخذ کیے۔ یعنی نہ نابغہ شخصیات تاریخ پر تسلط رکھتی ہیں، نہ کوئی چیز اس کی راہ میں روکاوٹ بن سکتی ہے اور نہ ہی تاریخ کا راستہ قابل تغییر ہے۔ انسان فقط تاریخ کو کشف کرنے اور اس کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے پر مجبور ہیں اور اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔

کسی شخص کا تاریخ کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے تاریخ کے دھارے کو بدل دیا ہے بلکہ یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ انسان تاریخ کی ظالم اور ہیبتناک روح کے سامنے تسلیم ہو گیا ہے۔ فلسفہ نظری تاریخ کے بارے یہ ہیں وہ دو مخالف فلسفی نظریے جن سے کسی حدتک ایک جیسا نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ البتہ ہیگل کا علمی انصاف اور مارکس کی بے انصافی یا غفلت اور اس مخصوص مسئلہ میں اس کی تقلید واضح دکھائی دیتی ہے۔

Arnold Joseph Toynbee (Author of A Study of History, Abridgement ...ٹوئن بی کا نظریہ: ٹوئن بی نے اپنی تمام توانائیاں تاریخ کے راستے پر صرف کی ہیں۔ وہ ہیگل اور مارکس سے زیادہ منکسرالمزاج دکھائی دیتا ہے اور احتمالاََ اسکی معلومات بھی ان دونوں سے زیادہ ہیں۔ ٹوئن بی کے نظریے کے مطابق تاریخ جھان دراصل تہذیبوں کے عروج و زوال کا نام ہے۔ ہر تہذیب یا تمدن کسی نہ کسی چیلنج (Challenge) کے سبب وجود میں آتا ہے، چیلنج ہی کی وجہ سے رشد و تکامل پیدا کرتا ہے اور پھر اسی کے سبب ہی تباہی اور نابودی کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ ہر چیلنج کا ایک ردّعمل (Response) یا جواب ہوتا ہے۔ اور اسی جواب کے اندر تمدن کی زندگی یا موت کا راز چھپا ہوتا ہے۔ تہذیبوں کی پیدایش چیلنجز کے مقابلے میں آنے والے جواب اور ردعمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ چیلنج طبیعی بھی ہو سکتا ہے اور انسانی بھی۔ گذشتہ تمدن دراصل قدیم فطری چیلنجز کا ردعمل رہے ہیں، البتہ جدید تمدن قدیمی تہذیبوں کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہیں۔ بعض دوسرے مورخین کے برعکس ٹوئن بی کا نظریہ یہ ہے کہ تمدن ابتدا میں کبھی بھی سازگار طبیعی ماحول میں پروان نہیں چڑھے بلکہ ہمیشہ سخت، ناسازگار اور پر خطر فضا میں انکی پیدایش اور تکامل ہوا ہے۔

مشکلات کا سامنا کرنے سے ہی انسان رشد و تکامل کی منازل طے کر تا ہے نہ کہ ناز پروری اور کامیابیوں سے۔ جیسے جیسے تمدن استوار ہوتے چلے جاتے ہیں چیلنج کی کیفیت بھی بدلتی چلی جاتی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جھاں نئے چیلنج کے لیے نئے ردعمل یا جواب کی ضرورت کو محسوس کیا گیا ہے۔ ٹوئن بی کے مطابق تہذیبون کےزوال کا سلسلہ اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب ایک تمدن کے متولّیوں و مدبّروں نے نئے چیلنجز کے مقابلے میں پرانے جوابات کا تکرار شروع کیا تھا۔

ٹوئن بی فوجی برتری اور فتوحات میں وسعت کو تمدن کے زوال کے دلائل میں شمار کرتا ہے۔ جب ایک تمدن وسیع سرزمین کو اپنے کنٹرول میں لاتا ہے اسکی حفاظت کیلئے اتنی ہی زیادہ بڑی اور قدرتمند فوج کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ چیز تمدن کی قوت نہیں بلکہ ضعف کا سبب بنتی ہے۔ جب مفتوحہ علاقوں میں پرولیٹیرین طبقہ (Proletarian Class) وجود میں آتا ہے تو تمدن کے ساتھ اسکی مخالفت آخرکار تمدن کی تباہی پر منتج ہوتی ہے۔

ٹوئن بی کے مطابق ایک فرد کا کردار یا تخلیقی صلاحیتوں کی حامل اقلیت بلکہ مجموعی طور پر ایک رہبر کا کردارمعاشرہ میں بےحد زیادہ ہے۔ رہبر معمولا حوادث اور شورشوں کے نتیجہ میں سامنے آتے ہیں۔ رہبر وں، تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد اور تہذیبون کے نمائندوں کی عزت و عظمت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب وہ کچھ عرصہ کے لیے اپنے معاشرے سے ہجرت کرنے کے بعد واپس پلٹتے ہیں۔ ٹوین بی کی نظر میں ہجرت اور رجعت کا قانون ہی راہنماؤں کی پیدائش کا موجب ہیں۔ یہی دو عنصر ہیں جو کسی شخصیت کو حکمرانی اور تمدن آفرینی کے قابل بناتے ہیں۔ ٹوین بی کے مطابق ہجرت کرنے والوں میں حضرت محمدﷺ، گوتم بدھ، سینٹ پال اور سینٹ بنڈیکٹ کے نام سر فہرست ہیں۔

ٹوئن بی کے خیال میں تمام بڑے مذاہب اس وقت ظاہر ہوئے ہیں جب بڑے بڑے تمدن زوال و انحطاط کا شکار ہو رہے تھے۔ اس کی نظر میں تاریخ ایسی سمت حرکت کر رہی ہے کہ بالآخر تمام بڑے مذاہب کا خاتمہ ہو جائے گا اور ایک عظیم روحانی حکومت پوری دنیا پر چھا جائے گی جس کا پیغام چاروں مذاہب یعنی اسلام، یہودیت، عیسائیت اور بودائیت پر غالب آجائے گا۔ ٹوئن بی کے اعداد و شمار کے مطابق تیس سے زیادہ تمدن میں سے بیس ایسے تمدن رہے ہیں جو اس کے قاعدہ وقانون پر پورے اترتے ہیں۔ اس طرح وہ ہر ایسے تمدن کے تمدن ہونے کا انکار کرتا نظر آتا ہے جو اس کےوضع کردہ قانون پر پورا نہیں اترتا۔ اس کا خیال ہے کہ گذشتہ آخری ادوار میں یہ پانچ تمدن وجود میں آئے ہیں۔
(الف) مغربی یورپ کا عیسائی تمدن
(ب) مشرقی و جنوبی یورپ اور روس کی ارتھڈوکس عیسائیت کا تمدن
(ج) اسلامی تمدن
(د) مشرق بعید کا تمدن
(ر) ہندوستانی تمدن۔ ٹوئن بی کے بقول ان میں سے چار تو اس وقت تباہی اور موت کا شکار ہو گئے ہیں، اور فقط مغربی یورپ کا عیسائی تمدن اس وقت زندہ اور باقی ہے۔

ٹوئن بی کے مطابق اسلامی تمدن دو تہذیبوں یعنی ایرانی تہذیب اور عرب تہذیب کے ٹوٹنے اور پھر دونوں کے باہم ملنے سے وجود میں آیا ۔ جبکہ یہ دونوں تمدن خود سریانی تمدن کی تباہی کا نتیجہ اور اس کے تابع تھے۔ ٹوین بی کے خیال میں ہندوستان کے فارسی ( زبان لوگ) اور یہودی، مردہ اور متوقف تہذیبوں کے باقی ماندہ افراد ہیں۔ اس کی نظر میں کسی بھی تمدن کے زوال کی مندرجہ ذیل تین وجوہات یا علامات ہیں۔
(الف) تمدن کا داخلی حملے اور ہجوم کے مقابل ردعمل ظاہر کرنے پر قادر نہ ہونا۔
(ب) تمدن کے استقلال کا زوال۔
(ج) تمدن کا فقط اپنی ذات پر بھروسہ کرنا۔

ٹوئن بی سوال کرتاہے کہ آیا ہجرت یا رجعت یا ردعمل ہجوم اور تہذیبوں کا عروج و زوال تمدن کے گردش کا پتا نہیں دیتے؟ آیا میری آراء تمدن کی سرنوشت اور جبر تاریخی کے اثبات کو ظاہر نہیں کرتیں؟ پھر خود جواب میں کہتا ہے۔ اگرچہ پہیے گھوم رہے ہیں اور انکی حرکت تکراری ہے مگر گاڑی کو خط مستقیم میں آگے کی طرف چلا رہے ہیں۔ اگرچہ سانسیں فرود و فراز کے ساتھ چل رہی ہیں، دل کام کر رہا ہے اور اس کی دھڑکنیں مشابہ، دائمی اور تکراری ہیں مگر بہرحال یہی سب کچھ ہی تو ہے جس سے انسانی زندگی کا سلسلہ چل رہا ہے۔ راہ چلتے ہوئے اگرچہ قدم دائماََ آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں بہرحال وہی ہیں جو ایک شخص کو منزل تک پہنچاتے ہیں۔ بالکل ان کی طرح عروج و زوال، ہجرت و رجعت اور ہجوم و ردّعمل دراصل یہ سب تاریخ کے پہیے اور قدم ہیں کہ تاریخ ان پر سوار ہوئے آرام و سکون کے ساتھ مستقبل کی جانب گامزن ہے۔

دوری کے باوجود، ٹوئن بی کے نطریات اس جگہ پر دوسرے فلاسفہ نظری تاریخ کے بہت قریب ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ بھی کہتا ہے تاریخ جسم و جان رکھتی ہے۔ حوادث تاریخ کے اندر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ تہذیبوں کے عروج و زوال ہمیشہ تاریخ کے خدمت گزار ہیں۔ چیلنج اور ان کے ردعمل تاریخ کو تشکیل دیتے ہیں۔ اور خود تاریخ ایک دوسری چیز ہے جو ان کا غیر ہے اور ان سب کی گردن پر سوار ہے اور ان کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ ٹوئن بی کےنظریہ کے مطابق ہر چیلنج اور اسکا ردعمل تمدن آفرین نہیں ہوتا اگر ایک چیلنج ردعمل انگیز اور بڑا نہ ہو یا اگر قابل ضرر اور سخت ہو تو ان صورتوں میں تمدن کو وجود میں نہیں لاسکتا۔ لہذا ضروری ہے چیلنج شائستہ اور مناسب ہو البتہ ٹوئن بی مشخص نہیں کرتا کہ شائستگی کا معیار کیا ہونا چاہیے۔ اسکی گفتگو کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شائستہ چیلنج ایسا چیلنج ہے جو تمدن کو ایجاد کر سکے اور تمدن اس چیز کا نام ہے جو شائستہ چیلنج کے ردعمل میں وجود میں آئے۔ ٹوین بی کی اس تعریف میں منطقی دور لازم آتا ہے جو کہ عقلی طور پر محال ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20