امریکی تیل کا بحران اور مکھی مار دانشور —— خرم شہزاد

0

بات زیادہ پرانی بھی نہیں کہ مہینہ پہلے کچھ لنڈے کے دانشور کرونا وائرس کو ایک امریکی ہتھیار کہہ کر مغرب کی منہ بھر کر برائیاں کر رہے تھے۔ انہیں خود ایمان کی حد تک یقین تھا کہ اس وائرس کو امریکہ نے تیار اور چین کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے برطانیہ کے ساتھ مل کر استعمال کیاہے۔ یہ لوگ اپنے اس ایمان کو اپنے دیکھنے سننے اور پڑھنے والوں میں منتقل کرنے کو بے چین رہتے تھے، اسی وجہ سے سینکڑوں یوٹیوب وڈیوز اور ہزاروں بیانات کے ساتھ ساتھ لاکھوں پوسٹیں اس بات کی گواہی کے لیے آج بھی موجود ہیں لیکن اب جب کہ امریکہ اور برطانیہ میں لاک ڈاون ہے، سٹاک مارکیٹ کریش کر چکی ہیں اور چین میں دوبارہ سے زندگی شروع ہو چکی ہے تو یہی دانشور اب بھی ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا پر فعال کردار میں نظر آتے ہیں۔ بد قسمتی کی بات کہیں یا پھر کسی نحوست کے اثرات کہ اب بھی بہت سے لوگوں نے اپنا منہ ان کی طرف ہی کیا ہوا ہے۔ آج کل میڈیا اور سوشل میڈیا پر سب سے اہم موضوع امریکی تیل مارکیٹ کا تاریخ میں پہلی بار صفر سے کئی درجے نیچے چلے جانا ہے۔ اپ ٹو ڈیٹ جینز پینٹ پہننے والے اور نیویارک کی روشنیوں سے اندھے ہوئے لوگ ابھی کل تک عربستان کے تیل کے ذخائر پر اپنی دانشوری جھاڑ رہے ہوتے تھے اور اپنے تجزیوں میں بتا رہے ہوتے تھے کہ بس یہ ذخائر ختم ہونے کی دیر ہے کہ یہ بدو واپس صحراوں میں لوٹ جائیں گے۔ یہیں ہمارے پاس ایک اور دانشور طبقہ بھی موجود ہے جس کے پاس بھی پرانے راگ ہی موجود ہیں۔ وبا کے ان دنوں میں ان لوگوں کے پاس بھی کہنے کو کچھ نہیں ہے اور یہ بھی اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ پاکستان کو سعودی عرب سے ہی تیل خریدنا چاہیے کیونکہ سعودی عرب نے ماضی میں کئی بار ہمیں مفت تیل فراہم کیا تھا اور ہم پر فلاں فلاں احسانات کئے تھے وغیرہ وغیرہ۔ افسوس ہوتا ہے کہ جب دونوں گروہوں کی سمجھ داری عالمی معیشت اور اقتصادیات کے بارے صفر کا پتہ دیتی ہے۔ آئیے بات کچھ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ فیصلے میں آسانی رہے۔

امریکہ میں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں جو کسی حد تک اس کی ملکی ضرورت کو پورا کرتے ہیں جبکہ امریکہ تیل کا ایک بڑا خریدار بھی ہے اور امریکی کمپنیاں دنیا بھرمیں تیل نکالنے میں مصروف عمل ہیں۔ موجودہ وبا کے دنوں میں نہ تو صنعت کا پہیہ چل رہا ہے اور نہ ہی سڑک پر کسی گاڑی کا پہیہ چل رہا ہے جس کی وجہ سے تیل کی کھپت پر بے انتہا منفی اثرات پڑے ہیں۔ اب جو کمپنیاں روزانہ کا لاکھوں بیرل تیل نکال رہی تھیں اور ہاتھ کے ہاتھ بیچ رہی تھیں، ان کے پاس ذخیرہ کرنے کی جگہ موجود نہیں کیونکہ ذخیرہ اندوزی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ امریکی تیل کمپنیاں اس وقت اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے اپنے خریداروں کو خود قیمت دینے کو بھی تیار ہیں کہ آپ ہم سے تیل خریدیں اور ساتھ ڈالر بھی وصول کریں تاکہ ہمارا پہیہ چلتا رہے اور خیر سے وبا کے یہ دن گزر جائیں تو ہم پھر سے کما لیں گے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال سعودی تیل کمپنیوں کے ہاں بھی نظر آتی ہے لیکن خوش قسمتی سے ان کی حالت اتنی پتلی نہیں جتنی امریکیوں کی ہو چکی ہے۔ سعودی تیل کمپنیاں فی الحال مفت کی سہولت تک بھی نہیں پہنچی لیکن اگر دنیا کے حالات ایسے ہی چلتے رہے تو اس کا امکان بھی جلد نظر آ جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمیں سعودی احسانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے صرف سعودیہ سے ہی خریداری کرنی چاہیے یا پھر امریکہ سے خریداری کرتے ہوئے ڈالر بھی وصولنے چاہئے۔

سب سے پہلی بات کہ سیاست اور کاروبار چاہے وہ ملکی سطح پر ہو یا عالمی سطح پر، اس میں جذبات کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ سیاست میں ہمیشہ اپنا مفاد اولین ترجیح ہوتی ہے ویسے ہی کاروبار میں منافع اور کاروبار کا پھیلاو اولین ترجیح ہوتی ہے۔ سعودی احسانات گنوانے والے یقینا سعودیہ کی بھارت میں سرمایہ کاری بھی گنواتے تو ان کی اپنی بات کے وزن کا پتہ چلتا۔ بالکل غیر جذباتی ہو کر دیکھا جائے تو بھارت ایک بڑی منڈی کے طور پر دنیا کے سامنے ہے اسی وجہ سے سعودیہ نے اگر دو لاکھ ڈالر ہمیں قرض دیا تو وہیں دس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بھارت میں بھی کی، یوں بلاواسطہ انداز میں انہوں نے بھارتی معیشت کو طاقت اور پاکستان کے مقابلے پر کھڑا ہونے کی قوت دی۔ سعودی اگرچہ ہمارے بھائی ہیں لیکن انہی بھائیوں کے بھارتیوں کے ساتھ تعلقات بھی ہمیشہ مثالی رہے ہیں کیونکہ بھارت ہم سے پانچ گنا بڑی مارکیٹ رکھتا ہے اور اس مارکیٹ کو ہاتھ سے نہ جانے دینا اس کی ضرورت اور مجبوری ہے۔ ہمارے دانشوروں کی ایک بری عادت یہ ہے کہ وہ دوسروںکا ہر احسان یاد دلانے کی کوشش تو ضرور کرتے ہیں لیکن اپنا بہایا ہوا خون پسینہ ان کو نظر نہیں آتا۔ یہ مانا کہ سعودیہ ہمیں مفت تیل دیتا رہا ہے لیکن یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہم اس کے تیل کے بڑے خریدار ہیں اور ادھر ادھر کے بجائے ہم نے ہمیشہ اسے ہی خریداری میں ترجیح دی ہے۔ اگر ہمیں یہ جتلایا جاتا ہے کہ سعودیہ نے ہماری ہر برے وقت میں مدد کی ہے تو ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم پر یہ برے وقت کیوں آتے ہیں اور یہ ضرور جواب دینا چاہیے کہ جب سعودیہ بلکہ پورے عربستان میں کسی کو بھی ضرورت ہوتی ہے تو پاکستان کو وہ اپنے ساتھ پاتے ہیں۔ عراق امریکہ جنگ ہو یا سعودیہ اور یمن کی لڑائی، لبنان کی درخواست ہو یا کسی اور کی، ہم نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے تو حساب یہاں برابر کا ہے جس کے بعد زیادہ ممنون احسان ہونے کی بھلا کیا ضرورت۔ ماضی میں بھی چار روپے کی چینی سرمایہ کاری دیکھ کر ہم نے کچھ ایسی ہی ممنویت کا مظاہرہ عوام کے سامنے پیش کیا تھا جس کے پردے میں اہل اقتدار لاکھوں ڈالر کک بیکس میں وصول گئے اور عوام کو ممنویت کا چورن تھما دیا گیا۔

آج جب پاکستان قرضوں کے چنگل میں جکڑا ہوا ہے تو ہمیں امریکی کمپنیوں سے تیل ضرور خریدنا چاہیے تاکہ ہماری ملکی ضروریات بھی پوری ہوں اور ساتھ ہی قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے میں سہولت ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ سعودیہ سے خریداری کو بھی مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہیے کہ پرانے کاروباری تعلقات کو کہیں اور سے تھوڑے سے منافع پر ختم تھوڑی کیا جاتا ہے۔ حرم پاک ہمارے اور سبھی مسلمانوں کے لیے محترم ضرور ہے لیکن تیل اور کاروبار اس سے الگ باتیں ہیں۔ حرم پاک کے لیے جان بھی قربان لیکن تیل اور کاروبار میں آخری گرام کا بھی حساب تول کر ہی کرنا چاہیے کہ یہی دستور دنیا ہے اور یہی انداز خودی اور خودداری بھی ہے۔ مکھی مار دانشوروںکے سارے تجزیوں کا کل بھی اچار ڈال دیا گیا تھا اور آنے والے کل میں بھی ان تجزیوں کے اخبار پکوڑے بیچنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ سیاست اور کاروبار کے سینے میں دل نہیں ہوتا، یہ محاورہ ہم سے کاروبار کرنے والوں کا ہے تو اب وقت ہے کہ ہم بھی اس محاورے کا درست استعمال کریں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20