گزشتہ دہائی میں اردو تنقید کی اہم کتب —— قاسم یعقوب

0

گزشتہ دہے (2010ء تا 2019ء) میں جہاں اردو میں بہت اچھے ناول، افسانہ اور شاعری کی کتب سامنے آئیں، وہیں تنقیدی کتب بھی ادب پر عملی اور نظری مباحث پیش کرتی ملتی ہیں۔ اگرچہ ایک بات عیاں ہے کہ تخلیقی ادب کی طرح تنقید کی کتابیں تعداد میں بہت کم اور اپنی اثر پذیری میں ادبی حلقوں میں بہت کم زیرِ بحث آئیں۔ ایک طرف تنقیدی مضامین کا انبار سامنے آرہا ہے مگر دوسری طرف ناقدین کی تعداد کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تنقیداور ادبی مضامین میں فرق نہیں رکھا جا رہا۔ جامعات کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والے ادبی جرائد کسی بڑے ادبی نقطۂ نظر کو پیش کرنے کی بجائے پہلے سے موجود معلومات پر اکتفا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ گذشتہ دہے میں تنقیدی کتب نے مجموعی طور پر فکشن، شاعری اور نظری تنقیدی ماڈلز پر بحث کو مرکوز رکھا ہے مگر ادب کے دیگر شعبۂ جات سفرنامہ، آپ بیتی، طنز و مزاح اور خاکہ نگاری وغیرہ پر توجہ نہ ہونے کے برابرہے۔اس کے علاوہ نئے نظم نگاروں، کہانی کاروں اور شاعروں پر عملی تنقیدی نمونے بھی نہ ہونے کے برابرہیں۔

یہاں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ ہم تنقید کسے کہتے ہیں؟ عموماً ہر مضمون کو تنقیدی مضمون کہہ دیا جاتا ہے اور یوں ہرادبی نثر لکھنے والا ناقد کہلاتا ہے مگر اصل صورتِ حال ایسی نہیں۔ تنقید لکھنا اپنا موقف بیان کرنا ہے۔ اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کرناہے۔ دریافت کے عمل سے گزر کے نئے تخلیقی و تنقیدی سوالات اٹھانا ہے۔ مبسوط فکری محاکمہ پیش کرنا ہے۔ جب کہ مضمون نگار پہلے سے موجود معلومات کو ایک جگہ جمع کر دیتا ہے، ایک موضوع پر معلومات کا انبار لگا دیتا ہے، اسے تنقیدی عمل نہیں کہا جا سکتا۔ دوسر ایک اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ محض موقف یا اپنا نقطۂ نظر بیان کرنا ہی تنقید نہیں بلکہ تنقیدی گرائمر میں پیش کرنا تنقید (Criticism) ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے ناقدین تنقید لکھ رہے ہیں اور کئی دہائیوں سے اپنا موقف بھی پیش کر رہے ہیں مگر وہ درحقیقت مضمون نگاری کر رہے ہیں، ان کے پاس تنقیدی گرائمر نہیں ہے۔

تنقید کسی بھی ادبی نقطۂ نظر کو نظریانے (Theorize) کرنے کا عمل ہے۔ نظریانے کا عمل ایک مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ حالی سے لے کر ناصر عباس نیر تک نظریانے کے عمل کے بغیر کسے ناقد کے ہاں تنقیدی عمل میں گہرائی نہیں دیکھی جا سکتی۔ حسن عسکری اور سلیم احمد اگر آج بھی زیرِ بحث آرہے ہیں تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے ہاں تنقیدی خیالات کو نظریانے کی سطح بہت بڑی ہے۔ یاد رہے کہ نظریانے کے عمل میں اختلاف اور حمایت کی گنجائش پیدا ہوتی ہے جو تنقیدی عمل کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ کسی موقف سے اختلاف کرنا ہی زندہ تنقیدی فضا کی علامت ہے۔ کسی نقاد کی سب سے بڑی کامیابی ہی یہ ہے کہ وہ فکری سطح پر تحرک پیدا کرتا ہے، نئی تنقیدی تحریکات کا آغاز کرتا اور اختلاف و امکانات کے نئے در وا کرتا جاتا ہے۔

گزشتہ دہے میں تنقیدی کتب کی تعداد تو بہت زیادہ ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ گذشتہ کئی دہوں سے زیادہ ہے تو بے جا نہ ہوگا مگر ان کی تنقیدی سطح پر اضافوں کی معیار بندی کے بعد محض چند کتب ہی باقی رہ جاتی ہیں۔ میں نے گزشتہ دہے کی چند کتب کا انتخاب کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اصولوں کا خیال رکھا ہے، لہٰذا انھی اصولوں کے مطابق ان کتب کاانتخاب سمجھا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ میری معلومات میں کچھ کتابیں رہ گئی ہوں، جسے نشان دہی کے بعد شامل کیا جا سکتا ہے:

1۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ ناقد نے کس ادبی نقطۂ نظر کو تنقیدی مباحث میں بطور اضافہ پیش کیا ہے۔ کمزور، محدود اور کم پُر اثر ہونے کی بحث بالکل الگ ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ناقد کا ادبی موقف سرے سے ہی غلط ہو مگر تنقیدی سامان (Critical apparatus) میں پورا ہوگا تو اسے اہم تنقیدمیں شمار کیا جائے گا۔ کلیم الدین احمد کی مثال سامنے کی ہے۔ ان کا ا دبی موقف حد درجہ ’’غلط‘‘ ہونے کے باوجود ہر بڑے اور اہم ناقد نے اسے زیرِ بحث لانا ضروری خیال کیا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ایک بڑے اور اہم موضوع کو اردو تنقید میں چھیڑا اور مباحث کے در کھولے۔

2۔ بعض تنقیدی کتب بہت اچھے اور اہم فکری مضامین پر مشتمل ہیں مگر تنقیدی سطح پر کسی بڑے فکری تحرک کا باعث نہیں بنتی۔ ایسی کتب کی اہمیت سے انکار نہیں۔ اس فہرست میں صرف انھی کتب کو شامل کیا جا رہا ہے جنھوں نے فکری سطح پر نئے سوال اٹھائے ہیں۔

3۔ گزشتہ دہے کے اس انتخاب میں ان تنقیدی کتب کو شامل نہیں کیا گیا جو جامعاتی تحقیقی کام کے سلسلے میں لکھی گئیں۔جامعاتی تحقیقی تھیسسز میں ایک قسم کا تکلف اور بھرتی کا مواد بہت زیادہ ہوتا ہے اور اُس میں نقطۂ نظر کی شدید کمی واقع ہوتی ہے۔اگر کوئی بہت غیر معمولی کام سامنے آیا بھی ہے توایسے اچھے تحقیقی کام پر الگ سے درجہ بندی قائم ہونی چاہیے۔

4۔ صرف پاکستانی کتب کو شامل کیا گیا ہے۔

5۔ اس فہرست میں کسی بھی درجہ بندی کو متعین کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، صرف معیار بندی کو سامنے رکھتے ہوئے انتخاب پیش کیا جا رہا ہے۔

6۔ بعض ناقدین کے ہاں ایک سے زیادہ کتب موجود ہیں مگر اس فہرست میں ان کے مجموعی کام میں سے صرف ایک کتاب کا انتخاب پیش کیا جا رہا ہے:

فہرست:

1۔ مابعد نو آبادیات : اردو کے تناظر میں، اردو ادب کی تشکیلِ جدید   2013/16ء (ڈاکٹر ناصر عباس نیر)

ناصر عباس نیر کی یہ دو کتابیں اصل میں ایک ہی کتاب کے دو حصے ہیں۔ اس لیے اس انتخاب میں اسے ایک کتاب کے طور پر زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔ناصر صاحب نے اس کتاب میں اردو تنقید میں پہلی دفعہ کالونی ادوار میں لکھے گئے متون کو مابعد کالونی کے تناظر سے پڑھنے کی روش کا آغاز کیا۔ یہ محض آغاز ہی نہیں تھا، بلکہ انکشافات کا در کھولنا تھا۔ ان دونوں والیمز میں ناصر عباس نیر نے نوآبادیاتی فکر کے زیرِ سایہ فکشن، شاعری، تنقید اور لسانیات میں ہونی والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا ہے۔ یوں اردو میں تنقیدی سطح پر ایک نئی بحث چل نکلی جسے اس خطے میں انگریزی ادبیات، سوشیالوجی، علم التعلیم اور دیگر علوم میں بھی اپنایا جانے لگا۔ ان دونوں کتب میں برِ صغیر کا ہی نہیں مشرقیت کا مقدمہ بھی لکھا گیا ہے۔ یہ اردو میں اُس سطح کا کام ہے، جو ہندوستان سے گائتری اور ہومی بھابھا پیش کر چکے ہیں۔

2۔ فکشن، کلامیہ اور ثقافتی مکانیت؍2018ء (ڈاکٹرفرخ ندیم)

فرخ ندیم کی یہ کتاب مارکسی تھیوری کے بطن سے فکشن کے نئے اور پیچیدہ مباحث پر مشتمل ہے۔ فرخ فکشن میں پیش کردہ سیاحتی بیانیوں کو رد کرتے ہوئے مقامی بیانیوں کی تفہیم کر لیے کارگر دیکھنا چاہتے ہیں۔ فرخ فکشن کے غیر مکانی تصور کی بجائے مکانی دنیا کو’ متنانے ‘ پر ترجیح دیتے ہیں۔مکانی دنیا سے جڑا متن انفرادی اور ذاتی الجھنوں کی بجائے اجتماعیت کی طرف جست بھرتا ہے۔یوں اس موقف نے اردو تنقید میں فکشن کو ایک نئی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔لسانی تنقیدی لغت کی سطح پر بھی فرخ نے کئی نئے اضافے کیے ہیں جس سے انھیں کافی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ہر آرٹیکل میں ایک پورا جہان متعارف کرواتا ہوا ملتا ہے۔ ایک سطح پر یہ فرخ کا اہم کنٹری بیوشن بھی ہے۔

4۔ اساطیر، کتھا، کہانی اور مابعدجدید تناظر (ڈاکٹر قاضی عابد)

قاضی عابد کی پہچان ایک ترقی پسند نقاد کے طور پر ہے۔ اس کتاب میں قاضی صاحب نے نومارکسیت کی روایت جو ٹیری ایگلٹن اور التھیوسے کے ساتھ ایک نئے دور کا آغاز کرتی ہے، کو اپنانے کی کوشش کی ہے۔قاضی صاحب ’’ماسکو سے واڈکا کی بوتلیں بند ہونے پر‘‘ پریشان نہیں ہوئے بلکہ مارکسی فکر کے ایک نئے فکری جہان کا در کھولنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ان کا موقف ہے کہ مابعد جدید فکریات کا ترقی پسند فکر کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ اُستوار ہے بلکہ مابعدجدید فکر ہی ترقی پسند فکر کا اگلا پڑائو ہے۔ قاضی صاحب اپنے اسی موقف کے ساتھ تنقید لکھ رہے ہیں۔ اس کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ ترقی پسندی فکر کے آرتھوڈکس تنقیدی رجحانات کو ایک جست ملی ہے اور مابعدجدید تنقیدی بصیرت سے خوب فائدہ اٹھایا گیا ہے۔کتاب کا مجموعی رجحان فکشن کی طرف زیادہ ہے۔

4۔ اچھی اردو بھی کیا بری شے ہے 2015ء (اجمل کمال)

یہ کتاب اجمل کمال کے غیر روایتی تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔تنقید میں کسی نقطۂ نظر کو توڑنا آسان کام نہیں۔ایک متعین موقف بہت دیر تک اپنے اثرات رکھتا ہے۔اردو تنقید میں کسی ایک موقف کو قبول کرنے اور اس کا اتباع کرنے کی روش نے نئے میلانات کا در کھولنے میں رکاوٹ پیش کی ہے۔اجمل کمال کی یہ کتاب طے شدہ تنقیدی بیانیوں کو رد کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔روایتی تنقید میں کسی بھی اسٹیبلش موقف کو رد کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اقبال، حسن عسکری کی شخصیات اور ان کے ادبی موقف کو حتمی مان لیا گیا ہے اور اسی طرح ہندوی تہذیب پر گیان چند جین کے موقف کو اردو دنیا نے مسلم تہذیب پر حملہ قرار دیا تھا۔ اجمل کمال ان طے شدہ بیانیوں سے ہٹ کے اپنا نیا موقف اپناتے ہیں اور ایک تیسری دنیا میں لے جاتے ہیں۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس کی نثر روایتی تنقیدی نثر نہیں اور محاکمے کا انداز بھی جذباتی یا علمیانہ نہیں بلکہ مکالماتی طرزِ انداز رکھتا ہے۔

جامعاتی اور روایتی تنقید میں ایسی تنقید کو کم اہمیت ملی ہے۔ اجمل کمال نے اس مختصر سی کتاب میں موضوعاتی سطح پر مکالمے کا ایک جہان کھول دیا گیا ہے۔اس کتاب کو پڑھتے ہوئے اس سے اختلاف یا حمایت کیے بغیر قاری رہ ہی نہیں سکتا۔یوں یہ کتاب بھیگزشتہ دہے کی اہم کتابوں میں شمار کی جاسکتی ہے۔

5۔ اردو افسانہ: فن، ہنر اور متنی تجزیے ؍ 2012 (ڈاکٹر اقبال آفاقی)

اقبال آفاقی کی یہ کتاب اردو افسانے کے مابعد جدید تناظر سے فلسفیانہ قضایا کے درمیان پھیلے تنقیدی مباحث کو اپنا حصہ بناتی ہے۔ آفاقی صاحب کا بنیادی مضمون چوں کہ فلسفہ ہے اس لیے ان کی تنقیدی گرائمر میں فلسفے کے جدلیاتی نتائج کا ذکر ملتا ہے۔ نظری حوالے سے اس کتاب میں مروجہ معنی کو ڈی کنسٹریکٹ کرنے کی کامیاب کوششیں ملتی ہیں۔ منٹو، بیدی، کرشن چندر کی نئی معنوی پڑھتیں سامنے آتی ہیں۔خاص طور پر بیدی پر ان کا مضمون اُردو فکشن کے نئے تعبیری آفاق کھولتا نظر آتا ہے۔ادبی تھیوری کے تناظر میں کہانیمیں ’’ متھ اور تاریخ‘‘ کے بطن سے جھانکنے کی کوشش ملتی ہے۔ان کی تنقید میں تنقیدی تھیوری کے ساتھ جدید مغربی فلسفی اور فلسفیانہ تحریکیں بھی زیرِ بحث آتی ہیں۔اقبال آفاقی نے ’’نظریاتِ جمال و فن‘‘ میں فکشن سے ہٹ کے، اسی تسلسل کو فلسفے سے ادبی جمالیات تک پھیلادیا ہے۔

6۔ اسلام، پاکستان اور مغرب: علمی و ادبی تناظر؍2015ء (ڈاکٹر نجیبہ عارف)

نجیبہ عارف کی یہ کتاب اردو کے مجموعی تنقیدی مزاج سے الگ تھلگ موقف کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ انھوں نے ادبی تنقیدی جمالیاتمیں اسلامی اور قومی فکریات کو لازمی تصور کیاہے۔اس کتاب میں ان کا موقف اسلامی اور قومی تہذیب کی بازیافت ہے۔کتاب کے تینوں حصے (۱۔اسلام اور عصر رواں، ۲۔پاکستان : ماضی، حال اور مستقبل، ۳۔مرکز سے حاشے تک) تخیلی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ تجزیات کی ترجمانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔نجیبہ عارف کا ادبی موقف ہند اسلامی فکریات سے پھوٹتا ہے۔ ان کی تنقید میں مقامی تہذیبی اقدار کا احیانظر آتا ہے۔ اردو کے تانیثی مطالعے اور ماحولیاتی مسائل میں ان کی یہی انفرادیت جلوہ گر ہے۔ ولیم ڈیلر مپل کے حوالے سے تاریخ کے گم شدہ اوراق بھی گرد جھاڑتے ہوئے اسی موقف کی وضاحت کرتے نظر آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ مغربی تنقیدی ماڈلز کو رَد کرتی نظر آتی ہیں۔

7۔ ادب کا عالمی دریچہ 2012ء (ڈاکٹرامجد طفیل)

یہ کتاب بھی اردو تنقیدی کتب میں ایک الگ نقطہ نظر رکھتی ہے۔ امجد صاحب نے ادب کے عالمی حوالوں کو اردو تنقید میں پیش کرتے ہوئے اپنا ذاتی موقف پیش کیا ہے۔بدلتی دنیا میں ادب کے کردار کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔چوں کہ امجد صاحب کا میدان نفسیات بھی ہے اس لیے عملی تنقید میں ایک مختلف پہلو سے نفسیاتی تنقید کومغربی تناظر میں دیکھنے کے شواہد بھی مل جاتے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ کتاب ادبی تنقیدی تھیوریوں کے مغربی موقف کو پیش کرنے کی بجائے اُسے مقامی اقدار کے ساتھ قبول بنانے کی کوشش ہے۔ان کا نقطۂ نظر ہے کہ یہ تنقیدی تھیوریاں مغربی تہذیب میں مغربی ادب اور نظریۂ حیات کو پیش نظر رکھ کر لکھی گئی ہیں لہٰذا انھیں مشرقی تہذیب، ادب اور نظریۂ حیات پر جوں کا توں اطلاق کرنا درست نہیں۔امجد صاحب تھیوری کے مخا لف نہیں بلکہ ان کے مقامی اور مشرقی تناظرات کو فراموش کرنے کے خلاف ہیں۔اس سلسلے میں انھوں نے ٹیری ایگلٹن، میلان کنڈیرا اور ایڈورڈ سعید کی تنقیدی بصیرتوں کو پیش کیا ہے۔

اس کتاب کے دیگر مضامین میں ’’ادب اور مزاحمت: نئے عالمی تناظر میں‘‘، حقیقت نگاری کے بدلتے تصورات، بدلتی دنیا میں ادب کا کردار، نفسیاتی تنقید اور ادب، تہذیبوں کا تصادم: حقیقت یا فسانہ‘‘ میں اہم تنقیدی مباحث چھیڑے ہیں۔مجموعی طور پر امجد صاحب کا تنقیدی موقف ہندی اسلامی موقف کی حمایت کرتا ہے۔ کتاب کے آخر میں ’’مطالعۂ کتب‘‘ میں بہت اہم عالمی کتب پر تنقیدی آرا ملتی ہیں۔ کتاب کا مجموعی رجحان فکشن کی طرف ہے۔

8۔ تنقید اور بیانیہ؍2017ء (ڈاکٹر صلاح الدین درویش)

یہ کتاب اردو تنقید میں روایتی تنقیدی بیانیوں پر مشتمل نہیں۔درویش صاحب اس کتاب میں سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ سماج میں منفی رویے اور ادبی بیانیے کس طرح ایک ہو کے ثقافتی کُل کی تشکیل کرتے ہیں۔ ان کا مجموعی رجحان لبرل ثقافت سے مابعد جدید تخلیقی رویوں کو احاطہ کرتا ہے۔ خاص طور پر اس کتاب کا تیسرا حصہ درویش صاحب کے اُس موقف کی وضاحت کرتا ہے جسے وہ اردوتنقیدمیں ’روایتی‘ کہتے ہیں۔ادب کی رئیلزم کس طرح گلوبل فکر میں منتقل ہو چکی ہے مگر ساتھ ہی طے شدہ فکری بیانیوں کو قبول نہیں کر رہی۔ زندگی کی مادی حقیقت تخیلی اور ماورائی دنیا سے ایک فاصلے پر موجود ہے اور اصل حقیقت مادی قدروں کی ہے۔ ادب مادی قدروں کا نمائندہ ہوتا ہے، اس لیے اسے مادی اقدار کا نمائندہ ہونا چاہیے۔ درویش صاحب نے لیفٹ کے معنی وہ نہیں لیے جسے عمومی زبان میں مارکسی یا مذہب مخالف کہا جاتا ہے۔ یہ لیفٹ طے شدہ فکری رویوں کی نفی کرتا ہے۔ یوں اس میں بہت سی چیزیں ثقافتی مروجہ حوالوں کے لیے اہم بھی بن جاتی ہیں۔ ہر چیز کی نفی اُس کی تشکیل کو رد نہیں کر رہی ہوتی بلکہ اس میں اضافے یا وضاحتیں چاہ رہی ہوتی ہے۔ کتاب کا آخری حصہ عملی تنقید کا نمونہ ہے جس میں اختر عثمان، روش ندیم، اختر سلیمی اور عاصم بٹ تک کے تخلیقی وجود کو میزان میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر سب مضامین میں درویش کا لبرل اور تکثیر پسندی والا موقف حاوی ہے۔

9۔ داغ دہلوی: مابعد نو آبادیاتی مطالعہ؍ 2018 (ڈاکٹر طارق ہاشمی)

داغ دہلوی کا کردار اردو غزل کے حوالوں میں اساطیر بن چکا ہے۔ دہلوی سماجی زندگی کا مرقع دیکھنا ہو تو داغ کے کلام اور ان کی زندگی کامطالعہ کیا جاتا ہے مگر ان کی غزل کو محض بازاری اور تماشا بازی تک محدود سمجھا گیا ہے۔ طارق ہاشمی صاحب نے اپنی اس کتاب میں داغ کے روایتی امیج کو ڈی کنسٹریکٹ کیا ہے اور بتایا ہے کہ داغ کی انفرادیت محض چٹخارے تک محدود نہیں بلکہ اس کی غزل میں سماجی اور عمرانی حقائق کی ایک علمی دستاویز کا ثبوت ملتا ہے جسے مابعدنو آبادیاتی مطالعات کے تناظر میں گہرائی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ہاشمی صاحب نے داغ کے مطالعے میں اردو غزل کی جدلیاتی اور جمالیاتی تاریخ کو ازسرِ نَو پڑھنے کی کوشش کی ہے، اور جہاں جہاں عد م تکمیلیت کا احساس پیدا ہوا اسے سماجی حوالوں سے مکمل بھی کیا ہے۔ اس حوالے سے یہ کتاب کسی ایک شاعر کے گہری فکری سماجی حوالوں پر ایک نیا تنقیدی ڈسکورس بناتی ہوئی ملتی ہے۔ اردو غزل کی مجموعی فکری سماجیات میں مابعد نوآبادیاتی حدود و قیود کا بھی احاطہ کرتی ہے۔

10۔ اردو غزل: چند زاویے 2018 (ڈاکٹر عابد سیال)

عابد سیال صاحب کی مذکورہ کتاب اردو غزل کو اپنا موضوع بناتی ہے۔ گذشتہ دہے میں یہ شاید واحد تنقیدی کتاب ہے جو اردو غزل کا مقدمہ لڑتی ہے۔کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تاثرات میں اپنا موقف بہت واشگاف الفاظ میں دیا گیا ہے۔یہاں عابد بتاتے ہیں کہ جدید شعر کیا ہوتا ہے، مصرعے کی تراش کیا ہے اور اس پر توجہ کیوں۔اصل جمالیاتی تازگی اور تازگی کا التباس کیا ہے، معاصر غزل کی فکریات کیا ہیں، وغیرہ آج کے تناظر میں نئے موضوعات ہیں۔ تنقیدی سطح پر یہ کتاب اس لیے بھی سراہی جانے کے قابل ہے کہ اس میں غزل جیسی صنف پر تنقیدی ڈسکورس بنایا گیا ہے۔ مجموعی طور پراردو غزل پر تنقید (جامعاتی مقالات سے ہٹ کے) نہ ہونے کے برابر ہے۔غزل کے اسلوب میں اینٹی غزل کی بحث پرجدید شاعروں کے ساتھ مکالمہ کیا گیا ہے۔غزل کے جدید مسائل جن میں نئی علامتیں، ہیئت کی اختراعات، تمثال کاری اور نئی شہری ثقافت کی عکاسی جیسے نئے تخلیقی رجحانات کو مرکزِ موضوع بنایا گیا ہے۔ آخری حصے میں جدید اردو غزل کے سب سے اہم موڑحالی، اقبال، مجید امجد اور ظفر اقبال کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ اس کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ محض تنقیدی کتاب نہیں بلکہ غزل کے فکری و فنی احیا کا اعلان بھی کرتی نظر آتی ہے، جو ظاہری بات ہے کہ تنقید نگار عابد سیال کے تخلیقی و تنقیدی موقف کی وضاحت ہے۔

11۔ سعادت حسن منٹو : جادوئی حقیقت نگاری اور آج کا افسانہ 2013ء (محمد حمید شاہد)

یہ کتاب سعادت حسن منٹو کے افسانے کو آج کے افسانوی دنیا کے تناظر میں ایک نئی پڑھت کرتی نظر آتی ہے۔ منٹو پر تو بہت لکھا گیا اور گزشتہ دہے میں بھی منٹو پر بہت سی کتابیں سامنے آئیں مگر تنقیدی سطح پر منٹویات پر جادوئی حقیقت پسندی کے ایک نئی تناظر سے بہت کم دیکھا گیا۔بنیادی طور پر یہ کتاب ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ کا جواب ہے، جو شہرزاد کراچی سے۲۰۱۳ء میں شائع ہوئی۔فاروقی نے منٹو پر ایک نئی بحث کا آغاز کیا ہے اور منٹو پر معروف تنقیدی بیانات کو اپنی تنقیدی روشنی میں رد کیا ہے۔ کئی معروف افسانوں کوبہت کمزور اور ہلکا افسانہ قرار دیا۔ منٹو پر عمومی رایوں کو قبول نہیں کیا اور ایک نیا نقطۂ نظر کے ساتھ وضاحت کی ہے۔فاروقی کی یہ کتاب اشعر نجمی کے 14 مختلف خطوط کے جوابات پر مشتمل ہے۔

یہاں پاکستان سے محمد حمید شاہد صاحب نے فاروقی کی اس تنقیدی گفتگو پر تفصیل سے لکھا اور جوابات دیے۔فاروقی کے موقف کو قبول نہیں کیا۔مجموعی طور پر وہ منٹو کے معروف افسانوں کی عملی پڑھت کرتے ہیں اور ان کے مطالب پر نیا تنقیدی بیانیہ تشکیل دیتے ہیں، کہیں وہ پرانے موقف کا دفاع کرتے اور کہیں وہ نیا نقطۂ نظر اپناتے نظر آتے ہیں۔محمد حمید شاہد کی یہ کتاب بھی اُسی سال شہرزاد کراچی سے شائع ہوئی۔ہم اسے منٹویات میں ایک اہم اضافہ کہہ سکتے ہیں۔

12۔ جدیدیت، مابعد جدیدیت اور غالب (دانیال طریر)

اس کتاب میں دانیال طریر نے غالب کو ایک نئی تعبیر دی ہے۔ٖایک ہی موضوع پر کتاب پیش کرنا ایک مشکل امر ہے۔ غالب ایک ایسا مبسوط موضوع ہے کہ اس میں سے نئی بات نکالنا اور پوری کتاب کی شکل میں پیش کرنا بہت مشکل کام تھا جسے دانیال نے بڑی خوبی سے نبھایا۔ دانیال کا موقف ہے کہ غالب کو محض بیسویں صدی کا ہم عصر زمانی کہہ دینا کافی نہیں۔ غالب کے تخلیقی موضوعات بیسویں صدی کے انسان تک محدود نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے گلوبل اور تکثیری معاشروں کے لیے بھی اسی برح کارآمد ہیں۔ یوں غالب اکیسویں صدی کی صارفی سماجیت میں بھی اسی طرح بامعنی ہے، جس طرح بیسویں صدی میں تھا۔ اس سلسلے میں دانیال غالب نے تکثیری فکر اور ہائپر حقیقتوں کی ترجمان فکر پر مبسوط مقالہ پیش کیا ہے۔پوری کتاب ایک ہی مضمون کی مختلف شہ سرخیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ آغاز میں وہ غالب کو جدید فکری تناظرات میں پیش کرتے ہیں۔اس کتاب میں اس سوال کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ بڑی شعری معنوی اکائیاں ہر منظر نامے میں معنوی تشکیل پا لیتی ہیں۔
_____
اب میں یہاں دو مختلف کتب کا ذکر کرنا چاہوں جو اردو میں سوانحی تنقیدنگاری میں اہم اضافے کرتے ہوئے ملتی ہیں۔یہ دو اہم ادیب، افسانہ نگار سعادت حسن منٹو اور نظم نگار مجید امجد کی سوانح کو پیش کرتی ہیں۔ سوانحی تنقید اُس وقت زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب سوانحی حالات کی کوکھ سے ادیب کی تخلیقی زندگی کو جوڑا جائے۔یہ ایک مشکل اور پیچیدہ امر ہے۔ مجید امجد اور منٹو کی حیات اور سوانحی کوائف پر بہت لکھا گیا ہے مگر ڈاکٹر نوازش علی اور پرویز انجم نے ان دونوں کی حیات کے گم شدہ گوشوں کو ایک نئے تناظر سے پیش کیا ہے۔ یہ دو کتب مندجہ ذیل ہیں:

13۔ مجید امجد: تحقیقی و تنقیدی مطالعہ 2014ء (ڈاکٹر نوازش علی)

مجید امجد کی سوانح کو پیش کرتی یہ کتاب ان کی شخصیت کے علاوہ گم شدہ کلام اور شالاط کے قصے کی کڑیوں کو بھی کھولتی ہوئی ملتی ہے۔ مجید امجد کا تخلیقی حوالہ اتنا مضبوط ہے کہ ان کی سوانح پر مواد بہت بکھرا ہوا اور غیر مربوط انداز میں موجود تھا، گو اس سے پہلے ناصر عباس نیر ایک دقیق کوشش کر چکے تھے مگر ڈاکٹر نوازش علی نے مجیدامجد کی شخصیت کو صرف سوانحی کوائف تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان کی نظموں کے مندرجات سے جوڑنے کی کوشش بھی کی ہے۔پھر مطبوعہ مواد اور غیر مطبوعہ مواد کی کہانی بھی تفصیل سے پہلی دفعہ اسی کتاب میں زیرِ بحث آئی ہے۔گزشتہ دہے میں یہ کتاب سوانحی تنقید میں ایک اہم اضافہ قرار پائی ہے۔

14۔ منٹو اور سنیما 2014ء (پرویز انجم)

منٹو کی سنیما کے حوالے سے زندگی کا ایک مخفی گوشہ تفصیل سے پہلی دفعہ اس کتاب کا حصہ بنا ہے اس کتاب کے مطالعے سے لگتا ہے کہ منٹو اور سنیما ایک تھے۔ منٹو ساری زندگی سنیما اور فلم سے باہر نکلا ہی نہیں۔ تختی سائز کے تقریبا 600 پر مشتمل اس کتاب میں پہلی دفعہ منٹو کے تخلیق کام کو سنیما کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ سنیما اور فلم منٹو کی تخلیقی زندگی کابھی ناگزیر حصہ تھا، اسے الگ کر کے اُس کی ادبی توانائی کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔پرویز انجم نے بہت سے افسانوں کی تعبیری کڑیوں کو بھی سنیما سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ منٹو اور شیام کا قصہ بھی تفصیل سے زیرِ بحث آیا ہے۔منٹو کا تخلیقی آرٹ جو سنیما کے حوالے سے فلم میں پیش ہوا، اس کا وجود نہ ہونے کے برابرتھا۔ پرویز انجم نے منٹو کی فلموں کے مکالمات کو بھی اس کتاب میں محفوظ کر دیا ہے۔ سوانحی تنقید میں یہ ایک اہم کتاب ہے، جس نے منٹویات میں اہم اضافہ کیا ہے۔
________
اردو میں تنقیدی ڈسکورسز کی پیش کش کا عمل بہت سست رفتار ہے۔ مذکورہ کتابوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اردو کے نئے ناقدین ہی نئے تنقید ی اضافے کر رہے ہیں۔جن میں فکشن اور تھیوری کی نظری تنقیدی حاوی ہے۔شاعری اور ادب کی دیگر اصناف پر توجہ نہ ہونے کے برابرہے۔ ناصر عباس نیر کی تنقیدی کائنات میں کچھ مثالیں ضرور مل جاتی ہیں جیسے جوش کی ’’یادوں کی برات‘‘ والا مضمون آپ بیتی کے آرٹ پر لکھا گیا۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا اردو ناقدین کی توجہ طنز و مزاح، سوانحی نگاری، خاکہ نگاری وغیرہ کی طرف نہ ہونے کے برابر رہی، اس طرف توجہ دینے اور ادبی امکانات کو وسیع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

تنقیدی دنیا میں اس وقت نئے ناقدین میں ڈاکٹر روش ندیم، اختر عثمان سید کاشف رضا اور منیر فیاض کے بعض مضامین اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ ان کی تنقیدی کتب اس رواں دہے کی اہم کتب ہوں گی۔ ان کے بعض مضامین میں تنقیدی سطح پر نئے میلانات کا رجحان نمایاں ہے جن میں نئی ڈسپلنز اور سماجی بحثوں کو سامنے رکھا گیا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20