جب زندگی، زندگی کی طرف لوٹ آئے گی —– فارینہ الماس

0

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ انسان کے بس میں بہت کچھ تھا۔ وہ بڑے جوش و خروش سے اپنے دن کا آغاز کرتا تھا۔ اسکی دانش، مشیت ایزدی کو للکارتی تھی۔ اسکی طلب کا سر، جھوٹی خواہشوں کے در پر سجدہ ریز رہا کرتا۔جھوٹٰی انا اور طاقت کے خمار میں وہ کب کس کی ذات کو ادھیڑ ڈالے، کس کی امید کی کھیتیاں اجاڑ دے اسے اس سے کوئی فرق ہی نہ پڑتا تھا۔ ایک ہی کرہ ارض میں بسنے والی انسانی مخلوق میں کوئی ایکا نہ تھا۔ تعصب و نسل پرستی کی وبا زمینی خداؤں کے کام آرہی تھی۔ لیکن کمزور و بے حیثیتوں کو کھاتی چلی جارہی تھی۔جیسے کسی گلیڈئیٹر کا میدان سجا تھا جہاں دنیا کے بادشاہوں نے نہتے اور بے حیثیت انسانوں پر قرض اورسود کے سانڈھ چھوڑ رکھے تھے۔دنیا کا منفعت بخش کاروبار مفلسی بیچنا اور مجبوری خریدنا تھا۔ یہاں فطرت کی رنگینیوں کو اجاڑنے اور اس کے سب سے بڑے مظہر انسان ہی کو پچھاڑنے کے لئے بارود کا مال گودام بھی تیزی سے بھراجا رہا تھا۔ انسان خوداپنے ہاتھوں نسل انسانی کو ناپید بنانے کے درپے تھا۔وہ نسلی تفریق اور مذہبی تعصب کا لبادہ اوڑھ کر دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے لپیٹے میں لانا چاہتا تھا۔سوچا جارہا تھا کہ دنیا میں موت کی تقسیم کا کونسا جدید فارمولہ اپنایا جائے۔ انسانیت کی پسلی میں ظلم کا خنجر کس طور گھونپا جائے کہ رنج و الم کی آہ و فغا ں بھی ہو اور ستم گروں کے پاپ بھی کسی مصلحت کے جل سے دھل جائیں۔ زخموں کا کاروبار تو روز ازل سے ایسے ہی چلتا آیا ہے۔ لیکن موت تو سدا عجلت میں رہی ہے وہ یہ انتظار نہ کر سکی کہ انسان کے ہاتھوں اس کی آمد کا کوئی نیا منصوبہ بن سکے۔اس نے اپنی آمد کا خود سے ہی جواز پیدا کر لیا اور ثابت کردیاکہ وہ اپنی قیامت ڈھانے کو کسی انسانی منصوبے کی محتاج نہیں۔

یکایک ایک ان دیکھی بلا کے روپ میں یہ آندھی کی طرح چار سو پھیل گئی۔اس نے اپنے سوداگروں پر بھی رحم نہ کھایا۔وہ جو اسے ڈھانے کے منصوبے بنا رہے تھے وہ خود بھی اس کے نرغے میں آنے لگے۔ اور موت نے، بنا کسی نسلی و عصبی تفاخر و تفریق کے تمام خلق کے رنج و الم ایک کردیئے۔ ہمارے آنسوؤں اور غموں کی یک رنگی نے ہم میں ایکا کر دیا۔وہ انسان جنہیں دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا واقعہ و حادثہ ایک نہ کر سکا وہ اک دوسرے کے لئے سوچنے لگے۔وہ اپنے مشترک دشمن کی پامالی کے لئے ایک ہو کر ایک ہی دل اور روح سے دعا کرنے لگے۔اپنے گھر کو ہی اپنی مسجد، کلیسا، مندر یا گرجا بنائے، ہاتھ اٹھا کر گڑگڑا کر، دنیا کے کسی بھی براعظم میں بسنے والے انسان کی خیر کو طلب کرنے لگے۔ آج آہیں، سسکیاں، بین تمام دنیا میں سنے جا رہے ہیں۔ وہ لوگ جو مذہبی جنونیت کی آڑ میں مفادات کا کھیل کھیل رہے تھے وہ کچھ دیر کو سہی لیکن ٹھہر گئے ہیں۔ اور نہ ٹھہرنے والوں کو رگید رہے ہیں۔ دنیا کی سپر پاور کا بھی بیانیہ بدل رہا ہے وہ مدتوں سے اکثریت کی نفرت و وحشت اور مذہبی جنونیت کو سہنے والی اک ایسی مفلس قوم کے لئے آواز اٹھانے لگی ہے جنہیں ہمیشہ سے دہشت گرد کہتے اس کی زبان تک نہ سوکھتی تھی۔وہ کہہ رہی ہے ”خدارا! اپنے مسلم شہریوں کو اس وبا کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان پر ظلم ڈھانے کا نیا فارمولہ ایجاد نہ کرو، باز رہو اس بہتان سے۔اس وقت دنیا کسی نسلی و عصبی فساد کی متحمل نہیں ہوسکتی“ کیا واقعی مایوسی و قنوطیت کے بھنور میں ڈوبتے انسان اک دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یا درد میں اتنی تاثیر ہوتی ہے کہ اس کی زد میں آنے والوں کے دکھ سانجھے ہو جاتے ہیں؟ یا پھر یہ ایک وقتی بدلاؤ ہے؟ یا مفادات ہی کاکوئی گھن چکر؟

لیکن یہ سچ ہے کہ اس بار موت نے اپنا جو رنگ دکھایا ہے اس سے بڑوں بڑوں کے دل دہل گئے ہیں۔ موت یکبارگی آئے تو آبادیوں کو تہس نہس کر کے چلتی بنتی ہے۔وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتی بس کچھ دن کے لئے اپنے پیچھے ماتم چھوڑ جاتی ہے۔لیکن جب موت ہمارے احساس کی رگوں میں اتر کر قطرہ قطرہ، جاں کے گھونٹ پینے لگے تو زندگی موت سے بھی بھیانک ہو جاتی ہے۔ موت سے بھی کہیں ذیادہ بھیانک شے ہے، موت کا خوف۔ وہ خوف جو انسا ن کو لاحق کسی بھی طرح کے خوف میں سب سے عظیم ہے۔ جس سے چھٹکارہ پانے کے لئے انسان خود اپنے ہاتھوں اپنی جان بھی لے سکتا ہے۔ جنگ، وبا اور قحط کے دن ایسی اموات کے لئے بہت سازگار رہتے ہیں۔جب گھروں میں یا حالات کی قید میں مقید، زندگی کی امید وبیم میں مبتلا لوگ موت کے خوف سے تھر تھر کانپتے ہوئے مر جاتے ہیں۔ وہ وقت جب زندگی موت کے گھپ اندھیرو ں میں اپنے ہونے کا جواز کھونے لگتی ہے۔

دیکھا جائے تو زندگی پہلے بھی ناک کی سیدھ میں چلتے چلے جانے کا نام ہی بن کے رہ گئی تھی۔ اس کی گھٹن ہماری ہڈیوں میں اترنے لگی تھی۔ سماج کی روایتوں اور خاندانوں کے ریتی رواج اسے کھا گئے تھے۔ زندگی تو پہلے بھی بہت مدت سے امید کی کھڑکی کے پاس بیٹھی روشنی کی کسی کرن کو ترستی تھی۔ سیمنٹ کی آسمان بوس عمارتوں کے بیچا بیچ مٹی سے لتھڑا آسمان روشنی کا ہر راستہ اس تک پہنچنے سے پہلے ہی کٹ جاتا تھا۔۔زندگی تو پہلے بھی بے مقصد ڈگمگاتی پھرتی، بے ہنگم گاڑیوں کے اتھل پتھل ہجوم میں اپنا راستہ بھول چکی تھی۔ یہ بڑھتا شور اور ہنگام اس کے حواس کو مجروح کئے ہوئے تھا۔ یہ پہلے بھی کئی قرنوں سے جھوٹی سچی خواہشو ں کے جنازے پر ماتم کناں تھی۔ لیکن زندگی میں پھر بھی زندگی موجود تھی۔ ہم روز ایک نئی امید کے سہارے جیتے تھے۔ اپنی محرومیوں سے نبرد آزما ہونے کی خود میں طاقت بحال کرتے تھے۔لیکن اب کے محرومی کا ایک ایسا بھنور اٹھا ہے کہ جس نے ہمارے قدم بھینچ لئے ہیں۔ہم اپنوں کو آنکھ بھر کر بھی دیکھ نہیں پاتے۔اک دوسرے سے نظریں چرائے چرائے پھرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنوں کا جنازہ بھی ٹھیک سے اٹھا نہیں پا تے۔ کیسا ستم ہے کہ کوئی اپنے پیارے کو خود اپنے ہاتھوں سے اگر لحد میں اتار نہ پائے۔ کیسی بے بس ہے وہ ماں جو اپنے جگر گوشے کو اس تکلیف میں اپنے سینے سے بھینچ نہ پائے۔ جب ہم اپنے شہر کو آنکھ بھر کر دیکھنے سے بھی محروم کر دیئے جائیں۔ معلوم ہی نہیں کس اوٹ میں، کس کی آڑ لئے، کس کس جا پر موت ہماری گھات لگائے بیٹھی ہو۔اور ہم اس سے مہلت بھی مانگ نہ پائیں۔جب ہر گام موت کی چاپ سنائی دینے لگے۔ ایسے جیسے ہوا کے جھونکے میں بھی یہ لپٹی ہوئی آئے گی اور ہمارے ہاتھوں پر ہمارے بدن پر ٹھہر جائے گی۔پھر ایک انگڑائی کے ٹوٹنے سے بھی پہلے ہمارے حلق میں اتر کر ہمارے پھیپھڑوں کو کھا جائے گی۔کیا ہم اتنے ہی بے بس ہو چلے ہیں کہ اسے اپنے حلق میں اترنے سے روک بھی نہیں پاتے۔

ہم نے تو بارود کے ڈھیر لگا رکھے تھے۔ انسان کی نسل کو ملیا میٹ کرنے کی طاقت پر قادر ہو چکے تھے۔ ہم تو عالمی جنگ کی بھٹی سلگھانے ہی والے تھے۔ آبادیو ں میں صف ماتم بچھانے کے کئی منصوبے بنا رکھے تھے ہم نے۔ مطلب ہم موت کو ڈھا تو سکتے ہیں لیکن خود کو موت سے بچا نہیں سکتے۔ امید کی کھڑکی سے ٹیک لگائے اپنی خالی خالی آنکھوں سے دور سے اپنی رخصت کو جانے والی زندگی کو دیکھ تو سکتے ہیں اسے روک نہیں سکتے۔ ہمارا حال تو غار میں پھنسے ان دوستوں جیسا ہوگیا ہے جو باہر نکلنے کا راستہ پانے کی خاطر باری باری اپنے کسی نیک عمل کا ذکر سناتے ہیں کہ شاید کسی طور خدا اس بھاری بھرکم پتھر کو ان کی کی گئی ایک نیکی کے صدقے غار کے منہ سے سرکا دے۔شاید زندگی، زندگی کی طرف لوٹ آئے۔

وبا کے یہ دن تو گزر جائیں گے لیکن بھوک اور افلاس کی نئی فصل اگا کر جائیں گے جنہیں انسان کو اپنی بے بسی و لاچاری سے کاٹنا ہی ہوگا۔دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں بھی لڑکھڑا جائیں گی۔ امکان ہے کہ وحشتوں اور چھینا چھپٹی کی ایک نئی داستان رقم ہونے لگے۔

سوچنا یہ ہے کہ کیا اب بھی ہماری بے بسی و کرب کی یکتائی ہمیں یکجا کر سکے گی۔ ہم اپنی خونی خواہشوں اور مفادات سے باہر نکل کر انسان اور زندگی کے بارے کچھ سوچ سکیں گے۔ کیا دنیا کی بڑی طاقتیں کمزوروں اور حالات کا رگڑا کھائے ہوؤں کے لئے کچھ بہتر سوچیں گی یا وبا کے دنوں کے رخصت ہو جاتے ہی پھر سے سر جوڑ کر تیسری عالمی جنگ کے کسی ایسے فارمولے کو سوچا جائے گا کہ جس میں موت کی تقسیم عین ہمارے ارادوںاور فارمولوں کے مطابق ہو۔ کچھ اس طرح کہ دنیا تو بارود کے مرغولے میں کہیں کھو جائے لیکن ہمارا جسم، ہمارے گھر ہماری کھیتیاں کبھی آگ نہ پکڑسکیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20