زندگی کے تعاقب میں : عرفان خان —- خرم سہیل

0

زندگی عرفان خان سے دو قدم آگے چل رہی تھی، یہ بات اُن کے لاشعور میں کہیں موجود بھی تھی، البتہ اندر سے پھوٹنے والے احساسات کا مسلسل بہائو کبھی کبھی اُنہیں اس بات کا عرفان دیتا تھا کہ ان کی زندگی اتنی عام بھی نہیں، جس کو وہ کسی دوکان پر سودا بیچتے ہوئے گزار دیں۔ ان کی ذات میں احساسات کی یورش اور جنون کا لاوا کسی منفردبے چینی کو جنم دے رہا تھا۔ عرفان خان کی زندگی میں اسی کسک نے برقی توانائی کا کام کیا۔ اُنہیں ناکامی کے کسی لمحے میں مایوسی نہیں ہونے دی، نہ ہی جدوجہد کے کسی موڑ پر تھکنے دیا، ہرچند کہ اُن کی زندگی ایک طویل عرصے تک امتحان گاہ بھی بنی رہی، لیکن وہ ایک بنجارے کی مانند، اپنے اندر کی آواز پر کان دھرے، اپنی ان دیکھی منزل کی طرف گامزن رہے، فن کی وہ بلندی، جہاں فنکاراپنے فن میں فنا ہو جاتا ہے۔

ایک صدی سے زائد عرصہ ہوا، ہندوستانی سینما میں فلمیں بن رہی ہیں اور یہ فلمی صنعت دو اقسام کے سینما میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک کمرشل سینما کہلاتا ہے، دوسرے کو آرٹ سینما کہتے ہیں۔ کمرشل سینما تو ہر دور میں جاری رہا، کیونکہ اس سے کمایا جانے والا زرِمبادلہ ہی اس کی سانس کو بحال رکھے ہوئے ہوتا ہے، لیکن آرٹ سینما مزدور کے مشکل دنوں کی طرح طویل جدوجہد سے گزرتا ہے۔ اس کو کبھی باکس آفس کی مار کھانا پڑتی ہے، تو کبھی کہانیوں سے انصاف کرنے والے اداکار نہیں ملتے، پھر جو اداکاری کرسکتے تھے، وہ اس سینما کے اُفق تک پہنچ نہ سکے، جو پہنچ گئے، ان میں اکثریت مقبول نہ ہوسکی۔ جن فنکاروں کی منزل آرٹ سینما تھی، ان میں سے جو کچھ کامیاب بھی ہوئے، وہ بھی کمرشل سینما سے ہوتے ہوئے آرٹ سینما تک آئے۔

عہد حاضر میں اگر چند ایک اداکاروں کے نام لوں، جنہوں نے ہندوستانی آرٹ سینما میں اپناحصہ ڈالا، تو ایسے اداکاروں میں میرے پسندیدہ بالترتیب نصیرالدین شاہ، اوم پوری، عرفان خان، نواز الدین صدیقی، وجے راز، منوج باجپائی اور سنجے مشرا جبکہ اداکارائوں میں سمیتا پاٹیل، شبانہ اعظمی، تبو اور نندیتا داس ہیں۔ اس فلم سازی کی تاریخ جب تک مکمل نہیں ہوسکتی، اگر اس میں مہیش بھٹ، گلزار، وشال بھردواج اور مظفر علی کا ذکر نہ کیا جائے۔ ایسے فنکاروں کے ہاں مادی دولت کی بجائے روحانی تسکین اصل کمائی ہوتی ہے، جس کو وہ حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔

عرفان خان کا بچپن اور اداکاری کا شوق

اس آرٹ آف سینما میں بڑی مشکل سے یہ اداکار میسر آتے ہیں اور عرفان خان کا جانا غضب ٹھہرا۔ اس کے بعد منظر نامہ دھندلا ہے، جس طرح عرفان کی آنکھیں مکالمے بولتے ہوئے خمار زدہ رہتی تھیں، کسی کو اُن میں نشیلاپن دکھائی دیتا تو کسی کے لیے اداسی کا رنگ ہوتا تھا۔ عرفان خان کے تاثرات میں پنہاں وہ احساس ہے، جس کو دیکھ کر صرف سمجھا جا سکتا ہے، بیان کرنا مشکل ہے۔ اب چاہے وہ فلم’’مقبول‘‘ کا عرفان ہو یا پھر فلم’’روگ‘‘ کا انسپکٹر اُدے راٹھور، جس کے ہاں بے خوابی کا دوسرا نام زندگی تھا اور پھر چاہے عالمی سینما میں نبھائے گئے وہ کردار ہوں، جن کی کشش میں فلم بینوں کی آنکھیں چندیا ہوئیں۔

عرفان خان کا پورا نام’’صاحب زادے عرفان علی خان‘‘ تھا۔ 1966 کو ٹونک کے نواب خاندان میں پیدا ہوئے، وراثت میں مادی اعتبار سے تونوابی نہ ملی، لیکن مزاج شاہانہ رہا، یہی ادا تھی، جس نے ان کو اداکاری کے منچ پر دوسروں سے منفرد کردیا۔ بچپن اور لاشعوری کی زندگی میں ان کے فن کار کے ظہور میں ترتیب بننے والے عناصر ایک ایک کرکے رکھے، والد کے ساتھ شکار پر نکلے تو شکار کرنے کی بجائے شکار ہوجانے والے پرندے کے خاندان کے بارے میں سوچتے رہتے کہ اب اس کا کیا ہوگا، جب وہ گھر واپس نہیں لوٹے گا، اسی طرح ریڈیو جے پور سے نشر ہونے والی کہانیاں ہوں، یا پھر بی بی سی ہندی سے پیش ہونے والی کہانیوں کے کردار، ان سب کے ساتھ اپنا تعلق گہرا کرتے رہے۔

نینشل اسکول آف ڈراما میں اپنے ہم جماعتوں کے ہمراہ

اپنے ایک رشتے کے چچا سے تھیٹر اور سینما کی چاہت مستعار لی، ٹونک میں واقع نانی کے گھر پر اپنے احساس کی گرہ کھولتے اور باندھتے رہے، جے پور میں اپنے والدین سے خاموش تربیت بھی لی، لیکن روایتی اعتراف کبھی نہ کیا۔ جب جے پور کے مقامی تھیٹر میں پہلا ناٹک کیا، تو والد بھی دیکھنے آئے، اس کے باوجود، ان کے گھر میں یہ سب کچھ بہت زیادہ اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ والدہ چاہتی تھیں، پروفیسر بنیں، تدریس میں نام کمائیں، والد کا خیال تھا، کاروبار سنبھالیں یا کوئی ہنر سیکھیں اور ایک طرف صاحب زادے تھے، ان کے اندر کا فنکار انہیں دریافت کرنے پر تُلا ہوا تھا۔
جے پور میں اپنی روایتی تعلیم مکمل کی، پتنگ بازی اور کرکٹ میں بھی دلچسپی رہی، لیکن پہلی محبت اداکاری ہی تھی، متھن چکروتی، امیتابھ بچن اور آگے چل کر نصیر الدین شاہ کے اثرات ان کی زندگی میں نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں، لیکن اداکاری میں اپنی الگ راہ نکالی۔ کسی سے جب یہ سنا کہ دہلی میں نیشنل اسکول آف ڈراما میں اداکاری کی تربیت دی جاتی ہے، تو انہوں نے وہاں اپنے داخلے کو زندگی موت کا مسئلہ بنالیا اور پھر وہاں داخلہ مل بھی گیا۔ وہاں پہنچ کر ان کو یقین ہوا، یہ زندگی کی بازی جیت لیں گے اور آخرکار جیت کر ہی رہے۔

1989 میں نیشنل اسکول آف ڈراما سے فارغ التحصیل ہوئے، اس عرصے میں اپنے آپ کو کھوجنے میں بھی انہیں کامیابی ہوئی۔ ایک طرف پڑھائی تھی تو دوسری طرف شعور کی نئی منزلیں طے کرنے کا سلسلہ تھا، ان کے ہم جماعت زندگی کی دوسری سہولتوں سے بھی مستفید ہوتے، لیکن عرفان خان کی توجہ اپنے کرداروں پر ہوتی، ایک کے بعد دوسرے اسکرپٹ پر کام کرتے دکھائی دیتے، مقامی اور عالمی ادب سے مستفید ہوتے۔ یہی وہ دور ہے، جب انہوں نے ہندوستانی اور پاکستانی ادب کے علاوہ روسی کلاسیکی ادیبوں کو بھی پڑھا، دیگر عالمی ادب سے بھی مستفید ہوئے۔ ان کا یہ رنگ بھی ان کے فنکار ہونے میں بہت معاون ثابت ہوا۔ تھیٹر چونکہ ان کی منزل نہیں تھی، جیسا اورجتنا کی بنیاد پر جو کچھ حاصل ہوا، وہاں سے لے کر آگے بڑھ گئے۔

ان کے ادبی ذوق کے توکئی حوالے ہیں، جس سے ان کی شخصی و فکری تعمیر کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ٹیلی وژن کے دور میں ایک ڈرامے ’’کہکشاں‘‘ میں بائیں بازو کے معروف بھارتی شاعر مخدوم محی الدین کا کردار نبھایا، اس ڈرامے کو معروف بھارتی شاعر علی سردار جعفری نے پروڈیوس کیا تھا۔ عرفان خان کو سعادت حسن منٹو بھی بہت پسند تھے۔انڈیا میں بنائے جانے والی فلم ’’منٹو‘‘ کا پہلا انتخاب یہی تھے، لیکن پیشہ ورانہ مصروفیت کی وجہ سے اس فلم میں شامل نہ ہوسکے، بلکہ 2016 میں جب دہلی میں اردو شعرو ادب کی ترقی وترویج کے لیے کوشاں ’’ریختہ‘‘ ادارے کے تحت ہونے والے جشن ریختہ میں بھی عرفان خان شریک ہوئے، مشاعرہ بھی سنا اور پاکستان کے شاعر انور مسعود کے کلام سے بے حد متاثر ہوئے، مشاعرے کے بعد کھانے پر پاکستانی وفد سے ملے، جن میں انور مسعود کے علاوہ معروف ادیب حمید شاہد، سید کاشف رضا، معروف فلم ساز سرمد سلطان کھوسٹ اور دیگر موجود تھے، اس ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے سید کاشف رضا نے مجھے بتایا۔

فلم ساز مہیش بھٹ کے ہمراہ

’’بھارت میں فلمی ستاروں کی اپنی ایک شان و شوکت ہوتی ہے، ان کے لیے لوگ بہت جذباتی ہوتے ہیں، اسی لیے جب ہم وہاں جشن ریختہ میں شریک ہوئے تو عرفان خان سے ملاقات کا بھی اتفاق ہوا۔ وہ جب ہم سے ملے، تو ان کی پوری توجہ انور مسعود پر تھی، جو تھوڑی دیر پہلے لان میں ہونے والا مشاعرہ لوٹ کر آئے تھے اور محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ باقی لوگ وہاں نشست میں موجود ہی نہیں ہیں، ان کی یہ بات مجھے تھوڑی عجیب سی لگی، اس کے علاوہ پاکستانی فلم منٹو کا ذکر نکلا تو انہوں نے سرمد سے صاف طور پر اس فلم کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ مجھے لگا، جیسے انہیں ادبی و فنی تخلیقات سے متعلق اپنی رائے کے بارے میں بہت زیادہ اعتماد تھا۔ البتہ انور مسعود سے بہت عاجزی سے بات چیت کرتے رہے، بلکہ عرفان کے ایک ساتھی نے تعارف کروانے کی کوشش کی تو اسے منع کر دیا، کیونکہ انور صاحب نے کہا کہ میں آپ کو نہیں پہچانتا کیونکہ میں فلمیں نہیں دیکھتا، تو عرفان نے بھی اس کے بعد فلموں کی کوئی بات نہیں کی اور ان کے بارے میں ہی بات چیت کرتے رہے، اس موقع پر بھارتی ادبی صحافی زمرد مغل بھی موجود تھے، جو سارے وفد کے اراکین اور ان کے ادبی قدو قامت سے بخوبی واقف تھے۔ اس موقع پر میں نے اور دیگر قلم کاروں نے بھی ان سے بات کرنے میں زیادہ دلچسپی بھی ظاہر نہیں کی، تو اس لیے زیادہ گفتگو انور صاحب اور عرفان کے مابین ہی ہوئی۔‘‘

جشن ریختہ میں عرفان خان پاکستانی وفد سے محو گفتگو ، جس میں انور مسعود ، شاہد حمید ، سید کاشف رضا اور دیگر موجود ہیں

اسی تناظر میں عرفان خان کی ادب دوستی کا ایک اور مستند حوالہ معروف بھارتی ناول نگار اور نقاد شمس الرحمن فاروقی سے عقیدت ہے۔ انہوں نے ان کا ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کا ہندی ترجمہ پڑھا اور بہت متاثر ہوئے۔ اس ناول کی بابت گفتگو کرنے کے لیے ان سے خصوصی ملاقات کی اور اس پر فلم بنانے کی اجازت بھی لی، مگر وہ معاملہ بھی کہیں پیچھے رہ گیا۔ بالی ووڈ میں ان دنوں معروف ہندوستانی پنجابی ادیبہ و شاعرہ امرتا پریتم اور معروف ترقی پسند شاعر ساحر لدھیانوی کی رومانوی داستان پر فلم بنانے کی بات ہو رہی تھی، اس میں بھی فلم سازوں کی نگاہ ِ انتخاب عرفان خان پر ٹھہری، لیکن وقت ظالم چال چل گیا اور یہ بات بھی ادھوری رہ گئی۔ عرفان خان کا فلمی کیرئیر بھی ولیم شیکسپیئر کے ڈرامے ’’میکبیتھ‘‘ پر بننے والی فلم ’’مقبول‘‘ سے شروع ہوا۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں، ان کے فنی سفر میں ادب سے ان کا چولی دامن کا ساتھ رہا اور اس کے گہرے نقوش ان کے فلمی سفر پر مرتب ہوئے۔

https://images.dawn.com/news/1174653

1986 سے ٹیلی وژن پر ان کے فنی سفر کی ابتدا ہوئی۔ لاتعداد ڈراموں میں کام کیا، جن میں چانکیا، سارا جہاں ہمارا، بنے گی اپنی بات، چندر کانتا، ڈر، کہکشاں، بھنور اور دیگر شامل ہیں، لیکن ٹیلی وژن میں ان کا دل نہیں لگ رہا تھا، ایک دہائی سے بھی کچھ زیادہ عرصے تک، یہ اس کوشش میں رہے، کسی طرح ان کو فلموں میں کام مل جائے، اس کے لیے ایک نئے اداکار کوجتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ انہوں نے کیا، لیکن ہمت نہ ہارے۔ مقبول فلمی کیرئیر کے بعد بطور میزبان ٹیلی وژن سے بھی جڑے رہے۔

1988 میں معروف ہندوستانی فلم ساز میرا نائر کی فلم ‘‘سلام بمبئے‘‘ میں اداکاری کی پیشکش ہوئی، اس کی عکس بندی کے لیے ان کو مدعو بھی کر لیا گیا، لیکن عین عکس بندی کے موقع پر انہیں اس فلم سے الگ کر دیا گیا، جس کے غم میں یہ رات بھر روتے رہے، البتہ ان کی تشفی کے لیے ایک مختصر سا کردار دیا گیا، جس سے ان کے بڑے بڑے خوابوں کی تکمیل ہونا ممکن نہ تھی۔ یہی توڑ پھوڑ ان کے کام آئی، ان کے اندر کی چنگاریاں بھڑکیں اور شدت سے اپنے کرداروں کو تلاش کرنے لگے۔’’دی وارئیر‘‘ فلم سے یہ فلم بینوں کی نظر میں آئے، پھر انہیں جب ’’حاصل‘‘ اور ’’مقبول‘‘ جیسی فلموں میں کردار ملے، تو انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کیا، لیکن پھر بھی انہیں بالی ووڈ میں اپنی دھاک بٹھانے میں دو دہائیاں لگ گئیں۔

2005 میں مہیش بھٹ کے فلم ساز ادارے کی فلم ’’روگ‘‘ میں ان کو مرکزی کردار ملا، اس فلم کو مہیش بھٹ نے لکھا تھا، ان کے فلمی سفر میں یہ فلم سنگ میل تھی، جس نے ثابت کر دیا کہ عرفان خان ایک بڑے اداکار ہیں۔ 2007 میں عرفان خان اور مہیش بھٹ کراچی بھی تشریف لائے، کارا فلم فیسٹیول کے منتظم محمد زیدی نے ان کو مدعو کیا تھا اور وہ ان کے ساتھ ایک فلم بھی بنانا چاہتے تھے، جس کو معروف انگریزی ناول نگار محمد حنیف اور محمد زیدی نے مل کر لکھا تھا، لیکن دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ بھی ادھورا رہ گیا۔ یہ وہ دور ہے، جب میں بھی عملی صحافت میں قدم رکھنے والا تھا اور اس فلم سے خاص طور پر بہت متاثر تھا، لیکن افسوس رہے گا کہ میں عرفان خان سے نہ مل سکا، اس کے بعد ہندوستان سے جتنے فنکار آئے، بشمول مہیش بھٹ، پوجا بھٹ، نصیرالدین شاہ، اوم پوری، وشال بھردواج، مظفر علی، نندیتا داس اور دیگر کے ساتھ مجھے مکالمے کا موقع ملا، بلکہ عرفان کی زندگی کی آخری فلم ’’انگریزی میڈیم‘‘ ان کی سپرہٹ فلم ’’ہندی میڈیم‘‘ کا سیکوئل تھی، اس کے ہدایت کار ’’ساکت چوہدری‘‘ کا بھی ایک تفصیلی انٹرویو کیا اور بہت سارے بھارتی فنکاروں کے ساتھ عرفان خان کے بارے میں بھی بات چیت کی اور بات کرنے کا موقع نہ ملا تو عرفان خان سے نہ ملا، یہ ملال زندگی بھر رہے گا۔ انہوں نے دو پاکستانی فنکاروں کے ساتھ بھی کام کیا اور دونوں فنکاروں نے اسے اپنا خوشگوار تجربہ کہا، ان میں ہمارے معروف اداکار عدنان صدیقی اور مشہور اداکارہ صبا قمر شامل ہیں۔

مہیش بھٹ کے ہمراہ عرفان خان کراچی پریس کلب میں ، تصویر عمرخطاب اور دیگر صحافی بھی نمایاں ہیں

نئی صدی کی شروعات عرفان خان کی زندگی میں بھی نئے دور کی ابتدا تھی، ایسا دور، جس میں وہ امر ہونے والا تھا، اس پر شہرت کی دیوی مر مٹنے کے لیے تیار تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک ایسے فلمی ستارے کے طور پر ابھرنے لگے، جس کے ہاں دونوں طرح کے سینما کا امتزاج شامل تھا، جس کی اداکاری حقیقت سے اتنی قریب تھی، جب وہ عام زندگی میں بھی بات چیت کرتا، تو محسوس ہوتا اداکاری کر رہا ہے اور اداکاری کے وقت لگتا، یہ اپنے عام بول چال کے انداز میں بات کر رہا ہے، آنکھوں سے مکالمہ، چہرے کے تاثرات سے گفتگو، اپنے جسم کی حرکات و سکنات اور آواز کے اتار چڑھائو سے کرداروں میں سحر پھونک دینے کا ہنر اس پاس موجود تھا۔ ان کی چند معروف فلموں میں، جن کے بغیر ہندی سینما کی تاریخ ادھوری رہے گی، ان میں مقبول، پان سنگھ تومار، لنچ باکس، مداری اور ہندی میڈیم ہمیشہ سرفہرست رہیں گی، جن کو دیکھنا بہت ضروری ہے اگر آپ عرفان خان کی اداکاری کے رموز کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

https://www.dawnnews.tv/news/1041181/

عالمی سینما میں ’’دی واریئر‘‘ کے بعد نیم سیک، اے مائٹی ہارٹ، سلم ڈاگ ملینئر، دی آمیزنگ اسپائڈرمین، لائف آف پی، جراسک ورلڈ، ٹوکیو ٹرائل، پزل اور انفرنو جیسی شاہکار عالمی شہرت یافتہ فلمیں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بہت ساری عالمی فلموں اور ڈراما سیریز میں کام کیا، لیکن یہ کام سرفہرست تھا، جس کا یہاں میں نے تذکرہ کیا۔ کئی معروف اشتہاروں میں بھی کام کیا، جس میں ایک پاکستانی بسکٹ کا اشتہار بھی شامل ہے۔ ہندوستان کے چوتھے بڑے سرکاری اعزاز پدما شری سے نوازے گئے، اس کے علاوہ بہت سارے اہم ایوارڈز اپنے نام کیے۔ بھارتی مصنف ’’اسیم چھاپڑا‘‘ کی عرفان خان پر لکھی ہوئی کتاب بھی ان کی زندگی کے نشیب و فراز کی داستان کو دلچسپ انداز میں بیان کرتی ہے۔

عرفان خان کی زندگی پر ایک طائرانہ نظرڈالی جائے تو ہوش سنبھالنے کے بعد کئی دہائیاں انہیں اپنے آپ کو سینما کے پردے تک پہنچانے میں صرف کردیں۔ یہ اپنی زندگی کے تعاقب میں رہے، کہیں ٹھہرے نہیں، چلتے رہے۔ اپنی زندگی کی آخری دو دہائیوں میں اتنا کام کیا، لگتا ہے، جیسے ان کو پتہ تھا کہ ان کے پاس وقت کم رہ گیا ہے۔ اس بات کی تصدیق ان کی شریک حیات ’’ستاپا سکدر‘‘ نے بھی ایک انٹرویو میں کی۔ وہ بھی ان کے ساتھ نیشنل اسکول آف ڈراما میں ہم جماعت تھیں، پھر زندگی کی ہم سفر بھی ہوگئیں۔ عرفان خان کے خوابوں کی تعبیر ہوتے ہوئے انہوں نے دیکھی۔

Book-on-Irrfan-Khan-Title

عرفان خان زندگی کے پیچھے پیچھے، بہت دور نکل آئے۔ شہرت پالی، دولت سمیٹ لی، دل کا اطمینان بھی ملنا شروع ہوگیا تھا، لیکن اب وہ کچھ خاص کہنے کے درپے تھے، اپنی کوئی خاص کہانی زندگی میں کہنا چاہتے تھے کہ یہاں پہ زندگی نے ان کو ٹوک دیا۔ زندگی ان سے مخاطب ہوئی، گویا اب وقت رخصت تھا، تو انہیں سرطان لاحق ہوا گویا اُن کو زندگی کے اور طرح کے معانی آشکار ہوئے، جس کو دوران علاج ایک خط کی صورت میں اُنہوں نے لکھا، جس میں وہ درد کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتے چلے گئے، لندن کاوہ ہسپتال، جہاں وہ زیر علاج تھے، سڑک پار لارڈ کا مشہور کرکٹ گرائونڈ تھا، جو کبھی بچپن میں ان کے خوابوں کا مکہ تھا، لیکن زندگی کے اس موڑ پر نہ تو ان کی نہ کھیل میں دلچسپی رہی، نہ کسی ناٹک میں، زندگی صرف مجسم درد میں بدل گئی تھی، وہ درد اپنی شدت بڑھاتا چلا گیا، حتیٰ کہ عرفان خان کے بقول پوری کائنات اس درد میں سمٹ آئی۔ زندگی کے اس تعاقب میں عرفان خان کامیاب رہے، جس رفتار سے وہ زندگی سے قدم ملا کر چلے، وہ کسی بھی جدوجہد کرنے کے والے کے لیے مثالی ہے اور اداکاری کی تاریخ میں عرفان خان کو زندہ رکھنے کے لیے کامل، وہ جو رُکے تو کامیاب ہی ٹھہرے۔

https://www.bbc.com/urdu/entertainment-44543860

لندن میں زیرعلاج دنوں کی ایک تصویر، دنیا سے منہ موڑے ہوئے

میری نظر میں نئی صدی کے آغاز پر انہوں نے اپنی رفتار بڑھائی تھی، اس سفر میں بھی ایک بار زندگی، ایک کردار کا روپ ڈھال کر اُن سے مخاطب ہوئی، وہ کردار فلم ’’روگ‘‘ کا کردار تھا، جس میں ایک ڈاکٹر کے ساتھ بولے گئے مکالمے ہی ان کی زندگی کے آخری خط کے مکالموں کی بنیاد بنے۔ مکالمے میں بھی چلتی ہوئی ٹرین اور پھر اس کو رُوک دینے کی خواہش کا تذکرہ ہے، خط میں بھی چلتی ہوئی ٹرین اور اس کے رُک جانے کے دُکھ کی روداد ہے۔ پندرہ برس پہلے زندگی نے جو اشارہ دیا تھا، اس کو پوری طرح وہ پندرہ برس بعد سمجھے اور پھر خط میں اس کی تفہیم کی۔ اس فلم کے مکالمہ کاایک اقتباس کچھ یوں ہے۔

پچھلے گرووار کو میں نے اپنی جان لینے کی کوشش کی، کوئی خاص وجہ نہیں ہے، کوئی تنائو بھی نہیں ہے، من اُوبھ گیا ہے۔ وہی شور آوازیں، گھر تھانہ، تھانہ گھر، آئے دن اپنی قمیض سے خون کے دھبوں کو دھونا، شکایت نہیں ہے، اب پولیس کی نوکری کی ہے، اتنا تو ہوگاہی، عجیب سا احساس ہے من میں عجیب، جیسے روز نیا دن نکلتا ہے، میں وہی پرانا ہوں، دنیا وہی پرانی ہے، ویسے ہی چلی جا رہی ہے، مجھے لگا بھائی یہ جو زندگی کی گاڑی چل رہی ہے، اس کی میں چین کھینچتا ہوں اور میں اتر جاتا ہوں۔۔۔۔۔‘‘ اور زندگی کے آخری خط میں عرفان لکھ رہے ہیں ’’اس دنیا میں غیر یقینی ہی یقینی ہے اور یہ کہ وہ بہت سے منصوبے اور خواب لیے اپنی ہی ترنگ میں تیزی سے چلتے چلے جا رہے تھے کہ اچانک ٹکٹ کلکٹر نے پیٹھ پر تھپکی دی کہ آپ کا اسٹیشن آرہا ہے، پلیز آپ اتر جائیں۔۔۔۔‘‘

اسٹیشن آچکا، زندگی کی گاڑی سے اتر کر عرفان خان جا چکے اور زندگی کی پرچھائیوں کا تعاقب ختم ہوچکا، کہانی رک چکی، کیمرے اور لائیٹس آف ہوچکیں، درد تھم چکا، اب صرف دکھ کی دُہائی ہے، جو جاری ہے، ان کے بچھڑجانے کا غم ہے، جو قائم ہے۔ اپنے محبوب فنکار کے لیے قلمی خراج ہے، جو نچھاور ہے اور من ہے کہ اُوبھ سا گیا ہے بس فقط یہی ہے۔۔۔۔۔

 

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20