فضا لیتی ہے ہر شے کا حساب آہستہ آہستہ —- فرحان کامرانی

0

کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو فیس بک پر دیکھی۔ ایک سیکیورٹی کی گاڑی آکر ایک جگہ رکی۔ ایک سکیورٹی گارڈ اترا اور سڑک کے کنارے سوئے کتے کے قریب گیا اور اسے گولی مار دی۔ وہ بیچارہ تڑپا اور اپنے زخم کو چاٹنے کی کوشش کی۔ بلاخر بیچارہ تڑپ تڑپ کر مرگیا۔ یہ ویڈیو دیکھ کر میرا دل بہت دکھا۔ ویڈیو بحریہ ٹاؤن کی تھی۔ معلوم ہوا کہ وہا ں اسی طرح بیچارے کتوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میں بہت کمزور آدمی ہوں مگر اپنی زندگی میں مجھے سب سے زیادہ اپنے کمزور ہونے کا احساس تب ہوا جب میر ے محلے کے چند نام نہاد ٹھیکیداروں نے ایک ایسے ہی ایک مظلوم کتے کو گولی مار دی تھی۔وہ بیچارا ہمارے دروازے پر پڑا رہتا تھا اسکا قصور صرف یہ تھا کہ فطرت نے اسکے ہاتھ میں بندوق نہیں دی۔ انسان سے خوفناک کون سا جانور ہے؟ اتنا خوفنا ک کہ سوتے ہوئے جانور کو گولی مار سکتا ہے جبکہ اس جانور نے اسکا کچھ نہیں بگارا۔

مگر انسان کا یہ بھیانک رویہ ہے کیوں اور اسکی توجیح کیا ہے؟ انسان کا خیال ہے کہ کائنات دراصل اسکے لئے ہے۔ وہ اسکا حاکم ہے اور اسکا جو دل چاہے وہ کرسکتا ہے۔ یہ ہی خیال ایک جانب سائنس و ٹیکنالوجی کے نام نہاد انقلاب کی بھی بنیاد ہے اور انسانوں کی پہاڑوں پر چڑھنے، نامعلوم جھیلوں تک جانے اور اُنمیں پلاسٹ بیگ اور ڈائپر پھینک کر پکنک منانے کی بھی بنیاد ہے۔ اسی غلیظ خیال کو اپنا نعرہ بنا کر انسان نے جانوروں کی ہزاروں اقسام کو مٹا کر رکھ دیا۔ یہی غلیظ خیال انسانوں کو معصوم بھیڑ کے معصوم بچوں کو ذبح کرکے انکی کھال کی قراقلی ٹوپی بنانے کی ہمت دیتا ہے اور اسی غلیظ نظریے کو اپنی تلوار بنا کر انسان نے ہزاروں جانوروں کو دنیا سے ناپید کردیا۔ کیسپین ٹائیگر اب وجود نہیں رکھتا۔گینڈا اور ہاتھی بس ختم ہونے کو ہیں۔ ہزاروں قسم کے پرندے مٹ گئے۔ انسان نے جنگل کاٹ دیے، اپنی آسانی کیلئے ہر جگہ سڑکیں بنادیں۔ گلیشیر انسانی مشینوں سے نکلے والے کاربن دے آلودہ ہوئے اور پگھل گئے اور اوزون کی سطح کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

13 Daily Habits of Human Beings That are Killing the Environment ...انسانوں کو صرف انسانوں کا دکھ نظر آتا ہے۔ ہم یہ دکھ سے کہتے ہیں کہ سفید فاموں نے ریڈ انڈینز کو مار مار کر ختم کردیا۔ مگر پوری نوع انسان نے جانوروں کے ساتھ کیا کیا؟ خالی زمینوں پر اُگی جھاڑیاں تک اُکھاڑ ڈالی جاتی ہیں کہ اُن سے علاقے کی”خوبصورتی“ کم ہوتی ہے۔ہر جھاڑی کے ساتھ سیکڑون جاندار مرتے ہیں۔ سینکڑون پرندے دَم توڑتے ہیں۔ انسانی ہوس اور بھوک ایک اتنی خوفناک شے ہے کہ کائنات کا ہر جاندار انسانوں کو دیکھ توبہ کرتا ہوگا۔ انسان کو بلو وھیل کھانی ہے۔ ڈولفن کو کھانا نہیں مگر مار ڈالنا ہے۔ شارک کی پیٹھ پر لگی نوک کاٹنی ہے اور گینڈے کی سینگ سے اپنی مردانہ کمزوری کا علاج کرنا ہے۔ ہر پہاڑ پر اپنے جھنڈے گاڑنے ہیں، ہر زمین کو اپنی مکروہ قدم سے روندنا ہے۔

ویسے تو انسان نے ہمیشہ جانوروں کو بہیمیت کی تصویر بنا کر پیش کیا مگر جانوروں نے کبھی اپنی فطری حدود سے تجاوز نہیں کیا۔ کبھی شیر نے اتنے ہرن نہیں مارے کہ دنیا سے ہرن ہی مٹ جائیں۔ کبھی شارک نے اتنی مچھلیاں نہیں کھائیں کہ کسی خاص نسل کی مچھلی ہی ناپید ہوجائے۔ انسان وہ بھیانک جانور ہے جو کہ ساری کائنات کو اپنے باپ کی جائداد سمجھتا ہے۔ وہ درختوں کو کاٹ سکتا ہے۔ معصوم بے زبان جانوروں کا قتل عام کرسکتا ہے۔ سمندروں میں زہریلے مواد پھینک سکتا ہے اپنے کالے کرتوتوں سے گلیشئر پگھلا سکتا ہے۔ انسان نے جنگل نہیں چھوڑے، صحرا نہیں چھوڑے، دریا اور سمندر نہیں چھوڑے۔ دنیا کو ایسے نچوڑا کہ جیسے کسی دوسری مخلوق کا تو اس پر کوئی حق ہی نہیں۔

انسان کسی بھی جانور کو مار ڈالنے کا لائسنس اپنے پاس رکھتے ہیں۔ کوئی بھی جانور موزی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اور انسان دنیا کے کسی بھی کونے، کسی بھی کنارے کو اپنی تفریح کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ عظمت انسان کے گیت گانے والوں نے انسانیت کو بے حد مغرور کردیا۔ انسان جھلیوں پر جاتے ہیں تو انہوں یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ جھیل تو انکے ہی انتظار میں ہزاروں سال سے بیٹھی تھی۔ انسان جب کسی جانور کو شکار کرتے ہیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جانور تو شکار ہی ہونے کیلئے ہی تڑپ رہے تھے۔ انسان کی چار دن کی تاریخ اور لاکھوں سال پرانے درخت اور جنگل اسکی میراث!کیا خوش گمانی ہے واہ واہ! کیا زعم ہے!

آج جب انسان ایک جراثیم کی وجہ سے اپنے بھٹ میں چھپے بیٹھے ہیں تو آسمان دوبارہ صاف ہونے لگا ہے اور جانوروں اور درختوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ فطرت اب بدلہ لے گی۔ انسان کو اب حساب دینا ہوگا۔ یہ حساب جاری ہے اور دنیا کی بڑی فصد کھلے گی۔ دنیا کی فصد کھل چکی۔ انسان دنیا کا حقیقی ولن ہے۔ اِس ولن کا صفایا کچھ تو خوف کردے گا اور کچھ کرونا۔ کرونا سے زیادہ خوف۔ انسان اپنے بھٹ میں کب تک چھپے رہیں گے؟ جب باہر نکلیں گے تو فطرت اپنی تلوار سونتے انکے استقبال کیلئے کھڑی ہوگی۔ اور یاد رکھئے کہ اگر ابھی فطرت نے نوع انسان کو معاف بھی کردیا تو بھی سمندری سطح میں انسانی کرتوتوں سے جو اضافہ ہوا ہے وہ تو بہت جلد نوع انسان کو سبق سکھا ہی دے گا۔ سلیم احمد کا شعر ہے،

فضا لیتی ہے ہر شے کا حساب آہستہ آہستہ
اترتے ہیں زمینوں پر عذاب آہستہ آہستہ

فضا حساب لیتی ہے۔ فضا حساب لے گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20