کرونائی صورت حال اور تعلیم کا بدلتا منظر نامہ —- عامر سہیل

1

جب کرونا وائرس کا پھیلاو شروع ہوا تو ہماری حکومت نے 14 مارچ کو ہنگامی طور پر پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کر دیا اور ہر قسم کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کردی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے طلبہ اور اساتذہ نے شروع میں قدرے خوشی کا اظہار کیا کہ چلو کچھ دن مزید آرام کریں گے اور مزے سے وقت گزاریں گے، تاہم کچھ دنوں کے بعد انھیں یہ احساس بھی ستانے لگا کہ وہ کسی اَن دیکھی قوت کے زیر اثر ہیں جس نے سب کو بلاشرکت غیرے ایک نظر نہ آنے والے زندان میں قید کر دیا ہے، ایسی قید جس کی نہ تو کوئی چار دیواری ہے نہ زنجیر و سلاسل، گویا ہم سب فانی بدایونی کے اس شعر کی جامع تصویر بنے ہوئے تھے: ؎           زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں
ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں

لیکن یہ بات خوشی اور اطمینان کی ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے منتظمین کو جیسے ہی اس حقیقت کا شعور حاصل ہوا کہ یہ کرونائی لاک ڈاون ہماری تمام تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ عرصہ یا ایک طول مدت تک اب ہمارے بچے سکول، کالج یا یونیورسٹی میں بیٹھ کر باقاعدہ تعلیم حاصل نہ سکیں تو وہ فوری طور پر متبادل تعلیمی ذرائع اور وسائل پر سوچنے لگ گئے۔ اس عملی سوچ نے کئی نئے راستے دکھائے اور اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ پڑھنے یا پڑھانے والوں کی زبان پر E-Learning، Virtual Learning، Distance Education، Digital Learning اور Supplemental Learning جیسی اصطلاحات رواں نظر آنے لگ گئی ہیں۔ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ ہماری قوم کے زندہ اذہان ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا نہیں بلکہ کرونائی صورت حال میں چھپے تمام ظاہری و باطنی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ اب تو ہمارے پاکستانی بچے ڈیجیٹل شہریت (Digital Citizenship) جیسے جدید ترین مظاہر پر سوچنے اور بولنے کی سکت بھی رکھتے ہیں۔ درحقیقت مجھے یہ سب کچھ بہت اچھا لگتا ہے کہ ہمارے طلبہ و طالبات اپنا قیمتی وقت ضائع کیے بغیر ناگہانی آفت کو شکست دینے کی عملی تیاری میں مصروف ہو چکے ہیں۔ ایسی خوش آئند صورت حال تعلیمی سرگرمیوں کو متحرک رکھنے کا نیک شگون ہے۔ یہ بھی اچھا ہے کہ ہمارے بچے کسی نہ کسی حوالے سے سمارٹ فون اور متنوع Apps کے استعمال میں خاصی مہارت رکھتے ہیں اور ان سے حدرجہ مانوس بھی ہو چکے ہیں۔ اسی لیے ہمارے یہ ہونہاربچے G5 ٹیکنالوجی کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں اور نئی ڈیجیٹل مہارتوں کی تلاش میں بھی رہتے ہیں تا کہ انھیں اپنی روز مرہ زندگی میں شامل رکھ کر روزہ مرہ معاملات میں آسانی پیدا کی جا سکے۔

ہماری خوش نصیبی ہے (خدا کرے کہ عارضی ثابت نہ ہو) کہ اس وقت آئی او ایس (iOS) اور اینڈرائڈز کے سٹوروں پر زیادہ تر ایپس Apps مفت مہیا کی جا رہی ہیں، یا کم از کم وہ تمام تعلیمی ایپ مفت دستیاب ہیں جن سے ہمارے سارے کام بآسانی نکل سکتے ہیں۔ یہ امر قدرے تشویشناک ہو سکتا ہے کہ دیہی علاقوں کے طلبہ اور طالبات ان سہولتوں سے اس طرح بہرہ ور نہ ہو سکیں گے جیسے شہری بچے ہو رہے ہیں۔ اس میں انٹرنیٹ کے اخراجات کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کی سپلائی کے مسائل بھی در پیش ہیں، کیوں کہ کچھ علاقوں میں وائے فائے کے سگنلز اس قوت کے ساتھ نہیں آتے جو اُن کی بنیادی ضرورت ہے۔ اسی سے متصل دوسرا مسئلہ نئی تعلیمی Apps سے مانوس ہونے کا ہے۔ دیہات میں رہنے والوں کی اکثریت نیٹ پر موجود عام سہولتوں سے تو آگاہ ہے لیکن خاص اور پیشہ ورانہ تکنیکوں کے استعمال میں دقتیں محسوس کرتے ہیں۔ پھر کچھ مسئلہ نئی چیزوں کے استعمال کا خوف بھی ہے یعنی Neophobia، خیر اس فوبیا میں شہر اور دیہات کے رہنے والے دونوں شکار ہو سکتے ہیں۔ اس مسئلے کی توسیع کو ہم بعد ازاں Adoption اور Adoptation کی صورت ایک اور نئے زاویے سے دیکھ سکتے ہیں، جس میں کسی شئے کو قبولنے اور پھر اس کے ساتھ موافقت پیدا کرنے کی صلاحیت کا امتحان ہوتا ہے۔ جس طرح ماضی میں یہ کہا جاتا تھاکہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے تواب یہ کہنے میں کوئی ہرج نہیں کہ “Adoption is the mother of invention”۔

ڈیجیٹل ایجوکیشن میں موجود ایک بڑا چیلنج بچوں کی کارگردگی کو جانچنا بھی شامل ہے۔ ہمارے روایتی امتحانی نظام میں کئی خامیوں کے باوجود جانچنے کے اطمینان بخش پیمانے بھی موجود ہیں جس میں بچوں کی تمام تعلیمی مہارتوں کی Evaluation اور Assessment اساتذہ کے سامنے آ جاتی تھی اسے اصطلاح میں Summative Assessment کہا جاتا ہے۔ اس کے متوازی دوسرا طریق کار Formative Assessment کا ہے جس میں ہم بچے کی محض ظاہری اور سطحی مہارتوں کی جانکاری کا اندازہ لگا تے ہیں۔ یہی دوسرا طریق کار Open Book Exam کی طرف بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ابھی ہمارے ہاں عام نہیں ہے لیکن مغرب میں اس کا چلن خاصا پرانا ہے۔

تعلیمی ایپ کے جہاں بے شمار فوائد ہیں وہاں اس کے نقصانات سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ ایک اچھا اور تجربہ کار استاد جس انداز سے کمرہ ءجماعت میں بچوں کو پڑھاتا ہے لازمی نہیں کہ وہ تعلیمی ایپ میں بھی اُتنا ہی موثر ثابت ہو۔ کمرہ جماعت کا ماحول اور طلبہ کا اپنے استاد کی شخصیت اور توجہ سے جو جادوئی اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ شاید ایپ کے ذریعے پیدا نہ کیے جا سکیں۔ یوں ایک اعلی درجے کا استاد تعلیمی ایپ میں اپنی ساکھ کھو بھی سکتا ہے۔ ان مسائل کا موزوں حل صرف اسی صورت میں نکل سکتا ہے جب اداروں کے منتظمین اس نئی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اساتذہ کی Capacity Building پر بھرپور توجہ دیں اور ان کی تربیت کے لیے فوری طور پر کوئی واضح اور قابلِ عمل حکمت عملی تیار کریں۔ یاد رکھیں کہ ہم نے کرونا سے ڈرنا نہیں کچھ کرنا بھی ہے۔

(یہ نکات ساہیوال آرٹس کونسل کی عالمی کانفرنس بعنوان “مابعد وبا:امکانی صورت حال” (معاشی، سماجی، ماحولیاتی، نفسیاتی اور تہذیبی تناظرات) کے موقعے پر پیش کیے گئے تھے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ماشاءاللہ بہت اچھی تحریر ہے۔ البتہ اصطلاحات کو اگر انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو کے الفاظ دیۓ جاتے تو اور اچھا ہوتا

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20