تین غزلیں —– احمد جاوید

0

غزل

اُس آفتابِ غیب کا اصرار ہے یہ مستقل
اچھی طرح دیکھوں گا میں گنجائشِ آفاقِ دل

مجذوب ہے حلاج سا دل دجلۂ مواج سا
یا آتشِ دیرِ قدیم اک بار پھر سے مشتعل

جیسے کہ باراں اور باغ، جیسے کہ بادہ اور ایاغ
جیسے کہ شعلہ اور چراغ، جیسے کہ وحشت اور دل

میں رقصِ درویشی میں تھا، اس بحرِ خوبی نے کہا
یہ گردبادِ دشتِ دل گرداب ہے دریا گسل

دیوانے کو اربابِ صحو آتی ہے اتنی صرف و نحو
سوزن سے کہتا ہے نہ سی، دامن سے کہتا ہے نہ سل

ضو سے ایاغِ صبح کی، لو سے چراغِ صبح کی
سرمست ہیں، سرشار ہیں، سرگرم ہیں اصحابِ دل

ہر تہہ میں غواصی کریں، ہر لے پہ رقاصی کریں
اعماق در اعماق ہے آہنگ در آہنگ دل

ہاں اہلِ دنیا مرحبا، ہم نے بھی آخر کر لیا
چاکِ گریباں کو رفو، زخمِ جگر کو مندمل

حرفیست اندر حرفہا، ژرفیست اندر ژرفہا
ناگفتہ بالد لب بلب، نادیدہ جوشد دل بدل

یار آمدہ یار آمدہ، صبحِ شبِ تار آمدہ
خورشید انبار آمدہ بر کشت زارِ آب و گل

ہم سے خِفا خوئی نہ کر، اے ماہ بے روئی نہ کر
اس مرتبہ سامانِ دید ہے صرف دل پر مشتمل

رختِ فنا کیشی کے ساتھ، اسبابِ درویشی کے ساتھ
سامانِ بے خویشی کے ساتھ خود میں ہوا ہوں منتقل

گرداں ہے دل سیارہ وار اور عشق ہے قطبِ مدار
تبدیلیِ افلاک بھی اس میں نہیں ہوتی مخل

خورشید کی آواز ہے یہ روشنی اک راز ہے
اظہار پر نامنحصر، دیدار پر نامشتمل

اتنا حسیں کوئی نہیں، ایسا کہیں کوئی نہیں
دیکھا ہے سارا روم و رے، چھانا ہے سب چین و چگل


غزل

برادرم بشارت مرزا صاحب کی نذر
“ترا کسے نشناسد نہ آدمی نہ پری” (مولوی)

———-
سنو سنو یہ نداے ستارۂ سحری
وجود کیا ہے، سراے عدم میں شب بسری

اُدھر نشیمنِ معدوم اور شامِ غیاب
اِدھر یہ طائرِ موہوم کی شکستہ پری

جہاں جمال ہے منسوخ، چشم و دل متروک
وہاں تو بے ہنری سیکھ اور بے بصری

اسی سے عالمِ بود و نبود ہے روشن
دعا کرو نہ بجھے یہ چراغِ بے خبری

چمک رہی ہے فضا سیم گوں پرندوں سے
کہ جیسے شام میں پھیلا سپیدۂ سحری

یہ ٹھنڈی اجلی ہوا ہے کہ کشفِ غیب کی رو
یہ صاف چشمہ ہے یا چشمِ دل کی تربتری

بہار آئی ہے کشتِ زمانہ پر ایسی
کہ جذبِ رنگ سے دن نیلگوں ہے ،رات ہری

یہ ماہِ سبز ہے یا آسماں کی چشمِ شفیق
یہ روشنی ہے کہ بچوں پہ شفقتِ پدری

روایت است ز خیاطِ بایزید کہ بس
قباے عشق دراز و تو سخت مختصری

وقوفِ خویشتن و جذبۂ خودی دارم
کہ بر شوم ز منِ من ز راہِ بے خبری

میں اپنے آپ سے اوجھل نہ ہو سکا جبھی تو
مجھے نصیب نہ ہو پائی چشمِ خود نگری

پڑھا ہے میں نے بھی دیوانِ شمس میں جاوید
ہماے دل سے ہے واقف نہ آدمی نہ پری


غزل

بہت مشغول ہے وہ آنکھ تجدیدِ تغافل میں
کمی سی رفتہ رفتہ آ گئی دل کے توکل میں

اضافہ ہر برس ہوتا رہے رنگینیِ گل میں
بہار اک وقفۂ مشاطگی ہے اس تسلسل میں

شگفتِ گل اسی کو نقل کرنے کی روایت ہے
وہ جو اک خواب سا ہے دیدۂ حیرانِ بلبل میں

مجھے تم کیا سمجھ کر میکدے میں کھینچ لائے تھے
چراغِ مستیِ دل ہو گیا گل شورِ قلقل میں

الا یا ایہاالساقی عطا کر دے، عطا کر دے
شرابِ غیب کی اک بوند میناے تخیل میں

اسی موتی سے ہے دریاے دل میں اک چراغاں سا
یہ آنسو جو ابھی آیا نہیں چشمِ تعقل میں

ترے دریا میں شاید دوسرا طوفاں نہیں کوئی
بہے جاتے ہیں دل کب سے اسی سیلِ تغافل میں

مرا ہونا نہ ہونا اک زمانے میں معطل تھا
ہوئے بود و نبود ایجاد اسی دورِ تعطل میں

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20