آصف رضا میر کی شادی اور ہمارا مزاحیہ سہرا —- اظہر عزمی

0

کچھ ہفتے پیشتر آج کے مشہور اداکار احد رضا میر کی اداکارہ سجل علی کے ساتھ شادی کی تصاویر دیکھیں۔ تصاویر میں دولھا کے والد آصف رضا میر اور والدہ ثمرہ رضا میر بہت شاداں نظر آئے۔ بلاشبہ یہ ان کی زندگی کے حسین ترین لمحات تھے۔ گھر کی پہلی شادی ہو، بڑے بیٹا دولھا بنا ہو تو جتنی بھی خوشی ہو وہ کم ہے۔ احد رضا میر کی منگنی کے بعد ایک دن ایک اسکرپٹ کے سلسلے میں میرا آصف صاحب کے آفس جانا ہوا۔ ان کی مسز بھی موجود تھیں۔ میرا تعارف کراتے ہوئے مسز سے کہنے لگے : یہ وہی حضرت ہیں جنہوں نے ہمارا (مزاحیہ) سہرا لکھا تھا۔ اس پر مسز میر نے بتایا کہ ہم نے وہ سہرا آج بھی سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ آصف صاحب کہنے لگے کہ پہلے میرا سہرا لکھا تھا اب تمھیں احد کا سہرا لکھنا ہوگا۔ بات آئی گئی ہوگئئ۔ احد رضا میر کی شادی کی تصاویر دیکھیں۔ بہت خوشی ہوئی۔ پتہ چلا کہ شادی بیرون ملک ہوئی ہے۔ چلیں ہم ماضی کے حسین اوراق پلٹنے ہوئے آصف رضا میر صاحب کی شادی کی طرف چلتے ہیں۔

یہ2- 1991 کی بات ہے۔ میں بلیزون ایڈورٹائزنگ واقع ڈیفینس فیز 2 ایکسٹینشن کمرشل ایریا میں ملازمت کیا کرتا تھا۔ بلیزون تین افراد کی پارٹنر شپ میں تھی۔ (اداکار) آصف رضا میر، (اداکارہ) عظمی گیلانی اور حبیب ہاشمانی۔ شہرت اس وقت اصف رضا میر کے گھر کی لونڈی تھی۔ آصف رضا میر اس وقت کے مشہور کنوارے تھے اس پر ان کا جاذب نظر، خوش گفتار ہونا سونے پر سہاگہ تھا۔ پریس بھی ان کے قصے کہانیاں خوب مرچ مصالحہ لگا کر پیش کیا کرتا تھا۔ سو آصف صاحب بھی اس صورت حال پر مسکرا کر رہ جاتے ہوں گے۔

میرا آصف صاحب سے تعلق آجر اوراجیر کا تھا اس لئے سب کچھ ان پر منحصر ہوتا کبھی مجھے قبلہ کہتے تو کبھی مولانا اور جب سیریس ہوتے تو سیدھا سیدھا اظہر کہتے۔ میری ساتھ یہ مسئلہ رہا کہ کسی ایجنسی میں مجھے اظہر کہہ کر بلایا جاتا تو کبھی عزمی۔ ذیل میں ایک مختصر واقعہ درج کئے دیتا ہوں۔ میری ملازمت کے بعد جب مسز گیلانی (افس میں کوئی عظمی گیلانی نہ کہتا ) پہلی مرتبہ کراچی آفس آئیں تو میراتعارف کرایا گیا۔ بہت تپاک سے ملیں اور اپنی کتاب “ع سے عورت اور م سے مرد” اپنے دستخط کے ساتھ دی۔ میں نے شکریہ کے ساتھ وصول کی۔ کریٹیو ڈیپارٹمنت دوسری منزل پر تھا۔ مینخمنٹ ہم سے ایک منزل نیچے تھی۔ کتاب وصول کرنے کے کچھ دیر بعد مسز گیلانی کو مجھ سے کوئی کام پڑ گیا۔ اوپر انٹر کام کیا اور میرے ساتھ بیٹھے زیب ڈیل سے میرا پوچھا۔ زیب ڈیل نے کہا کہ آپ اظہر عزمی کا پوچھ رہی ہیں؟ تو بولیں کہ آفس میں انہیں کیا کہتے ہیں تو زیب نے کہا کہ سب اظہر کہتے لیکن ان کے پیار کا نام عزمی ہے۔ جس پر انہوں نے کہا کہ ابھی وہ ہمیں اتنے پیارے نہیں ہوئے ہیں۔ میں تو انہیں اظہر ہئ کہوں گی۔ زیب نے یہ بات مجھے بتائی تو ہم نے گھسا پٹا جواب دیدیا۔ “خوشبو کو جس نام سے پکارو۔ رہے گی خوشبو ہی”۔

خیر یہ بات ضمنا نکل آئی۔ واپس آتے ہیں آصف صاحب کی طرف۔ ایک دن میں کام میں مصروف تھا کہ آصف صاحب نے انٹر کام کیا اور پوچھا کہ کیا کررہے ہو؟۔ میری رگ ظرافت پھڑکئ۔ میں نے کہا کہ نوک قلم سے سینہ قرطاس پر خامہ فرسائی کررہا ہوں۔ سینہ ہی یاد رہا، بولے ” کیا کر رہے ہو۔ کیا گوشت کی دکان کھول لی ہے؟”۔

ایک دن ان کے کمرے میں مسز گیلانی اور کریٹیو ڈائریکٹر مسز حسن (مجاہدہ منٹو کے نام سے انگریزی کی شاعرہ) کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ایک موٹر کمپنی کی پہلی فور وہیل گاڑی کی لانچ تھی۔ آصف صاحب کو شبہ ہوا کہ مجھے فور وہیل کا مطلب نہیں پتہ اور حقیقت بھی یہی تھی۔ آصف صاحب نے ایک مثال دی جو حضرات کے لئے زیادہ قابل سماعت تھی۔ ہم نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ مسز گیلانی چونک گئیں۔ میری طرف دیکھ کر بولیں کہ یہ کیا گفتگو ہورہی ہے؟۔ میں نے کہا کہ بات آصف صاحب نے شروع کی ہے۔ میں نے صرف جواب دیا ہے۔ آصف صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا ” یہ اچھا نہیں کیا تم نے۔ حساب ضرور برابر کیا جائے گا ” اور ہم دوبارہ کام کی باتوں پر آگئے۔

کچھ ماہ گذرے ہوں گے کہ آصف صاحب کے بینڈ بجنے کی خبر آگئی اور پھر شادی کے دن قریب آگئے۔ اتفاق سے ان دنوں آفس میں کام برائے نام تھا۔ ایک دوپہر بیٹھے بیٹھے باس کی شادی پر ایک گانا ذہن میں آٹپکا۔

آج میرے باس کی شادی ہے
ایسا لگتا ہے ساری ایجنسی کی شادی ہے

سوچا کیوں نہ کوئی تک بندی والا مزاحیہ سہرا ہو جائے۔ خاموشی سے لکھتے رہے۔ زیب ڈیل کو سنایا۔ اس نے کریٹیو میں گا دیا۔ سب کے خوب قہقہے نکلے۔ کسی نے کہا کہ آصف صاحب کو بتاتے ہیں۔ میں نے کہا ” کیوں ملازمت سے رخصتی کراو گے۔ ایک رخصتی ہو رہی ہے کافی ہے۔ ” مگر صاحب لڑکوں کو تفریح سوجھی ہوئی تھی۔ کسی نے جا کر آصف کے گوش گذار کردیا کہ اظہر نے آپ کا سہرا لکھا۔ کچھ دیر میں انٹرکام ہوا ” جی مولانا ! سنا ہے آپ نے ہمارا سہرا لکھا ہے ؟ میں مکر گیا۔ بولے ” جھوٹ نہ بولو مولانا۔ سب خبر ہے۔ آپ کی خیریت اسی میں ہے کہ مع سہرا نیچے برآمد ہوجائیں”۔ اب اپنی غلطی کا احساس ہوا کیونکہ کچھ باتیں انہیں یقینا پسند نہ آتیں۔ سہرا اٹھایا اور پہنچ گئے ان کے کمرے میں۔ بولے”تشریف رکھئے “۔ حالات کو ناموافق پاتے ہوئے عرض کی کہ یہ تو بس ایسے ہی لکھ دیا تھا۔ بولے : تو پھر ایسے ہی سنا دیجئے۔ ہمت کر کے سہرا سنایا تو ہہلے ہی مصرعہ پر مسکرانے لگے۔ طنزیہ اشعار پر زیادہ واہ واہ کے ڈونگرے برسائے، بولے”مولانا مذاق ہی مذاق میں بہت کچھ کہہ گئے۔ اچھا نہیں کیا”۔ میں نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں۔ کہنے لگے ” اتنی جسارت کی ہے تو اب سزا کے لئے بھی تیار ہو جاو “۔ میں نے کہا کہ سر تسلیم خم ہے جو مزاج باس میں آئے۔ ” بولے کہ خم تو خیر میں اتنا دوں گا کہ کمر کم پڑجائے گی۔

عزیز قریشی کیلی گرافر کو بلایا اور مجھ سے سہرا لے کر عزیز قریشی کے حوالے کر دیا۔ بولے ” اب آپ اپنی سیٹ پر رخت سفر باندھیئے۔ ” ہم نے سوچا جان چھوٹی سو لاکھوں پائے، لوٹ کے بدھو سیٹ پر آئے۔

آصف صاحب کا ولیمہ کچھ دن بعد ڈیفینس لائبریری کے عقب میں واقع لان میں ہوا۔ جب سب کھانا کھا چکے تو کسی نے آکر کہا کہ تمھیں آصف صاحب بلا رہے ہیں۔ ہم اسٹیج کے پاس پہنچے تو گویا ہوئے “قبلہ تیار ہو جائیں سزا کے لئے “۔ میں نے کہا کہ آصف اتنے لوگوں کے سامنے سزا دیں گے جبکہ ہماری اور ہم آپ کی بات تو کمرے تک محدود تھی۔ کچھ عجیب سا نہیں لگے گا۔ ابھی یہ بات میں کہہ ہی رہا تھا کہ ایک کولیگ دوڑتا ہوا آیا۔ اس کے ہاتھ میں عزیز بھائی کا کتابت کردہ سہرا تھا۔ میں حیران تھا۔ آصف صاحب نے وہ سہرا میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا کہ قبلہ اب آپ اسٹیج پرجا کر یہ سہرا سب کو سنائیں۔ میں نے عرض کئ کہ یہ سہرا اس قابل نہیں۔ خالصتا دفترانہ ہے مگر وہ نہ مانے ہم حکم حاکم مرگ مفاجات کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے۔ اسٹیج پر چڑھے۔ ایک طرف دلہن کا گھونگھٹ تو دوسری طرف ستاروں کا جھرمٹ ہم نے سوچا آج درگت بنی ہی بنی۔ لیجئے صاحب ہم اسٹیج پر چڑھے تو ایک سے ایک فنکار نیچے نظر آیا۔ سب کی نظریں ہم پر مرکوز تھیں۔ اس طرح لائم لائٹ پر آئیں گے۔ یہ کبھی نہ سوچا تھا۔ کسی ری ٹیک کی گنجائش نہ تھی۔ سب کچھ لائیو جانا تھا۔ مائیک پکڑا لگا تو لگا کہ آواز حلق سے نیچے یی کہیں رک گئی۔ آواز کو آواز دی۔

آواز نکل کہاں ہے، سوکھا پڑا گلا ہے

ہمت مرداں مدد خدا۔ پیشہ ورانہ کاری گری نے دامن تھاما۔ کانسپٹ والا تجربہ کام آیا اور اللہ کا نام لے کر ہم شروع ہوگئے۔ ابتدا ہی سے مزاح والی واہ واہ شروع ہو گئی جو آخر تک رہی۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں کیا عنقا سہرا جو تحریر نہیں کررہا ہوں ۔ یہ بات بتادوں کہ یہ تک بندی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ (شعراء سے معذرت کے ساتھ)۔ اس وقت جو ذہن میں آرہا ہے وہ لکھ رہا ہوں۔

سنتے ہیں ہورہی ہے بلیزون میں ایک شادی
یعنی کہ ایم ڈی کی عمر قید کی تیاری

اس قید میں قیدی بھی ہے کتنا خوش وخرم
اس نیک نصیبہ کے آجائیں گے جو قدم
گھر خوشیوں سے مہکے گا بڑھ جائے گی آبادی
سنتے ہیں ہو رہی ہے بلیزون میں ایک شادی

شہناز کو پتہ ہے اب ہوگئی ہے فرصت
دل پھینک لڑکیوں کے سب فون ہوئے رخصت
کیا ان کے ارمانوں کو لسی ہے پلا دی
سنتے ہیں ہورہی ہے بلیزون میں ایک شادی

ہیں خوش حبیب صاحب فائل تو اوپر آئی
کچھ دیر سے سہی پر امید تو بر آئی
کرنا ولیمہ لیکن، ہے پیسے کی بربادی
سنتے ہیں ہورہی ہے بلیزون میں ایک شادی

اب رات گئے تک وہ دفتر میں نہ بیٹھیں گے
شادی شدہ اسٹاف کے مسئلے کو بھی سمجھیں گے
سیٹر ڈائے کے لیکچر سے بھی مل جائے گی آزادی
سنتے ہیں ہو رہی ہے بلیزون میں ایک شادی

عزمی نے لکھا ہے کس چاہ سے یہ سہرا
پھولے پھلے دنیا میں شان سے یہ جوڑا
آصف سے ہے شہزادہ اور ثمرہ سی شہزادی
سنتے ہیں ہو رہی ہے بلیزون میں ایک شادی

میری اب بھی آصف صاحب سے ملاقات رہتی ہے۔ کچھ پروجیکٹس پر کام بھی ہوا مگر ابھی اس نے ٹی وی کا منہ نہیں دیکھا۔ 2010 میں دوبارہ ڈرامہ لکھنے کی تحریک آپ ہی نے دی ورنہ میں90 کی دھائی میں این ٹی ایم کے لئے بقر عید کا خصوصی کھیل “قربان جایئے” اور پی ٹی وی کے لئے قسط وار ڈرامہ ” آگے آگے دیکھئے ” لکھنے کے بعد ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ 2011 میں 150 سے زائد قسطوں پر مشتمل میرا تحریر کردہ سٹک کام “بھابھی سنبھال چابی ” آپ ہی کے اے اینڈ بی پروڈکشن نے تیار کیا جو اردو ون پر آن ایئر ہوا۔ اس دوران اقساط دینے کونٹینٹ ڈیپارٹمنٹ جاتا تو بغیر ٹائم لئے ان سے بھی ملنے چلا جاتا۔ کبھی فورا بلا لیتے اور کبھی کچھ دیر بعد اور ہمیشہ یہی کہتے ” مولانا آپ بغیر ٹائم لئے آتے ہیں (واقعی بہت مصروف ہوتے)۔ اکثر میں ان کے پاس کافی دیر بیٹھا رہتا۔ اس دوران وہ اپنا کام بھی کرتے رہتے اور ماضی کی باتیں بھی ہوتیں۔ یہ ان کا بڑا پن تھا کہ اکثر مجھے کمرے سے باہر چھوڑے آتے (ممکن ہے ان کو شبہ ہو کہ کہیں میں واپس نہ آجاوں)۔ ایک دن میں نے کہا بھی تو ذومعنی انداز میں بولے کہ ہم ہر ایک کو دروازے تک ہی چھوڑ کر آتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے آصف صاحب جیسا باس پھر مجھے ملا ہی نہیں۔ آپ مزاح کے مزاج داں ہیں۔ کرتے بھی ہیں اور سنکر لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ میں اب ایسے لوگوں کو ترس گیا ہوں۔ اگر آپ کے جانے والوں میں کوئی آصف صاحب جیسا وسیع القلب شخص ہو تو مجھے ضرور بتایئے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20