سرکار (صلی اللہ علیہ وسلم) توجہ فرمائیں —- شازیہ ظفر

0

وبا کا ناگ پھن کاڑہے کرہ ارض پر راج کر رہا ہے۔۔۔ بنی نوع انسانی حشرات الارض کی طرح کونوں کھدورں میں دبکے بیٹھی ہے۔۔۔۔ کیڑے مکوڑوں کی طرح اپنے بلوں میں گھسنے میں ھی عافیت نظر آتی ہے۔۔۔۔ عجب سماں ہے چہار سو انجانا خوف ہے۔۔۔ زندگی محدود اور رستے مسدود ہیں ایسے میں بار بار ایک ہی دھیان آتا ھے۔۔۔ خالق اپنی مخلوق سے خفا ہے۔۔۔۔ اللہ کے بندے احساس ندامت سے چور ہیں اور دل کی گہرائیوں سے اسے راضی کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں۔۔۔ اس انتہاء کی پریشانی میں سب کی نظریں کسی مسیحا کی تلاش میں ہیں۔۔ نجات دہندہ کو ڈھونڈتی ہیں۔۔ اور اس امت کی غم خوار اور نجات دہندہ کون ذات ہے سوائے آقا کریم کی ذات اقدس کے۔۔۔ ایسے میں جب بےچینی حد سے سوا ہو جائے اور اس محرومی کا دکھ سہا نہ جائے بار بار ایک ہی خیال تواتر سے آئے کہ کیا تھا جو ہم اس دور میں ہوتے سرکار (ص) کی چھتر چھایا میں ہوتے۔۔ جب بھی کوئی پریشانی آتی، کوئی مشکل درپیش ہوتی دوڑے چلے جاتے دل کھول کے رکھ دیتے۔۔ سارے دکھڑے سنا ڈالتے ساری عرضیاں پیش کر دیتے۔۔ کوئی حل کوئی دلاسہ مل جاتا۔۔۔ دل ٹھہر جاتا۔۔۔۔

بے قراری حد سے بڑھ جائے تو سوچ کی پرواز پہ قدغن کہاں لگائی جاسکتی ہے خیالات کی رو کہاں سے کہاں بہائے لے جاتی ہے۔۔۔ ایسے میں زمان و مکاں کی حدود اور قیود بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں اور سوچیں زقند بھر کے پل بھر میں زمیں سے فلک تک جا پہنچتی ہیں۔۔

اس رات بھی چشم تصور نے کیسے جانے پہچانے مناظر دکھا دیئے۔۔ زائرہ کشان کشاں حرم بنوی کی جانب گامزن ہے باب نساء سے داخل ہوتے ہوئے سرخ اور نیلے قالین پر دھیرے دھیرے سنبھل سنبھل کے اپنے من بھر کے قدم اٹھاتے ہوئے دربار عالیہ کی جانب رواں دواں ہے۔۔۔ اپنی قسمت پہ نازاں اس دھیان میں چلی جاتی ہے کہ جنت کے باغ تک رسائی ممکن ہو پائے درود وسلام کے نذرانوں کے ساتھ کبھی اپنی گناھوں کی گٹھری کو سنبھالتی ہے اور کبھی عرضیوں کی پوٹلی کو گمشدہ خزانے کی طرح سینے سے لگائے بے یقینی کی سی کیفیت میں عین اس جگہ پہنچ جاتی ہے کہ جہاں سیدہ کا حجرہ ہوا کرتا تھا۔۔۔ کیا دیکھتی ہے کہ دربار عالیہ سجا ہوا ہے۔۔۔ صفا کے چبوترے پہ اور منبر کے آس پاس قدیم طرز کے لباس اور عماموں میں روشن چہروں والے اصحاب تعظیما سر جھکائے تشریف فرما ہیں۔۔۔پرنور محفل پہ بیک وقت جلال اور جمال طاری ہے۔۔۔ متحیر و متعجب زائرہ کے دل سے آواز آتی ہے یہ سماں یہ منظر تو ہو بہو وہی ہے جس میں جینے کی ہمیشہ آرزو کی ہے۔۔۔ اوہ خداوندا یہ میں کہاں پہنچا دی گئی ہوں۔۔۔ وفور جذبات آنکھیں برسنے لگتی ہیں۔۔ بیقراری سے بیساختہ پکار اٹھتی ہے
یاسیدی یامرشدی۔۔۔۔
اک میں ھی نہیں پوری امت
ساری دنیا، ساری خلقت
تکتی ھے رستہ رحمت کا
سرکار توجہ فرمائیں

زائرہ کی دبی دبی سرگوشیوں پہ بیک وقت کئی نظریں اس جانب اٹھتی ہیں۔۔۔۔ کون ہے۔۔ کیسے آئی ہے۔۔ کیوں آئی ہے۔۔۔نظروں میں ناگواری بھی ہے اور سوالات کی بوچھاڑ بھی۔۔

ان سوالوں کے جواب تو زائرہ کے پاس بھی نہیں ہیں۔۔۔ شرمندگی سے سمٹ کے چور سی بن جاتی ہے زمین میں گڑے جاتی ہے۔۔ کیا جواب دے۔۔وہیں کئی مہربان نظریں بھی ہیں۔۔ زائرہ کو شرمسار اور ہچکچاتے دیکھ کچھ دھیمی چہ میگوئیاں سنائی دیتی ہیں
اگلے وقتوں کی کوئی امتی ہے۔۔
ہاں شاید عشاق میں سے کوئی ہے
نہیں نہیں۔۔۔زائرہ گھبرا کے سوچتی ہے

دوستی کا کیا دعویٰ عاشقی سے کیا مطلب
میں ترے فقیروں میں، میں ترے غلاموں میں

عرق ندامت سے بھرا چہرہ دیکھ۔۔ کوئی سرگوشی سنائی دیتی ہے۔۔۔۔سائلہ ہے کوئی۔۔
پریشاں حال فریادی ہے شاید۔۔۔
ہاں شاید اپنی عرضی پیش کرنا چاھتی ہے۔۔۔

نرم مہربان آوازیں سن کر سائلہ کا دل ذرا ٹھہرا۔۔ اور ہمت کرتے ہوئے جواباً اثبات میں سر کو خفیف سی جنبش دیتی ہے۔۔ جیسے ڈرتے جھجھکتے کہنا چاھتی ہو کہ میں جانتی ہوں بہت گناہگار ہوں۔۔۔ بہت خطا کار ہوں۔۔۔اس اعزاز کے کسی طور لائق نہیں ہوں۔۔ کسی قابل نہیں ہوں لیکن جب نواز دی گئی ہوں تو یہ سنہری موقع گنوانا نہیں چاھتی میں آقا کریم کو سب بتانا چاہتی ہوں۔۔ فریاد کناں ہوں۔۔۔ سوالی ہوں۔۔۔کیا آپ لوگ میری یہ درخواست خدمت اقدس میں مرحمت فرما دیں گے۔۔۔؟؟

انکار کے خوف سے نادم من ہی من سوچتی ہے کاش میری عرضی سماعت کے قابل ہو پائے۔۔ توجہ کے لائق ہوپائے۔۔۔۔۔ ان ہی پرنور چہروں میں سے کسی مہربان بزرگ نے نرم دھیمی آواز میں احساس دلایا۔۔۔ تم جانتی بھی ہو کہاں ہو۔۔۔۔یہ کوئی عام دربار تو نہیں ہے۔۔۔ عرضداشت پیش کرنا تو بڑی بات۔۔ یہاں تک رسائی کا سوچنا بھی بڑی جرأت کی بات ہے۔۔۔۔۔
زائرہ دھیمے اور خفت بھرے لہجے میں جرات اظہار کرتی ھے۔۔۔۔ عالی جناب۔۔یہ میرے آقا کریم شہ دوسرا کی محفل ھے۔۔ یہ رحمت اللعالمین کا دربار ھے۔۔۔ جہاں عرب بدو بھی عزت سے بٹھائے جاتے ہوں۔۔۔۔ میں تو پھر ایک ادنی امتی ہوں۔۔ اور امتی بھی ایک عورت۔۔۔ خوب جانتی ہوں کہ یہ سرورکائنات کا وہ دربار ھے جہاں عورت کی سب سے بڑھ کر تکریم کی گئی ہے۔۔جہاں مولائے کائنات نے کبھی اسکے استقبال میں کھڑے ہو کر تعظیم بخشی اور کبھی اسکے لیے چادر بچھا کر مان بڑھایا ہے۔۔ مجھے تو یہی توقیر حوصلہ دیتی ہے

زائرہ کے ان جملوں پر پرنور بزرگوں کی محفل میں خاموشی چھا جاتی ہے۔۔۔ اسکی گفتگو کی تائید میں نرم مہربان نظریں احتراماً جھک گئیں جیسے اسے اجازت کا سندیسہ دیتی ہوں
اظہار تشکر میں زائرہ کی پلکوں پر بندھا بند ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔اشکوں کا سیل رواں جاری ہے۔۔۔۔
زائرہ درودوسلام کے نذرانے پیش کرتے۔۔آواز کی لرزش پہ قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے بمشکل عرضی پیش کرتی ہے۔۔۔

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
درود اس پر کہ جس کی بزم میں قسمت نہیں سوتی
درود اس پر کہ جس کے ذکر سے سیری نہیں ہوتی

اے سرکار دو جہاں۔۔ اے امام المم۔۔۔ غضب ہوگیا ہے۔۔۔
سرکار ہم پر آفت ٹوٹ پڑی ھے۔۔۔۔

آپ کی امت پر وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اپنے بھی بیگانے ہوگئے ہیں۔۔ بے بسی نے عجب دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔۔۔ اسکی ان دیکھی سپاہ نے ہمیں گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ہم پسپا ہوچکے ھیں۔۔ سرکار ہم جانتے ہیں کہ آپ نے ایسے وقت میں صبر سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔۔۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کا درس دیا ہے۔۔۔آقا آپ کا یہ حکم بھی سر آنکھوں پر کہ مومن کی زبان سے ھر حال میں کلمہ شکر ادا ہونا چاھیئے۔۔۔ ہر حال میں راضی بہ رضا رہنا چاہیئے۔۔۔ ہم اس وبا سے نبرد آزما ہونے میں ہمت نہیں ہار رہے۔۔ ہم شکوہ کناں نہیں ہم تو اپنی غفلت اور کوتاہیوں پہ نادم و شرمسار ہیں۔۔ ہم اسکے حکم کے آگے ہر حال میں سرتسلیم خم کرتے ہیں۔۔لیکن سرکار یہاں معاملہ تو حد سے سوا ھوگیا ھے۔۔۔ یہ بوجھ سہارنا بہت دشوار ہے کہ ہمارا محافظ ہی ہم سے ناراض ہوگیا ہے۔۔۔ ہم پلید ہوگئے ہیں۔۔۔ ہم دھتکار دیئے گئے ہیں۔۔ ہم حرمین شریفین سے دور کر دیئے گئے ہیں۔۔۔ جہاں عشاق کا اور زائرین کا تانتا بندھا رہتا تھا اب اس نے ہمیں اپنے گھر آنے سے منع کر دیا ہے۔۔۔ ہم اسکے گھر کا طواف کرنے سے روک دیئے گئے ہیں ہم آپ کے دربار میں درود سلام کے نذرانے پیش کرنے سے بیدخل کر دیئے گئے ہیں۔۔۔۔ہم اشرف المخلوقات ھیں۔۔ مگر اس وقت ان پرندوں سے بھی بدتر ہیں جو جھنڈ کی صورت قسکے گھر کا طواف کرتے فکھائی دیتے ھیں یوں لگتا ھے جیسے وہ بھی ھماری ھنسی اڑا رہے ہوں ہمیں شرمندہ کر رہے ہوں۔۔اے صاحب ِجودو ابر کرم اسکی بارگاہ میں التجاء پیش کر دیجیئے کہ وہ ہمیں اپنے در پر اور آپکے دربار میں پھر سے حاضری کا شرف عطا فرما دے۔۔۔ماہ صیام کے مبارک دنوں میں ہماری مساجد کے کواڑ بھی ہم پر بند کر دیئے گئے ہیں۔۔ ہمارے گلی محلوں میں موجود اسکے گھر بھی ھماری پہنچ سے دور ہوگئے ہیں۔۔۔۔اسکے گھروں کو جانے والے رستے سنسان ہیں رحمتوں اور برکتوں کے مہینے میں ہماری عبادت گاہوں کی رونقیں مانند پڑ گئی ہیں۔۔۔ ہم سر اٹھانے کے قابل تو کبھی نہ تھے لیکن اب تو وہ ذلت ہے کہ زمین میں گڑے جاتے ہیں

یہ بہت بڑی شرمندگی ہے۔۔۔ یہ ہم پہ کیسی پھٹکار ہے۔۔یہ بہت ذلت کا مقام ہے۔۔ ہم نے تو کبھی یہ تصور نہ کیا تھا۔۔ وہ ہم سے یوں خفا ہو جائے گا۔۔۔

اے چارہ گر عیسیٰ نفس اے مونس بیمار غم۔۔ !! ہمارے اس دکھ کا مداوا فرما دیجیئے۔۔۔ہمارے دل اس خوف سے لرز رہے ہیں کہ کہیں اسکی خفگی اسکے غضب میں نہ بدل جائے۔۔۔ اس کے نادیدہ لشکروں نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔۔۔ہم بے مول بے مایا ہوگئے ہیں اس تک ہماری فریاد پہنچا دیجیئے کہ ہم اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں پر تہہ دل سے شرمندہ ہیں۔۔ وہ حاکم ہے اور ہم محکوم ہیں۔۔وہی غالب ہے اور ہم مغلوب ہیں۔۔ وہ ہمارا معبود حقیقی ہے ہم عاجز بندے اسکی بندگی کا اعتراف کرتے ہیں۔۔ ہم اپنے گناہوں سے تائب ہوتے ہیں اور اسکی طرف رجوع کرتے ہیں آپ تو محسن انسانیت ہیں۔۔۔ آج انسانیت شدید مشکل میں ہے۔۔ لوگ پروانوں پتنگوں کی طرح مر رہے ہیں۔۔۔سخت بے بس ہیں آپ رحمت اللعالمین ہیں اور آپکی رحمت تو سب کے لیے ہے ان کے حق میں بھی رحم کی درخواست فرما دیجیئے۔۔ یا مرشدی آپ وجہ تخلیق کون و مکاں ہیں۔۔ آپ ھی تو محبوب خدا ہیں۔۔۔ اور اسکی جناب میں آپ کا کہا کبھی رد نہیں ہوتا۔۔۔یقین واثق ہے وہ آپ کی بات نہیں ٹال سکتا۔۔۔۔ وہ کریم اگر ہم سے راضی نہ ھوا تو ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔۔ ہم خسارہ پانے والوں میں شامل ہونا نہیں چاہتے۔۔ اے ہادی برحق ہم بہت گنہگار سہی بہت خطا کار سہی بہت سیاہ کار سہی لیکن اس کریم کے کرم اور اس رحیم کی رحمت کے صدقے کہ پروردگار عالم کی رحمت ہمارے گناھوں سے بہت وسیع ہے۔۔آج آپ کی امت تہہ دل سے شرمندہ ھے۔۔اے خطیب الامم ھماری داد رسی فرما دیجیئے۔۔اس بے بسی کی کیفیت میں ھمیں اکیلا نہ چھوڑیئے۔۔آج بھی ہم سے بہت سے ایسے ھیں جو اس صورتحال پر صدقِ دل سے نادم ہیں۔۔ اسکے سامنے رو رھے ہیں گڑگڑا رہے ہیں۔۔ آپ کو اپنے ان نیک امتیوں کی دعائے نیم شبی کا واسطہ۔۔۔ آپ کو ان اللہ والوں کی نالہ ہائے سحر گاہی کا واسطہ۔۔۔ رات کے اندھیروں میں چپکے چپکے بھیجے گئے ان درورد سلام کا۔۔ ان بھیگی اوڑھنیوں اور عرق ندامت سے تر سجدہ ریز پیشانیوں کا واسطہ رب العرش العظیم اس تک یہ پیغام رسانی فرما دیجیئے۔۔ ھمیں اعتراف ھے کہ ھمارے الفاظ شکستہ اور ھماری عبادات ٹوٹی پھوٹی سی ھیں۔۔ لیکن عبادتیں اگر خالص نہ بھی ھوں تو اس سخی کے دربار میں ندامتیں تو قبول ہو ہی جایا کرتی ھیں۔۔۔۔ ہمیں گفتگو کا سلیقہ نہیں ہے لیکن اے بلیغ اللسان آپ ہماری ترجمانی فرما دیجیئے اسے ہماری ندامت بھری آہوں کا واسطہ دے دیجیئے۔۔

یاسیدی۔۔ آپ کی شفقت بچوں پر جس طرح نچھاور ھوتی رہی وہ سب پر عیاں ہے۔۔۔آج بھی آپ کی امت کے یہ معصوم بچے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اٹھا کر اسے پکار رہے ہیں۔۔ بڑے مان سے بڑے پیار سے اسے منا رہے ہیں۔۔سرکار آپ کو اپنی امت کے معصوم بچوں کی فریادوں کا واسطہ۔۔۔ان معصوم دعاؤں التجاؤں کا واسطہ اس ستر ماؤں سے ذیادہ پیار کرنے والے تک ہمارا گڑگڑانا ہماری آہ وزاریاں پہنچا دیجیئے۔۔۔ہماری داد رسی فرما کے یہ عرضیاں اس رب کائنات اس مولائے کل تک پہنچا دیجیئے۔۔۔۔ اس خالق و مالک سے اپنی اس حقیر پر تقصیر امت کا راضی نامہ کروا دیجیئے۔۔۔ہمیں ایک بار معافی نامہ دلوا دیجیئے۔۔۔ اے شافع محشر اس کی بارگاہ میں اپنی امت کی شفاعت فرما دیجیئے

کتنی ھی دیر بیت گئی۔۔ سائلہ کی فریاد آہ بکا میں بدلنے لگی نورانی محفل پہ جمود طاری تھا کہ کسی نے ساقی کوثر کے دربار میں زم زم کا آب خورہ پیش کیا۔۔ یوں جیسے زخموں پہ تسلی اور تشفی کا مرہم رکھ دیا ہو۔۔

زائرہ ممنونیت سے اظہارِ تشکر کرنا ھی چاھتی تھی کہ یک بہ یک فضاؤں میں مؤذن کی آواز گونجنے لگی۔۔۔اور جیسے یک لخت سارا طلسم ٹوٹ گیا۔۔۔ زائرہ نے بے چینی سے اپنے اردگرد دیکھا۔۔۔۔ ماحول یکسر بدل چکا تھا۔۔یہ کیسا فسوں تھا۔۔ کیا یہ طلسم خیال تھا، خواب تھا یا کوئی واہمہ تھا۔۔۔ جو بھی کچھ تھا اس نے دل پہ ایک سکینت نازل کر دی تھی۔۔قلب پہ اطمینان اور انبساط طاری تھا۔۔ عجب کیفیت تھی کہ جس میں تسلی تھی، تشفی تھی، طمانیت تھی، شانتی تھی ٹھہراؤ تھا۔۔۔
جیسے دل کے نہاں خانوں سے ندا آتی ہو

بالیقیں تو نہیں پھر بھی ایسا لگا
جیسے خیر البشر کو خبر ہوگئی

صلو علیہ وآلہ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20