کان پھاڑ دینے والی سرگوشی —- شاہد شوقؔ

0
سرگوشی عموماً عام فہم لفظوں اور مدہم آواز میں دوسروں کے کانوں تک پہنچائی جاتی ہے ۔ لیکن اگر یہی سرگوشی صفحات کی صورت میں پڑھنے کو ملے تو بھلے آسان ، عام فہم اور سلیس و سادہ الفاظ میں ہو بعض اوقات کان کے پردے پھاڑ دینے، دل کی دھڑکن تیز کرنے اور دماغ کے بند دریچے کھولنے کی وجہ بن سکتی ہے۔
 نازؔ مظفرآبادی کی “سرگوشی” جب کانوں کے بجائے آنکھوں کے رستے میرے سامنے پہنچی تو اس سے استفادہ نہ کرنا گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہونے کے مترادف تھا ۔ چونکہ “سرگوشی” میں عموماً راز و نیاز کی باتیں اپنے محسنین سے کی جاتی ہیں اور اپنے تجربات اور مشاہدات سے دوسروں کو مفت مشورے دیے جاتے ہیں تاکہ ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اسی طرح اس “سرگوشی” میں بھی اپنے تجربات اور مشاہدات کو عام فہم ، سادہ اور سلیس زبان میں قارئین تک کمال مہارت سے پہنچایا گیا ہے ۔ پوری کتاب سہلِ ممتنع میں ہے ، کہیں کسی لغت کے اوراق پلٹنے کی نوبت نہیں آتی۔
سرگوشی میں نازؔ مظفرآبادی نے داخلی اور خارجی جذبات کو خوبصورت الفاظ و تراکیب کے ذریعے مصرعوں میں پرویا ہے۔ اس کا ذکر وہ جا بجا اپنے اشعار میں بھی کرتے ہیں ۔ ایک شاعر شعر کہنے میں کن کن مشکلات اور ذہنی اذیتوں سے گزرتا ہے اس کا اظہار بھی اپنے اشعار میں ہی کرتا ہے ۔ نازّ صاحب کے ہاں بھی ان تجربات کی کثیر تعداد ملتی ہے۔ ایک شاعر کے لیے سب سے بڑی سعادت مندی یہ ہوتی ہے کہ وہ نعت رسولﷺ لکھنے کا اہل ہو جاتا ہے ، جو یقیناً بہت بڑی سعادت مندی ہے۔
 شاعری کا مجھ پہ یہ احسان ہے
نعت کہنے کی سعادت پائی ہے “
” سینچنی پڑتی ہے خونِ دل سے
شاعری کھیل نہیں ہے پیارے “
” یہ جو ہوتا ہے شاعری کا نزول
یہ بھی تیرا کمال جانتے ہیں “
” وہ جن کے واسطے ہم شاعری کرتے رہے برسوں
ہمارے شعر ان کے واسطے سب بے محل ٹھہرے “
 ” تمہاری شاعری کا نازؔ اس پر کیا اثر ہو گا
وہ خود جانِ غزل ہے ، پھر کہاں تیری غزل ٹھہرے “
” زیر بحث آیا تو تھا، محشر میں، جرمِ شاعری
پر غزل سن کے مری، ہنس کر، معاف اس نے کیا”
” جب بھی لکھتا ہوں اس پہ کوئی غزل
قافیہ  تنگ   تنگ رہتا ہے”
” جس شعر میں تدبیر نہ ہو لطفِ بیاں کی
وہ کچھ بھی نہیں، چرب زبانی کے علاوہ”
” تحائف قیمتی لاتا کہاں سے
یہی کچھ شعر تھے سوغات میری “
” شرف یہ صرف ہمارے قلم کو حاصل ہے
کہ لفظ لکھنا، مکمل کتاب کر دینا”
” کبھی یہ فکر نہ آئے غزل میں نام اس کا
اسی کے نام کبھی انتساب کر دینا “
“تمہارے حسن کی تعریف ، مصرعے میں سما سکتی
غزل میں کوئی ایسا قافیہ ، ہونا ضروری تھا “
” کب غزل کی زلف سلجھانے کا دعوٰی ہے ہمیں
وہ تو کر لیتے ہیں ہم کچھ قافیہ پیمائی سی “
” مجھ کو جھٹلانے لگے ہیں “منکرینِ” فکر و فن
شاعری بھی کیا صحیفہ، آسمانی ہو گیا “
” مشغلۂ دل سمجھ کر، ہم غزل کہتے رہے
نازؔ پھر یہ مشغلہ، عادت پرانی ہو گیا “
نازؔ مظفر آبادی کے ہاں خوبصورت الفاظ و تراکیب کا استعمال بھی ملتا ہے ۔
” عشق، چاہت، دوستی سے انحراف اس نے کیا
دل کے ہر اک فیصلے سے اختلاف اس نے کیا “
” غیر ممکن ہے وہ اب بھرنا، کسی تدبیر سے
دل کی دیواروں کے اندر، جو شگاف اس نے کیا “
” اب کے چمن میں اور بھی ویرانیاں بڑھیں
پچھلی خزاں میں اتنے شجر ، بے ثمر نہ تھے “
” کل رات ہم سے ملنے، وہ آیا تھا خواب میں
کل  رات اتفاق سے ، ہم اپنے گھر نہ تھے “
اردو شاعری میں سراپا محبوب کا تذکرہ ولی دکنی کی غزلیات سے ہوتا ہوا موجودہ عہد تک درجہ بدرجہ پہنچا ہے۔ ہر شاعر نے اپنی اپنی جودتِ طبع کے مطابق اس میں اضافے اور جدت لائی ہے ۔ کوئی محبوب کے لب و رخسار کا دلدادہ ہے تو کوئی دراز قامت اور گھنیری زلفوں کا اسیر۔ کوئی آنکھوں کے تیرِ نیم کش پر شکوہ کناں ہے تو کوئی چال ڈھال سے متاثر نظر آتا ہے۔ نازؔ مظفر آبادی نے بھی اس روایتی مضمون کو خوبصورتی سے متواتر باندھا ہے مگر انفرادیت برقرار رکھی ہے ۔وہ خود ہی اپنی انفرادیت کو یوں بیان کرتے ہیں۔
” ترے بارے میں ، سب نے ہی کہا ہے
مگر ہم نے کہا ہے ، سب سے ہٹ کے “
” تری آنکھوں کے جادو کا اثر زائل نہیں ہوتا
کہ ان کے روبرو ہر ایک عامل بے عمل ٹھہرے “
” ترے ہونٹوں کے آگے ، پھول اپنا منہ چھپاتے ہیں
وہ خوش فہمی سے یہ سمجھے تھے، ہم ان کا بدل ٹھہرے “
” زلف، لب ، رخسار، آنکھیں، قد و قامت ، چال ڈھال
اتحادی فوج   کو ،  میرے  خلاف  اس  نے کیا “
” یہ وصف ہی کافی ہے کہ وہ محبوب ہے میرا
یوسف ہے نہ وہ یوسفِ ثانی  کی  طرح  ہے “
” خود بخود نام ترا ذہن میں آ جاتا ہے
بات ہوتی ہے جہاں حُسن کی ، رعنائی کی “
” تمہارے حسن کی تعریف مصرعے میں سما سکتی نہیں
غزل میں کوئی ایسا قافیہ، ہونا ضروری تھا “
” تمہارے حسن کے جلوے جہاں جہاں تک ہیں
ہمارے عشق کے  چرچے  وہاں  ، وہاں تک ہیں “
نازؔ مظفر آبادی کے ہاں فلسفیانہ اور صوفیانہ عناصر بھی ملتے ہیں جو ان کے گہرے مشاہدے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
”  تب کہیں جا کر کھلے ، اس پر رموزِ زندگی
اپنے اندر بیٹھ کر جب اعتکاف اس نے  کیا “
” ہم نئی تہذیب کے چکر میں ،  رسوا ہو گئے
فائدے میں ہیں وہی جو ، اب تلک غاروں میں ہیں “
 ” ہر گھڑی محوِ جنگ رہتا ہے
مجھ میں کوئی ملنگ رہتا ہے “
”  حسابِ زیست بھلا ، کس حساب میں دیتے
کہ زیست ہم نے کہاں ہوش میں گزاری  ہے “
”  جس ‌نے دریا میں اُتر کر کبھی دیکھا ہی نہ ہو
کس  طرح  بات  وہ  کر  سکتا  ہے  ، گہرائی کی “
ایک شاعر معاشرے کا بہترین نباض ہوتا ہے ۔ اسے انسانی رویّوں کی خوب پرکھ ہوتی ہے۔ وہ مجموعی معاشرتی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انسانی نفسیات کی مختلف کیفیات کو دوسرے لوگوں سے بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے ۔ ان تجربات اور مشاہدات کے اظہار کا حوصلہ بھی ایک شاعر کو ہی حاصل ہوتا ہے ۔ مگر یہ اظہار “سرگوشی” کے انداز میں دوسروں تک پہنچانا نازؔ مظفر آبادی کا ہی خاصا ہے۔
”  ہر گلی ، ہر موڑ ، ہر پتھر پہ ہے
اِس قدر   ارزاں   لہو ہے  ان دنوں “
” ہم سے ہے شانِ وفا ، ہم ہی وفاداروں میں ہیں
سرخیاں یہ آج کل ، دنیا کے اخباروں میں  ہیں “
” وہ سزائے موت سے پہلے ہی کل شب چل بسا
رحم کی عرضی ابھی تک فائلوں کی زد میں  ہے “
” ایسا لگتا ہے کہ سایہ  ہے کسی  آسیب کا
ملتِ اسلام  جیسے   عاملوں  کی زد میں  ہے “
” تباہی  کے سبھی اہداف تم نے کر لیے حاصل
کرو اب اے ہنر مندو ، کوئی تدبیر  جینے  کی “
” وہ دوست تھا ، لیکن مرے وارے میں نہیں تھا
جو فائدے میں ساتھ ، خسارے  میں  نہیں  تھا “
” شہرت کی یہاں  پڑتی  ہے  قیمت بھی چکانی
جو چاند میں دھبہ تھا  ستارے  میں  نہیں تھا “
” وہ منصفی  کا  یقیں  بھی دلاتا   رہا
مگر مناتا  ہے سب فیصلے  دباؤ  سے  “
” وہ نا سپاس شخص نہیں مانتا تو کیا
سب کو خبر  ہے  ہم  نے  اسے معتبر  کیا “
” ہیں اس لیے بھی ہم سے خفا، اہالیانِ شب
کیوں ہم نے سب کے سامنے ذکرِ  سحر  کیا “
”   جو مسیحا بھی نہ تھے ، اور مسیحائی  کی
ایسے لوگوں  کی  بہت  ہم  نے  پذیرائی  کی “
” وعدے تو  بہت  اس نے  کیے ، قوم سے ، لیکن
پر ، دے نہ سکا ، کچھ  بھی  ، گرانی  کے  علاوہ “
”  تلاشِ رزق ہے ، پردیس  کے  جھمیلے  ہیں
کئی دِنوں  سے  تمہارا   خیال   ہے  ہی  نہیں “
” پہلے جس بچے کو ناجائز ، کہا کرتے تھے  لوگ
اب  وہی  بچہ  محبت  کی  نشانی  ہو  گیا  “
” اس ڈر سے کہ سو  جائیں نہ  بھوکے مرے  بچے
رستے  میں  کہیں تھک کے میں بیٹھا  بھی  نہیں تھا “
اپنے وطن سے محبت فطری شے ہے ۔ ہر کوئی اپنے اپنے طور سے اس کا اظہار کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وطن سے محبت اور اس کے دکھ کا اظہار سرگوشی میں بھی ملتا ہے ۔ مگر یہاں سرگوشی میں ایسی تڑپ ہے کہ سننے اور پڑھنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
” جانتے ہیں کس طرح کٹتے ییں سر ، لُٹتے ہیں گھر
ہم سے ہوچھو ہم شہیدوں  کے ، عزاداروں  میں  ہیں “
”  ہم سے پوچھو   مسافرت  کیا ہے
ہم نے دکھ ہجرتوں کے  جھیلے  ہیں “
”  عسکریت ، بربریت ، خوف ، دہشت ، زلزلے
لکھنے والے  نے  مقدر  کیا لکھا  کشمیر   کا “
” جنتِ ارضی تو اب بارُود  کا اک ڈھیر  ہے
چپہ چپہ جل رہا  ہے  درد  کی  جاگیر  کا “
” میں کہ شامل ہوں تری مانگ سجانے میں وطن
خونِ مزدور ہوں ، گلیوں میں  بہا  ہوں میں  بھی “
 ایک شاعر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ معاشرتی نا انصافیوں پر منافقانہ رویّہ اپنانے کی بجائے ان کو ڈنکے کی چوٹ پر کہنے کی جرأت رکھتا ہے ۔ سرگوشی میں بھی یہی باغیانہ رویّہ ہمیں نطر آتا ہے۔
 ” بھلے  مہنگی  کہ  ارزانی  پڑے  گی
حقیقت   سامنے    لانی    پڑے   گی “
” مجھ کو معلوم تھا ، بجھنا ہے مقدر میرا
ان ہواؤں کے مقابل تو ہوا ہوں  میں  بھی “
” ہمی وہ  ناسمجھ ہیں ، رات کو جو دن نہیں کہتے
تمہارے عہد میں ایسی حماقت  کس نے  کی  ہو گی “
” جہاں پر بولنا بھی جرم تھا ، جز تیرے  دیوانے
وہاں حق بات کہنے کی  جسارت  کس نے کی ہوگی”
۸ اکتوبر ۲۰۰۵ کا تباہ کن زلزلہ ہر لحاظ سے نہ بھولنے والی افتاد تھی ۔ ہزاروں شہید ہوئے ، لاکھوں زخمی ہوئے ، سینکڑوں عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے اور کئی مکین بے گھر ہو گئے ۔ ایسے میں ایک شاعر کیوں کر اس ماحول سے کنارہ کش رہ سکتا تھا ۔ اس تباہی اور افراتفری کا  اظہار سرگوشی میں بھی ملتا ہے ۔ نازؔ مظفر آبادی نے اس تباہ کن زلزے کو استعارہ کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔
”  زمیں دیتی رہی ، جھٹکوں پہ جھٹکے
مگر   راہِ وفا    سے  ہم  نہ  بھٹکے “
” سوچئے یہ سانحہ ، کیوں ناگہانی ہو گیا
ہنستا بستا شہر ،  پل بھر  میں  کہانی ہو گیا “
” بھوک ، بیماری ، ہلاکت ،نفرتوں کی زد میں ہے
آدمی کی  ذات  ، کتنے  زلزلوں  کی  زد  میں  ہے “
 ”  دل میں حسرت ، درد ، تیری یاد  بھی  محفوظ ہے
یہ عمارت  زلزلے  کے  بعد  بھی  محفوظ  ہے  “
سرگوشی میں چھوٹی بحر کے بڑے اشعار بھی ملتے ہیں جو نازؔ مظفر آبادی کی فنی اُپج اور مسلسل ریاضت کا نتیجہ ہیں ۔
” آرزوئیں سب کی سب پوری ہوئیں
آرزو   کی   آرزو    ہے  ان دنوں “
 ”  ہم ترے عہد میں سلامت ہیں
جو بھی دیکھے وہ دنگ رہتا ہے “
 ” وہ تو دیتا ہے بے حساب مگر
اپنا دامن ہی تنگ رہتا ہے “
 ”  انا اتری ہوئی ہے سرکشی پر
سپردِ آرزو کرنی  پڑے  گی “
 ” میں کم سے کم پہ بھی راضی نہیں تھا
وہ سمجھا ہی  نہیں   ہے  بات  میری “
 ”  سرِ ساحل جلا کر کشتیوں کو
ہمیں تاریخ دہرانی  پڑے  گی “
”  رات جب مجھ سے ملنے آئی ہے
ساتھ اپنے ایک جگنو لائی ہے “
 ” بے وفا ، نا آشنا ، وعدہ  خلاف
ملک کا ہر حکمراں ہے کیا کریں “
 اس کے علاوہ نئے اور پرانے محاوروں کا استعمال بھی سروگشی میں ملتا ہے ۔
 ” پھر آج لوٹ کے آئی ہے تیرے کوچے سے
پھر آج ہم نے  نظر کی نظر اتاری  ہے “
 ” ان میں شامل نہیں ہیں ہم ، جو لوگ
گھر کی مرغی  کو  دال  جانتے ہیں “
سرگوشی میں غزلیات کے علاوہ نظمیں اور قطعات بھی ہیں مگر وہ کم ہیں تاہم ان میں بھی نازؔ کا شعری حسن بھرپور انداز میں ملتا ہے۔ ادب کے ادنٰی طالب علم کی حیثیت سے گزارش ہے کہ شعر شناسی اور اس کی تفہیم میں کہیں کمی باقی رہ گئی ہو تو معافی اور اصلاح کی درخواست ہے۔
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20