ہمیں پُر امید رہنا ہے —- عدیل شیخ

0

سوشل میڈیا نے جہاں ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، ایک دوسرے کے خیالات جاننے اور سمجھنے کی فضا پیدا کی ہے،وہیں عدم برداشت کا عنصر بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اپنا موقف رکھنا کوئی بری بات نہیں۔ انسان خالی الذین نہیں ہوتا۔ وہ معاشرے کا حصہ ہوتا ہے۔ اسے بہر حال یہیں رہنا ہے اور یہیں سے اپنے لیے اچھا برا سوچنا ہے۔ حالیہ وبائی دنوں میں جس قدر برداشت اور ایک دوسرے ے ساتھ تعاون کی ضرورت کا احساس پیدا ہوا تھا مگر افسوس اسی قدر ہمارے معاشرےے میں عدم برداشت کی فضا نے ڈیرہ ڈال لیا۔ ہر اآدمی ایک دوسرے کو نفرت کی آگ میں جھونکنے کے لیے تیار دکھائی دے رہا تھا۔

ستر کی دہائی میں رائٹ لیفٹ کی جنگ زور و شور سے جاری تھی۔ پورا معاشرہ رائٹ اور لیفٹ میں تقسیم تھا۔ ہر آدمی یا رائٹ کی طرف تھا یا گم گھما کے رائٹ کی طرف نکل جاتا تھا۔ آج کی صورتِ حال بھی کچھ اس سے مختلف نہیں۔ مولانا طارق جمیل والی کہانی کا پس منظر خواہ کتنا ہی بھیانک کیوں نہ ہو مگر ایک بات سب پر عیاں ہو گئی کہ سب ایک دوسرے کے لیے کتنی نفرت رکھے ہوئے ہیں۔ اس آگ کو تیز کرنے میں سب سے بڑا کردار میڈیا کا ہے۔ میڈیا کے پاس لاٹھی ہے اور وہ اس بھینس کو ہانکتے ہوئے لے جا رہا ہے۔ اُس کی مرضی وہ جہاں چاہیے لے جائے۔

حالیہ جنگ اس عدم برادشت والی کا جائزہ لیں تو مندرجہ ذیل نکات کو پیش نظر رکھنا لازمی ہے:

1۔ ملی نغموں میں جنگ و جدل دکھانے اور جہادی مائنڈ سیٹ کو پروان چڑھانے کے جو نقصانات اس قوم کو اٹھانا پڑے، ان میں سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کے قوم میں برداشت مکمل ختم ہو چکی ہے۔ چاہے وہ کسی بھی سوچ یا کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا شخص ہو دوسرے کی بات میں سے positivity بالکل نہیں ڈھونڈتا۔ اس کے نظریے کو دیکھتے ہوئے اس کی ہر بات کو مکمل disown کر کے اعلان جنگ کر دیتا ہے۔

2۔ بے حیائی، فحاشی اور عریانی کا دارومدار صرف عورت پر نہیں ہے یہ عمل مرد کی طرف سے بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنا کہ عورت لیکن مملکت خداد پاکستان میں عورت کو بار بار نشانہ بنانا ہمارے ازل تا ابد جاہل ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ اس معاملے میں اعتدال دکھانے، ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کے زمانے کی رفتار کو بھی دیکھنا چاہیے۔ اب ہر چیز قدیم معاشروں کی طرح رائج نہیں۔

3۔ آج کل لبرل اور مذہبی دونوں جانب کے لوگوں سے ایک دوسرے کو قبول نہ کرنےکا مقابلہ زور و شور سے جاری ہے۔ دونوں جانب کے لوگوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں اور ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ واحد ایک یہ چیز دونوں طبقوں کی تعلیمات میں مشترک ہے لیکن اس پہ عمل بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

پوری دنیا اس وقت وبائی خوف ناک معاشی اور جانی نقصانات کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔ خدا کا کرمم ہے کہ پاکستان پر وبائی حملہ بہت سست ہے۔ ہمیں انسانیت پر ہر حال میں ایمان رکھنا ہے۔ پُر امید بھی رہنا ہے۔ گاندھی جی نے ایک جگہ کہا ہے کہ

You must not lose faith in humanity. Humanity is an ocean; if a few drops of the ocean are dirty, the ocean does not become dirty.

اس لیے ہیومینٹی پر ایمان رکھنا ہی زندگی کو آگے بڑھانے کے مترادف ہے۔ قوم کو امید کی ضرورت ہے۔ وبائی دنوں میں نقصانات سے زیادہ اس نفرت کی آگ سے بچانے کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے سب متوازن لوگوں کو نکلنا چاہیے۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20