سدھار کا جغرافیہ —— امیر معاویہ

0

تمہید

یہ تحریر ایک ایسے علاقے سے متعلق ہے جسے آپ گاؤں اس لیے نہیں قرار دے سکتے کہ یہاں تازہ ہوا، صاف پانی، پرسکون ماحول وغیرہ جیسی کوئی دیہاتی نعمت میسر نہیں ہے۔ اسے آپ شہری علاقے کا درجہ بھی نہیں دے سکتے کہ علاقہ ہذا سے کئی کلومیٹر پیچھے ہی فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہری حدود کے خاتمے کا بورڈ چسپاں کر رکھا ہے۔

شہری حدود سے باہر واقع نیم شہری علاقوں کے مسائل سے قارئین بخوبی واقف ہوں گے۔ قصہ مختصر یہ کہ سدھار فیصل آباد شہر کے مضافات میں واقع ایک ایسے علاقے کا نام ہے جہاں شہری و دیہاتی ہر دو طرزِ زندگی سے جڑے مسائل تو وافر موجود ہیں لیکن ان سے منسلک سہولتوں کی خاصی کمی ہے۔

محلِ وقوع

جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا، سدھار فیصل آباد شہر کے مضافات میں واقع ہے۔ مزید تفصیل اس محلِ وقوع کی یہ ہے کہ سدھار فیصل آباد، جنھگ روڈ پر بائی پاس چوک سے متصلہ علاقہ ہے۔ اسی وجہ سے یہ چوک بھی بائی پاس چوک ہی کہلاتا ہے۔ کسی بھی بائی پاس چوک کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ آپ کسی بھی طرف سے شہر میں داخل ہوں، گھوم پھر کر اس چوک میں آ ہی جائیں گے۔

اگر آپ فیصل آباد شہر کی طرف سے آئیں تو آپ کو ایک نہایت آسان نشانی بتائے دیتا ہوں۔ آپ جھنگ روڈ پر سفر کرتے ہوئے جب محسوس کریں کہ سڑک کب کی کھڈوں کے درمیان کہیں گم ہو چکی اور آپ تپتی دوپہر میں بھی اس گم گشتہ سڑک کو پانی میں ڈوبا ہوا پائیں تو سمجھ لیجیے، آپ سدھار پہنچ چکے ہیں۔

ذرائعِ آمد و رفت

کسی بھی علاقے میں پہنچنے کے لیے اس علاقے کا محلِ وقوع معلوم ہونے کے ساتھ مناسب ذرائعِ آمد و رفت کا دستیاب ہونا بھی ازحد ضروری ہوا کرتا ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی کے مالک ہیں تومذکورہ بالا نشانی کو ذہن میں رکھتے ہوئے بآسانی سدھار پہنچ سکتے ہیں۔ ذاتی گاڑی دستیاب نہ ہونے کی صورت میں آپ کریم یا اوبر کے ڈرائیور کا منت ترلا بھی کر سکتے ہیں جس کے سدھار جانے پر مان جانے کے امکانات کبھی بھی سو فیصد نہیں ہوتے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی بات کی جائے تو فیصل آباد کی دیگر مرکزی شاہراہوں کی طرح جھنگ روڈ پر بھی آپ کو ہر قسم کی سواری مل جائے گی۔ آپ چاہیں تو کسی کوسٹر کی سیٹوں کے درمیان کھڑے ہو کر اِدھر اُدھر لُڑھکتے رہیں یا کسی ویگن کی سیٹ پر بمشکل خود کو ٹکائے رکھیں، ہر دو قسم کی خواری میں سے کسی ایک کا انتخاب آپ کی اپنی صوابدید ہے۔

ان دو اقسام کے علاوہ آپ ایک تیسری قسم کی سواری پلس خواری کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں جسے اہلیانِ لائلپور چنگ جی کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ ایک کھلی، ہوادار سواری ہے جس پر سفر کے دوران اچھل کر سڑک پر آ رہنے سے بچنا مکمل طور آپ کی ذمہ داری ہو گی۔

ان تمام اقسام کی گاڑیوں کے سپہ سالار جسے دنیا ڈرائیور کے نام سے بھی جانتی ہے، کے لیے دورانِ سفر اونچی آواز میں میوزک چلانا شاید ان کے ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کی شرائط میں شامل ہے۔ یہ بلند آہنگ موسیقی سواریوں کو بوریت سے بچانے کے علاوہ ڈرائیور حضرات کو دیگر گاڑیوں کے ہارن وغیرہ کے شور سے محفوظ رکھتے ہوئے ڈرائیونگ پر مکمل دھیان دینے میں بھی مدد دیتی ہے۔

حدودِ اربعہ

سدھار کی حدود میں داخل ہو جانے کے بعد اس کے حدودِ اربعہ کو سمجھ لینا نہایت اہم ہے۔ میں یہ دعوٰی نہیں کرتا کہ سدھار کے ہر طرف بھی سدھار ہی واقع ہے۔ بہرحال، یہ ایک حقیقت ہے کہ سدھار کا حدودِ اربعہ خاصا وسیع و عریض ہے جو نت نئی کالونیوں کی صورت میں روز بروز بڑھ رہا ہے۔

مختصراً اتنا سمجھ لیجیے، سدھار کے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب میں تو سدھار ہی واقع ہے لیکن کسی اور سمت میں اس کے وجود کے فی الحال کوئی شواہد دستیاب نہیں ہیں۔ مستقبل قریب میں ان چار سمتوں کے علاوہ کسی اور سمت میں بھی سدھار وقوع پذیر ہو جائے تو اس وقوعے سے آپ کو لازماً آگاہ کیا جائے گا۔

صنعت و تجارت

آپ نے سن رکھا ہوگا کہ فیصل آباد کو پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا ہے۔ سو، سدھار میں بھی سب سے بڑی صنعت ٹیکسٹائل ہی ہے اور آبادی کا ایک بڑا حصہ اسی صنعت یعنی پاور لومز سے وابستہ ہے۔ پاور لومز مالکان اور مزدور سال کا بیشتر وقت کپڑا تیارکرنے میں گزارتے ہیں یا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑنے میں، اس بارے میں راقم کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے قاصر ہے۔

سدھار ایک معروف صنعتی علاقہ ہونے کے ساتھ ایک اہم تجارتی مرکز بھی ہے۔ شہر کی سب سے بڑی سبزی و فروٹ منڈی سدھار ہی میں واقع ہے۔ شہر بھر سے لوگ یہاں سبزی و پھل خریدنے جبکہ ملک بھر سے لوگ یہ اجناس بیچنے سدھار آتے ہیں۔

علاوہ ازیں سدھار کے مرکزی بازار سے آپ روزمرہ کی اشئاء سے لے کر الیکٹرونکس اشیاء تک، تقریباً سب کچھ نہ صرف خرید سکتے ہیں بلکہ ان خریدی ہوئی اشیاء کی جب چاہیں مرمت بھی کروا سکتے ہیں۔ مرمت سے یاد آیا، علاقہ کے نوجوانوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد چوکوں چوراہوں میں کھڑے رہ کر وقت ضائع کرنے، اِدھر اُدھر تانکا جھانکی کرنے اور اس تانک جھانک کے چکر میں وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کی مرمت کرتے رہنے کے کام سے بھی وابستہ ہے۔

ذرا تجربہ کار اور ہوشیار قسم کے افراد ان نوجوانوں کی طرح بے کار اِدھر اُدھر کھڑے رہنے کی بجائے چند لاکھ یا بسااوقات چند کروڑ روپے اِدھر اُدھر کرنے کے بعد بیٹھ جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ عام اصطلاح میں یہ امر “پارٹی بیہہ گئی جے” کے نام سے معروف ہے۔ آسان منافع کے لالچ میں ایک پارٹی کے ہاتھوں دھوکہ کھانے والے لوگ اس پارٹی کو لعن طعن کرنے کے بعد سرمایہ کاری کے لیے کوئی نئی پارٹی ڈھونڈلیتے ہیں اور یہ گول چکر یونہی چلتا رہتا ہے۔

آب و ہوا

گوکہ سدھار میں صاف پانی کی دستیابی اور استعمال شدہ پانی کی نکاسی کے کچھ مسائل تو موجود ہیں۔ لیکن مثبت رپورٹنگ کی جائے تو ان مسائل کی نوعیت کچھ خاص سنگین نہیں ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کے لیے میں ایک گھسے پٹے لطیفے کا سہارا لوں گا۔ لطیفہ یوں ہے کہ ایک زمانے میں سموسہ پانچ روپے کا اور فون کال بیس روپے میں پڑتی تھی۔ اب سموسہ بیس روپے اور فون کال پانچ روپے بلکہ اس سے بھی کم قیمت میں میسر ہے۔ یعنی، مہنگائی بڑھی نہیں بلکہ قیمتیں ذرا اِدھر اُدھر ہوگئی ہیں۔ اس لطیفے کو رقم کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ علاقہ میں پانی اب بھی اچھی خاصی مقدار میں موجود ہے لیکن قابلِ استعمال اور ناقابلِ استعمال پانی کی مقدار ذرا سے عدم توازن کا شکار ہو گئی ہے۔

نکاسیِ آب کے مسائل، کوڑا کرکٹ کے جابجا ڈھیروں، بے ہنگم ٹریفک، فیکٹریوں کا دھواں، ان تمام عوامل کی وجہ سے سدھار کی فضاء میں آلودگی کا عنصر کافی بڑھ چکا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق علاقے میں دس منٹ پیدل چلنے والا شخص کسی عام علاقے میں اتنے ہی وقت کے لیے موٹر بائیک پر سفر کرنے والے شخص سے زیادہ گردوغبار اور دھواں پھانک لیتا ہے۔

بہرحال اس مضمون کے توسط سے میں علاقے کی عوام کو بتانا چاہتا ہوں، راقم کی دائر کردہ ایک درخواست کے جواب میں محکمہ ماحولیات نے اطمینان دلایا ہے کہ محکمہ کے بھیجے گئے نوٹس کے جواب میں آلودگی کا باعث بننے والے کارخانوں کے مالکان نے آئندہ اچھے بچے بن کر رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس یقین دہانی کو فیکٹری مالکان اور سرکاری افسران کی ملی بھگت قرار دیتے ہوئے آلودگی میں کمی کو تسلیم نہ کرے تو قارئین سے التماس ہے کہ وہ اسے ریاستی مشینری کے خلاف بے بنیاد پراپییگنڈہ سمجھتے ہوئے ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کرکے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔

تعلیمی صورتحال

سدھار میں تعلیم کی صورتحال انتہائی تسلی بخش ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ علاقہ میں تقریباً ہر محلے میں ایک عدد تعلیمی ادارہ موجود ہے جہاں ایک سے بڑھ کر ایک قابل افراد سالہا سال سے تعلیمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ایسے ایسے قابل اساتذہ بھی موجود ہیں جن کے تدریس سے وابستگی کے دورانیے اور ان کی طبعی عمر میں بس چند ماہ کا ہی فرق ہے۔ اندازہ ہے کہ علاقہ میں اساتذہ کی تعداد یونہی بڑھتی رہی تو عنقریب پڑھانے والوں کی تعداد پڑھنے والوں سے بھی تجاوز کر جائے گی، واللہ علم بالصواب۔

علاقہ کے نوجوانوں کے جذبہ فروغِ تعلیم کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ روزانہ کئی کلومیٹر کا سفر طے کر کے مخلتف کالجز میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔ چند شرپسند عناصر اس کی وجہ علاقہ کے عوامی نمائندوں کی نااہلی کو بھی گردانتے ہیں کہ وہ آج تک ایک لاکھ کے لگ بھگ آبادی کے قصبہ کے لیے ایک سرکاری کالج تک نہ بنوا پائے۔ ہم ان عناصر کے پراپیگنڈے کو رد کرتے ہوئے طلباء و طالبات کے روزانہ کے اس سفر کا محرک ان کے جذبہ حب التعلیم کو ہی قرار دیں گے ناکہ کسی کی نااہلی کو اس امر کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔

قابلِ ذکر اقوام

اہم صنعتی و تجارتی علاقہ ہونے کی وجہ سے سدھار میں کئی قوموں اور ذاتوں کے افراد رہائش پذیر ہیں۔ علاقے میں روزگار کے وسیع مواقع آبادی کے حجم اور تنوع میں روافزوں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ یوں تو سدھار میں افغان بارڈر سے آنے والے پختونوں سے لیکر سندھ کے دیہاتوں سے ہجرت کرکے آنے والوں تک متنوع النسل افراد موجود ہیں جو اپنے ناموں کے ساتھ سید، میاں، رانا، ملک، خان اور دیگر کئی سابقے، لاحقے جوڑتے ہیں۔ تاہم راقم کے خیال میں ان تمام افراد کو صرف دو مرکزی گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، آرائیں اور متاثرینِ آرائیں۔
وما علینا الا بلاغ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20