قومی اثاثہ BAG OF THE NATION —- مصنف (عربی): اسامہ العمر مترجم : جنید جاذب

0

چھت کی الماری سے میں نے بڑا سا وہ بیگ نیچے اتارا جو دادا سے مجھے ورثے میں ملا تھا۔ یہ اتنا روشن اور رنگیں تھا گویا دھنکوں کا کوئی دریا اس سےپھوٹ رہا ہو۔ میں نے اسے کاندھے پر اٹھایا اور گلی میں چل دیا۔ اور پھر آنکھیں موندے اٹکل پچھو میں نے وہاں موجود تمام اشیا کے نمونے اس میں بھر لئے جن میں انسان، پتھر، ہوا، دھول، مٹی، پھول۔۔۔۔ ماضی، حال اورمستقبل ۔۔۔۔۔ یعنی یہاں موجود تقریباً سب کچھ شامل تھا۔

میں نے وہ بھاری بھر کم بیگ جو ہماری قومی ذہانتوں، بصارتوں اور حکمتوں کے عجائب سے لبریز تھا اٹھایا اور ایک فخریہ احساس کے ساتھ دنیا کے دورے پر نکل پڑا۔

طے شدہ سفر کے سب سے پہلے ملک پہنچ کر میں نے وہاں کے عوامی چوک کا رخ کیا اور اس کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر پورے زور سے آواز لگائی:

“خواتیں وحضرات! پلیزمتوجہ ہوں! میں ایک دور دراز کے ملک سے آیا ہوں، لیکن اپنے ساتھ لایا ہوں رنگہا رنگ کے پھول اور خوشبوئیں۔ ۔ ۔ افکار اور تصورات۔۔۔ تخلیقیت اور صلاحیتیں۔۔۔ بہاروں سے بھر پور تاریخ اور میرے ملک کے دروازے پر دست بستہ کھڑا ایک روشن مستقبل۔۔۔”

میری پکار کی کشش نے کام کیا اور چوک میں کھُلنے والے ہر راستے سے ہر طرح کے لوگ میرے گرد جمع ہوتے گئے اور تھوڑی ہی دیر میں اک جم غفیر اکٹھا ہو گیا۔

“بتاؤ اجنبی۔۔۔ بتاؤ تمھارے پاس کیا ہے؟ ہمیں دکھاؤ۔۔۔؟ اپنے ملک کے عجائبات دکھاؤ؟ تصورات دکھاؤ۔۔۔؟ وہ صلاحیتیں دکھاؤ ہمیں؟!!” آوازیں تیز ہوتی گئیں

میں نے اپنابھاری بیگ کاندھے سے اتارا، ماتھے سے پسینہ پونچھا اور پورے اعتماد کے ساتھ لوگوں کے ہجوم پر ایک ترچھی نظر ڈالی۔ اس کے بعد آہستہ سے میں نے بیگ کا منہ ڈھیلا کیا اور پھر سب کے سامنےاسے کھول دیا۔

مگر یہ کیا۔۔۔! بیگ کے کھلتے ہی طنز کا ایک جوہری دھماکا ہوا اور میں ہوا میں لڑھک کر رہ گیا۔ چند ثانیے ہوا میں معلق رہنے کے بعد میں زمین پر آ گرا۔ آس پاس کے لوگوں کا ہنس ہنس کے برا حال ہورہا تھا۔ کچھ ایک تو اپنے پیٹ پکڑے زمین پر رینگ رہے تھے۔ عورتیں اور بچے حقارت سے مجھے تک رہے تھے۔ باقی لوگ مڑ کراپنے اپنے کاروبار کی طرف جا رہے تھے۔

اس حیرت ناک سانحے نے مجھے ہلا کررکھ دیا تھا۔ میرے اندر بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئیں۔ ہجوم میں سے ایک شخص آگے بڑھتا ہوا میرے پاس آیا اور میرے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا آئنہ تھما کر ہنستا ہوا آگے بڑھ گیا۔ میں نے آئنے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ اف۔۔۔۔۔ میں دہشت سے کانپ اٹھا۔ میرا چہرہ بری طرح جھلس کر بگڑ چکا تھا، اور یہی حال میرے ملک کی شہرت اور شبیہہ کابھی تھا!! میرے ملک کو اس قدر نقصان ہو چکا تھا کہ اب صدیوں نہیں تو بھی دہائیوں تک اس کی بھرپائی ممکن نہیں تھی۔

“میرے ملک۔۔۔۔۔ تو نے میرے ساتھ یہ کیا کیا۔۔۔۔ نہیں نہیں میں نے۔۔۔۔۔ میں نے تیرے ساتھ یہ کیا کردیا”

میں نے اشکبار آنکھوں سے چوک کے گرد دیکھا جہاں اب کوئی نہیں تھا۔ اپنی لہو لہان روح کو سہارا دیتے ہوئے میں آہستہ آہستہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا، لیکن دھڑام سے زمین پر ڈھیر ہو گیا۔ بار بار کی کوشش کے بعد بالآخر میں اٹھنے میں کامیاب تو ہو گیا لیکن میری ٹانگیں اب بھی کپکپا رہی تھیں۔ گویا میری ساری خود اعتمادی ان پنڈلیوں میں ٹکی تھی۔ میں نے قومی اثاثے کے راکھ ہوچکے بیگ کی طرف دیکھا۔۔۔۔ طنز کے جوہری دھماکے کے اثرات دیکھے۔۔۔۔! آنسو، میرے ویران چہرے کی اونچائیوں گہرایوں میں سے راستہ بناتے، ٹپ ٹپ نیچے گر رہے تھے۔ میں نے بیگ اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا اور خود نجانے کس طرف نکل لیا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20