شوق کا اظہار: مقصد سے بھی زیادہ مبالغہ آرائی کیوں؟ — Aziz Elawad ترجمہ: وحید مراد

0

Why Finding Your Passion is Overrated — Aziz Elawad

(شوق اور مقصد میں بنیادی فرق یہ ہے کہ شوق ہمارے جذبات اور احساسات سے پھوٹتا ہے جبکہ مقصد ہماری سوچ بچار اور عقلی کاوش کا نام ہے۔ شوق کے حوالے ہم زیادہ حساس ہوتے ہیں جبکہ مقصد کے بارے میں کم۔ شوق کا اظہار ہم بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں لیکن صرف شوق کے سہارے زندگی کو نہیں بتایا جا سکتا زندگی کو گزارنے کیلئے مقصدکی تلاش ضروری ہے۔)

مسئلہ زیر بحث پر تفصیل سے گفتگو کرنے سے پہلے ایک بنیادی بات سمجھ لی جائے جس کے بارے میں زیادہ تر لوگوں کی سوچ واضح نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ “شوق” اور “مقصد زندگی” کے الفا ظ کو ایک ہی معنی میں استعمال کرتے ہیں حالانکہ یہ دو الگ الفاظ یا اصطلاحات ہیں۔ شوق سے مراد وہ کام ہوتے ہیں جن سے ہم محبت کرتے ہیں یا جنہیں ہم سرانجام دینا چاہتے ہیں جبکہ مقصد سے مراد وہ کام ہوتے ہیں جن کو انجام دینا ہماری ضرورت ہوتی ہے یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ زندگی کا مقصد، دراصل اپنے وجود کی دریافت کرتے ہوئے زندگی گزارنا ہے۔ جمہوری معاشروں میں بظاہر ہر کسی کو آزادی ہے اور یہ تصور عام ہے کہ جو جس طرح کا چاہے شوق رکھے اور جس طرح چاہے اپنا یہ شوق پورا کرے اورہر شخص اپنی زندگی کے بارے میں جس طرح کے مقصد کا تعین کرنا چاہے کر سکتا ہے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں۔ اس حوالے سے جمہوری تصورات اور خیالات کے ہوتے ہوئے بھی ہم نے کوئی بہت زیادہ کامیابی حاصل نہیں کرلی، اب بھی ہمارے وجود (جس کو آزادانہ مرضی اور اختیار کے ساتھ زندگی گزارنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے) کو باہر سے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ زندگی کا اچھا یا برا، صحیح یا غلط، صحت مند یا غیر صحت مند مقصد کیا ہونا چاہیے۔ اس لئے جمہوری معاشرے میں بھی زندگی کے مقصد کی، پسند و ناپسند اور انتخاب کی دیگ میں پکنے والے ایک مربےسے زیادہ حیثیت نہیں ہے۔ یقیناً اس پسند و ناپسند اور انتخاب کے عمل سے ہم ہدایت لیتے ہیں لیکن پھر بھی اس ہدایت کے مقصد کے تعین کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ مثلاً اگر آپ بیمار ہیں اور صحت مند ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو کسی معالج سے مشورہ کرنا پڑے گا، آپ بہت دبلے ہیں، بہت کمزور ہیں یا بہت فربہ ہیں تو آپ کو جسمانی فٹنس کے کسی ماہر سے مشورہ کرنا پڑے گا، اسی طرح اگر آپ امیر آدمی بننا چاہتے ہیں تو ان لوگوں سے مشورہ کرنا پڑے گا جو پہلے سے بہت پیسہ بنا رہے ہیں۔ الغرض جب بچہ بولنا اور چلناسیکھتا ہے تو ماں کی مدد کے بغیر یہ اہم امور زندگی سرانجام نہیں دے سکتا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مقصد زندگی کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو ہمارا شوق ہو یا جس سے ہم ضرور محبت کرتے ہوں بلکہ یہ ہماری کچھ ایسی ترجیحات ہوتی ہیں جو زندگی کی گاڑی چلانے کیلئے ناگزیر ہوتی ہیں۔ اضافی طور پر تو یہ بات صحیح ہو سکتی ہے کہ کسی شخص کو ان ترجیحات سے بھی محبت ہو اور وہ اسکے شوق کا روپ دھار لیں لیکن ان ترجیحات کو ہر کسی کا شوق قرار دینا ضروری نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ پھر ہم اپنے شوق کے منبع کو کہاں تلاش کریں؟ اگر لغت میں اس لفظ کے معانی تلاش کئے جائیں تو پتہ چلے گا کہ اسکا مطلب وہ جذبات ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے، یہ فرط جذبات کے چھلک جانے کا نام یا کیفیت ہے، یہ کسی چیز کے حصول کیلئے ہماری شدید خواہش کا نام ہے، یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے اندر انتہائی جوش و خروش اور ولولہ اور جنون پیدا کرتی ہے۔ اور جب ہماری یہ خواہش پوری ہو جاتی ہے یا مطلوبہ چیز کا حصول ہو جاتا ہے تو ہمیں ایک تسکین حاصل ہوتی ہے۔ جب ہم بچپن کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں تو ہمیں زندہ رہنے کا شوق ہوتا ہے، ہمیں ہر نئی چیز کو آزمانے اور تجربہ کرنے کا کوئی خوف نہیں ہوتا اس لئے ہم ہر قسم کے تجربات کرتے چلے جاتے ہیں۔ بچپن کے دور میں جب ہم کھیل کے میدان میں اترتے ہیں تو کہیں کونے میں کھڑے ہو کر یہ سوچنے نہیں لگ جاتے کہ آج میں کیا کھیلوں گا؟ مجھے کونسا کھیل پسند ہے؟اور نہ ہی یہ تجزیہ کرتے ہیں کہ فٹبال کھیلنے کے زیادہ فوائد ہیں یا کرکٹ کھیلنے کے ؟گلی ڈنڈا کھیلنے میں زیادہ مزہ ہے یا گیلی مٹی میں بیر بہوٹی تلاش کرنے میں یا ریت کے گھروندے بنانے میں؟ بلکہ ہم ہر کھیل میں حصہ لیتے ہیں خواہ وہ کھیلنا آتا ہو یا نہ آتا ہو، اور ہر کھیل کے ہر پہلو سے بھرپور مزا لیتے ہیں۔ ہمیں کسی نے بتایا بھی نہیں ہوتا کہ کیا کھیلیں اور کیا نہ کھیلیں، بلکہ ہم تو صرف تجسس، جستجو اور جوش کی بے قراری میں ایسا کر رہے ہوتے ہیں۔ اور اگر ہمیں کوئی چیز ناپسند ہوتی ہے تواسکی طرف دھیان ہی نہیں دیتے اور اس سلسلے میں ہمیں کوئی شرمندگی بھی نہیں ہوتی۔ کیونکہ ہماری پسند اور نا پسند کسی غور و فکر، سوچ بچار یا تجزیے کے بعد پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ پہلے سے ہمارے اندر پائی جاتی ہے۔

اب بنیادی تمہید کے بعد پھر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ شوق اور مقصد دو الگ الگ اصطلاحا ت ہیں۔ شوق، ہمارے جذبات اور احساسات سے پھوٹتا ہے جبکہ مقصد ہماری سوچ، بچار اور عقلی کاوش کا نام ہے۔ مثال کے طور پر اگر مجھے کرکٹ پسند ہے تو میں کرکٹ کھیلتا بھی ہوں اور دوسروں کو کھیلتے ہوئے دیکھتا بھی ہوں کیونکہ یہ میرا شوق ہے جبکہ فٹ بال میرا شوق نہیں اس لئے نہ میں فٹبال کھیلتا ہوں نہ دیکھتا ہوں لیکن میرے کچھ دوستوں کو فٹبال ضرور پسند ہے اس لئے بعض اوقات دوستوں کے ساتھ میں فٹبال کھیل بھی لیتا ہوں اور دیکھ بھی لیتا ہوں یا کبھی کرکٹ کھیلنے اور دیکھنے کا کوئی موقع ہی میسر نہ ہو تو بھی فٹبال کھیل یا دیکھ لیتا ہوں تاکہ جسمانی لحاظ سے فٹ رہ سکوں یا کھیل کا شوق زندہ رکھ سکوں یا دوستوں کے ساتھ اچھا وقت گزر جائے۔ یعنی فٹبال میرا شوق نہیں ہے لیکن کسی ضروری مقصد کے تحت اس کھیل کو کھیلنے یا دیکھنے میں کوئی حرج بھی محسوس نہیں کرتا۔

Finding your purpose, it's so overrated! - Naomi Saelensبہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ شوق کو پروفیشن کے طور پر بھی اپنایا جا سکتا ہے اور اس سے پیسہ بھی بنایا جا سکتا ہے جیسے اگر کسی کو کھیلنے، گانے یا اداکاری کا شوق ہے وہ اس شوق کو اپنا پیشہ بنا لے تو اس سے پیشہ بھی کما سکتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پیسہ کمانے کا تعلق “شوق” سے کم ہے اور “مقصد” سے زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یہ بات پسند ہو یا نہ ہو پیسہ ایک طاقت ہے اور ہم سب اس طاقت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کا حصول اتنا آسان نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اپنا ذاتی چھوٹا سا کاروبار کرنا زیادہ مفید چیز ہے کہ اس سے شوق بھی پورا ہوتا ہے اور کچھ کام بھی ہو جاتا ہے، اور آپ خود ہی مالک ہوتے ہیں اور کسی کو جوابدہ نہیں ہوتے۔ اس طرح کے خیالات رکھنے والے لوگ عام طور پر شوقیہ کام کرکے اپنی جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ کاروبار چھوٹا ہو یا بڑا، اس کیلئے کاروبار کرنے والے کا ایک وضح مقصد ہوتا ہے، پھر وہ اس مقصد کے حصول کیلئے باقاعدہ طور پر پلاننگ کرتا ہے، ضروری ساز و سامان اور ذرائع جمع کرتا ہے پھر کاروبار شروع کرتا ہے، اور کاروبار شروع ہوتے ہی منافع نہیں دینے لگ جاتا، اس کیلئے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ نوکری کرنے والے لوگ تو آئے روز چھٹیاں کرکے پکنک منا رہے ہوتے ہیں لیکن کاروبار کرنے والے تو کئی سالوں تک عید تک کی چھٹیاں نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے بیوی بچوں کے ساتھ، گھومنے، پھرنے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کا شوق کس کو نہیں ہوتا لیکن کیا اس شوق سے ہم پیسہ بنا سکتے ہیں؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ نہیں۔ ہمارے بیوی، بچے ہمیں پیسہ کمانے کیلئے اکسا تو سکتےہیں لیکن ان کے ساتھ اچھا وقت گزارنے سے پیسہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جب ہم کسی شوق کو پیسہ کمانے کیلئے استعمال کرتے ہیں یعنی اسے جب کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں تو اس شوق کی وہ “سرشاری” باقی نہیں رہتی جو اسکے وجود کی بنیادی صفت ہے لہذا ایک وقت میں ایک ہی چیز باقی رہ سکتی ہے، شوق یا مقصد۔ دونوں نہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ایک ساتھ برقرار رہ سکتے ہیں۔ شاید یہاں کچھ لوگ اس بات کے خلاف ایک انگریزی کہاوت کو بطور دلیل پیش کریں “Find something you love doing, and you will never work a day in your life” کہ شوق میں گزرے ہوئے لمحات کا پتہ ہی نہیں چلتا اور جن کاموں کے کرنے کا شوق ہو انکے کرنے سے تھکاوٹ وغیرہ کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ شاید یہ بات کسی حد تک درست ہو لیکن اگر اسکا تجزیہ کیا جائے تو دوسری صورتحال واضح ہوتی ہے مثلاً آپ کو کھانے میں کیک یا کوئی خاص قسم کی مٹھائی بہت پسند ہے لیکن اس کیک یا مٹھائی کے ایک دو یا چند لقمے کھانے کے بعد بھی اسکی طرف آپکی وہی رغبت رہتی ہے جو کھانے سے قبل ہوتی ہے۔ اور کیا صرف اسی کیک یا مٹھائی سےہی آپ پیٹ بھر کر سو سکتے ہیں؟؟اسی طرح اگر کسی کو اپنی محبوبہ کی گود میں رہنا بہت پسند ہے تو کیا وہ اپنی پوری زندگی بلا تعطل اسی کیفیت میں گزار سکتا ہے؟؟ اب شاید واضح ہوا ہوگا کہ مذکورہ انگریزی کہاوت کے literal meaning پر اصرار کرنا درست نہیں۔ یہ کہاوت شاید کسی ناگوار کام اور خوشگوار کام کے فرق کو تو واضح کرتی ہے لیکن کام تو کام ہوتا ہے خواہ یہ آپ کو پسند ہو یا نہ ہو۔ خوشگوار کام بھی آپ کی طاقت کو استعمال کرتا ہے اور ناگوار کام بھی آپ کی طاقت کو استعمال کرتا ہے، آپ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید ناگوار کام آپ کی طاقت کو منفی انداز سے استعمال کرتا ہے لیکن دونوں طرح کے کام آپ کو یہ احساس ضرور دلاتے ہیں کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ خوشگوار کام انجام پانے کے بعد آپ کو یہ احساس دلائے کہ آپ نے کچھ کیا ہی نہیں ہے۔ اب شاید یہ بات واضح ہو چکی ہوگی کہ “شوق” ہماری زندگی کا ایک حصہ ضرور ہے یہ ہمارے مقاصد کو motivate بھی کرتا ہے لیکن صرف شوق کے سہارے زندگی کو نہیں بتایا جا سکتا زندگی کو گزارنے کیلئے مقصدکی تلاش ضروری ہے۔

Why Finding our Passion is Overrated. (What to find Instead ...جس طرح نئے سے نئے شوق پیدا ہوتے رہتے ہیں اسی طرح بہت سے پرانے شوق ختم بھی ہوتے رہتے ہیں اس لئے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جس شوق کا جنون آج ہمارے سر پر چڑھا ہوا ہے ضروری نہیں کل بھی یہی صورتحال ہو، کھانے پینے، کھیلنے کودنے، گھومنے پھرنے، رنگ رلیاں منانے کا شوق ایک وقت میں ہوتا ہے اور دوسرے وقت میں نہیں ہوتا ہے۔ زندگی کا مقصد، زندگی کو گزارنا ہوتا ہے اور یہ بات سمجھ میں آنے سے قبل ہم اس دنیا کا کھوج لگا رہے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کوئی بھی شخص پیدائشی طور پر تو زندگی سے نفرت نہیں کرتا بلکہ ہر شخص میں پیدائشی طور پر تو دنیا کیلئے ایک جوش، ولولہ اور اسکی جستجو کیلئے ایک ہیجان پایا جاتا ہے۔ جب بچپنے میں ہم کھیلنے کا آغاز کرتے ہیں تو یہ کھیل ایک کھلونے سے شروع ہوتا ہے، اس سے کھیلنے کے دوران ہم اس کھلونے کے اندر باہر سے واقف ہو جاتے ہیں تو بوریت ہونے لگتی ہے اور اسے توڑ یا پھینک کر کسی دوسرے کھلونے کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور ہمارے پرانے کھلونے پھکتے رہتے ہیں اور نئے نئئے شامل ہوتے رہتے ہیں۔ پھر لڑکپن میں قدم رکھتے ہی بچپن کے سارے شوق ختم ہو جاتے ہیں اور نئے نئے کھیلوں میں رغبت ہونے لگتی ہے، پھر جوانی کے شوق لڑکپن سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے اور مختلف شوقوں کے ساتھ ساتھ ہم زندگی کو بھی کھوجتے ہوئے عمر رسیدہ ہوتے جاتے ہیں۔ قصہ مختصرزندگی کو کھوجنے کے حوالے سے ہم پیدائشی طور پر ایک قدرتی شوق اور رغبت رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارا کوئی خاص مقصد، وجہ، منشا، منصوبہ بندی، ہدف یا منزل مقصو د نہیں ہوتی۔ ہمارا بنیادی مقصد دنیا کی چیزوں کو صرف کھوجنا ہوتا ہے اور اس کھوج کے دوران جو چیز من کو بھاتی ہے اس سے خوش ہو جاتتے ہیں، اسے اپنا لیتے ہیں، اسے اختیار کر لیتے ہیں اور اسے شوق بنا لیتے ہیں اور جو چیز من کو نہیں بھاتی ان سے بور ہو جاتے ہیں، اسے جانے دیتے ہیں، اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ لیکن ہماری جسمانی نشونما کے ساتھ ساتھ ہمارا دماغ اور شعور بھی نشونما پاتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ جوں جوں یہ زیادہ پیچیدہ، طاقتور، اور عیار ہوتا جاتا ہے اسی قدر یہ سہل پسند، نئے تجربات سے گھبرانے والا اور ڈرپوک ہوتا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا خوف “تبدیلی کا خوف” ہوتا ہے۔ اب یہ دلائل تراشتا ہے کہ صورتحال، عادات، شوق کی تبدیلی سے پتہ نہیں کیا ہو جائے گا؟اس لئے جوں جوں ہم عمر رسیدہ ہوتے جاتے ہیں اسی قدر ہم تبدیلی کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اور عادات و شوق میں شامل چیزوں کو بدلنے اور مہم جوئی سے گھبراتے ہیں اور اپنے ایک Comfort Zone میں رہنا چاہتے ہیں اور ہر اس سرگرمی، عمل یا چیز کو ناپسند کرتے ہیں جو ہمارے Comfort Chain کو تبدیل کرنے کی خواہاں ہو۔ امید ہے اب آپ پر یہ بات واضح ہو چکی ہوگی کہ شوق کے اظہار میں زیادہ حساسیت کیوں پائی جاتی ہے، اسکی قدر ہم اصل سے زیادہ کیوں کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں مقصد زندگی عام طور پر ہمارے ذہن میں واضح ہی نہیں ہوتا حالانکہ زندگی کا بڑا حصہ کسی مقصد کے سہارے گزرتا ہے شوق کی تسکین میں گزرنے والے لمحات تو بہت محدود ہوتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ شوق قدرتی طور پر ہمارے وجود کے اندر ہوتا ہے، ہم اسکے ساتھ ہی پیدا ہوتے ہیں، یہ ایک خوشی اور طمانیت کی مانند ہوتا ہے، اسے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ پہلے سے ہمارے اندر موجود ہوتا ہے، جس طرح خوشی کا احساس مستقل نہیں ہوتا اسی طرح کوئی شوق بھی مستقل طور پر نہیں پایا جاتا، آج اگر ہم ایک چیز سے خوش ہوتے ہیں تو کل کسی دوسری چیز سے، شوق، ایک ایسی خوشی کے ساتھ ہمارے وقت اورر زندگی کو گزارتا ہے کہ ہمیں اسکے گزرنے کا کوئی ناگوار احساس نہیں ہوتا۔ شوق بذات خود کوئی مقصد نہیں ہوتا لیکن یہ زندگے گزارنے کےمقصد کو motivate اور Dictate ضرور کرتا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ صرف شوق کے سہارے زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ بھرپور زندگی گزارنے کیلئے ایک واضح مقصد ضروری ہے۔


وحید مراد ۔ایم اے،ایم فل (سوشل سائنسز) ہمدر د یونیورسٹی کراچی۔ پیشہ  :تدریس، دلچسپی کے مضامین: معاشیات، سیاسیات، عمرانیات، فلسفہ، سوشل سائنسز ، ادب وغیرہ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20