نبض سے تشخیص کیونکر ممکن؟ —- تحریر و ترتیب: محمد شاہ جہان اقبال

0
نبض کو بدن کی باطنی بائیوگرافی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ یہ احوالِ پیدائش سے لے کر موجودہ احوال کی مکمل تاریخ کا نام ہے۔ تشخیص کی دنیا میں نبض شناسی کے کرشمے ایک جادوئی حقیقت رکھتے ہیں۔ شاید اس وجہ سے لوگوں نے اس کی طرف توجہ نہ دی مگر یقین کیجیے یہ ایک فن ہے جس پہ دسترس رکھنے والا ایک جادوگر معلوم ہوتا ہے۔ وہ کلائی پہ انگلیاں رکھ کے بغیر آلات کے باطن کے احوال سے مطلع کر دیتا ہے۔ افسوس ہر عام و خاص اس سے دوری پہ جاگرا اور ایک عظیم فن سے محرومی ہمارا مقدر ٹھہری۔

 طب کی دنیا میں تشخیصِ امراض کے متعدد طریقے موجود ہیں۔ یہ تمام طریقے اپنی جگہ ایک حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ مقصد و مدعا مرض کی تشخیص و تفہیم ہے اس لیے ان تمام طریقہءِ تشخیص سے مدد حاصل کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔

طب میں امراض کی تشخیص کے لیے جہاں جسم کی رنگت، آنکھوں کی رنگت اور دیگر علامات کو مد نظر رکھا جاتا ہے وہاں دو اہم ذرائع تشخیص بھی ہیں۔ ان میں
1-نبض (شناسی)
2-قارورہ (شناسی)

اس وقت صرف نبض کے حوالے سے تشخیصِ امراض کی فلاسفی بیان کرنا مقصود ہے۔ جیسا کہ علوم و فنون کی دنیا میں تجسس و تحقیق کا اہم کردار رہا ہے۔ یہی تحقیق انسان کے اندد تجسس پیدا کرتی ہے اور انسان مشاہدے اور تجربات سے اپنی بساط کے مطابق نتائج اخذ کرتا ہے۔ سائنس کی دنیا میں نتائج کے استنباط کے لیے استقرائی طریقہ(Inductive Method) کافی مانی شے ہے۔

منطق کی دنیا میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے اسے “دلالت” سے موسوم کیا جاتا۔

مختصرًا دلالت سے مراد ایک شے کو سمجھ لینے سے اس سے ملحق دوسری شے اگرچہ وہ نامعلوم ہو سمجھ لینا دلالت کہلاتا ہے۔ اس کے دو بازر ہوتے ہیں ایک ‘دال’ اور دوسرا ‘ مدلول’ اس تمہید کو باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ استقرائی دنیا میں دلالت بڑی اہم شے ہے۔

طب میں نبض صرف دل کے دھڑکنے پہ دلالت نہیں کرتی بلکہ بہت سی امراض کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ نبض ایک فن ہے جس پر صدیوں سے مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پہ ایک مکمل فلاسفی تعمیر کی گئی ہے۔ نبض سے امراض کی تشخیص کا مشاہدہ اور تجربہ آج تک استعمال کیا جاتا ہے اور صدیوں سے کیا جاتا رہاہے۔

نبض دل اور باطن کی وہ زبان ہے جو دیگر دوسری زبانوں کی طرح اپنی حروفِ تہجی اور مخصوص گرائمر رکھتی ہے۔ قبل اس کے کہ اس کی اس حروفِ تہجی اور گرائمر کو ذریرِ بحث لاو چند عظیم حکیم، فلاسفر، سائنسدانوں کے اقوالِ پیش خدمت ہیں جو فنِ نباضی کو سمجھنے میں بڑھے اہم ہیں۔

بقراط کا قول:-
’’نبض ایک خاموشی اعلانچی ہے اور باطنی حالات کو بہ آواز بلند بتاتی ہے لیکن جو حکماء اس پر دسترس نہ رکھتے ہوں ان کے لیے گونگی ہے‘‘۔
جالینوس کا قول ہے:-
’’نبض بیماری کی پیچیدگیوں کو طبیب کے سامنے رکھ دیتی ہے‘‘۔ رازی کا قول ہے ’’ نبض ایک ایسا آلہ ہے جس سے جسم کے تمام حالات کا علم ہو جاتاہے اور جسم کے تمام مفرد اعضاء کے حالات بتلاتی ہے۔
افلاطون کا قول ہے ’’نبض کبھی خطا نہ کرنے والا پیغامبر ہے”
ایک جید حکیم فرماتے ہیں کہ ” نبض دل اور باطن کا وکیل ہے جو اپنے موکل پہ دلائل فراہم کرتا ہے۔

آئیں دیکھے نبض کی وہ زبان کونسی سی زبان ہے جو سمجھنے سے باطن کے احوال جو صدیوں کے مشاہدے سے داناوں نے اکٹھے کیے ہیں۔

فلاسفر آف طب اس زبان کی نو حروفِ تہجی یا رموز و اسرار کی نشاندہی کرتے ہیں جو درجہ ذیل ہیں۔

1-مقدار 2-قرع 3- حرکت 4- سکون 5- قوام 6- رطوبت 7-کیفیت 8- وزن 9- استواء و اختلاف۔

ان کو پھر ایک عظیم محقق سائنسدان دوست محمد صابر ملتانی رحمة اللہ نے چھ مرکب اور تین مفرد میں ضم کر کے طب کی دنیا میں عظیم کارنامہ سر انجام دیا ہے۔

خیر اس علمی تناظرِ نبض جس میں طب کی دق اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں تھوڑا سمٹتے ہوئے ایک عام آدمی اس کو کس طرح سمجھ سکتا ہے اس پہ چند معروضات پیشِ خدمت ہیں۔

عام مشاہدے کی بات ہے کہ جب کسی پائپ، نالی یا نہر میں پانی (رطوبت) کی مقدار زیادہ ہو گی تو اس کا حجم اور چوڑائی بھی زیادہ ہوگی۔ اور جیسے ہی اس میں کمی ہو گی تو چوڑائی کمی کی طرف مائل ہو گی۔ اس مشاہدے کو جب کوئی طبیب نبض کے اندر محسوس کرتا ہے تو اس پہ بات کھُل جاتی ہے کہ جسم میں رطوبت زیادہ ہے یا کم اگر زیادہ ہے تو رطوبتی امراض و علامات زیادہ ہیں اور اگر خشکی یا سوداویت یعنی ایسڈیٹی زیادہ ہے تو اس کی نبض چوڑائی میں کم ہونے سے حکیم معلوم کر لے گا جو اسے اس بات پر دلالت کناں ہوگی کہ جسم میں تیزابیت زیادہ ہے جس کی وجہ سے معدے کی سوزش، السر یا ورم ہے، اگر یہ تیزابیت مقعد کے خلیوں پہ اثر انداز ہے تو بواسیر جیسے امراض جنم لے سکتے ہیں اور اگر دل کے امراض کی بات کی جائے تو اس نبض میں گلیسٹرول کی زیادتی کے مسائل ہو سکتے ہیں نیز اسی پہ دیگر اعضاء کے قیاس کو مد نظر رکھ کر تشخیص ممکن ہے۔ اسی طرح عام مشاہدے کی بات ہے کہ گرمی کی وجہ سے انجن یا جنریٹرمسنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں جس سے انجن کی کارکردگی متاثر ہو کر ظاہر ہو نا شروع ہو جاتی ہے۔ اور ایک ڈرائیور انجن کی اس دلالت پہ فورًا گاڑی کی حدت کو کم کرنے کے اہتمام کرتا ہے۔

نبض کی زبان اور اسی فلاسفی کو سمجھنے کے بعد ایک طبیب ساری صورتِ حال سے بخوبی واقف ہو جاتا ہے اور وہ تشخیض کے مرحلے کو احسن انداز میں سرانجام دے پاتا ہے جو اس کی حذاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

چونکہ ہر نبض کے تحت امراض و علامات کا ایک چارٹ مرتب دیا گیا ہوتا ہے طبیب اس پہ ایک ایک کر کے نظر کرتا جاتا ہے اور اس طرح وہ امراض اس پہ روزِ روشن کی عیاں ہو جاتی ہیں۔

نبض فنون کے جنس سے ایک شریف فن کی حیثیت رکھتا ہے۔ دیگر فنون و علوم جس طرح تجربات کے مرہونِ منت ہے نبض بھی اسی میں سے ایک کامل و اکمل ہے۔ دنیا طب میں بیسیوں نبض شناس گزرے ہیں ان میں سے ایک عبد الوہاب انصاری جن کی کتاب ” اسرار سریانیہ” ان میں انہوں نے بہت سے رموز لکھے ہیں۔ جس میں انہوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر میں ایک ماں کی نبض پورے اہتمام کے ساتھ دیکھ لوں تو ایک سو بچوں میں سے اس ماں کے بچے نبض دیکھ کر نکال سکتا ہوں کہ یہ یہ تمہارے بچے ہیں۔ اسی طرح وقت کے مجدد طب دوست محمد صابر ملتانی رحمة اللہ نبض کے ماہر اور محقق تھے۔

بہرکیف نبض شناسی کافن ایک عظیم فن ہے جس سے جلد اور بنا کثیر رقم خرچ کیے امراض کی تشخیص ممکن ہے۔ اور اس تجربے سے عمومی طور پہ بہت سے لوگ گزرے ہوں گے کہ واقعتاً نبض ایک کرشمے سے کم نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20