فکر ِمودودی: مسلح جدوجہد اور شدت پسندی —- مراد علوی

0

ذیل میں مولانا مودودی کی تحریروں سے وہ عبارتیں پیش کی جارہی ہیں، جن میں انھوں نے مختلف اوقات میں اپنے پیش کردہ نظریے کے عملی نفاذ کےلیے، مسلح جدوجہد، خفیہ تحریک، پُر تشدد ذرائع، فوجی انقلاب جیسی تدابیر کی نفی فرمائی ہیں۔ ان میں بیشتر ان کی وہ تصریحات ہیں، جو مسلح جدوجہد اور خفیہ تحریک چلانے سے متعلق سوالات کے جواب میں پیش کی گئ ہیں۔ مولانا کا یہ طرزِ فکران کی دنیا کی سیاسی تاریخ کے گہرے مطالعے اور تجزیے اور مضبوط ارادہ کا پتا دیتا ہے۔ وہ کسی بھی حالت میں نظری اور عملی دونوں صورتوں میں اپنے اس فکر سے منحرف نہیں ہوتے۔ آپ نے سیاسی عمل میں بہت سخت حالات کا سامنا کیا لیکن کبھی بھی اپنے بتاے ہوئے منہج سے انحراف گوارا نہیں کیا۔ تاہم اپنی فکر کے علمی نفاذ کےلیے ہمیشہ اس بنیادی اصول پر عمل کرنے کی تلقین فرمائی:

“جو عظیم الشان مقصد ہمارے سامنے ہے اور جن زبردست طاقتوں کے مقابلے میں ہم کو اٹھ کر اس مقصد کےلیے کام کرنا ہے، اس کا اولین تقاضا یہ ہے کہ ہم میں صبر ہو، تدبر اور معاملہ فہمی ہو اور اتنا مضبوط ارادہ جس سے ہم دور رس نتائج کےلیے لگاتار ان تھک سعی کرسکیں۔ بے صبری کے ساتھ جلدی جلدی نتائج برآمد کرنے کےلیے بہت سے ایسے سطحی کام کیے جاسکتے ہیں جن سے ایک وقتی ہلچل برپا ہوجائے۔ لیکن اس کا کوئی حاصل اس کے سوا نہیں ہے کہ کچھ دنوں تک فضا میں شور رہے اور پھر ایک صدمے کے ساتھ سارا کام اس طرح برباد ہوکر مدت ہائے دراز تک اس کا نام لینے کی بھی کوئی ہمت نہ کرسکے۔ ” (روداد جماعتِ اسلامی، اول، ص 88)

16 ذی الحج 1382ھ میں دنیاے عرب کی اسلامی تحریکوں کے نوجوانوں سے خطاب میں ان کےلیے طریقِ کار واضح کرتے ہوئے جو نصیحتیں کیں ان میں اس پہلو کو مزید نمایاں کیا:

“بے صبرہوکر خام بنیادوں پر جلدی سے کوئی اسلامی انقلاب برپا کردینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ جو مقصود ہمارے پیش نظر ہے اس کے لیے بڑا صبر درکار ہے۔ حکمت کے ساتھ جانچ تول کر ایک ایک قدم اٹھایے اور دوسرا اقدام اٹھانے سے پہلے خوب اطمینان کر لیجیے کہ پہلے قدم میں جو نتائج آپ نے حاصل کیے ہیں وہ مستحکم ہوچکے ہیں۔ جلد بازی میں جو پیش قدمی ہوگی اس میں فائدے کی بہ نسبت نقصان کا خطرہ ہوزیادہ ہوگا۔ ” (تفہیمات، 3، ص 362)

ایک موقع پر اپنی جماعت کے ارکان کے اجتماع سے فرمایا:

“خدا کی قسم، اور میں بہت کم قسم کھاتا ہوں، کہ جماعت اسلامی نے جو یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ وہ: کسی قسم کے تشدد کے ذریعے سے، یا کسی قسم کی خفیہ تحریک کے ذریعے سے، یا کسی قسم کی سازشوں کے ذریعے سے انقلاب برپا نہیں کرنا چاہتی، یہ قطعاََ کسی کے خوف کی وجہ سے نہیں ہے۔ یہ قطعاََ اس لیے نہیں ہے کہ ہم اپنی صفائی پیش کرسکیں کہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں، اور ہمارے اوپر یہ الزام نہ لگنے پائے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلامی انقلاب اس وقت تک مضبوط جڑوں سے قائم نہیں ہوسکتا، جب تک کہ لوگوں کے خیالات تبدیل نہ کردیے جائیں، جب تک لوگوں کے افکار، لوگوں کے اخلاق اور لوگوں کی عادات کو تبدیل نہ کردیا جائے۔ اگر کسی قسم کے تشدد کے ساتھ، یا کسی قسم کی سازشوں کے ساتھ، یا کسی قسم کے دھوکے بازیوں اور جھوٹ کے ساتھ، انتخابات جیت لیے جائیں، یا کسی طریقے سے انقلاب برپا کردیا جائے، تو چاہے یہ انقلاب کتنی دیر تک رہے، یہ اسی طرح اکھڑتا ہےجیسے اس کی کوئی جڑ نہ ہو۔ ” (ہفت روز ایشیا، لاہور، 7 اپریل 1974)

ایک اور موقع پر فرمایا:

“میں اصولاً قانون شکنی اور غیر آئینی طریق کار اور زیر زمین کام کا سخت مخالف ہوں۔ میری یہ رائے کسی سے خوف یا کسی وقتی مصلحت کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ میں سالہا سال کے مطالعے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قانون کا احترام مہذب معاشرے کے وجود کے لیے ناگزیر ہے اور کوئی تحریک اگر اس احترام کو ایک دفعہ ضائع کر دے تو پھر خود اس کے لیے بھی لوگوں کو قانون کا پابند بنانا سخت دشوار بلکہ محال ہو جاتا ہے۔ اسی طرح زیر زمین کام اپنے اندر وہ قباحتیں رکھتا ہے جن کی وجہ سے اس طریقے پر کام کرنے والے آخرکار خود ان لوگوں سے بھی بڑھ کر معاشرے کے لیے مصیبت بن جاتے ہیں جن کو ہٹانے کے لیے وہ یہ طریقے اختیار کرتے ہیں۔ انہی وجوہ سے میرا عقیدہ یہ ہے کہ قانون شکنی اور خفیہ کام قطعی غلط ہے۔ میں نے ہمیشہ جو کچھ کیا ہے، علانیہ کیا ہے اور آئین و قانون کے حدود کے اندر رہ کر کیا ہے، حتیٰ کہ جن قوانین کا میں شدید مخالف ہوں، ان کو بھی میں نے آئینی و جمہوری طریقوں سے بدلوانے کی کوشش کی ہے، مگر کبھی ان کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ یہی عقیدہ جماعت اسلامی کا بھی ہے۔ اس کے دستور کی دفعہ ۵ میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ ہم ایسے ذرائع اور طریقے کبھی استعمال نہیں کریں گے جو صداقت و دیانت کے خلاف ہوں یا جن سے فساد فی الارض رونما ہو۔ ہم جو کچھ کریں گے، جمہوری اور آئینی طریقوں سے کریں گے اور خفیہ طریقوں سے نہیں بلکہ کھلم کھلا اور علانیہ کریں گے۔ ” ہفت روز ایشیا، لاہور، 17 نومبر 1963بہ حوالہ: تصریحات، ص 89)

لندن میں مقیم عرب طلبہ نے اپنے رسالے “مجلۃ الغربا” کےلیے مولانا سے انٹرویو لیا، جس میں ایک سوال حکومتی جبر و تشدد سے متعلق پوچھا گیا (یہ وہ زمانہ تھا جب عرب دنیا اور بالخصوص مصر میں اسلامی تحریک پر سخت مظالم ڈھائے جارہے تھے):

” اسلامی تحریکیں اس وقت جگہ جگہ حکومتوں کے جبر و تشدد کی فضا میں سانس لے رہی ہیں۔ چناں چہ آپ کی نظر میں وہ کون سا مناسب ترین رویہ ہے جو اسلامی تحریکوں کو ان حکومتوں کے بارے میں اختیار کرنا چاہیے۔ “

مولانا جواب میں فرماتے ہیں:

” میرے نزدیک یہ طے کرنا ہر ملک کی اسلامی تحریک کے کارکنوں اور قائدین کا کام ہے کہ جس قسم کا ظلم و ستبداد ان پر مسلط ہے اس ے مقابلے میں وہ کس طرح کام کریں۔ ہر ملک میں اس کی صورتیں اور کیفیتں اتنی مختلف ہیں کہ سب کےلیے کوئی ایک طریق عمل تجویز کرنا مشکل ہے۔ البتہ جو چیز میں ان سب کےلیے ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ان کو خفیہ تحریکات اور مسلح انقلاب کی کوششوں سے قطعی باز رہنا چاہیے اور ہر طرح کے خطرات و نقصانات براداشت کرکے بھی اعلانیہ، پُر امن اعلائے کلمۃ الحق کا راستہ ہی اختیار کرنا چاہیے، خواہ اس کے نتیجے میں ان کو قید و بند سے دوچار ہونا پڑے یا پھانسی کے تختے پر چڑھ جانے کی نوبت آجائے۔ ” )تصریحات، ص 175-176(

اوپر جو عبارت نقل کی گئ اسی تقریر میں مولانا نےعرب دنیا میں مختلف اسلامی تحریکوں کے نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا:

“تحریک اسلامی کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انھیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحہ کے ذریعہ سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔ یہ بھی در اصل بے صبری اور جلد بازی ہی کی ایک صورت ہے اور نتایج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک ہی کے ذریعہ سے برپا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلایے۔ بڑے پیمانہ پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے۔ اور اس کوشش میں جو خطرات اور مصائب بھی پیش آئیں ان کا مردانہ وار مقابلہ کیجیے۔ اس طر ح تدریج جو انقلاب برپا ہوگا وہ ایسا پائدار اور مستحکم ہوگا جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کرسکیں گے۔ جلد بازی سے کام لے مصنوعی طریقوں سے اگر کوئی انقلاب رونما ہو بھی جائے تو جس راستے سے وہ آئے گا اسی راستے سے وہ مٹایا بھی جاسکے گا۔ (تفہیمات، ج 3، ص 363)

مولانا کسی بھی حالت میں آئینی اور قانونی جدوجہد سے مایوس ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ چاہے حالات کیسے بھی ہوں، وہ ہمیشہ اسی طرزِ عمل پر عمل پیرا رہے۔ آزادی سے قبل بھی جب اس قسم کی الجھنیں پیش آئیں کہ آئینی جدوجہد کے ذریعے مولانا کے پیش کردہ نصب العین کا حصول ممکن نہیں ہے تو کیا مسلح جدوجہداختیار کرنا چاہیے، تو مولانا نے اس کا جواب نفی میں دیا تھا۔ ایسے ہی سوالات آزادی کے بعد میں زیر بحث آئے۔ مولانا ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

“بکثرت لوگ اس الجھن میں پڑ گئے ہیں کہ آیا جمہوری طریقوں سے یہاں کوئی تبدیلی لائی جاسکتی ہے یا نہیں اور ایک اچھی خاصی تعداد یہ سمجھنے لگی ہے کہ ایسے حالات میں غیر جمہوری طریقے اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ بجائے خود ہمارے حکمرانوں کی بہت بڑی نادانی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو اس طرح سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، لیکن ہم اس پوری صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور اس کی پیدا کردہ تمام صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بھی اپنی اس رائے پر قائم ہیں کہ اسلامی نظام جسے برپا کرنے کے لیے ہم اٹھے ہیں، جمہوری طریقوں کے سوا کسی دوسری صورت سے برپا نہیں ہوسکتا اور اگر کسی دوسرے طریقے سے برپا کیا بھی جاسکے تو وہ دیرپا نہیں ہوسکتا۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے آپ جمہوری طریقوں کا مطلب واضح طور پر جان لیں۔ غیر جمہوری طریقوں کے مقابلے میں جب جمہوری طریقوں کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ نظامِ زندگی میں جو تبدیلی بھی لانا اور ایک نظام کی جگہ جو نظام بھی قائم کرنا مطلوب ہو، اسے زور زبردستی سے لوگوں پر مسلط نہ کیا جائے، بلکہ عامۃ الناس کو سمجھا کر اور اچھی طرح مطمئن کرکے انہیں ہم خیال بنایا جائے اور ان کی تائید سے اپنا مطلوبہ نظام قائم کیا جائے۔

کوئی دوسرا نظام مثلاً کمیونزم لوگوں پر زبردستی ٹھونسنا جاسکتا ہے، بلکہ اس کے قیام کا ذریعہ ہی جبر اور جباریت ہے اور خود اس کے ائمہ علانیہ یہ کہتے ہیں کہ انقلاب بندوق کی گولی ہی سے آتا ہے۔ استعماری نظام اور سرمایہ داری نظام اور فسطائی نظام بھی رائے عامہ کی تائید کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ رائے عامہ کو طاقت سے کچل دینا اور اس کا گلا گھونٹ دینا ہی ان کے قیام کا ذریعہ ہے، لیکن اسلام اس قسم کا نظام نہیں ہے۔ وہ پہلے لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کرنا ضروری سمجھتا ہے، کیونکہ ایمان کے بغیر لوگ خلوص کے ساتھ اس کے بتائے ہوئے راستوں پر نہیں چل سکتے۔ پھر وہ اپنے اصولوں کا فہم اور ان کے برحق ہونے پر اطمینان بھی عوام کے اندر ضروری حد تک اور خواص (خصوصاً کارفرماؤں) میں کافی حد تک پیدا کرنا لازم سمجھتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر اس کے اصول و احکام کی صحیح تنفیذ ممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ وہ عوام و خواص کی ذہنیت، اندازِ فکر اور سیرت و کردار میں بھی اپنے مزاج کے مطابق تبدیلی لانے کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ یہ نہ ہو تو اس کے پاکیزہ اور بلند پایہ اصول و احکام اپنی صحیح روح کے ساتھ نافذ نہیں ہوسکتے۔ یہ جتنی چیزیں میں نے بیان کی ہیں، اسلامی نظام کو برپا کرنے کے لیے سب کی سب ضروری ہیں اور ان میں سے کوئی چیز بھی جبراً لوگوں کے دل و دماغ میں نہیں ٹھونسی جاسکتی، بلکہ ان میں سے ہر ایک کے لیے ناگزیر ہے کہ تبلیغ، تلقین اور تفہیم کے ذرائع اختیار کرکے لوگوں کے عقائد و افکار بدلے جائیں، ان کے سوچنے کے انداز بدلے جائیں، ان کی اقدار بدلی جائیں، ان کے اخلاق بدلے جائیں اور ان کو اس حد تک ابھار دیا جائے کہ وہ اپنے اوپر جاہلیت کے کسی نظام کا تسلط برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ جمہوری طریقوں کے سوا اس کے حصول کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے اور آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اسلامی نظام کو عملاً برپا کر دینے کے لیے کوئی اقدام اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک اس مقصد کے لیے کام کرنے والوں کو اس نوعیت کی عوامی تائید حاصل نہ ہو جائے۔ (تصریحات، ص ۳۲۰۔ ۳۲۲)

اشترکی تصورِ “انقلاب” کے بارے میں فرماتے ہیں:

“جہاں تک توڑ پھوڑ کی کاروائیوں کا تعلق ہے اس ملک میں ایک ایسا عنصر موجود ہے جو ایسی کاروائیوں کے ذریعے سے اقتدار پر قبضہ کرکے اشتراکی آمریت قائم کرنا چاہتا ہے۔ اشتراکی انقلاب آتا ہی توڑ پھوڑ کے ذریعے سے ہے۔ ان کا فلسفہ یہی ہے کہ “بندوق کی نالی انقلاب کا سرچشمہ ہے” اگر اس وقت ملک کے حالات توڑ پھوڑ کی طرف گئے تو اس کا مطلب یہ کہ ملک اشتراکی انقلاب کی طرف جارہا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ توڑ پھوڑ اور تشدد کے ذریعے کوئی مستحکم اور پائیدار نظامِ حکومت قائم نہیں کیا جاسکتا۔ لاطینی امریکہ اور افریقہ کے ان ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ جہاں اس قسم کی کاروائیوں کے بعد انقلاب لائے گئے اور پھر وہاں انقلاب در انقلاب کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس لیے نہ ہم خود تشدد کا راستہ اختیار کریں گے اور نہ دوسروں کو اختیار کرنے دیں گے۔ ” (تصریحات، ص 180-181)

سوشلسٹ عناصر کی خفیہ تحریک چلانےکے ضمن میں مولانا سے سوال کیا گیا کہ وہ خفیہ طور پر اپنے کارکنوں کو فوجی تربیت دے رہے ہیں، ان حالات میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کو اس طریقے پر خود کو منظم نہیں کرنا چاہیے؟ مولانا جواب میں فرماتے ہیں:

“ہمارا کام خفیہ تحریک چلانا نہیں بلکہ کھلم کھلا اپنے نظریے کو پھیلانا ہے۔ کمیونسٹ کھلے طریقے سے عوام میں کام نہیں کرسکتے۔ ان کا مزاج ہی یہ ہے کہ خفیہ طریقوں سے کام کرتے ہیں اور عوام کی مرضی کے خلاف ان پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ کسی خفیہ تحریک کے ذریعے کوئی صالح انقلاب نہیں آسکتا۔ اس تحریک میں جو خرابیاں پرورش پاتی ہیں ان کا کسی کو پتہ نہیں چلنے پاتا۔ اور جب وہ تحریک کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ خرابیاں ایکا ایکی ابھر کر پورے ملک کےلیے آزمائش کا سبب بن جاتی ہیں۔ اسی خفیہ تحریک کا نتیجہ تھا کہ اسٹالن جیسا ظالم آدمی روس میں بر سر اقتدار آگیا اور روس کے عوام نے ایک زارسے چھٹکارا حاصل کیا تو دوسرے زار نے ان کی گردن دبوچ لی۔ ” (تصریحات، ص 192-193)

اسلامی ریاست کے قیام کےلیے زیرِ زمین کام کرنے کے بارے میں مولانا فرماتے ہیں:

“یہ بات میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ جب تک ہمت اور جرات اور عزم و استقلال کے ساتھ openly (کھلے عام) کام نہیں کیا جائے گا اسلامی ریاست قائم نہیں ہوسکتی۔ under-ground (زیرِ زمین) کام کے نتیجے میں اسلامی ریاست نہیں بن سکتی۔ ” (تصریحات، 271)

بڑھتے ہوئے تشدد کے رجحان کے ازالے کے بارے میں مولانا ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

“یہ صورتِ حال بڑی حد تک حکومتوں کی غلط روش سے پیدا ہوئی ہے۔ حکومتوں کی روش یہ رہی ہے کہ آپ معقول بات معقول دلیل سے پیش کریں تو اسے کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی اور یہ خیال کیا جائے گا کہ یہ امن پسند پوگ ہیں ان سے حکومت کے نظم و نسق کو کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا اس لیے ان کی بات قابل اعتنا نہیں ہے۔ اس کے برعکس اگر کچھ لوگ توڑ پھوڑ اور تشدد پر اتر آئیں تو حکومت سمجھتی ہے کہ ہاں یہ لوگ وزن رکھتے ہیں۔ ان کے طرزِ عمل سے ملک کا امن و امان خطرے میں پڑ سکتا ہے، اس لیے ان کے معقول مطالبے تو الگ رہے غیر معقول مطالبوں کو بھی مان لو، تاکہ جان چھوٹے۔ یہ روش حکمرانوں کی نااہلی اور ان میں تدبر کی کمی کی دلیل ہے۔ اگر وہ معقول باتوں کو معقول طریقوں سے مان لیں تو غیر معقول باتوں کے ابھرنے کی نوبت نہیں آسکتی۔ غیر معقول باتوں کے اٹھانے والے قوم کی اخلاقی تائید سے محروم ہوکر رہ جاتے ہیں۔

موجودہ حالات میں اگرچہ تشدد کے راستے کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں لیکن میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ معقولیت کے راستے کو بالکل نہ چھوڑیں کیوں کہ بالآخر یہی چیز پوری قوم اور ملک کو تباہ کردینے والی ہے۔ اگر آپ ملک کے مستقبل کو تباہ نہیں کرنا چاہتے تو غیر معقول راستے پر بالکل نہیں چلیں۔ ان شاءاللہ آپ دیکھیں گے کہ اگر ملک میں ایک گروہ معقول راستے پر چلتا رہا اور اس نے کبھی اس راستے کو نہ چھوڑا تو وہ ضرور کامیاب ہوکر رہے گا۔ غیر معقولیت اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب معقولیت متحرک نہ ہو۔ لیکن معقولیت حرکت میں آجائے تو معقول اور نامعقول لوگوں کا تضاد کھل کر سامنے آجاتا ہے اور قوم جان لیتی ہے کہ کون سا راستہ اسے اختیار کرنا چاہیے اور کون سا چھور دینا چاہیے۔ یہ راستی اگرچہ صبر آزما ہے لیکن یہی خیر و فلاح کی منزل کی طرف جاتا ہے۔ (تصریحات، 223)

مولانا سے سوال پوچھا گیا: ” کیا موجودہ صورتحال میں آئینی ذرائع سے انقلاب لانا مشکل نہیں ہوگیا۔ کیوں کہ جن لوگوں سے ہم کو سابقہ درپیش ہے وہ خودغیر آئینی ذرائع استعمال کررہے ہیں۔ مولانا جواب میں فرماتے ہیں:

“فرض کیجیے کہ بہت سے لوگ مل کر آپ کی صحت بگاڑنے میں لگ جائیں، تو کیا آپ ان کی دیکھا دیکھی خود بھی اپنی صحت بگاڑنے کی کوشش میں لگ جائیں گے؟ بہت بُرا کیا گیا کہ غیر آئینی طریقوں سے کام لیا گیا ہے اور بہت بُرا کریں گے، اگر ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔ غیر آئینی طریقوں کو اختیار کرنے کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک علانیہ اور دوسری خفیہ۔ آپ دیکھیں کہ دونوں صورتوں میں کیا نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

علانیہ طور پر غیر آئینی طریقوں سے جو تغیر پیدا ہوگا، وہ زیادہ بُرا ہوگا۔ اس طرح کی کوششوں سے پوری قوم کو قانون شکنی کی تربیت ملتی ہے اور پھر سو سال تک آپ اسے قانون کی اطاعت پر مجبور نہیں کرسکتے۔ ہندوستان میں تحریک آزادی کے دوران قانون شکنی کو ایک حربے کی حیثیت سے جو استعمال کیا گیا تھا، اس کے اثرات آپ دیکھ رہے ہیں۔ آج ۲۵ سال بعد بھی لوگوں کو قانون کا پابند نہیں بنایا جاسکا۔

اگر خفیہ طریقے سے غیر آئینی ذرائع کو اختیار کیا جائے تو نتائج اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے۔ خفیہ تنظیموں میں چند افراد مختارِ کُل بن جاتے ہیں اور پھر ساری تنظیم یا تحریک ان ہی کی مرضی پر چلتی ہے۔ ان سے اختلاف رکھنے والوں کو فوراً ختم کر دیا جاتا ہے۔ ان کی پالیسی سے اظہار بے اطمینانی سخت ناگوار اور ناپسندیدہ قرار دی جاتی ہے۔ اب آپ خود سوچیں کہ یہی چند افراد جب برسراقتدار آئیں گے تو کس قدر بدترین ڈکٹیٹر ثابت ہوں گے۔ اگر آپ ایک ڈکٹیٹر کو ہٹا کر دوسرے ڈکٹیٹر کو لے آئیں تو خلقِ خدا کے لیے اس میں خیر کا پہلو کون سا ہے؟

میرا مشورہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ خواہ آپ کو بھوکا رہنا پڑے، گولیاں کھانی پڑیں، مگر صبر و تحمل کے ساتھ، کھلم کھلا علانیہ طور پر اپنی اصلاحی تحریک کو قانون، ضابطے اور اخلاقی حدود کے اندر چلاتے رہیے۔ خود حضورﷺ کا طریقِ کار بھی علانیہ اور کھلم کھلا تبلیغ کا طریقہ تھا۔ ہم نے ہمیشہ اسی طریقے کو اپنایا ہے۔ پہلے چند سال میں ہمارے اورپ مسلسل غیر قانونی حملے ہوتے رہے ہیں، مگر ہم نے کبھی کوئی غیر قانونی ذریعہ اختیار نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ خود انہی کا منہ کالا ہوا کہ جنھوں نے غیر قانونی، غیر اخلاقی، اور غیر انسانی طریقے روا رکھے مگر خدا کے فضل و کرم سے ہمارے اوپر کوئی دھبہ ثابت نہ کرسکے۔ اس چیز کا زبردستاخلاقی اثر مرتب ہوا۔ خود ان لوگوں کا پیمبر بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ غلط کام کررہے ہیں۔ آپ سے میری درخواست ہے کہ آپ اپنی اخلاقی ساکھ کو کبھی نقصان نہ پہنچنے دیں اور غیر آئینی طریقوں کے بارے میں سوچنے والوں کی قطعاً حوصلہ افزائی نہ کریں۔ حالات جیسے کچھ بھی ہیں، ہمیں ان حالات کو درست کرنا ہے۔ غلط طریقوں سے حالات درست نہیں ہوتے بلکہ اور بگڑ جاتےا ہیں۔” ( تصریحات، ص 242-243)

1970ء کےانتخابات میں جماعت اسلامی کی ناکامی کے بعد لوگوں ذہنوں میں یہ سوالات اٹھنا شروع ہوئے کہ جمہوریت کا راستہ طویل ہے، اس سلسلے میں مولانا سے سوال پوچھا گیا:

“1970ء کے عام انتخابات کے نتائج کے بعد کچھ لوگ تحریک اسلامی کے مستقبل سے مایوس نظر آتے ہیں۔ ان کی خواہش یہ ہے کہ جمہوریت کا طولانی راستہ طے کرنے کے بجائے کوئی ایسا شارٹ کٹ اختیار کیا جائے کہ ملک میں فوری طور پر اسلامی انقلاب برپا ہوجائے۔ ” مولانا جواب میں فرماتے ہیں: “شارٹ کٹ اگر کوئی اختیار کرنا چاہے تو وہ جماعت اسلامی کو چھوڑ کر کوئی اور جماعت بنائے اور اپنے شارٹ کٹ پر چل کر دیکھ لے۔ جماعت اسلامی نادانی کے ساتھ کوئی کام نہیں کرسکتی۔ جس راستے پر ہم چل رہے ہیں اس میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ یہ بہرحال ایک لمبا راستہ ہے، جان مار کے کام کرنے کا ہے۔” ( تصریحات، ص237)

فوری طور پر انقلاب آنے کے بارے میں مولانا ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

“یہ آپ سے کس نے کہہ دیا کہ اسلامی انقلاب بہت جلد آرہا ہے؟ آپ اس قسم کی غلط توقعات قائم نہ کریں۔ بے جا توقعات سے مایوسی ہوتی ہے۔ پاکستان کی تشکیل سے پہلے بھی اخلاقی حالت بگڑی ہوئی تھی۔ پاکستان کے بعد اس بگاڑ میں اور اضافہ ہوا۔ اس ساری مدت میں اصلاح کی طرف کماحقہ توجہ نہ ہوئی۔ ہمارے بس میں جو کچھ ہے وہ ہم کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان نسل سے جو افراد دین کی حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں، وہ سرگرمی کے ساتھ اصلاح کے کام کا بیڑا اٹھائیں۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس تمام تر مساعی کے نتیجے میں حالت کب بدلے گی۔ ایک طرف شیطان اپنا کام کر رہا ہے، دوسری طرف ہم اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے کرنے کی جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنی کوشش میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں۔ باقی معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔ لیکن ہمیں توقع ہے کہ اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا۔” (تصریحات، 322)

سوشلسٹ حضرات کے ساتھ کشاکش اول روز سے جاری رہی لیکن مولانا نے کبھی بھی اس کی سرکوبی کےلیے کوئی غیر اخلاقی اور غیر قانونی راستہ اختیا نہیں کیا۔ مولانا ایسے حالات میں بھی، کہ اگر خدانخواستہ پاکستان کو ایک غیر اسلامی ریاست بنانے کے خواہش مند عناصر اپنے عزائم میں کامیاب ہوبھی جائیں تو بھی مسلح انقلاب برپا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کریں گے۔ سوال ہوا: کیا اسلامی نقلاب صرف جمہوری راستوں ہی سے لانا چاہیے؟ جب کہ دوسری ایسی نظریاتی تحریکیں موجود ہیں جنھوں نے وقت اور ہتھیار کو بھی انقلاب لانے کا ذریعہ بنایا۔ ” مولانا جواب میں فرماتے ہیں:

“جوبات ہم یقین سے سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ کسی مصنوعی ذریعے سے اگر کوئی انقلاب برپا کردیا جائے جس کےلیے معاشرہ ذہنی و اخلاقی حیثیت سے تیار نہ ہو، تو وہ انقلاب کبھی پائیدار نہیں ہوسکتا، اور معاشرے کو تیار کرنا ایک محنت طلب کام ہے۔ ایک اچھی خاصی مدت سے لوگوں کو اس حق کا قائل کرنے میں صرف کرنی پڑتی ہے جس حق کو ہم قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جب معاشرے کو ایک حد تک تیار کرلیا جائے اس کے بعد انقلاب برپا کرنے کےلیے ہر وہ تدبیر کی جاسکتی ہے جو جائز بھی ہو اور ان حالات میں کارگر بھی ہو، جن میں ہم کام کررہے ہیں۔ اپنے وقت اور اپنے ملک کے حالات کو نظر انداز کرکے کوئی اسکیم نہیں بنائی جاسکتی، اور اگر بنائی جائے تو یہ ناکامی پر منتج ہوگی۔” (تصریحات، 391)

ٹورانٹو، کینیڈا میں 5 اگست 1974ء میں اسلامک سنٹر حال میں منعقد ایک پروگرام کے آخر میں مولانا سے پوچھے گئے سوالات میں ایک یہ بھی تھا کہ جماعت اسلامی جمہوری طریقِ کار کیوں اختیار کرتی ہے۔ مولانا جواب میں فرماتے ہیں:

“یہ بحث ایک بڑی تفصیل طلب بحث ہے۔ مگر میں اختصار کے ساتھ آپ کے سوال کا جواب دوں گا۔ جماعت اسلامی جس ملک میں کام کررہی ہے اس کے حالات کے لحاظ سے اس نے اپنا طریقِ کار اختیار کیا ہے۔ کوئی دوسرا آدمی جو اسلامی دعوت کےلیے کسی اور ملک میں کام کررہا ہو اس کےلیے ضروری نہیں کہ وہ ہمارے طریقے کی پیروی کرے۔ وہ اپنے ملک کے حالات کا لحاظ سے کوئی طریقِ کار اختیار کرسکتا ہے۔ ہم اس کےلیے یہ لازم نہیں کرسکتے کہ وہ ہمارے ہی طریقے کی پیروی کرے۔ ہم اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی حکومت قائم کرنے کےلیے کسی خفیہ تحریک کا طریقہ اختیار کرنا صحیح نہیں ہے کیوں کہ اس کے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔ ہم اس کو بھی صحیح نہیں سمجھتے کہ کسی طرح کی سازشیں کرکے کوئی فوجی انقلاب لانے کی کوشش کی جائے اور اس طریقے سے اسلامی حکومت قائم کی جائے۔ کیوں کہ اس کا نتیجہ پھر یہ ہوگا کہ جس طرح ایک سازش کے نتیجے میں اسلامی حکومت قائم ہوگی اسی طرح دوسری سازش کے نتیجے میں اس کا تختہ الٹ کر کوئی اور حکومت قائم ہوجائے گی۔ ہمارے نزدیک صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم زیادہ لوگوں کو ایک کھلی اور اعلانیہ دعوت سے اپنا ہم خیال بنائیں۔ اس میں وقت کی حکومت خواہ کتنی ہی رکاوٹیں ڈالے، ہر طرح کی تکلیفوں کو، ہر طرح کے نقصانات کو، ہر طرح کی سزاؤں کو برداشت کرلیا جائے اور اپنی دعوت کو برابر جاری رکھا جائے، یہاں تک کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ہمارے ہم خیال ہوجائیں۔ جب لوگ ہمارے ہم خیال ہوجائیں گے تو ہم ان شاءاللہ جمہوری طریقے سے ہی اپنے ملک میں اسلامی انقلاب لے آئیں گے۔ “(خطبات یورپ، ص 91-92)

ایوبی دور، 12 اگست 1968ء میں ایک نشت میں سوال کیا گیا: اگر ملک میں حالات ایسے ہی رہے جیسے اس وقت ہیں کیا سیاسی پارٹیوں کےلیے پُر امن ذرائع سے تبدیلی لانا ممکن ہوگا؟ مولانا جواب میں فرماتے ہیں:

“اگر کچھ لوگ اسے ناممکن سمجھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یا تو موجودہ نظام پر راضی ہوچکے ہیں یا پھر وہ صبر و حکمت کے ساتھ پر امن کام کے قائل نہیں ہیں۔ ہم نے جس طریق کار کو صحیح سمجھا ہے اور پوری طرح سوچ سمجھ کر جس تدبیر کو مناسب پایا ہے اس کے مطابق کام کررہے ہیں۔ اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے حالات بدل سکتے ہیں، غیر آئینی تدابیر ہمارے نزدیک غلط ہیں۔ ” (استفسارات، ج 3، ص359)

ان تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا مودودی اپنے مطلوبہ نظریے کے نفاذ کےلیے خفیہ تحریک، فوجی انقلاب، مسلح جدوجہد، قتل غارت اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے کو ‘حرام ‘سمجھتے ہیں۔ مولانا مودودی کو کئ بار جیل میں ڈالا گیا، پھانسی کی سزا سنائی گئ، آپ پر ہر دور میں ارباب اقتدار نے گھیرا تنگ کیا، آپ کے قتل کی کوششیں کی گئیں، آپ کی جماعت کے اخبارات کو بین کیا گیا، آپ کی جماعت پر پابندی لگائی گئی لیکن آپ نے کبھی اپنے اصول سے ذرا بھی انحراف نہیں کیا۔ ایوبی دور مولانا کے ابتلا کا دور (Ordeal) ہے، آپ ہر جانب سے غیر اخلاقی اور غیر قانی حملے کئے گئے، اجتماعات پر پابندی لگائی گئ، آپ کے کارکنوں کو شہید کردیا گیا لیکن آپ نے پھر بھی یہی نصیحتیں دہرائی جو اوپر بیان ہوئیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

مراد علوی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم ہیں۔ دلچسپی کے موضوعات مذہب اور سوشل سائسز وغیرہ شامل ہیں اور اپنی تحاریر میں جرات کے ساتھ اظہار کرتے ہیں، بغیر کسی معذرت خواہانہ رویے کے۔ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے مراد علوی متواضع، خوش رو، خوش خلق اور کسی نظریاتی یا حزبی تعصب سے ماورا ہو کے سوچتے اور تعلق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20