ابن بھائی کے یوم وفات پر ایک تحریر —- انوار احمد

0

انکا نام تو ابرار احمد تھا۔  لیکن ابن بھائی کے نام سے پہچانے جاتے۔  وہ میرے عم ذاد اور دودھ شریک تھے۔  بچپن ہی میں ابن بھائی اپنی والدہ کے سائے سے محروم ہوگئے تھے۔  والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔  چچی کے انتقال کے کچھ عرصے بعد انکے والد انہیں پاکستان لے آئے اور پھر ابن بھائی ہمارے ہی ساتھ رہنے لگے۔

چند برس بعد انکے والد نے دوسری شادی کرلی۔  کچھ دن تو وہ اپنی دوسری ماں کے ساتھ رہے۔  لیکن وہ اس نئے رشتے کو شاید ذہنی طور پر قبول نہ کر سکے اور ہمارے گھر آگئے۔ ۔  پھر سارا بچپن اور نوجوانی یا تو منجھلے چچا کے گھر رہے یا ہمارے ساتھ۔

میرے والد بھائیوں میں سب سے بڑے اور ابن بھائی کے والد سب سے چھوٹے تھے۔  لہذا وہ اپنے دونوں بڑے بھائیوں کے لاڈلے تھے۔  اسی طرح میری والدہ جو کے بھی بہت چہیتے تھے۔  اماں ان سے بڑی شفقت سے پیش آتیں اور چھوٹے چچا بھی انکو ماں کی طرح سمجھتے اور بڑے پیار سے ” بھوجی” بلاتے۔  چھوٹے چچا دادا مرحوم کے بھی دلارے تھے شاید اسی لاڈ کی وجہ وہ زیادہ نہ پڑھ سکے لیکن کیا مجال ہے کہ کبھی تہزیب سے گری کوئی حرکت ان سے سرذد ہوئی ہو۔  وہ نہایت سلیقہ مند اور رکھ رکھائو والے تھے۔  لکھنوی اقدار کا اعلی نمونہ ساری زندگی کرتہ پائجامہ، شیروانی اور اسی کپڑے کی دوپلی ٹوپی،  سلیم شاہی جوتے،  ہاتھ میں خوبصورت ڈوریوں والا بٹوہ اور پان کی ڈبیہ جس میں نہایت سلیقے سے لگے ہوئے پان ہوتے۔ ۔  زبان بہت شستہ اور فصیح تھی۔  جگر اور مجاز کے اشعار خوب لہک لہک کر با آواز بلند پڑھتے۔ ۔ ۔

کیا ہوئے وہ لوگ اور کہاں گئیں وہ اقدار۔ ۔ ۔ ۔

دوسری بیگم سے چھوٹے چچا کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔  عید بقرعید اور تہواروں پر چچا اپنی بیگم اور بچوں کو تیار کراکے صبح ہی سے ہمارے یہاں آجاتے اور سارا دن ہمارے یا چچا کے گھر گزارتے۔ ۔  ابن بھائی نے بعد میں اپنی دوسری ماں کے بچوں سے ملنا شروع کردیا تھا اور ان سے بڑی شفقت کا برتائو کرتے۔  اسی طرح وہ سب بھی انہیں سگے بڑابھائی کی طرح سمجھتے اور احترام کرتے تھے۔  صرف وہی نہیں وہ ہمارے ساتھ بھی نہایت ادب سے پیش آتے ہیں۔  اللہ انہیں خوش و آباد رکھے۔

ابن بھائی بات کے پکےاور قول کے سچے تھے شاید یہ صفت ہمارے خاندان کا خاصا رہی ہے جو اکثر مشکلات کا باعث بھی بنی۔  وہ اپنے والد سے دوسری شادی پر شاید ناراض تھے اور ان سے ملنے سے گریز کرتے تھے اگر کہیں انکا سامنا ہوجاتا تو کترا کے نکل جاتے۔  چچا نے چاہا بھی کہ ابن بھائی گھر لوٹ آئیں۔ ۔  لیکن وہ نہیں گئے۔

ہمارا بچپن اور جوانی ساتھ گزرا۔  ہم چار بھائی تھے اور ایک ابن بھائی۔  لیکن کبھی کسی کو احساس تک نہیں ہوا کہ وہ ہمارے سگے بھائی نہیں۔  ہم ایک سا پہنتے اور کھاتے۔  لڑکپن کی ساری شرارتیں اور کھیل ساتھ کھیلے۔  یاد نہیں کہ کبھی کوئی تلخی ہوئی ہو یا کوئی لڑائی جھگڑا ہوا ہو۔  میری والدہ کو وہ بہت عزیز تھے جسکی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ وہ حد درجہ فرمانبردار تھے اور بڑی اماں کو ماں کا درجہ دیتے تھے اور اماں تھیں بھی مثل ماں کہ انہوں نے ابن بھائی کو دودھ جو پلایا تھا۔  والدہ اکثر بیمار رہتیں تو ابن بھائی انہیں کتابیں پڑھ کر سناتے۔  انکی آواز بہت اچھی تھی وہ اماں کو ترنم سے مجروح۔  مجاز اور خمار کی شاعری سناتے اور دعائیں لیتے۔  میری سب سے چھوٹی بہن کو ابن بھائی ہی نے پالا۔  وہ اکثر رات کو رونا شروع کردیتی تو ابن بھائی اسے گھنٹوں گود میں لئیے ٹہلتے رہتے۔
وہ میرے والد اور منجھلے چچا کا بہت احترام کرتے تھے۔  والد مرحوم کو بڑے ابا کہتے اور یہی کوشش کرتے کہ انکا سامنا نہ ہو اگر کبھی سامنا ہو ہی جاتا تو بڑے ادب سے سر جھکا کر ایک طرف دبک جاتے۔  ابا انکی سیلانی طبیعت اور اچانک غائب ہوجانے پر سرزنش کرتے تو کوئی جواب نہیں دیتے بس خاموشی ہی رہتے۔

ابن بھائی انتہائی ایماندار۔  صلح پسند اور بے ضرر انسان تھے۔  خود داری تو ان میں اتنی تھی کہ بعض اوقات تکلیف دہ ہوجاتی۔  کوئی سخت سے سخت بات کہ دے کبھی پلٹ کر جواب نہیں دیتے اگر زیادہ بری لگے تو بغیر کچھ کہے اٹھ کر چل جاتے اور اگر بہت برا محسوس ہوا تو اس سے بات چیت بند کردیتے اور پھر کبھی اسکے بارے میں نہ تو کوئی بات کرتے اور نہ ہی پیٹھ پیچھے کبھی کوئی تذکرہ کرتے۔  برائی یا غیبت تو دور کی بات ہے۔

سگریٹ بہت پیتے ایک سے دوسری سلگاتے۔  سب سمجھاتے کہ اتنی سگرٹ نہ پیا کرو لیکن وہ ہنس کر بات بدل دیتے اور ایک نئی سگرٹ سلگا لیتے۔  لباس کے معاملے میں انتہائی نفاست پسند اور سلیقہ مند تھے۔  اکثر خود ہی کاٹ چھانٹ کر پرانے کپڑے بھی اپنے مطابق کرلیتے اور استری تو ایسی کرتے کہ بس دیکھتے رہئیے۔  ایک ایک شکن اور سلوٹ بڑی عرق ریزی سے دور کرتے۔  اکثر مجھے استری کرتے دیکھتے تو کہتے تم ہٹو میں کر دیتا ہوں اور میری تو عید ہوجاتی۔

اپنے ساتھ ہمیشہ ایک ڈائری رکھتے اور کتابوں سے جو اچھا لگتا نقل کرلیتے۔  اسی طرح بہت سےاخبارات کے تراشے بھی انکے پاس موجود تھے جنہیں وہ اکثر پڑھتے اور مجھے بھی دکھاتے۔

اردو ادب اور شاعری سے انہیں عشق تھا۔  بے شمار اشعار یاد تھے اور بڑے موقع سے استعمال کرتے۔  ہینڈ رائٹنگ انکی طبیعت کی طرح خوشنما اور دیدہ زیب۔  انٹر میجیٹ کے امتحان کی تیاری میں ہم سب کی اردو میں مدد کرتے۔  مضامین لکھ کر دیتے لیکن ہوا یہ کہ ہم تو پاس ہوگئے اور وہ اردو ہی کے پرچے میں فیل ہوگئے۔  نتیجہ آنے پر بس یہی کہا ” دھت تیری کی اردو ہی میں فیل کرنا تھا ” اور پھر پڑھائ کا سلسلہ موقوف کردیا۔  سب نے کہا کوئی بات نہیں سپلیمنٹری دے دو لیکن وہ کہاں کسی کی سننے والے تھے پھر کبھی امتحان میں نہیں بیٹھے اور کبھی انٹر نہ کرسکے۔

کیمونسٹ لٹریچر اور اشتراکی فلسفہ بہت شوق سے پڑھتے۔  کارل مارکس۔  مارشل۔  جان لاک۔  ٹالسٹائی۔  چیخوف اور روسو کو پڑھتے نتیجتا” مذہب سے دور ہوتے چلے گئے۔  کبھی کبھار نماز بھی پڑھ لیتے۔  نماز کی ادائیگی سے پہلے خوب اہتمام کرتے۔  نہایت سلیقے سے سفید بے داغ کرتا پائجامہ پہنتے عطر لگاتے اور بہت خشوع و خضوع سے نماز ادا کرتے۔  روزے بھی اکثر نہیں رکھتے لیکن افطاری بنوانے میں مدد کرتے۔  فروٹ چاٹ بہت اچھی بناتے اور اسی نفاست سے پھلوں کو بھی بڑے سلیقے سے باریک باریک کاٹتے۔

ابن بھائی کھانے آداب دسترخوان کا بہت خیال رکھتے میرے بچے آجتک انکو یاد کرتے ہیں کہ ابن چچا کھانے کی میز پر کس سلقے سے کھانا کھاتے تھے۔  چھوٹے چھوٹے نوالے لیتے تھوڑا سا منھ کھولتے کیا مجال جو کبھی منھ چلانے کی آواز آجائے یا کبھی ہڈی سے زور آوری کریں۔  کھانے کے بعد پلیٹ ایسی صاف کرتے کہ تمیز کرنا مشکل ہوتی کہ پلیٹ استعمال شدہ ہے یا نہیں اور میں بچوں سے کہتا کہ ابن چچا سے کھانے کا سلیقہ اور دسترخوان کے آداب سیکھو۔

تعلیم سے کنارہ کشی کے بعد کم عمری میں خود کمانے کی ضد ہوگئی۔  مختلف کام سیکھے اور کئیے لیکن کسی میں مہارت حاصل نہیں کی۔  ان میں ایک برائی تھی کہ بغیر بتائے اچانک غائب ہوجاتے اور پھر مہینوں انکی کوئی خبر نہ ملتی پھر اچانک وارد ہوحاتے پوچھو کہاں تھے کچھ نہیں بتاتے اور بس سگریٹ سلگا کر ہنس دہتے یا کوئی حسب حال شعر پڑھ دیتے۔

شادی کے لئیے بہت کہا گیا تو بات ٹال دیتے۔ ۔  دل کی بات کسی کو نہ بتاتے لیکن اکثر مجھ سےکہ دیتے۔  ایک دن بتایا کہ وہ اپنے کسی دوست کی بہن کو پسند کرتے تھے لیکن لڑکی کے والدین نے انکار کردیا تو ٹوٹ کے رہ گئے لیکن کسی سے کچھ نہ کہا بس کتابوں میں خود کو غرق کرلیا اور سگرٹ نوشی میں مذید اضافہ ہوگیا۔  ابن بھائی چائے کے رسیا تھے۔  سوتے سے اٹھا کر چائے دے دو تو بھی منع نہیں کرتے۔  چائے پیتے اور پھر سوجاتے ہم سب حیران ہوتے کہ کسطرح چائے پینے کے بعد بھی انکو فوراً نیند آجاتی ہے۔

ابن بھائ ان دنوں بڑے چچا کے گھر مقیم تھے ایک دن معلوم ہوا کہ انکی شادی عزیزوں ہی میں کہیں طے کردی گئی۔  اس فیصلے کے بعد میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کیا اس فیصلے میں انکی مرضی بھی شامل ہے تو انہوں نے انکار کردیا اور کہا چچا کا فیصلہ ہے انکے مجھ پر بے شمار احسانات ہیں مجھ میں انکار کی جرات نہیں اور انہوں نے بڑی سادگی سے شادی کرلی۔

ابن بھائی عجیب قسمت لے کے آئے تھے۔  بیوی تو مل گئی لیکن شریک حیات نہ مل سکی۔  انکی بیگم عجیب لاپرواہ اور غیر ذمہ دار خاتون نکلیں۔  کبھی میاں بیوی میں نہ بنی۔  یہ جتنے نفاست پسند۔  سلیقہ مند اور حساس وہ اسکے بالکل برعکس۔  نہ گھر داری سے کوئی دلچسپی اور نہ ہی شوہر کا خیال۔  انکی کوئی اولاد بھی نہیں ہوئی۔  دونوں اجنبیوں کی طرح ساتھ رہتے لیکن ابن بھائی نے نہ کبھی اجتجاج کیا اور نہ کوئی شکایت کی بلکہ خاموشی سے بیگم کے لئیے گھر کی ایک الگ چابی بنوادی۔  وہ ہفتوں یا تو اپنے میکے میں رہتیں یا اپنی دوستوں کے گھر۔  جب جی چاہتا آ جاتیں اور پھر چند دن رہ کر چلی جاتیں۔  شوہر کی ضروریات اور گھر داری سے انکو زرا بھی دلچسپی نہ تھی۔ بس نام کے میاں بیوی تھے۔  لیکن ابن بھائی نے نہ کبھی شکایت کی اور نہ ہی ان پر کوئی پابندی لگائی۔  دونوں ریل کی پٹریوں کی طرح متوازی زندگی گزاررہے تھے۔  ساتھ لیکن ایک دوسرے سے بیگانے اور انجان۔

انہوں نے اپنا گھر کبھی کسی کو نہیں بتایا اور نہ ہی کبھی کسی کو مدعو کیا۔  کیا کرتے ببیچارے دکھانے کے لئیے رہا ہی کیا ہوگا۔  نہ بیگم گھر پر ہوتیں نہ ہی کسی قسم کی گھر داری۔  شاید اسی شرمندگی سے بچنے کے لئیے سب سے کنارہ کش ہوگئے۔  میں نے بارہا کوشش کی کہ گھر دکھا دیں تو ٹال جاتے۔  کئی مرتبہ میں انکو ڈراپ کرنے بھی جاتا تو گھر سے دور کہیں اتر جاتے اور پھر گلیوں میں غائب ہوجاتے۔  میں نے کئی بار کہا یار کم از کم مجھے ہی گھر دکھا دو کبھی کوئی ایمرجنسی ہوجائے تو کہاں جائینگے۔  تو بڑے اطمیعنان سے سگرٹ کا کش لیتے ہوئے کہتے کبھی کچھہ ہوا تو معلوم ہوجائیگا۔  اس گمنامی کے باوجود وہ مجھ سے ہمیشہ رابطے میں رہتے اور اکثر ہفتوں میرے گھر ہی رہتے۔  بیگم کے ساتھ انہیں کم کم ہی دیکھا گیا اگر پوچھو وہ کہاں ہیں تو ہنستے ہوئے کہتے ہونگی کہیں اور بات بدل دیتے۔
میں ملازمت کے سلسلے میں اکثر ملک سے باہر رہتا۔  بچے ان دنوں چھوٹے تھے میں فون کردیتا کہ یار ذرا گھر اور بچوں کا خیال رکھنا اور وہ آجاتے۔  بچے کوئی بھی فرمائش کرتے ضرور پوری کرتے۔ مجھ سے چھپ کر میری بیٹی اور بیٹے کو ڈرائیونگ بھی سکھادی۔  ایک دن میں نے بیٹے کو ڈرائیونگ کرتے دیکھ لیا۔  پوچھا کب سے چلا رہے ہو اور کس نے سکھائی تو اس نے جواب دیا۔ ۔ ۔ ۔  ابن چچا نے۔  وہ بھی وہیں موجود تھے میں کیا کہتا۔

مجھ پر ایک برا وقت پڑا۔  بیگم شدید بیمار ہوگئیں اور علاج طویل تر ہوتا گیا۔  ایسے میں ایک وہی تھے جو ہر لمحہ میرے ساتھ رہے۔  کبھی مجھے گرنے نہیں دیا اور حوصلہ دیتے رہے۔  اسی طرح بچوں کا بھی خیال رکھا کہ انہیں کوئی تکلیف نہ ہو۔  اللہ کا کرم ہوا بیگم صحتیاب ہوئیں لیکن میں اور میرے بچے انکی شفقت اور محبت کبھی بھلا نہیں پائینگے۔

ابن بھائی نے کچھ کاروبار شروع کیا جو خوب چل نکلا اور وہ معاشی طو پر کافی مستحکم ہوگئے۔  میں نے مشورہ دیا کچھ سیونگ کرلو جواب دیا۔ ۔ ۔ ۔  کس کے لئیے ! ہماری بیگم نے کہا ابن بھائی اپنی بیگم کے لئیے زیورات بنوادیں برے وقت میں کام آئینگے تو جواب دیا تمھارے پاس زیورات تھے تم نے کیا کئیے۔  بیگم نے کہا مکان کی تعمیر کے لئیے انکو دے دئیے تو جواب دیا میں نے اگر اپنی بیگم کو زیورات بنوا بھی دئیے تو وہ کبھی میرے برے وقت میں میرے کام نہیں آئینگے اور نہ ہی کبھی میں ان زیورات کو دوبارہ دیکھ پائونگا۔  کسی نے کہا مکان خرید لو تو وہی جواب اگر مکان” گھر” نہیں بن سکتا تو کیوں بنوائیں۔  انکے پاس اپنی ہر بربادی کا معقول جواب تھا۔  بالاخر کاروبار میں نقصان ہونا شروع ہوگیا۔  ہم سب نے بہت سمحھایا کہ اپنے پارٹنر پر نظر رکھو لیکن وہ بات گول کرجاتے اور پھر وہی ہوا جسکا خدشہ تھا انکا پارٹنر چالاکی سے نقصان ان ذمہ ڈال کر روپوش ہوگیا اور بقیہ رقم بھی لے گیا۔  ابن بھائی جہاں سے چلے تھے وہیں پہنچ گئے بس اتنا کہا ” دھت تیری کی پھر مات ہوئی ”

اسی طرح اپنی نا اسودہ زندگی کی گاڑی کسی طور کھینچتے رہے۔  نہ کبھی کسی سے شکوہ کیا اور نہ کوئی گلہ بس خود ہی چپ چاپ اندر لگی آگ میں جھلستے رہے۔  کبھی کبھار میرے سامنے زبان کھل جاتی تو دل کی بات کہ دیتے۔

انتقال سے چند روز پہلے وہ اچانک آگئے۔  رمضان کا مہینہ تھا اور افطار کا وقت ہوا چاہتا تھا۔  کسی نے پوچھا روضہ ہے ! تو فرمایا۔

روضہ۔  نماز حج و زکوات کچھ بھی نہیں۔ ۔
میں بوقت افطار روزہ تو کھول سکتا ہوں۔ ۔

اور ہم سب کے ساتھ افطار کیا اسکے بعد ٹیرس میں جاکر بیٹھ گئے اور سگرٹ سلگالی۔  میں بھی نماز سے فارغ ہو کر انکے پاس چلا آیا۔  کیا معلوم تھا یہ ہماری آخری ملاقات ہوگی۔  اس دن ہمارے درمیان کچھ ایسی باتیں ہوئیں جو شاید پہلے کبھی نہیں ہوئیں تھیں۔  کسی بات پر میں نے پوچھا کیا کبھی اولاد کی خواہش ہوئی تو کہنے لگے بہت تمنا تھی کہ بچے ہوں لیکن شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی اس سچائی کو قبول کرلیا ایسا ممکن نہیں۔  میں نے کہا کسی بچے کو گود لے لیتے تو بہت تلخی سے کہا جو عورت اپنے شوہر کا خیال نہ رکھ سکی وہ دوسرے کی اولاد کو کیا سنبھالتی۔  میں نے پوچھا دوسری شادی کیوں نہیں کی تو جواب دیا اگر کرلیتا تو اس پاگل کو کون سنبھالتا اور پھر ایک بہت حسب حال شعر پڑھ دیا۔ ۔ ۔

جن پتھروں کے ساتھ مشکل تھا اک پل گزارنا۔
ان پتھروں کو ہم نے زیست کا ساتھی بنالیا۔ ۔

کچھ دیر بعد کھانا کھا کر چلے گئے۔ ۔  کیا معلوم تھا وہ جا رہے ہیں پھر کبھی نہ آنے کے لئیے۔  چند دنوں بعد شاید رات کے تین بجے ہونگے انکے بھانجے کا فون آیا کہ ابن بھائی کا انتقال ہوگیا۔  میں دل تھام کر رہ گیا۔  معلوم ہوا اس رات بھی وہ گھر پر اکیلے تھے۔  بیگم حسب معمول کہیں اور تھیں۔  رات کے پچھلے پہر اچانک انکے سینے میں شدید درد ہوا پڑوسی کو آواز دی وہ بھاگا آیا اور ایمبولنس میں ڈال کر کارڈیو ویسکولر ہسپتال لے جانا چاہا لیکن ابن بھائی نے راستے ہی میں زندگی کی سانسیں پوری کرلیں اور بغیر کسی کو تکلیف دئیے بنا کسی کا احسان لئیے خاموشی سے چلے گئے۔

اسی شام انکی تدفین ہوگئی۔ ۔ ۔  ایک باب ختم ہوا۔  ایک نا آسودہ۔  معصوم۔  بے ضرر۔  سیدھا سچا انسان جو ہر قسم کی ریا کاری اور مصلحت سے پاک تھا خاموشی سے گزر گیا۔  کسی سے کچھ کہے سنے بغیر اپنی خود داری اور انا کے ساتھ منوں مٹی تلے جا سویا۔

انکی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے میں سوچ رہا تھا حساب کر نے والے فرشتے جب ان سے سوال کرینگے تو شاید انکا جواب یہی ہوگا ” دھت تیری کی کیا زندگی گزاری کس کا حساب دوں ” شاید انکے نزدیک زندگی بھی سگرٹ کے آخری کش سے زیادہ کچھ نہ ہو جسکا بعد بہت سا دھواں اگل کے انہوں نے سگرٹ قدموں تلے مسل دی ہو۔ ۔ ۔

جو گزاری نہ جاسکی ھم سے۔
ھم نے وہ زندگی گزاری ہے۔ ۔ ۔ ۔

٢۵ اپریل ٢٠٢٠
کراچی۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20