سماجی علوم کے یکساں اصول —– قاسم یعقوب

0

علومِ انسانی کے کسی بھی ڈسکورس کو سمجھنے کے لیے ہم اس میں میں موجود علمی سرگرمی (Discursive Practice) کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ علومِ انسانی میں موجود مختلف ڈسکورسز اجتماعی انسانی اثاثہ ہوتے ہیں۔ بڑی سطح پر ان ڈسکورسزکو سائنسی اورسماجی ڈسکورسز میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ سائنسی ڈسکورس طبعی علوم پر مشتمل ہے جس میں کائنات اور طبعی دنیا کی حقیقت کی ماہیئت کو جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حیات کا طبعی دنیا سے مطابقت اور عملِ کاری کا مطالعہ بھی سائنسی علوم کا مرکزی مسئلہ ہوتا ہے۔ جب کہ سماجی ڈسکورسز میں ذہنی و تخیلی انسانی علوم پر بحث کی جاتی ہے۔ انسان کا براہِ راست تعلق طبعی دنیا سے بھی ہوتا ہے اور غیر مادی حقیقتوں سے بھی۔ انسان چوں کہ خود مادی وجود رکھتا ہے، لہٰذا ذہنی دنیا بھی مادی دنیا کا پَرتو ہوتی ہے مگر دونوں کو جاننے اور سمجھنے کے اصول مختلف ہوتے ہیں۔ سائنسی اصول قطعی اور یکساں نوعیت کے ہوتے ہیں مگر اب سماجی علوم کو بھی قطعی اور یکساں اصولوں کی مدد سے جاننے کی کوششیں کی جانے لگی ہیں۔ انسان اپنے تصوراتی و جذباتی دنیا میں سوال اٹھاتا رہتا ہے کہ وہ کون ہے اور اس مادی دنیا و کائنات سے اس کا کیا تعلق ہے؟ سماجی (مابعد طبعی) ڈسکورسز ان سوالوں کا جواب دینے کی کوشش میں قائم ہوئے۔ ان میں ادب، فلسفہ اور سماجی علوم کی بہت سی شاخیں شامل ہیں۔

یہاں میرا سوال ڈسکورسز کی تفصیلات میں بتانے پر منحصر نہیں، ایک بہت اہم مسئلہ کسی بھی ڈسکورس کی نیچر کا سوال ہے۔ کوئی بھی سماجی یا سائنسی ڈسکورس ہو وہ اپنی ’نہاد‘ میں یکساں اصول و ضوابط کا پابند ہوتا ہے۔ سائنسی ڈسکورس طبعی حقیقتوں کی دریافت کرتے ہوئے ایسے اصول دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اپنی ماہیئت میں سب جگہ یکساں ہوں۔ سماجی علوم کے ڈسکورسز بھی ایسے اصولوں کی روشنی میں اپنے معروض اور درپیش مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے ان کو درست نتائج معلوم ہو سکیں۔ البتہ ہمیں ڈسکورسز میں ان کی ماہیئت کی تشریح کرتے ہوئے ان کی یکساں اصول اور ان کی عملی یا تجرباتی ساخت میں فرق کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہوگا۔ سائنسی علوم کی طرح سماجی علوم بھی یکساں اصول رکھتی ہے مگر فرق یہ ہے کہ سائنسی علوم اپنی تجرباتی ساخت بھی ایک سے نتائج بھی پیدا کرتے ہیں مگر سماجی علوم مختلف نتائج پیدا کرتے ہیں۔ دونوں کے (اپنے ڈسکورسز میں پیدا شدہ سوالات یا مسائل کو سمجھنے کے) اصول ایک سے ہو سکتے ہیں۔ مثلاً سوشیالوجی، سیاسیات، جغرافیہ اور آرکیالوجی کے اصول یکساں ہوسکتے ہیں مگر ان کی تجرباتی ساخت مختلف ہوگی۔ کیوں کہ سماج، سیاست، جغرافیہ اور آثاریات ہر جگہ ایک سے نہیں، ان کی نیچر میں فرق ہے۔ اسی طرح فلسفے کی بنیادی بحث خدا، کائنات اور انسان کے باہمی تعلق پر استوار ہے مگر اس ڈسکورس میں مختلف نتائج سامنے آتے رہتے ہیں۔

علومِ انسانی بنیادی طور پر کسی بھی ڈسکروس کے اندر موجود حقیقتوں کی تشریح اسی اندر کے تناظر سے کرنے پر زور دیتے ہیں۔ یہ مجبوری بھی ہے ورنہ ہم اُم حقیقتوں تک نہیں پہنچ سکتے۔ مثلاً سیاست کی تاریخ ہر جگہ مختلف ہے، اسی طرح سماج کا مطالعہ بھی ہر جگہ ایک سا نہیں ہو سکتا کیوں کہ ہر سماج کی نیچر اور مسائل مختلف ہیں۔ علومِ انسانی میں ایک بہت بڑا ڈسکورس ادب کا بھی ہے۔ ادب کے اصول و ضوابط بھی اپنی قانونی (Principle) حیثیت میں ہر جگہ یکساں نوعیت کے ہوں گے۔ مثلاً ادب میں نظری مسائل کی مختلف بحثیں مگر ان کی عملی صورتیں بدلتی جائیں گی۔ چوں کہ تمام انسانی علوم پر منحصر ڈسکورسز انسانوں سے وابستہ ہیں جو وسیع سطح پر تو کسی قانون کے تابع ہو سکتے ہیں مگر تجرباتی سطح پر ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔ انسان کسی سانچے یا مشین میں تیار نہیں ہوتے کہ سب کے سب ایک جیسے اور ایک ہی طرح کے خیالات پر مشتمل انسانی دماغ رکھتے ہوں۔

اردو دنیا کا المیہ یہ ہے کہ وہ سماجی علوم کے ڈسکورسز کو پڑھتے ہوئے ان کو کبھی یکسانیت عطا کرنا چاہتی ہے اور ان کے تجرباتی اورمقامی اثرات سے ماورا ہوکے دیکھتی ہے۔ ایک سے نتائج مرتب کرنا چاہتی ہے جب کہ کبھی ادب کو مقامی ثقافتوں کا زائیدہ قرار دیتی ہے اور کسی یکساں اصولوں کی مدد لینے سے انکار کرتی ہے۔ ’’روایت‘‘ کے تناظر میں ادب کو ایک ہی اصول اور اسی تناظر سے ایک ہی نتیجہ یعنی ہر ادب ’’روایتی‘‘ ہو قرار دیتی ہے جب کہ دوسری طرف نظری اصولوں کہ ادب میں تکثیریت ہوتی ہے، ادبی متن بین المتون ہوتا ہے، زبان حقیقت و منعکس نہیں کرتی وغیرہ کی مدد لینے انکاری ہے اور اپنی نظر سے پڑھنے اور مقامی ثقافتی نتائج اخذ کرنے پر زور دیتی ہے۔

اصل میں ہم بھول جاتے ہیں کہ نظری اور عملی اصول دو الگ الگ چیزیں ہیں، دونوں کی حدود الگ الگ ہیں۔ ایسا ممکن نہیں ہوتا کہ کسی سماجی ڈسکورس کے نظری اصول اور عملی نتائج ایک جیسے ہوں۔ دوسری اہم بات اصول اور عقیدے میں فرق کی ہے۔ ہم کچھ نظریات، عقائد اور ایمانی معاملات کو اصول سمجھ کر سماجی علوم پر لاگو کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں جب کہ وہ اپنی نیچر میں اصول نہیں ہوتے۔ ’’روایت‘‘ کا نظریہ عقیدائی معاملہ ہے کہ ادب کو ’روایتی‘ ہونا چاہیے جب کہ اصول ایک مختلف چیز ہے۔ عقیدہ اصول نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ہاں بہت سے ناقدین اصول اور نظریے میں فرق نہیں کرتے۔ اصول (Principal) ڈسکورس کی نیچر کی توضیح و تشریح کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اصول قانون (Law) نہیں ہوتا، فطرت کو سمجھنے نظری سانچہ (Theoretical frame) کرتا ہے، جو نئی دریافتوں کے بعد بدل بھی سکتا ہے۔ تنقید میں میٹا کرٹسزم کی اصطلاح تنقیدی اصولوں کو زیرِ بحث لاتی ہے۔ مہا تنقیدی اصول پہلے سے طے شدہ اصولوں پر بحث اٹھاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا نظری اور عملی کی عدم تقسیم سے ڈسکورسز کے فطری اصولوں سے انحراف ممکن ہے؟ بالکل بھی نہیں۔
ادب پر یکساں اصول لاگو ہونے کے باوجود اس میں مقامی ثقافت اور کلچر کے آثار نمایاں ہو تے رہتے ہیں۔ ہر تہذیب دوسری تہذیب سے مختلف رنگ رکھتی ہے اسی لیے ادب میں مقامی رنگ جھلکتے نظر آتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ادب فرد کے ذاتی تجربات اور احساسات کا آئینہ ہے جس کی تربیت ایک ایسے سماج میں ہوئی ہے جو ہر جگہ یکساں نوعیت کا نہیں، سماج بھی ہر وقت بدل رہا ہے، اس کی نیچر میں فرق آ رہا ہے۔ یوں ادب کے نتائج ایک سے کیسے ہو سکتے ہیں۔ سماج کی سائنس یہ کہتی ہے کہ سماج اپنے کُل میں اپنے بیشتر سے مکمل مختلف ہوتا ہے، جسے روح عصر (Episteme) کنٹرول کرتی ہے۔ ہر سماج کی روحِ عصر مختلف اور تبدیل ہو تی رہتی ہے۔ سوہر فرد کے ہاں ایک ہی طرح کا ’’روایتی‘‘ نتیجہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟اس ضمن میں ادب کے بہت اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ادب معصوم اور غیر جانب دار حقیقت کو پیش کرتا ہے؟ ادب میں معنی کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ زبان کیا ہے؟ کیا زبان شفاف حقیقت کو پیش کر رہی ہے؟ ادب کا ذہن یا باطن سے تعلق کیا ہے؟ کیا باطنی یا ذہنی نتائج یکساں نوعیت کے ہوتے ہیں؟ ادب میں موجود مقامی ثقافتیں کس طرح اظہار کرتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اصل میں ڈسکورس کا ایک افقی زاویہ ہوتا ہے اور ایک عمودی۔ افقی زاویہ حالات اور ماحول کے تابع ہوتا ہے، جس میں تبدیلی کا عمل ناگزیر ہے۔ جب کہ عمودی زاویہ قانونی نوعیت کے اصولوں پر مشتمل ہوتا ہے جو اس ڈسکورس کو قائم رکھنے پر زور دیتا رہتا ہے۔ ایسا نقطۂ نظر جو صرف عمودی زاویے پر زور دیتا ہے، نامکمل اور کسی حد تک غلط تفہیم کا قائل ہوتا ہے جب کہ عمودی زاویہ ہی کو سب کچھ سمجھنے والا بھی کج فکر اور غلط نتائج دریافت کر سکتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20