مجھے لاک ڈاؤن سے پہلے والی دنیا نہیں چاہئے —- عامر منیر

0

:لاک ڈاؤن ختم ہونے کے ایک ہفتہ بعد
مجھ سمیت اس فیکٹری میں ایسے ملازمین کی کثرت ہے جن کے روز و شب کی داستان اول سے آخر تک کام، کام اور کام کے ہی فسانوں پر مشتمل ہے۔ ایسا نہیں کہ ہم کوئی غیرمعمولی طور پر مستعد یا بہت زیادہ پروڈکٹو افراد ہیں لیکن کام ہمارے لئے ایک ایسی جائے پناہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس کے سامنے دیگر تمام معاملات زندگی کی حیثیت ان ذیلی کہانیوں اور ضمنی حکایتوں جیسی رہ جاتی ہے جن کا مقصد داستان کی مرکزی کہانی کے تسلسل کو جاری رکھنے یا اس میں کسی نکتہ کے اضافہ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

یہ بیس بائیس دنوں کا وقفہ اگرچہ برسوں کے معمول کے سامنے کچھ خاص اہمیت نہیں رکھتا، لیکن شاید یہ داستان کا ایک ایسا نیا موڑ ثابت ہوجو سب کچھ بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے چند دن کی ابتدائی مزاحمت کے بعد ہر شخص نے روز و شب کے اس خالی پن کے سامنے ہتھیار ڈال کر خود کو اس کے سپرد کر دیا، یا سب کے سب میری ہی مانند اس سے اکتائے ہوئے اور پہلے دن سے ہی اس سے لطف اندوز ہوتے آرہے ہیں۔ میں یہ نوٹ کئے بغیر نہیں رہ سکا کہ چھٹیوں کے سبب پیدا ہونے والی مالی مشکلات اور رمضان، نیز عید کے لئے وسائل مہیا کرنے کی فکر کے باوجود ہم میں سے بیشتر افراد کے لئے کام کی طرف لوٹنا کوئی ایسا خوشگوار تجربہ نہیں جس کا ہمیں بے چینی سے انتظار ہو اور جسے پا کر ہم خوش اور پرجوش ہو جائیں، بلکہ ایک الگ قسم کا، مضطرب سا کر دینے والا تجربہ ہے جس کے خلاف ہمارے دل کی کسی گہرائی میں مزاحمت جاگزیں ہے، جیسے سب لاشعوری طور پر خوفزدہ ہوں کہ کہیں چھٹیوں سے پہلے کی کیفیت واپس نہ لوٹ آئے۔ یہ کیفیت اتنی نمایاں اور اتنی ہمہ گیر ہے کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن ہی نہیں۔

How to Keep Working When You're Just Not Feeling Itاس صورتحال میں یہ سوچنا کیسا عجیب اور خوش کن ہے کہ یہ تجربہ صرف میری ذات یا جائے ملازمت کی حد تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمگیر سطح پر دنیا کے ہر گوشے اور ہر خطے میں ہر مذہب، ثقافت اور تہذیب سے وابستہ لوگ اپنی اپنی جگہ ایسے ہی تجربے سے گزر رہے ہیں۔ سرمائے کی طوفانی گردش میں بے حیثیت تنکوں اور پتوں کی مانند اڑے چلے جاتے لوگوں، اپنی زندگیوں کی سمت اس گردش کے اعتبار سے طے کرتے لوگوں کو شاید زندگی میں پہلی بار اپنے آپ کو اس طوفانی گردش کی دائروی حرکیات سے آزادنہ طور پر جاننے، پیشہ ورانہ زندگیوں میں الجھ جانے کے بعد سے پہلی مرتبہ اپنے آپ سے ایک نئے طور پر ملنے کا اتفاق ہورہا ہے اور یہ ادراک ہورہا کہ ضروری نہیں ہمارے شب و روز کام، کام اور کام کی داستان بن کر رہ جائیں۔ فرصت کے لمحات کو ادھر ادھر کے مشاغل میں کھپانے کی کوشش کرتے، آگہی کے مختلف روپ دھارے یہ امکان ان کے سامنے آرہا ہے کہ زندگی کا مرکز و محور کام کے سوا کچھ اور بھی ہو سکتا ہے۔
اس “کچھ اور” کا تعین فوری طور پر ممکن نہیں، ہو بھی نہیں سکتا لیکن اس امکان کا موجود ہونا اور اس کے حقیقت بن جانے کی خواہش اپنے اندر کیسی خوشی اور امید سے بھرپور ہے۔

Why the Best Things in Life Are All Backwards | Mark Mansonبیشتر اہم اور انقلابی نوعیت کی سماجی تبدیلیاں ایسے ہی غیرمتوقع اور غیر معمولی حالات سے نپٹنے اور ان کے گزر جانے کے بعد پرانے “نارمل” کی جگہ کسی نئے “نارمل” کو تخلیق کرنے کی انفرادی کوششوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ اس بحران کے معاشی مضمرات، عالمی کساد بازاری کے خدشات، کرہ ارض کے ماحول پر اس کے مثبت اثرات، ہمارے معمولات زندگی میں آنے والے انقلابات اور ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ پر ہمارا ایک نئے طور سے انحصار، ان سب کی تاریخی اور انقلابی حیثیت اس امکان کے سامنے ماند پڑ جاتی ہے۔

دعاگو ہوں کہ یہ امکان اپنے بہت سے خوش کن مضمرات سمیت حقیقت کا روپ دھارے۔ خدایا، مجھے کورونا بحران کے خاتمے کے بعد ایک نئی دنیا چاہئے، ایک ایسی دنیا جس میں سرمائے کی حرکیات انسانی زندگی کی سمت متعین کرنے والا بنیادی امر نہ ہوں، ایک ایسی دنیا کی نمود خواہ کیسا ہی ہنگامہ خیز اور انتشار انگیز عمل کیوں نہ ہو، مجھے لاک ڈاؤن سے پہلے والی دنیا نہیں چاہئے، نہیں چاہئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20