مولانا مودودی کا تصورِ انقلاب —- مراد علوی

0

قدیم یونان اور زمانہ جدید کے سیاسی مفکرین کے یہاں ‘انقلاب’ کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ پرانے نظام کو بیخ و بن سے اکاڑ کر اس کی جگہ نئے نظام کے نفاذ کا نام انقلاب ہے جو پرانے نظام سے مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے۔  تاریخ میں جتنے انقلابات آئے ہیں، ان میں سے بیشتر کےلیےپُر تشدد ذرائع استعمال کیے گئے۔  گذشتہ چند صدیوں میں، جتنے انقلابات برپا ہوئے، ان کا تصور کرتے ہوئے خوں ریزی، قتل وغارت، نفرت اور غیظ و غضب کے سوا ذہن میں کوئی اور شے نہیں آتی۔  تاہم اس تصور کے مطابق “The end justifies the means” کے مصداق کسی بھی غیر اخلاقی اور غیر قانون طریقِ کار سے گریز نہیں کیا جاتا۔  بالشویکی انقلاب ہو یا انقلابِ فرانس، سب نے اسی مفہوم کی عملی صورت گری کی ہے۔  قتل و غارت اور خون ریزی جیسے اوصاف اس تصور ِانقلاب سے منفک نہیں کیے جاسکتے۔  سیاسیات کے وسیع تناظر میں ‘انقلاب’ کا مفہوم اکیڈیمیا میں بھی کم و بیش یہی ہے:

“As a historical process, “revolution” refers to a movement, often violent, to overthrow an old regime and effect complete change in the fundamental institutions of society. After the French Revolution of the 18th century which deposed the monarchy and attempted to refashion society from top to bottom, revolution became synonymous with the radical overcoming of the past.”

Laura Neitzel What is Revolution? Columbia University

] بہ طورِ ایک تاریخی عمل کے “انقلاب” سے مراد ایک ایسی تحریک ہے جو کسی پرانے نظام حکومت کو ہٹانے اور بنیادی معاشرتی اداروں کی مکمل تبدیلی کےلیے اکثر پُر تشدد ذرائع کو استعمال کرتی ہے۔  اٹھارویں صدی کے انقلابِ فرانس کے بعد، جس نے بادشاہت کو ہٹاکر معاشرے کو اوپر سے نیچے تک  نئے سرے تشکیل دیا، ‘انقلاب ‘ ماضی کو یکسر تبدیل کرنے کا مترادف بن گیا۔[

انسائیکلوپیڈیا برٹنیکا میں حسبِ ذیل تعریف دی گئ ہے:

“Revolution, in social and political science, a major, sudden, and hence typically violent alteration in government and in related associations and structures.”

] معاشرتی علوم اور سیاسیات میں انقلاب، حکومت اور اس کے اداروں اور اس کی ساخت میں ایک ایسی عظیم اور یکا یک تبدیلی کو کہتے ہیں جو عموما پُر تشدد ہوتی ہے۔[

مولانا مودودی کے یہاں بھی اس لفظ کا استعمال کثرت سے ملتا ہے۔  لیکن ان کے ہاں اس کا مفہوم درج بالا مفہوم سے یکسر مختلف ہے۔  وہ جہاں بھی اس  بحث کا آغاز کرتے وہیں سے مذکورہ تصور پر کاری ضرب لگاکر انقلاب کےلیے اسی معروف طریقِ کار اور ذرائع کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔   اس تنقید کو وہ انقلاب اور اصلاح کی باریک فرق سے واضح کرتے ہیں۔  اصلاح کا آغاز کسی خرابی پر گہرے غور و فکر سے ہوتا ہے،  اس کے اسباب معلوم کرنے کے بعد صرف اسی حد تک قوت کا استعمال عمل میں لایا جاتا ہے جتنی اس کےلیے ضروری ہو۔  مزید براں اصلاح پسند ہمیشہ خرابی کے حدود کا تعین کرتا ہے۔

اس کے برعکس انقلاب کا آغاز نفرت، غیظ و غضب اور جوشِ انتقام سے ہوتا ہے۔  ایک خرابی کا متبادل دوسری خرابی کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔  ایک بے اعتدالی کو دوسری بے اعتدالی سے رفع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔  برائی کے ساتھ ساتھ اچھائی کو بھی مٹا دیا جاتا ہے۔  انقلاب میں حدودِ خرابی کے تعین کو ضروری نہیں تصور کیا جاتا۔  اس فرق کو مزید واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“اس میں کوئی شک نہیں کہ بسا اوقات ایک اصلاح پسند کو بھی وہی کرنا پڑتا ہے جو ایک انقلاب پسند کرتا ہے۔  دونوں نشتر لے جسم کے ماوف حصے پر حملہ آور ہوتے ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ اصلاح پسند پہلے اندازہ کرلیتا ہے کہ خرابی کہاں ہے اور کتنی ہے۔  پھر نشتر کو اسی حد تک استعمال کرتا ہے جس حد تک خرابی کو دور کرنے کےلیے ضروری ہے اور نشتر کے ساتھ مرہم بھی رکھتا ہے، لیکن انقلاب پسند اسے جوشِِ غضب میں آنکھیں بند کرکے نشتر چلاتا ہے، اچھے برے کا امتیاز کیے بغیر کاٹتا چلا جاتا ہے، اور مرہم کا خیال اگر اس کے دل میں آتا بھی ہے تو اس وقت جب خوب قطع و برید کرلینے اور جسم کے ایک اچھے خاصے حصے کو غارت کرچکنے کے بعد اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔ ” (تنقیحات، 130)

مولانا انقلابی تحریکات اٹھنے کی مثال کے طور پر انقلابِ روس، انقلابِ فرانس اور انقلابِ ترکی (مصطفی کمال)- وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جہاں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں وہاں لوگ صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے کھو بیٹھتے ہیں، وہ ان خرابیوں کو دور کرنے کےلیے ٹھنڈے دل و دماغ سے نہیں سوچتے، اسی وجہ سے اصلاحی تحریکات اٹھنے کے بجائے انقلابی تحریکات وجود میں آتی ہیں۔  پھر ایسی تحریکیں ہر چیز کو سیلاب کی طرح بہا لے جاتی ہیں، اس میں حق و باطل کا امتیاز پامال کیا جاتا ہے۔  نتیجتاََ انقلابی تحریک کو سب کچھ برباد کرنے کے بعد فتح نصیب ہوتی ہے۔  اس کے بعد وہ نئ تعمیر کی ضرورت محسوس کرتی ہے، جب ‘انقلابی’ تعمیر کی طرف بڑھتے ہیں تو ہر پرانی چیز کو رد کردیتے ہیں۔  اسی طرح ‘انقلابی’ نئے نئے تجربے کرتے ہیں جن میں ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،  کامیابی تک پہنچتے پہنچتے وہ قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے ہوتے ہیں۔

مولانا مودودی کے یہاں انقلاب تربیت اور اصلاح کے تدریجی عمل کا نام ہے۔  تبدیلی قوم پرستی، نسل پرستی،  نفرت اور تشدد کے ذریعے نہیں بلکہ انفرادی اور اجماعتی تربیت اور کردار سازی کے نتجے میں آتی ہے۔  مولاناکے یہاں نظام کی جس تبدیلی کا ذکر ملتا ہے وہ بھی کسی رائج نظام سے یکسر مختلف ہونے کا نام ہے لیکن اس کےلیے ان ذرائع کا استعمال ان کے یہاں حرام کے درجے میں ہیں جس کا ذکر وہ سطور بالا میں کرچکے۔  تاہم مولانا اس کے برعکس جو تصور پیش کرتے ہیں اس کی ماہیت بھی نظام کی تبدیلی ہی ہے لیکن وہ ایک تدریجی عمل ہے جو دعوت اور تربیت کے ذریعے شارع کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے لائی جاتی ہے۔  یہ ایک ایسا عمل ہے جو انفرادی تربیت سے شروع ہوکر اجتماعیت اور نظمِ حکومت تک پھیلا ہوتا ہے۔  اس حوالے سے مولانا کا وہ مقالہ نہایت اہم ہے جو “اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے” کے عنوان سے انھوں نے ستمبر 1940ء کو انجمن اسلامی تاریخ و تمدن کی دعوت پر مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے اسٹریچی حال میں پڑھا تھا۔  اس مقالے میں انھوں نے رسول اللہﷺ کی سیرت سے اس انقلابی طریقے کو واضح کیا ہے کہ اسلامی حکومت کی پیدائش کسی معاشرے کے اخلاقی، نفسیاتی، تمدنی اور تاریخی اسباب کے تعامل سے طبعی طور پر ہوتی ہے،  جو کچھ ابتدائی لوازم اور اجتماعی لوازمات اور فطری مقتضیات کے فراہم ہونے سے وجود میں آتی ہے۔  مولانا اس کو سائنٹفک عمل سے تعبیر کرتے ہیں،  یہ عمل اسباب و علل (Causation) کے اصولوں سے وجود میں آتی ہے۔ جس طرز کی حکومت مطلوب ہو، اس کےلیے پہلے ویسے افراد اور ویسا ہی معاشرہ تشکیل دیا جائے۔ پھر اسلامی حکومت قائم کرنے کےلیے اسلامی اصولوں کے مطابق تحریک اٹھے، افراد بھی اسلام کے تربیت یافتہ ہوں، اجتماعی اخلاق اور لیڈر شپ بھی اسی کے ساتھ ہم آہنگ ہوں، جس کا اقتضا وہ خاص حکومت کرتی ہے۔   با ایں وجہ مولانا “اسلامی انقلاب” کےلیے ان تمام سطحوں پر تربیت کو لازم قرار دیتے ہیں۔

مولانا کا بناے استدال رسول اللہﷺ کی سیرت ہے کہ انھوں نے ہر سطح پر تربیت کی بدولت ایک ایسی جماعت تیار کی جس کے اعلیٰ اخلاق اور کردار کی بدولت دعوت سے لوگوں کے قلوب و اذہان مسخر کئے۔  نتیجتاََ وہ معاشرہ اور نظام حکومت وجود میں آئے،  جس کےلیے پہلے سے زمین ہم وار ہوچکی تھی۔  مولانا فرماتے ہیں: “کیا اجتماعی اخلاقی اور اجتماعی ذہنیت کا اتنا زبردست تغیر محض لڑائیوں کے زور سے ہوسکتا تھا تاریخ آپ کے سامنے موجود ہے، کہیں آپ کو کوئی ایسی مثال ملتی ہے کہ تلوار نے انسانوں کو اس طرح بدل ڈالا؟” مولانا مودودی رسول اللہﷺ کے اس انقلاب کو “غیر خونین انقلاب” (Bloodless Revolution) سے موسوم کرتے ہیں۔  اس انقلاب سے ملک کا طریق انتظام، ذہنیتیں، زاویہ نگاہ، سوچنے کا انداز، طرزِ زندگی اور عادات اور خصائل سب کچھ بدل گئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

مراد علوی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم ہیں۔ دلچسپی کے موضوعات مذہب اور سوشل سائسز وغیرہ شامل ہیں اور اپنی تحاریر میں جرات کے ساتھ اظہار کرتے ہیں، بغیر کسی معذرت خواہانہ رویے کے۔ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے مراد علوی متواضع، خوش رو، خوش خلق اور کسی نظریاتی یا حزبی تعصب سے ماورا ہو کے سوچتے اور تعلق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20