ارطرل: اسلامی شعور یا ایک فتنہ؟ —- عمار راجپوت‎

0

آپ کسی بھی سوشل سائٹ سے لاگ ان کیجیے، آپ کے پاس میری اس رائے پر ایمان لانے کے سوا کوئ چارہ نہیں رہے گا کہ ہم آزادیِ اظہار کے آخری عہد میں جی رہے ہیں۔ اس سے آگے جاتے ہوئے تو اب آزادی کے بھی پر جلیں گے۔ معلوم انسانی تاریخ میں اظہار کے اتنے وسیع اور نہایت آسانی سے دستیاب زرائع چشم فلک نے آج تک نہ دیکھیں ہوں گے۔ آپ سکرین کے سامنے بیٹھیں، کی بورڈ پر اپنی سرپٹ “انگلیاں” دوڑائیں اور شئیر کا بٹن دبا دیں، بس۔ تاہم اس کے باوجود یہ ستم ظریفی آج بھی اپنے تئیں ایک ٹھوس حقیقت اور الگ عنوان کے ساتھ موجود ہے کہ بظاہر آزاد نظر آنے والی آزادیِ اظہار کی مثال نثار ناسک کے اس شعر ایسی ہی ہے کہ

مجھ کو آزادی ملی بھی تو کچھ ایسے ناسک
جیسے کمرے سے کوئ صحن میں پنجرہ رکھ دے

خیر! اس آزادی کے مثبت پہلوؤں کے اقرار کے ساتھ ساتھ آپ میرے ساتھ اس بات پر بھی اتفاق کریں گے کہ اظہار کی آزادی کی آڑ میں ہم نے اپنے وہ وہ رنگ دکھائے ہیں کہ اب اگر اظہار بھی اک نظر پیچھے کو مڑ کر دیکھے گا تو اپنے لیے پابندی مانگے گا۔ نہیں یقین تو آج رات اپنی دیوار پر کسی ایک موضوع پر دو تین مختلف پوسٹیں کر کے سو جائیے اور صبح اٹھ کر افاقہ پرور تماشا دیکھ لیجئے۔

مجھے اس تمہید کی ضرورت یوں پیش آئ کہ جب سے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نے ترکی ڈرامہ سیریل ارطرل نشر کرنے کا اعلان کیا ہے یہ ایک نئ بحث کے ساتھ سوشل میڈیا کا ہاٹ ٹاپک بن گیا ہے، اس بحث میں دو قسم کے گروہ آمنے سامنے ہیں۔ ایک وہ جن کا کہنا ہے کہ یہ ڈرامہ اسلامی تعلیمات اور ہمارے شاندار ماضی کا عکس ہے لہذا اس لیے اسے دیکھنا مثبت فوائد سے خالی نہیں جبکہ دوسری طرف والوں کا فکری تعلق حضرت ابو زر غفاری رضی اللہ عنہ سے جا کر ملتا ہے۔ انہیں اس ڈرامے یا تاریخ سے تو کوئ خاص اختلاف نہیں ہے لیکن چونکہ اس میں عورتیں بھی کردار نبھا رہی ہیں اور پورے ڈرامے میں کہیں نہ کہیں عاشقی و معشوقی والے سین بھی ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں لہذا اُن کے نزدیک اس کا دیکھنا فتنے سے خالی نہیں۔ اور وہ اس چیز کو دودھ میں میگنوں کی مثل سمجھتے ہیں۔

یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش سے متاثر ہوتا بھی ہے اور کرتا بھی ہے۔ اور تو اور آپ جو کچھ دن میں دیکھتے، کرتے یا سوچتے ہیں رات کو سوتے ہوئے بھی خواب میں وہی دہرا رہے ہوتے ہیں۔ اب اگر میں اپنی “پامال شدہ” آزادیِ اظہار کی بات کروں تو فی زمانہ اس بات سے انکار کی کوئ گنجائش باقی نہیں کہ میڈیا اور سکرین اب انسان کے جسم کا ہی ایک عضو اور زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ اور اس بات کی صداقت کو یوں چانچیے کہ ڈرامے کی مخالفت کرنیوالے بھی مخالفت کے لیے اسی میڈیا اور سکرین کا سہارا لے رہیں ہیں۔ ایسے میں اب دو راستے ہیں یا تو میڈیا اور سکرین کا مکمل بائیکاٹ کر لیا جائے اور عالمی گاؤں ( گلوبل ولیج) کہلاتی سات بیلین انسانوں کی اس دنیا سے بے نیاز ہو جائیں، جو کہ آخرالذکر (ڈرامہ مخالف گروہ) کے لیے بھی قابل قبول نہیں اور نہ ہی قابلِ عمل۔ تو پھر دوسری اور آخری آپشن میں یہی ہے کہ جب میڈیا اور سکرین کا استعمال ناگزیر ہے تو کیوں نا اس استعمال میں ہم مادر پدر ننگ اور گند دکھانے کی بجائے اپنی نسل کو ایسی تاریخی اور معلوماتی سیریز کی طرف لائیں جو خاندانی نظام، صاف ستھرے رہن سہن، بھائ چارے، باہمی محبت و تعاون، صلح رحمی اور عدل و انصاف جیسی بے شمار خوبیوں کی ترغیب پہ مشتمل ہے۔

اب ان پیاروں سے جو اس بات کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ “ارتغل اسلامی شعور بیدار کر رہا ہے “ ایک آخری بات کہ جب آپ کا چھ سات سال کا بچہ ارطرل دیکھتے ہوئے پرجوش انداز میں پلاسٹک کا بلا تلوار کی طرح لہراتے ہوئے ننھے ہونٹوں سے “اللہ اکبر” کہتا ہے تو آپ کو پتہ ہے کیا ہوتا ہے؟

لاکھوں ڈالروں سے بنے سینکڑوں تھنک ٹینک اور ہزاروں این جی اوز آن کی آن میں زمیں بوس ہو جاتی ہیں۔ جی ہاں ! زمیں بوس ہو جاتی ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20