غالب عہدِ کرونا میں بھی —- محمد شاہ جہان اقبال

0

کرونا کے اردو ادب پہ اثرات آنے والے دنوں میں محقیقین کا موضوعِ سخن بنے گے۔ دماغ کی لوحِ غیر محفوظ پہ ابھرے چند حرفِ مکرر جو زمانے کے ہاتھوں مٹ جانے کے ڈر سے اہلِ دانش کے سپرد کر دیئے گئے


(ایک مکتوب)

برخوردار! محبت نامہ لکھنے بیٹھا ہوں۔ امیدِ واثق ہے کہ گوشے میں قفس کے ( قرنطینیہ) میں خیر سے ہو گے۔ ابے میاں ہم تو پہلے بھی تنہا تھے اولاد جیسی نعمت سے بھی بہرہ مند نہ ہو سکے بلکہ جس کسی کی بھی نسبتِ آل ہم سے ہوئی وہ نہ رہا۔ اچھا کل دلی کی سڑکوں کو دیکھا سناٹا تھا۔ چاروں طرف

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کر گھر یاد آیا

ہاں البتہ خبریں بہت سی سننے کو مل رہی ہیں۔ برخوردار یہ دوری کی عفریت بہت بری ہے۔ ذرا سننا کان لگا کے۔ ۔ ۔ ۔

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے
شبِ غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا
مرنا اگر ایک بار ہوتا

چھوٹے میاں ! اب تو دوستوں کو جو چپکے چپکے پھرتے تھے کاغذ کے قاصد بھیج بھیج تھک گیا ہوں مگر وہ آگے سے فاصلے کی گردان اور دوری کی نصیحیتون سے لبریز پیغام، کہ بوڑھے میاں بچو بچو کرونا ہے۔ ان کی نصیحیتون کو اگر میں نظم کروں تو کچھ یوں ہوں۔

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہو تا

کوئی نامہ بر مل جائے تو کوئی چٹھی تم بھی لکھ بھیجا کرو۔ چند دنوں سے ہم بھی مبتلائے نزلہ ہوئے، بخار کی حرارت سے جسم کی بھٹی تپی توڈاکٹر کے پاس گئے تھے۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ ڈاکٹر دوا دینے سے ڈر گئے اور کہنے لگے۔

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

ہم بھی خوب ہنس دیئے کہ پہلے تنہائی کیا کم تھی ؟جو صاحب بھی نسخے میں تجویز فرما رہیں ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ منت کروانے کے موڈ میں ہیں ہم بھی خوب بھانپے اور کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے

درد منت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

یہ بھی دور آنا تھا نہ پینے کو دوا اور نہ داروں فاقے کاٹنے کو صحت تو ترسی ہی تھی اب مرض بھی بھوکوں مرے گی۔
چلو کم از کم شعر وسخن تو بچ رہا

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

میں حیران ہوں کہ وبا دوڑے دوڑے پوری دنیا کا چکر کاٹ آئی ہے۔ ہمسائے کے گھر سے نکل کر یوں دوڑی جیسے کھنٹی سے بندھا گدھا چھوٹنے پہ دوڑتا ہے۔ ارے میاں سچ کہوں تو وہ اس سے کم نہ کہتے ہوں گے۔

آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالبؔ
کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد

میرے اس شعر کے مصرعہ اولی میں رونا سے پہلے “ک” داخل کے پڑھ لینا تاکہ شعر حسبِ حال ہو جائے۔ خیر بات کہاں تھی اور کہاں آ کھڑی اب جب کہ میں تم سے سلسلہءِ کلام جوڑے ہوِے ہوں میں گھر جو اب طبی قید خانہ (قرنطنیہ) کے نام سے موسوم ہے اس میں نیم دراز حالت میں تم کو شب و روز کی داستان لکھ رہا ہوں۔ قید بامشقت سے زیادہ قید بے مشفق ہے۔ مجھے تو اس لیے محسوس ہوتا ہے کیونکہ

بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیئے
کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

سنا ہے کہ اس وبا کے پیچھے ہاتھ ہے کسی کا اگر ایسا ہے تو پھر وہ ہاتھ یقینا دھلا نہ ہو گا وگرنہ ہاتھ دھونے کے اعلانات صبح و شام ہوتے رہتے ہیں۔ برخوردار مجھے تو یہ ” ہاتھ صاف کرنا” دیکھائی دیتا ہے۔ خیر دونوں جانب ابھی تو چپ سادھے ہوئے ہے مجھے لگتا ہے

ادھر وہ بد گمانی ہے ادھر یہ ناتوانی ہے
نہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولا جائے ہے مجھ سے

اس شعر میں بھی کچھ ترمیم کر کے کام چلا سکتے ہو۔ مودی جناب نے دلی سے آگرہ اور آگرے سے مہارشٹر تک ہندوستاں قفلِ ابجد کر ڈالا سنا تھا کہ اگلے سال کو وہ نیک شگن کے طور پہ دیکھ رہا ہے۔

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
ک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

بہت مشکل میں بسر تھا اب گزر بھی زد میں ہے۔ کھانے کو سوائے غم کے کچھ نہ رہا اور رہنے کو دلی مگر

ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ
ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا

ہاں سن تو گھبرائیو مت خوف سے اپنا اندر چورہ چورہ مت کیجیوں گا۔ ستاروں کی گردش اور چال الٹے پاوں ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ کوزہ پھر خاک بنے ہے گھبرانا مت

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

قیدِ تنہائی جو بار آور ہے نادیدہ دشمن سے، اس سے نبرد آزما ہیں۔ ہم تو خیر پہلے بھی گرفتارِ وفا اور زنداں کے عادی تھے اس لیے گھبرانے سے کوسوں دور ہیں۔

خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
ہیں گرفتارِ وفا زنداں سے گھبراویں گے کیا؟

مگر یا د رکھیے

گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا؟

اچھا سنو آخری بات بوڑھا ہوں ناتواں و نیم جاں ہوں اٹھتا ہوں تو اتنی دیر لگتی ہے جتنی قدِ آدم کے برابر دیوار اٹھانے میں، بغل گیری تو خیر ممکن نہ رہی مگر خبر گیری ابھی بھی میسر ہے سو لیتے رہنا۔ غفلت نہ کرنا معاملہ حساس ہے اور بدن خستہ حال

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

آخر پہ سلامتی کی دعا۔ جیسے ہی ڈاکٹروں کی قید سے آزاد ہو ملاقات کو ضرور آنا

والسلام علیکم!

تمہارا مرزا نوشہ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20