گلی کا دکاندار —- سہیل بلخی 

0

دنیا کے بہت سے ممالک میں لوکل دکانداروں سے خریدنے کی ترغیب دینے والی تحریکیں اٹھتی رہتی ہیں اور انکے پاس اس مطالبے کے حق میں مختلف دلائل ہوتے ہیں جن میں سے کچھ ہمارے پاکستانی معاشرے پر بھی پورے اترے ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ گلی محلے کی دکانیں، چائے والے، سبزی والے اور گروسری والے سب ملکر لوکل کمیونٹی کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں، آپ اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں، ایک دوسرے کا حال چال پوچھتے ہیں اور ایک دوسرے کے کاروبار میں مدد دیتے ہیں …..

مقامی کاروبار، مقامی بلدیہ کو ٹیکس دیتے ہیں جس سے مقامی اسکول، لائبریری اور دیگر عوامی سہولیات کو چلانے میں مدد ملتی ہے۔

مقامی کاروبار، مقامی کلچر، رنگ اور رسم و رواج کو قائم رکھتے ہوئے کاروبار کرتے ہیں جس سے اس علاقے کے فطری حسن اور تہذیب کو قائم رکھا جاسکتا ہے۔

مقامی کاروبار میں مقامی لوگوں کو ملازمتیں ملتی ہیں … کاروبار کو اگر اس علاقے میں فروغ حاصل ہو رہا ہو تو دیگر علاقوں کے کاروباری بھی وہاں ان علاقوں میں کاروبار کرنے پہنچتے ہیں جس سے مزید مقامی روزگار پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

دنیا کے بہت سارے ممالک میں مقامی دکاندار کچھ نہ کچھ چندہ اور اعانت مقامی فلاحی کاموں میں ڈالتے رہتے ہیں۔ مقامی کمیونٹی کے پروگرامات اور فلاحی منصوبے مقامی کاروباری لوگوں کی مدد سے ہی چلتے ہیں۔

مقامی چھوٹے کاروبار کے مالکان اور ملازمین دونوں مقامی ہوتے ہیں جو اپنے مقامی گاہکوں کو جانتے اور سمجھتے ہیں اور انکو بہتر کسٹمر سروس دیتے ہیں۔

چھوٹے مقامی دکاندار آپکو نام لیکر پکارتے ہیں اور آپکی ضرورت کو سمجھتے ہوئے پروکٹس تجویز کرتے ہیں …جبکہ بڑے سپر مارکیٹ میں آپ صرف ایک “گاہک” ہوتے ہیں اور انکی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ آپکی جیب سے زیادہ سے زیادہ کرنسی انکے کیش رجسٹر میں منتقل ہوجائے، آپکا اور انکا کوئی رشتہ اور کوئی تعلق ہوتا ہی نہیں ہے نہ کبھی بن سکتا ہے۔ ۔ ۔

آپکے علاقے میں متنوع اقسام کے کھانے پینے کی چیزوں کی دکانوں میں کوئی نہ کوئی کچھ نام بنا لیتی ہے اور ارد گرد کے علاقے کے لوگ وہاں اس دکان کی وجہ سے آکر دیگر دکانوں کو بھی بزنس دینے لگتے ہیں۔

اگر چھوٹی دکانوں کی مارکیٹیں آھستہ آہستہ کم ہوتی جائیں اور سب کچھ دیو ہیکل سپر مارکیٹوں، مالز میں منتقل ہو جائیں تو ذرا سوچیں دیگر شہروں سے آنے والے سیاحوں کے لیے اس شہر میں کیا کشش رہ جائے گی ….. ہر شہر کی اصل اسٹرینتھ اسکے مقامی بازار ہی ہوتے ہیں اور سیاح یہی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں ..

ایک مقامی صارف کی حیثیت سے، آپ اپنی گلی میں مصنوعات کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں اور ان لوگوں کو منتخب کرسکتے ہیں جو آپ کے طرز زندگی میں بہتر فٹ ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کی رقم آپ کی مقامی برادری کو فائدہ پہنچا رہی ہے، مقامی کاروبار کو مستحکم بنا رہی ہے، اور مقامی معیشت کی تشکیل کر رہی ہے، تو آپ چاہتے ہیں کہ یہ رشتہ برقرار رہے۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ مقامی کاروباری مالکان کے ساتھ زبردست تعلقات استوار کرسکتے ہیں۔ آپکے اچھے برے وقت میں وہ آپکے اور آپ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

اگر آپ کسی علاقے میں نئے بھی منتقل ہوئے ہیں تو اپنے مقامی اسٹور کو دیکھنے کے لئے تھوڑا سا وقت لگائیں اور اپنی گلی کے ساتھ ساتھ چلیں۔ اپنی گلی کی برادری کو مضبوط بنائیں۔ ۔ گلیاں ترقی کریں اور مظبوط ہوں تو شہر اور ملک ترقی کرتے اور مظبوط ہوتے ہیں۔ ۔

گلی محلے کی دکانوں کی قدر پوچھنی ہو تو بدس رہنے والے لوگوں سے پوچھیں جو آج بھی دور دراز کے ممالک میں رہتے ہوئے جب اپنے گھر کا تصور کرتے ہیں تو اس میں انکی گلی کا چائے والا، پان والا اور گروسری اسٹور والا بھی شامل ہوتا ہے۔ جاپان میں ایک دوست مستقل طور پر پاکستان واپس جارہا تھا اور بہت خوش تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کس سے ملو گے اور کیا کروگے ؟ اس نے جوابدیا کہ گھر والے تو ایئرپورٹ پر ہی مل جائینگے، میں تو سب سے پہلے اپنی گلی کے سلیم پان شاپ پر پہنچ کر گولڈ لیف کا کش لگاؤں اور سلیم بھائی سے پوچھوں گا کہ باقی لوگ کون کہاں ہے آجکل ؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20