بجھا دو —- سعدیہ کیانی

0

ایک دیوانہ سا کسی درگاہ پہ عین دھوپ کی جگہ بیٹھا رہتا تھا۔ جب گرمیوں کی تیز دھوپ دیواروں کو بھی پگھلنے پہ مجبور کردے وہ تب بھی اس تپتے پتھروں کی جگہ بیٹھا رہتا۔ ” آتش بجھا دو ” کا نعرہ لگاتا تھا۔

کہتے ہیں وہ ایک امیر زادہ تھا۔ بے پناہ دولت کے ساتھ حسن پرست تھا۔ مختلف عورتوں سے دل کو بہلانا اس کا معمول تھا۔ اپنی دولت کے نشے میں چور وہ عزتوں کو پامال کرتا اور پھر دولت کے بل پر گناہ مٹا دیتا تھا۔ ایک بار اسے ایک عورت پسند آئی ہزار جتن کئے لیکن وہ اس کے دام میں نہ آئی۔ اس امیر زادے نے اس عورت کے خاوند کو ورغلایا کہ اس کی عورت ٹھیک نہیں۔ اس بد بخت نے اس بےگناہ کو مار مار کر گھر سے نکال دیا اور طلاق بھی دے دی۔ عورت بچاری جدھر جاتی دھکے کھاتی اور اپنی اس حالت کے اسباب سے بے خبر در بدر کی ٹھوکریں کھانے لگی۔

اس امیر زادے نے اسے پھر تلاش کیا اور اس عورت سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ وہ دکھوں کی ماری مجبور تھی مگر معصوم تھی۔ گناہ سے خود کو بچانے کے لئے کسی مزار پہ جا بیٹھی۔ دو وقت کی روٹی مل جاتی تھی۔ وہ مزار پہ جھاڑو پھیرتی اور اپنے رب سے دعا کرتی رہی۔

امیر زادے کی بے چینی بڑھنے لگی۔ اب اسے دوسری عورتوں سے لذت حاصل نہیں ہوتی تھی۔ وہ اس عورت کو اپنی ضد سمجھ بیٹھا کہ ہر حال میں اس سے تسکین حاصل کرے گا۔

ایک روز اس عورت کو گھیر لیا اور سر شام اسے اٹھا لایا۔ عورت مجبور تھی مگر عزت بچاتی رہی۔ بالآخر اس امیر زادے نے اسے کہا کہ تجھ سے شادی کروں گا تجھے بیوی بناوں گا۔ عورت یہ سن کر نرم پڑ گئی۔ اسے عزت کی چھت ملنے کی آس جاگی اور وہ تیار ہوگئی۔ اس امیر زادے نے ایک مولوی بلوایا اور عورت سے نکاح پڑھوا لیا۔

امیر زادے کی نیت صرف اس عورت سے ملاپ کی تھی وہ اسےچند روز بعد واپس مزار پہ چھوڑ آیا کہ تو اسی قابل تھی میں تو صرف تیرا نخرہ توڑنا چاہتا تھا۔

خدا کی قدرت عورت جس کے دل میں اس امیر زادے کی محبت جاگ گئی تھی اس کے سامنے اپنے دل کی آتش کا ذکر کرتی ہے کہ اس نے ایک ایک پل اس امیر زادے سے محبت کی ہے۔ لیکن وہ سنگدل اسے چھوڑ گیا۔

عورت کو چھوڑ کر امیر زادے نے جب جب دوسری عورتوں سے ملاپ کیا اس کے دل میں بے چینی بڑھنے لگی ایک وقت ایسا آیا کہ اسے لگا جیسے اس کا دل کسی آگ میں جل رہا ہو۔

امیر زادے کی راتوں کی نیند جاتی رہی کاروبار ختم ہوگیا اور ایک روز وہ دیوانہ وار دوڑتا ہوا مزار پہ جا پہنچا۔

کہتے ہیں کہ امیر زادہ دیوانہ ہوگیا اس عورت کی تلاش میں لیکن پھر وہ نہ ملی۔ کسی نے کہا کہ وہ مر گئی اور کسی نے کہا کہ وہ کہیں چلی گئی۔ امیر زادے کی آتش پھر کبھی نہ بجھی۔ کیونکہ اس کو پھر وہ عورت نہ ملی جو اس کے دل میں آگ لگا گئی تھی۔ وہ دیوانہ اسی انتظار میں وہاں بیٹھا رہتا ہے کہ کسی روز وہ عورت اس کے سامنے آئے تو وہ اسے بتا سکے کہ اس نے اس عورت سے محبت کی تھی یہ اور بات تھی کہ اسے اس جذبے کا علم بہت دیر سے ہوا۔

دیوانے کو کڑی دھوپ کچھ اثر نہیں کرتی کہ اس کے من کی آگ اس دھوپ سے کہیں زیادہ تھی۔

بہت عرصے بعد ایک عورت نے اس دیوانے سے محبوب کا ملاپ مانگا کہتے ہیں کہ دیوانے کے الفاظ من و عن پورے ہوئے۔ پھر لوگوں نے دیوانے سے دعائیں کروانی شروع کردیں۔ دیوانہ صرف اسے دعا دیتا تھا جس کے دل میں خلوص تھا جو کسی طمع کی غرض سے دعا کرتا دیوانہ اسے جھڑک دیتا۔

برسوں تک دیوانہ اپنے من کی آتش لئے وہاں اس عورت کے انتظارمیں بیٹھا رہا جسے اس نے محبت کا جھانسہ دیا اور اس کی پاکیزہ روح پر زخم لگایا۔

دیوانے کی موت کا وقت آیا تو ایک صبح جہاں وہ بیٹھتا تھا راکھ پڑی ملی۔ ایسی راکھ جو ہوا سے اڑ رہی تھی۔

پھر کبھی کسی نے دیوانے کو نہ دیکھا جو کہتا تھا “آتش بجھا دو” وہ من کی آتش سے خود جل گیا۔

خدا کی لاٹھی ایسے ہی وار کرتی ہے۔ انسان اپنی دانست میں چالاک بنتا ہے۔ فرعون کی طرح خود کو قادر سمجھتا ہے۔ دوسرے کو حقیر جانتا ہے اور کبھی اسی در پہ جھکا دیا جاتا ہے جسے دھتکارتا تھا۔ دھوکہ دینے والے کو کبھی سکون نہیں ملتا۔ وقتی طور پر وہ خود کو مطمئن کرلیتا ہے لیکن دکھی دل کی آہیں اس کا پیچھا کرتی ہیں اور ایک روز وہ خود ایسی ہی مصیبتوں کا شکار ہوتا ہے جن میں دوسروں کو مبتلا کرتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20