مولوی محمد باقر کے جاں نشین —- اقبال حسین

0

مصنف

16 ستمبر 1857کو دہلی دروازے پر تماش بینوں کا ایک مجمع لگا ہوا ہے۔ کمپنی بہادر کا نمک خوار ہڈسن طاقت کے غرور میں مست ہاتھی کی طرح جھوم رہاہے۔ کچھ ہی دیر میں ناکام بغاوت کے گرفتار حریت پسندوں کو یہاں لا یا جاتا ہے۔  ان میں دہلی اردو اخبار کا مدیر مولوی محمد باقر بھی ہے۔  مولوی باقر پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اخبار کے ذریعہ حریت پسندوں کو انگریزی حکومت کے خلاف بغاوت پر ابھاراہے اوربہادر شاہ کے تئیں ان کے دلوں اعتماد بحال کیاہے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر میں بغیر مقدمہ چلائے ہڈسن ان کو گولی ماردے گا۔  ایک نوجوان بھیس بدلے مجمع میں ایک طرف کھڑا ہے۔  مولوی باقر اس نوجوان یعنی اپنے بیٹے محمد حسین آزاد کو پہچان لیتے ہیں اور بیٹے سے آنکھ ملتے ہی اس کی سوالیہ نظروں کو بھانپتے ہوئے دونوں ہاتھ دعا کے لئے بلند کرتے ہیں۔

بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ غالباً ہاتھ بلند کرنے میں بیٹے کے لئے شہر سے فرار ہو جانے کا اشارہ تھا۔  جبکہ بعضوں کا یہ خیال ہے کہ مولوی صاحب نے اس وقت ہاتھ اٹھاکر خدا سے اپنی وراثت کی حفاظت کی دعا مانگا تھا کہ سچی اور نڈر صحافت کو خدا اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہر دور میں ظالم اقتدار اور اس کے جھوٹے حوارین پترکار سے لوہا لینے کے لئے ان کے جاں نشینوں کو پیدا کرتا رہے۔  تاکہ مظلومین کی آواز بھی زندہ رہے اور ظالمین و جابرین کو سچ سے ہمیشہ خوف محسوس ہوتا رہے۔

2014 کے عام انتخاب کی آمد آمد ہے ملک میں بڑی نمایاں تبدیلیاں رونماں ہونا شروع ہوگئی ہیں۔  اپنے نفع و نقصان کا اندازہ لگاتے ہوئے لوگ بڑی تیزی سے اپنی وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں۔  نہ صرف سیاسی رہنما اور تاجر بلکہ دانشور اور صحافی بھی مستقبل کے نفع و نقصان کے تخمینے کا تعین کررہے ہیں۔ ایسے میں جمہوریت کے چوتھے ستون یعنی صحافت کے حلقے سے ایک خبر گردش کررہی ہے کہ ایک معتبر انگریزی اخبار کے ایک ایڈیٹر مستعفی ہو گئے ہیں۔  سوشل میڈیا پر خبر ہے کہ اخبار کی پالیسی کے مستقبل کی حکومت سے نزیکی کے پیش نظر اس ایڈیٹر نے یہ فیصلہ لیا ہے۔  سوشل میڈیا پر یہ بھی خبر ہے کہ اس مستعفی ایڈیٹر نے ایک آن لائن نیوز پورٹل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔  اور یہ بھی کہ اسے عوامی چندے سے چلایا جائے گا تاکہ فنڈنگ کے تعلق سے کارپوریٹ مستقبل میں اپنا ایجنڈا چلانے کے لئے اس آن لائن پورٹل پرکوئی دبائو نہ بنا سکے۔  اس فیصلے کی بنیاد میں یہ حکمت عملی رہی ہوگی کہ صحافت جب آزاد اور نڈر ہوتی ہے تبھی جمہوریت کے چوتھے ستون کی ذمہ داری صحیح معنوں میں ادا کرنے لائق ہوتی ہے۔
میری مراد ’دی وائر‘ کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن سے ہے جو ان دنوں طوفان بلا خیز میں ایک درخشاں چراغ کی مانند زمانے کی ظلمت سے لوہا لے رہے ہیں۔ آج جب یہ رسم چل نکلی ہے کہ کو ئی سر اٹھا کر نہ چلے تب یہ جری صحافی ارباب اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کران سے سوال پوچھ رہا ہے۔ صاحب اقتدار بھیڑیے مظلوم و مفلس عوام کو اپنے بھدے اور کریہہ منصوبوں کے دام پھانس کر ان کا خون چوس رہے ہیں۔ تب یہ صحافی ان بھیڑیوں کی دی ہوئی لالچ اور دھمکی کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں چاق و چوبند ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ صحافیوں اور دانشوروں کی اکثریت حکومت، قومیت پسندی اور اکثریتی طبقہ کے مفاد کے ساتھ ہے اورجب سب مل کر اقلیت (خصوصاًمسلمان) کے خلاف مورچہ بند ہوکرملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کو شش میں ہیں تب ایسے میں سدھارتھ وردراجن، رویش کمار اور انہی کے جیسے گنتی کے چند سر پھرے لوگ ملک اور قوم سے غداری کے درپے کیوں کر ہیں؟ یہ لوگ اپنی صلاحیتوں کا نذرانہ ملک و قوم کی ترقی میں کیوں پیش نہیں کرتے ہیں بلکہ اس کے بر عکس یہ لوگ راہ کا روڑہ بنے ہوئے ہیں (جیسا کہ گودی میڈیا اور بھکت جنوں کا خیال ہے)۔

15 اگست 2017 کی شام دہلی کا کانسٹی ٹیوشن کلب کھچاکھچ بھرا ہوا ہے۔ ’دی وائر‘ کے اردو ورژن کے افتتاح کے موقعے سے سینئر صحافی ونود دوا، نائب صدر جمہوریہ ہند حامد انصاری صاحب سے محو گفتگو ہیں۔  حامد صاحب فرما رہے ہیں اردو صحافت اور نظموں نے آزادی کی لڑائی میں مجاہدین آزادی کے جوش و جذبے کو جلا بخشنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ لوگ ہما تن گوش ہیں۔  سدھارتھ اسی مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ برصغیر میں صحافت کی تاریخ کا آغاز مولوی محمد باقر کے دہلی اردو اخبار سے ہوا ہے اور ہمارے نزدیک بر صغیر میں صحافت کا آئیڈیل بھی وہی ہے۔ مظلوم عوام کے خلاف حکومت اور با اثر طبقے کی ہر نا انصافی اور ظلم کو اجاگر کرنا ہم اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ نڈر اور سچی صحافت نہ صرف ہماری اولیت ہے بلکہ یہی ہمارا عظیم مقصد بھی ہے۔ صحافت کے تئیں سدھارتھ کا یہ اعلامیہ کوئی خوبصورت نعرہ نہیں تھا بلکہ انہوں نے اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں نہ کسی دھمکی کو خاطر میں لایا نہ ہی کسی لالچ کو اپنے قریب پھٹکنے دیا۔  صحافت کے تئیں اپنے اسی جذبے کی وجہ کر گجرات 2002 کے مسلم کش فساد کو کتاب کی صورت میں ڈوکومنٹ کرکے نریندر مودی نفرت اوردہشت کو دعوت دینے سے باز نہیں رہا۔  دی ہندو جیسے معتبر اخبار کی ادارت کو خیرباد کہہ کر عوامی چندے سے نیوز پورٹل قائم کیا۔  امبانی، اڈانی اور امت شاہ کے ہتک عزت کے مقدمات کے آگے نہیں جھکا۔  اور اب اتر پردیش کی یوگی حکومت نے فوجداری اور غداری کے مقدمات کے ذریعہ اس کے حوصلوں کی پرواز پر بند باندھنے کی کوشش کی ہے۔

ستمبر 1857سے اب تک ملک میں ہمیشہ ہی مولانا ظفر علی خاں، محمد علی جوہر، ابوالکلام آزاد، بال گنگا دھر تلک، جی سبرامنیا اییر، کے راما کرشنا پللئی، خشونت سنگھ، کلدیپ نیر وغیرہ کی شکل میں جنم لیتے رہے۔ موجودہ ہندوستان میں سدھارتھ وردراجن، رویش کماراور اسی قبیل کے دوسرے صحافی مولوی محمد باقر کی اسی دعا کے طفیل ان کی روایت کی پیروی میں مظلوموں کی آواز ہیں۔  خدا مستقبل میں بھی محمد باقر کی اس دعا کے اثرات قائم و دائم رکھے تاکہ ظالم حکمرانوں کو احتساب کا ڈر ہمیشہ بنا رہے۔

بقول فیض:
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کو ئی نہ سر اٹھا کہ چلے
یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی
یوں ہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20