دیوار گریہ کے آس پاس از کاشف مصطفی —– تبصرہ: علی عبداللہ

0

وہ خطہ جسے عالم اسلام “فلسطین” اور مغربی دنیا “اسرائیل” کے نام سے جانتی ہے صدیوں سے ایک مقدس اور پاکیزہ سرزمین رہا ہے- بے شمار انبیاء یہاں آئے اور پھر معراج کا سفر بھی یہیں سے شروع ہوا جو انسانیت کے عروج کی لازوال مثال ہے- دنیا کے تینوں بڑے مذاہب، اسلام، عیسائیت اور یہودیت یہاں سربسجدہ ہونے کو تڑپتے ہیں- لیکن امت مسلمہ، خصوصاً پاکستان کے لیے یہ ایک افسوس ناک بات ہے کہ یہاں کے لوگ اس قدیم سرزمین پر قدم نہیں رکھ سکتے- 1948 میں اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے بعد سے اب تک عالم اسلام کے کئی دل یروشلم کا نام سن کر بے ساختہ تڑپ اٹھتے ہیں، مسجد اقصی کے دیدار سے محرومی پر آبدیدہ ہوجاتے ہیں مگر ان کے لیے ممکن ہی نہیں ہوتا کہ وہ فلسطین کی سرزمین پر پہنچ سکیں- ہاں البتہ، چند خوش قسمت مسلمان ایسے ہیں جنہیں کسی دوسرے ملک کی شہریت کی بنیاد پر اسرائیل کا ویزہ جاری ہوا تو انھوں نے وہاں کی ثقافت، حالات اور چھپے ہوئے کئی مقامات کا ذکر لکھا تاکہ جو وہاں جانے سے قاصر ہیں کم ازکم اپنے قبلہ اول اور انبیاء کی سرزمین کے بارے مفید معلومات سے آگاہ ہو سکیں- اسی سلسلے کی ایک کڑی “کاشف مصطفی” بھی ہیں جنہوں نے “دیوار گریہ کے آس پاس” کے عنوان سے اپنا اسرائیل کا سفرنامہ لکھا-

کاشف مصطفی پاکستانی ماہر امراض قلب ہیں اور جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں- صدر نیلسن منڈیلا کے معالج بھی رہے اور سیاحت کا بہت شوق رکھتے ہیں- 2017 میں ان کا سفرنامہ اسرائیل شائع ہوا جو ایک سفرنامہ تو ہے ہی سہی، مگر ساتھ ہی ساتھ ایک معلوماتی اور تاریخی دستاویز کی حیثیت بھی رکھتا ہے- مستنصر حسین تارڑ نے اس سفرنامے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا، “میں شدید احساس کمتری کا شکار ہوا کہ میرے نصیب میں ایسا شاہکار سفرنامہ لکھنا کیوں نہ تھا۔ میں اگر ان درجنوں سفرناموں کے بجائے جو میں نے لکھے صرف ایک ایسا سفرنامہ لکھ لیتا تو امر ہو جاتا۔ میں اس سفرنامہ کا کوئی حوالہ نہیں دے سکتا کہ “دیوار گریہ کے آس پاس” کی ہر سطر اس لائق ہے کہ اس کا حوالہ دیا جائے۔ اس سفرنامے میں ایسے ایسے انکشاف ہیں ایسے راز اور بھید ہیں جو مجھ پر پہلی بار منکشف ہوئے۔ ” کاشف مصطفی خود اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ، ” یہ ارض مقدس اپنے اندر ایک باشعور مجذوب سی کیفیت چھپائے بیٹھی ہے- اس کے اندر جو کچھ ہے وہ باہر والے نہ دیکھ سکتے ہیں نہ محسوس کر سکتے ہیں- بیرونی دنیا کے افراد اس سے وابستہ واحد جنون مسلسل کے پہلو سے تو سطحی طور پر آشنا ہیں لیکن سربستہ رازوں کے اس خزانے کا خود عالم اسلام کی ایک بڑی اکثریت کو بھی صحیح ادراک نہیں- اس سرزمین پر حکایت اور حقیقت کی جڑواں بہنیں اداسیوں کے بال کھولے سو رہی ہیں-”

” دیوار گریہ کے آس پاس” اس سرزمین مقدس کے لوگو‌ں، غاصبوں اور مختلف مقامات کے بارے بہترین معلومات کا ذریعہ ہے- یہ پڑھ کر پہلی دفعہ علم ہوا کہ اسرائیل میں یہود العرب(Sephardi Jews) ایک کمزور طبقہ ہے جس میں سپین اور عرب کے یہود شامل ہیں- جبکہ اشکنازی(Ashkenazi) یہودی جن کا تعلق یورپ اور روس سے ہے، دنیا بھر میں انھی کا راج ہے- یہود العرب کا حال وہاں اتنا اچھا نہیں ہے- اسی طرح ان دونوں فرقوں کے پادری بھی الگ الگ ہیں- مصنف کہتے ہیں کہ دارالخلافہ تل ابیب اسرائیل کا کراچی ہے مگر ویسا بدصورت، بے ہنگم اور بدحال نہیں- اس شہر کا شمار خوش حالی میں ابو ظہبی کے بعد پورے مشرق وسطی میں دوسرے نمبر پر ہے- تل ابیب کا مطلب “پہاڑی چشمہ” ہے اور جافا اور تل ابیب پنڈی اسلام آباد کی طرح جڑواں شہر ہیں- جافا قدیم جبکہ تل ابیب خوش حال شہر ہے- جافا کے بارے مصنف کہتے ہیں کہ یہ شہر آٹھویں صدی سے 1917 تک یعنی گیارہ سو سال تک مسلمانوں کے پاس رہا اور اس کے بعد برطانوی راج قائم ہوا، یہودی یورپ سے آنے لگے اور فسادات کا آغاز ہونے لگا- یہ شہر دنیا کا دوسرا قدیم ترین شہر ہے یعنی دمشق کے بعد قدیم ترین شہر جافا ہے-

کاشف مصطفی نے اسلامی حوالوں سے یہاں موجود کئی مقامات کا خاص ذکر کیا ہے اور اسی خاطر مشرقی یروشلم میں قیام بھی کیا- یروشلم کے بارے وہ لکھتے ہیں کہ، یروشلم(بمعنی گہوارہ امن) کا نام حضرت داؤد نے جیبس کی ایک چھوٹی بستی کو حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال قبل فتح کرنےکے بعد رکھا- اس دارالامان کا 23 مرتبہ محاصرہ کیا گیا اور 52 مرتبہ فوج کشی ہوئی جبکہ 44 دفعہ اس پر قبضہ ہوا- مصنف کہتے ہیں کہ پاکستانی شناخت پر وہاں کے مقامی فلسطینی مسلمانوں نے خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہا اور بہت خوشی کا اظہار کیا- قبہ الصخراء جسے سنہری گنبد کہا جاتا ہے اور جہاں سے نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے تھے کے بارے کاشف مصطفی لکھتے ہیں کہ اس کی ہمارے فرسٹ کزنز اہل یہود کے ہاں بڑی اہمیت ہے- وہ اسے “Mount Moriah” کے نام سے پکارتے ہیں اور اسی چٹان کو دنیا کا مقام آغاز بھی سمجھتے ہیں-

ہیکل سلیمانی کے بارے مصنف کا کہنا ہے کہ یہودی اور دیگر اسرائیل نواز استعماری قوتیں مسجد الاقصی کو گرا کر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا یہ جواز ڈھونڈتی ہیں کہ انجیل اور توریت میں یروشلم کا ذکر بشمول “zion” آٹھ سو تئیس مرتبہ آیا ہے- توریت یعنی Old Testament میں یہ ذکر 669 مرتبہ اور انجیل میں 154 مرتبہ، لیکن قران میں ایک دفعہ بھی یروشلم کا ذکر نہیں آیا- وہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کی واپسی پر حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ مل کر ایک مسجد( اقصی القدیم) تعمیر کرنے کا ذکر گول کر جاتے ہیں جس کی جانب قران حکیم نے سورہ بنی اسرائیل میں اشارہ کیا ہے- فری میسنز کے بارے بھی مصنف نے کئی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے- مزید ہیبرون، بیت اللحم، بحیرہ مردار اور قوم لوط کی برباد بستیوں کے بارے بھی مصنف نے دلچسپ انداز میں لکھا ہے- یروشلم سے نکلتے ہوئے ایک شہر جیرکو جسے عربی میں اریحا کہا جاتا کے بارے مصنف کہتے ہیں کہ یہ شہر حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے 9 ہزار سال پہلے سے آباد ہے- اس شہر میں یہودیوں کا داخلہ منع ہے- شہر سے ذرا باہر نکلنے پر ہشام بن عبدالملک کا محل ” قصر ہشام” بھی موجود ہے- عمورہ اور سدوم کے ذکر میں مصنف کا کہنا ہے کہ، پہلے میرے عرب ڈرائیور نے وہاں جانے سے انکار کر دیا کیونکہ وہاں اللہ کا عذاب آیا تھا اور نبی صل اللہ علیہ وسلم نے وہاں جانے سے روکا ہے، لیکن پھر اسے تاریخ کا رسیا ہونے کا بتایا تو وہ تیار تو ہوا مگر اس شرط پہ کہ وہ دو کلومیٹر دور رکے گا اور آگے مصنف کو خود پیدل جانا ہو گا- وہاں پہنچ کر مصنف کا مشاہدہ تھا کہ “جو گھن اور کراہت اس مقام پر محسوس ہوتی ہے وہ اور کہیں بھی نہیں محسوس ہوتی- جنس کے کاروبار والی تجارت گاہوں میں بھی جو اب بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ ہیں وہاں بھی ان کے لعنتی ہونے کا وہ احساس نہیں ہوتا جو اس مقام مکروہ پر ہوا-”

ہیبرون کا ذکر کرتے ہوئے کاشف مصطفی لکھتے ہیں کہ، ہیبرون کو عرب الخلیل کہتے ہیں- عبرانی زبان میں ہیبرون کے کئی معنی ہیں، دوستی، ملاپ- یہودیوں کے ہاں یروشلم کا درجہ مکہ مکرمہ کی طرح ہے جبکہ ہیبرون کا درجہ مدینہ طیبہ کی مانند ہے- فلسطینی عرب اسے اسلام کا چوتھا اہم شہر مانتے ہیں یعنی، مکہ، مدینہ، یروشلم اور ہیبرون- اس شہر پر مسلمان 7 سو سال تک حکمران رہے یہاں تک کہ 1967 میں اسرائیل نے اردن سے یہ چھین لیا- حضرت ابراھیم علیہ السلام کی قبر مبارک بھی اسی شہر میں ہے- یہیں حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی ازدواج محترمہ کی قبور بھی موجود ہیں- بادشاہ ہیروڈ نے دو ہزار سال قبل ان مزارات کے اردگرد ایک حفاظتی حصار بنوایا تھا جو آج بھی محفوظ ہے- اسی وجہ سے یہ تمام احاطہ اب حرم ابراھیمی اور انگریزی میں “Cave of the Patriarchs” کہلاتا ہے- سفرنامے کے آخر میں مصنف کہتے ہیں کہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے بعینہ وہی کچھ ہے جو میں نے دیکھا اور سمجھا- مزید یہ کہ اسرائیل میں نسلی امتیاز اس طریقے سے یہودیوں نے درآمد کیا ہے کہ وہ ان کی قومی زندگی کے رگ و پے میں خفیہ زہر بن کر سرایت کر چکا ہے- قومیں جب نسل و زبان کو اپنا بنیادی بانڈ بناتی ہیں تو اس میں بہت سی فرقہ بندیاں ہو جاتی ہیں-

عام مسلمانوں کا تو معلوم نہیں کب انھیں یروشلم جیسی مقدس سرزمین پر جانے کا موقعہ ملے، مگر اس سے پہلے یہ سفرنامہ آپ کو اپنے ساتھ انگلی پکڑے دھیرے دھیرے ان مقامات کی کامیابی سے سیر کرواتا ہے کہ قاری خود کو یروشلم کی قدیم پتھریلی گلیوں میں بھٹکتا ہوا محسوس کرتا ہے- کہنے کو سفرنامہ مگر یہ ایک قدیم داستان اور صدیوں کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جو قاری پر دھیرے دھیرے نازل ہو کر اسے ساتھ لے چلتی ہے- بہت کم سفرنامے ایسے ہوتے ہیں جو بار بار پڑھے جانے پر مجبور کرتے ہیں اور ان میں سے ایک یہ بھی ہے- 800 روپے قیمت کے ساتھ صفحات کی کوالٹی بھی اچھی ہے اور سرورق بھی کافی سادہ اور عمدہ ڈیزائن کیا گیا ہے-

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20