اِلَلَّذی نہ اُلَلَّذی —- ڈاکٹر بی بی امینہ

2

پچھلے ہفتے کی بات ہے، ملک کے ایک معروف نجی ٹی۔ وی چینل پر ایک خبر سنی:

“کراچی پولیس کا چور پکڑنے والا کتّا چوری”

چوں کہ یہ خبر کرونائی خبروں سے ذرا الگ تھی اس لیے دل چسپی سے سنی اور ہنسی میں اُڑا دی، لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ “ہمارا کتّا” بھی غائب ہو جائے گا، گھر سے نہیں بلکہ ہماری ضرب المثل سے۔

ہوا یوں کہ دیدی (بڑی بہن) کے میکے آنے پر ایک پر تکلف دعوت کا اہتمام ہوا، جس کے لیے سبزیاں کاٹنے اور ایک آدھ چٹنی بنانے کی ذمے داری راقمہ کے سپرد ہوئی۔ ابھی آغاز ہی کیا تھا کہ نواب شاہ کی ایک یونی ورسٹی کے شعبۂ ریاضی سے بھیجا گیا ایک پیغام موبائل کی اسکرین پر جگمگانے لگا، جو کچھ یوں تھا:

دھوبی کا کتا نہ گھر کا گھاٹ کا
اس میں کتا سے مراد “کتا” dog” ہی لیا، سمجھا اور پڑھا بھی….،
لیکن آج نئی بات علم میں آئی تو ہماری علمیت کا جنازہ نکل گیا۔۔۔۔
یہ لفظ کتّا [بضم اوّل] نہیں بلکہ کتّا [بفتح اوّل] ہےجس سے مراد کپڑے دھونے کا وہ ڈنڈا ہے، جسے دھوبی ساتھ لیے پھرتا ہے۔۔۔۔ اہلِ علم سے گزارش ہے اپنی رائے کا اظہار کریں۔

پیغام موصول ہوتے ہی اردو لغت (تاریخی اصول پر) میں یہ لفظ دیکھا۔ [اردو لغت میں اس لیے کہ ہم دونوں پر ایک دوسرے کی درستی لازم ہو چکی ہے۔ ]اس میں کتّا (بضم اوّل) کے تحت جانور کے علاوہ یہ معنی موجود تھے:

“ایک وضع کی تلوار، جو آگے سے چوڑی اور دہری دھار کی ہوتی ہے۔
کتّے کی طرح پاجی، ذلیل (ایک طرح کی گالی)
ایک گھاس، جس کے بال کپڑوں پر لپٹ جاتے ہیں۔ ۔ ۔
طالب، آرزو مند، مانگنے والا، حریص، لالچی
(کنایۃً) پیٹ، غلام، امرا کے دروازے کا دربان، رشوت خور (مجازاً) وہ پرزہ، جو کسی مشین وغیرہ کے دوسرے پرزوں کو حسبِ ضرورت روکتا ہے، گھوڑا، گیرہ وغیرہ۔”
تاہم مطلوبہ معنی (کپڑے دھونے کا ڈنڈا) نہ مل سکے۔  مزید تحقیق کے لیے وہ پیغام ایک دو اساتذہ کو بھیجا تو ایک جواب آیا:
“معنوی طور پر کتّا (بفتح اوّل) درست ہے، لیکن جہاں استعمال میں فرق ہو وہاں تحقیق و تجزیہ کر لیا جائے۔”

فوراً دیدی کو اپنی پریشانی میں شریک کیا کہ اب تک ہم جو کہتے سنتے رہے ہیں، وہ غلط ہے اور پھر پوری کہانی بیان کر دی۔  وہ بھی سارے کام چھوڑ کر باورچی خانے سے نکل آئیں اور سوچتے ہوئے کہنے لگیں، “اچھا؟ میں اپنی ساس سے بھی پوچھوں گی۔” [در اصل وہ اہلِ زبان ہیں] پھر اچانک ہی جاتے جاتے پلٹیں اور پرائمری سطح پر پڑھی ہوئی کسی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہنے لگیں، ” لیکن اس میں تو دھوبی کی تصویر کے ساتھ کتّا (dog) تھا، ڈنڈا کہیں نہیں تھا، توپھر وہ کیا تھا؟” [نہ جانے کون سی کتاب تھی؟]

اب فکرہونے لگی۔  کام تو جاری رہے البتہ گھاٹ، گاجر، کتّا، پیاز، گھر، شملہ مرچ، دھوبی، بند گوبھی، ڈنڈا اور کھیرا سب نظروں کے سامنے گھوم گھام کر خلط  ملط ہو گئے۔  تشویش میں مزید اضافہ تب ہوا جب بڑے بھائی آئے اور ساری روداد سننے کے بعد کہا، “ہاں! میں نے بھی کئی سالوں پہلے یہ سنا تھا، اینکر آفتاب اقبال اپنے پروگرام میں اس پر بحث کر رہے تھے۔ ”

بس پھر سارا دھیان جلد از جلد کام نمٹانے اور پروگرام کی طرف ہو گیا کہ کیا معلوم اس سے کوئی مستند حوالہ مل جائے اور اس سے پہلے کہ پروگرام ڈھونڈا جاتا، ایک اور استاد کا جواب موصول ہوا، جس میں انھوں نے جنازے والی بات پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی باتوں سے علمیت کے جنازے نہیں نکلا کرتے اس لیے جنازہ واپس لے آئیں کیوں کہ مردہ زندہ ہو گیا ہے۔  ساتھ ہی ضرب المثل کی جو تفصیل بتائی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ انھوں نے اسےکپڑے دھونے والے ڈنڈے کے حوالے سے پہلی بار سنا ہے۔ اردو کی مختلف اور مستند لغات میں کتا بمعنی تلوار، کتان بمعنی ایک قسم کا کپڑا وغیرہ کے الفاظ تو ملتے ہیں۔ لیکن نہ تو یہ لفظ ملتا ہے اور نہ اس کا کوئی جواز۔ ہاں کتا (dog) اس بنا پر درست معلوم ہوتا ہے کہ وہ دھوبی کے اوقاتِ کار کے دوران میں اس کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے اور گھر پر بھی، اس لیے نہ وہ گھر کا ہوتا ہے نہ گھاٹ کا۔ دو جگہوں پر اس کا وجود منقسم ہوتا ہے۔

اب کام ختم ہو چکا تھا، چناں چہ نئے سرے سے لغات اور کتابوں میں تلاش کا عمل آغاز ہوا۔  اس بار اردو لغت میں ’دھ‘ کے ذیل میں ’دھوبی‘ تلاش کیا گیا۔  اس میں نہ صرف ضرب المثل ملی، جس کے معنی ’ہر طرف سے ٹھکرایا ہوا، ناکام و نا مراد، اس شخص کی بابت کہیں گے، جسے ہر طرف سے دھتکار دیا گیا ہو‘ دیے گئے تھے بلکہ اندراج بھی یوں تھا :

“دھوبی کا کتا/گدھا گھر کا نہ گھاٹ کا”

اس کی امثال میں طلسم ِ ہوش ربا کی ایک سند کے ساتھ میر ؔ کا یہ شعر بھی درج تھا:  ؎

کتّوں کی جستجو میں ہوا روڑا باٹ کا
دھوبی کا کتّا ہے کہ نہ گھر کا نہ گھاٹ کا

پروفیسر محمد حسن کی ہندوستانی محاورے دیکھی، تو وہاں بھی کتا (dog) ہی تھا اور “ہر طرح سے گھاٹا ہونا، دونوں طرف سے محروم رہنا” کے معنی درج تھے۔  ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی کی کتاب اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ نے بھی دھوبی کے جانور تک رسائی دی۔ اب کچھ تسلی ہوئی کہ اہلِ زبان کہلانے والے بھی کپڑے دھونے والےکتّے سے بے خبر ہیں۔

اس کے بعد ایس۔  ڈبلیو۔ فیلن (S.W.Fallon) کی Hindustani-English Dictionary of Idioms & Proverbs اُٹھائی تو ضرب المثل کی وضاحت میں یہ عبارت دیکھی:

“A washerman’s dog belongs neither to the house nor to the washing place.
(From Pillar to post. Said of any person who has no fixed habitation.)”

پھر ڈاکٹر یونس اگاسکر کی اردو کہاوتیں اور ان کے سماجی و لسانی پہلو (۱۹۸۸ء) کا خیال آیا، جو لسانیات اور سماجیات کے موضوع پر بہترین تحقیقی کتاب تصور کی جاتی ہے، تو ’دھوبی‘ کی سرخی کے ذیل میں جہاں اور ضرب الامثال ملیں وہیں یہ بھی لکھا دیکھا کہ دھوبی کے ساتھ اس کے دو پالتو جانوروں کا اکثر ذکر ہوتا ہے، ایک گدھا اور دوسرا کتّا۔ [چلو “دھوبی کا کتا/گدھا گھر کا نہ گھاٹ کا” کا مسئلہ توحل ہوا] سواری اور کپڑوں کی لادی گھر سے دھوبی گھاٹ لے جانے کے لیے گدھا مفید ثابت ہوتا ہے۔ جب کہ کتے کی بابت لکھتے ہیں:

دھوبی کے کتے کے نصیب میں بھی گھر سے گھاٹ تک چکر لگانا لکھا ہوتا ہے۔  وہ نہ گھاٹ پر مستقل رہ سکتا ہے اور نہ ہی گھر پر اس کا ٹھکا نہ ہوتا ہے۔ دھوبی (اور دھوبن) گھاٹ پر جائیں تو اسے بھی ساتھ جانا ہوتا ہے اور گھر لوٹنے لگیں تو واپس آجانا پڑتا ہے۔ کسی ایک جگہ جم کے رہنا اس کی تقدیر میں کہاں؟ بے چارا ’’دھوبی کا کتّا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا‘‘

پھر ایسے ہی گوگل سرکار پر یہ مثل لکھی تو وکی پیڈیا پر [اگرچہ یہ مستند ماخذ نہیں ہے] مثل کے پس منظر کے طور پر ایک کہانی سامنے آئی، جس میں کتّے (dog) ہی کا ذکر تھا اور وہ بھی دھوبی اور دھوبن کے ساتھ گھر سے گھاٹ اور گھاٹ سے گھر جا رہا تھا اور ناکام و نا مراد اور دونوں طرف سے محروم بھی تھا، لیکن اسی گوگل کی مدد سے  شاہ عالم صاحب کا ایک مضمون بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس میں انھو ں نے اس امر کا اظہار کیا تھا:

جہاں تک ہمیں معلوم ہے یہ محاورہ درحقیقت “دھوبی کا کتکا، گھر کا نہ گھاٹ کا” تھا۔  جس میں غالبا ًکسی کاتب کی عجلت پسند طبیعت کے باعث”کتکا” کو “کتا”سے تبدیل کردیا گیا یا پھر کتوں کی شہرت نے کاتب کو ایسا کرنے پر مجبور کردیا۔۔۔۔ “کتکا” لکڑی کے اس مستطیل ٹکڑے کو کہا جاتا ہے جس سے دھوبی کپڑوں پر تشدد کرتے ہیں تاکہ کپڑوں کا اندرونی میل باہر آسکے۔

اب ‘کتکا’ کے معنی دیکھے تو اردو لغت نے ‘چوب دستی، ڈنڈا، بھنگ گھونٹنے کا سونٹا، گتگا’ بتائے لیکن کپڑے دھونے کا ڈنڈا پھر کہیں نہ مل سکا۔  شاہ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ اصل لفظ ‘ختکہ’ تھا، جو بعد میں ‘کتکا’ بن گیا۔  لغت میں ’کتکا‘ ہی کی سند میں ‘ختکہ’ کا ذکر یوں کیا گیا تھاکہ تُرک اسے ‘عصاے کوچک’ کے لیے استعمال کرتے تھے جب کہ شاہ عالم صاحب اضافہ کرتے ہیں [بغیر حوالے کے] کہ ’کتکا‘، تھاپی سے بڑا اور بھاری ہوتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ دھوبی اسے گھر نہیں لے جا پاتا اور چوری وغیرہ کے ڈر اسے کہیں چھپا دیتا ہے تاکہ اگلی صبح وہیں سے کام شروع کیا جائے جہاں سے چھوڑا تھا۔

اس بحث نے جہاں الجھایا وہیں بھولے بھلائے پروگرام کا خیال بھی آگیا اور سوچا کہ اب آفتاب اقبال صاحب کو بھی سن لیا جائے تاکہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے۔  جب انھیں سنا تو ایک نئی کہانی سامنے آئی۔  ان کے مطابق یہ کاتب کی غلطی کی وجہ سے غلط العام ہے۔ [حالاں کہ بعض اوقات غلط العام بھی زبان میں مستعمل یا رائج ہو جائے تو غلط العام فصیح کہلاتا ہے] دھوبی کے پاس کتّا (جانور) ہوتا ہی نہیں۔  [جب کہ لغت میں گدھا بھی نکل آیا تھا] یہ ‘کتّا’ (بفتح اوّل) ہے۔  یہ ایک لکڑی ہوتی ہے، جب رہٹ چلتا ہے، جس میں سے دھوبی پانی نکالتا ہے کنویں سے اور کپڑے دھوتا ہے۔ جب وہ پانی نکال چکا ہوتا ہے تو رہٹ کو روکنے کے لیے اس میں ایک لکڑی اٹکا دیتا ہے۔ اس کو کتا کہتے ہیں۔ دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا اس لیے کہا جا تا ہے کیوں کہ وہ کتا وہیں پر چھوڑ آتا ہے۔ کئی دفعہ غلطی سے گھر لے آتا ہے، جب گھر لاتا ہے تو ضرورت نہیں ہوتی۔  تو اس کے بارے میں متھ یہ ہے کہ کتے کی ضرورت گھروں پر بھی ہوتی تھی کہ کنویں اور رہٹ گھروں پر بھی ہوتے تھے اور اسی سے کھیتی باڑی بھی ہوتی تھی۔ [کبھی کہتے ہیں گھر پر ضرورت نہیں ہوتی، کبھی ہوتی ہے] تو ہوا یہ ہوگا کہ کتا ایک ہے اور دھوبی یا گھر پہ ہوتا ہے یا گھاٹ پر ہوتا ہے اور اسے اس کی ضرورت وہاں محسوس ہوتی ہے جہاں پر وہ موجود نہیں ہوتا۔ اسے کتا (بفتح اول) اور کتا (بضم اول) دونوں طرح تلفظ کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ dog نہیں ہے۔

اس کے بعد اس کہاوت کےضمن میں اور کچھ نہ ملا، تاہم درجِ بالا تفصیل کو بہ نظر غائر دیکھا تو یہ باتیں سامنے آئیں:

۱۔  اگر کپڑے دھونے والے ڈنڈے کو درست تسلیم کیا جائے تو دھوبی کا ڈنڈا گھاٹ ہی پر اس کے کام آسکتا ہے۔  گھر پر اس کا کوئی مصرف نہیں۔  جب کہ کتا یعنی جانور گھر پر بھی رکھوالی کر سکتا ہے اور گھاٹ پر بھی دھوبی کے ساتھ ہوتا ہے ۔

۲۔  آفتاب اقبال صاحب کے مطابق دھوبی کے پاس کتا ہوتا ہی نہیں۔ لیکن اگاسکر صاحب نے اپنی تحقیق پر مبنی کتاب میں نہ صرف دھوبی کے حوالے سے دو جانوروں یعنی گدھے اور کتے کا ذکر کیا ہے بلکہ ان کے کام بھی بتائے ہیں۔ اردو لغت کے اندراج میں بھی انھی دونوں کا ذکر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ضرب المثل دونوں جانوروں کے ناموں کے ساتھ مستعمل ہے۔  ایک ہی ضرب المثل میں ایک جانور کو ایک ڈنڈے سے بدل دیا جائے یہ درست معلوم نہیں ہو تا البتہ جانور(کتا اور گدھا) ایک دوسرے کا متبادل ہو سکتے ہیں۔

۳۔  جانور کے حوالے سے جتنے حوالے دیے گئے، ان میں ایک ہی جانور کا ذکر ہے۔  جب کہ ڈنڈے کے حوالے سے دو روایات سامنے آئیں، جو نہ صرف ایک دوسرے سے مختلف ہیں بلکہ ان میں ڈنڈے کی وضاحت میں بھی اختلاف ہے۔ ایک کپڑے دھونے کا ڈنڈا ہے اور دوسرا رہٹ روکنے والا۔

۴۔  شاہ عالم صاحب ‘کتکا’ کو اصل بتاتے ہیں، جو ‘ختکہ’ سے بدل کر ‘کتکا’ ہو گیا ہے۔ بات صرف ‘ڈنڈے’ تک محدود ہو تو اس کے معنی چھوٹے ڈنڈے کے تو ہیں، لیکن دھوبیوں کے استعمال میں آنے والے لکڑی کے بھاری اور مستعطیل ٹکڑے کے معنوں میں کسی لغت میں موجود نہیں۔  دوسری طرف آفتاب اقبال اولاً کتا (بفتح) کو درست مانتے ہیں اور اس کے معنی رہٹ کو روکنے والی لکڑی بتاتے ہیں۔  بعد ازاں کہتے ہیں کہ یہ اول حرف پر زبر اور پیش دونوں کے ساتھ درست ہے۔ آفتاب صاحب کے بتائے ہوئے یہ معنی فرہنگ آصفیہ اور نور اللغات میں’رہٹ کی لکڑی جو اس کے چکر کے اوپر لگی رہتی ہے’ کی صورت میں صرف کتّا (بضم اول) کے ذیل میں موجود ہیں۔ کتّا (بفتح اول) کے ساتھ کہیں بھی یہ معنی نہیں ملتے، حالاں کہ مؤخر الذکر تلفظ پر ان کازیادہ زور تھا۔  ان معنوں کا دھوبی سے تعلق ہے یہ بھی کہیں سے ثابت نہیں ہوتا۔ کتا تو اپنے مالک کے نام سے پہچانا جاتا ہے، لیکن اگر کوئی لکڑی رہٹ کو روکنے ہی کے لیے ہے اور گھر اور باہر دونوں جگہ مستعمل ہے تو صرف دھوبی کے ساتھ کیوں منسوب ہے، اسے تو کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے۔ مزید برآ ں آفتاب صاحب کے بیان میں کنویں کا ذکر بھی ہے۔ گھاٹ سے مراد دریا یا ندی وغیرہ کا کنارہ ہے جہاں دھوبی عموماً پتھر پر کپڑے مار مار کر دھوتے ہیں اور دھونے کے لیے پانی براہ راست ندی سے حاصل کرتے ہیں۔ گھر پر یا کھیتی باڑی وغیرہ کے لیے تو رہٹ استعمال ہو سکتا ہے لیکن دھوبی کےگھاٹ پر کنویں سے پانی نکالنے اور رہٹ کو روکنے کے لیے لکڑی اٹکانے کی جو کہانی آفتاب صاحب نے بغیر کسی مستند حوالے کے سنائی ہے وہ سمجھ سے بالاتر اور بعید از قیاس ہے۔

۵۔  اگرچہ شاہ عالم صاحب ضرب المثل پر بحث سے پہلے کہتے ہیں، “ایک زبان زد عام محاورہ ہے جس کا پس منظر تو الحمد للہ ہمیں بھی نہیں معلوم” لیکن پھر پس منظر بھی بیان کر دیتے ہیں۔ جس میں بتاتے ہیں کہ چوری کے ڈر سے کتکے کو گھر نہیں لے جایا جا سکتا تھا اور گھاٹ اور گھر کے علاوہ کہیں اور محفوظ مقام پر چھپا دیا جا تا تھا، تاہم اس کا حوالہ نہیں دیتے نیز “غالباً”، “جہاں تک ہمیں معلوم ہے” جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں، جس کی بنا پر شکوک و شبہات کا پیدا ہونا یقینی ہے۔

۶۔  جانور والی کہاوت کئی مستند کتابوں میں موجود ہے، جن کا حوالہ دیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں یہ ضرب المثل حقارت کے اظہار کے لیے اور آوارہ گرد کے لیے بھی مستعمل ہے۔ [بہ حوالہ فرہنگ ِ آصفیہ] دونوں باتیں جانور کے لحاظ سے تو ٹھیک ہیں، کپڑے دھونے والے ڈنڈےیا رہٹ کی لکڑی کے لیے درست قرار نہیں دی جا سکتیں۔

۷۔  اردو لغت میں نثری اسناد کے ساتھ ایک سند میرؔ کے کلام سے دی گئی ہے اور جو شعر درج کیا گیا ہے وہ ایک ہجو بہ عنوان ”در ہجو عاقل نام، ناکسے کہ بہ سگاں انسے تمام داشت” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر سمیت ہجو کے دوسرے اشعار میں بھی کتوں (جانور) کا ذکر ہے نیز عنوان بھی اسی کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔

اس تفصیل کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ کتّا جو ضرب المثل سے غائب یا خارج ہو گیا تھا اسے واپس لاکر اس کے دھوبی کے حوالے کیا جا نا چاہیے۔  اگرچہ ‘کپڑے دھونے والے ڈنڈے’ یا ‘دھوبی کے استعمال میں رہنے والی رہٹ کی لکڑی’ پر اصرار کرنے والے ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے، لیکن اگر کبھی کوئی مستند حوالہ مل جائے، تو اس پر مزید بحث ہو سکتی ہے اور کی جانی چاہیے کیوں کہ تحقیق خواہ کوئی بھی ہو کبھی حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ ہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے نہ پھیلائی جائے۔

نوٹ: قارئین سے گزارش ہے کہ اگر ‘ڈنڈے یا لکڑی’ کی بابت کوئی سند ملے تو راقمہ کو ضرور بتائیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. بہترین تحریر۔ ایک سنجیدہ تحقیقی کام کو عام فہم۔ انداز سے بیان کرنا مگر اس کے ساتھ ساتھ بیان کی شگفتگی بھی قائم رکھنا۔ یقینی طور ہر ایک کٹھن مرحلہ تھا جسے آپ نے عندہ طرییقے سے سرنجام۔ دیا۔

    علم میں اضافے کے ساتھ مزا بھی بہت آیا۔ ویسے آفتاب اقبال کو میں زیادہ سیریئس نہیں لیتا۔

  2. ڈاکٹر محمد الطاف یوسف زئی on

    مصنفہ کی شگفتہ بیانی اور واقعی کتا ہے یا کوئئ اور شے کی تجسس نے مجھے آخر تک پڑھنے پر مجبور کیا۔۔ لسانیات کی مشکل اور گنجلک مباحث کو پرخلوص ادبی تحریر بناکر اس میں شیفتگی اور بذلہ سنجی کی چٹنی اچار ملا کر خوب صورت اسلوب اپنانے پر آپ کو مبارک پیش کرتا ہوں

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20