ذاتی اقدار: خود شناسی کیلئے رہنمائی کی ایک کوشش —- ترجمہ و تدوین: وحید مراد

0

PERSONAL VALUES: A GUIDE TO FIGURING OUT WHO YOU ARE — Mark Manson

Mark Manson – Medium

مصنف: مارک میسن

ہر وقت اور ہر لمحے میں، ہمیں اس کا احساس ہو یا نہ ہو، ہم کوئی نہ کوئی فیصلہ ضرور کر رہے ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ وقت کیسے گزارا جائے، کن چیزوں پر زیادہ توجہ دی جائے اور کن پر کم۔ اگر اس وقت آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو آپ کے سامنے ان گنت دوسرے کام تھے جنہیں آپ سرانجام دے سکتے تھے لیکن آپ نے ان میں سے اس کام کو کرنا پسندکیا، ہو سکتا ہے اگلے ہی لمحے آپ کو واش روم جانے کی حاجت محسوس ہو اور آپ اس تحریر کو پڑھنے کا کام موخر کرکے واش روم چلے جائیں، یا ہو سکتا ہے آپ کا کوئی فون آجائے یا کوئی میسج آجائے اور آپ اس طرف متوجہ ہو جائیں۔ ہم میں سے ہر کسی کو جب اس طرح کی صورت حال پیش آتی ہے جس میں کئی طرح کے کام سامنے ہوتے ہیں تو ہمارا ذہن فیصلہ کرتا ہے کہ اس لمحے اس کو مختلف امور میں سے کونسا سر انجام دینا ہے اور کونسا موخر کرنا ہے۔ اور ہمارا کردار اس فیصلے کے مطابق خود بخود ایک عمل میں ڈھل جاتا ہے۔ اور ہماری اقدار، ہمارے انہی فیصلوں کے مطابق ہمارے کردار کا عکس ہوتی ہیں۔

اقدار کا شعور ہم انتہائی بچپنے کے دور میں ہی اپنے ارد گرد کے ماحول سے سیکھنا شروع کرتے ہیں، اس کا آغاز کسی چیز کے اچھا لگنے یا برا لگنے سے ہوتا جیسے ہمیں آئس کریم اچھی لگتی ہے لیکن اگر کبھی آگ سے جسم کا کوئی حصہ جل گیا ہو تو آگ کے پاس جانا برا لگتا ہے، کھلونے سے کھیلنا، ایک پتھر سے کھیلنے سے زیادہ بہتر محسوس ہوتا ہے، اس طرح کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ تو یہ راحت کا احساس اور تکلیف کا احساس ان اقدار کا نقطہ آغاز ہوتا ہے اور پھر جیسے جیسے ماحول کے بارے میں بچے کا علم بڑھتا ہے تو ان احساسات کی کئی اشکال سامنے آتی ہیں جو اس بچے کی شناخت کی اساس بن جاتے ہیں۔ اور ماحول کی کوئی چیز اس بچے کے تجربے کی زد سے نہیں بچ سکتی، وہ ہر چیز کو اپنے تجربے میں لا کر یہ دیکھتا ہے کہ وہ چیز اسکے لئے کس قدر راحت کا سامان رکھتی یا کس قدر تکلیف کا احساس رکھتی ہے۔ پھر جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہیں ان تجربات میں کسی قدر کمی آتی جاتی ہے کیونکہ وہ تجربات جو ہمارے لئے راحت کا کم سامان رکھتے ہیں وہ ہمارے نئے تجربات سے خارج ہوتے چلے جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ ہمیں محسوس ہونے لگ جاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز کا تجربہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ دنیا بہت بڑی ہے۔

اس عمر میں پہنچ کر ہمارا ذہن کچھ اصول وضع کر لیتا ہے کہ زیادہ تر کس قسم کی چیزوں کو تجربے میں لانا ہے اور کن چیزوں سے دور رہنا ہی زیادہ بہتر ہے۔ اس طرح کے اصول ہم عام طور پر اپنے والدین، اساتذہ اور ماحول سے بھی سیکھتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر ہمارے اپنے ذہن اور تجربات کی پیداوار ہوتے ہیں جیسے ہم خطرناک، عجیب و غریب اور ڈرائونی چیزوں سے دور رہتے ہیں اور جن چیزوں سے اپنائیت ہو ان سے قربت میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ ہم اپنے والدین، رشتہ دار، دوستوں سے گھل مل جاتے ہیں لیکن اجنبی لوگوں سے فاصلے پر رہتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی ہم بچپن سے لڑکپن کے دور میں داخل ہوتے ہیں تو یہ اقدار زیادہ مجرد اور نفیس شکل اختیار کرنے لگتی ہیں۔ مثلاًبچپنے میں ہمیں آئس کریم پسند ہوتی ہیں تو ہمیں جہاں نظر آئے اٹھا کر کھا لیتے ہیں لیکن لڑکپن میں ہمیں وہ آئس کریم تو اتنی ہی پسند ہوتی ہےلیکن اگر وہ ہمارے حصے کی نہ ہو تو دوسروں کی اجازت کے بغیر اسے اٹھا کر نہیں کھاتے کیونکہ ہمیں دوسروں کی ناراضگی، ڈانٹ یا سزا ملنے کا خوف ہوتا ہے۔ بچپن میں ہمیں جن چیزوں سے مزا آتا ہے ہم کسی کو خاطر میں لائے بغیر انکے حصول کی طرف لپکتے ہیں اور جن سے مزہ نہیں آتا ان سے دور بھاگتے ہیں لیکن لڑکپن میں ہماری پسند اور ناپسند۔ ، اقدار اور اصولوں کی شکل اختیار کرنے لگتی ہے اور ہمیں ان اصولوں کو معاملات زندگی میں برتنے کا شعور بھی آنے لگتا ہے جو بچپن میں نہیں ہوتا۔ لڑکپن میں اس بات کا شعور آجاتا ہے کہ ہر عمل کا مثبت یا منفی نتیجہ مرتب ہوتا ہے اور جب بھی کسی عمل کے دوران ہماری خواہشات کا دوسروں کی خواہشات سے ٹکرائو ہوتا ہے تو ہمیں دوسروں کے ساتھ، معاشرے کے مروجہ اصولوں کے مطابق معاملات طے کرنا پڑتے ہے ورنہ ہمیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ہم سیکھتے ہیں کہ کس طرح گفت و شنید اور معاملہ فہمی سے دوسروں کے ساتھ مطابقت اور ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے اور کس طرح ہماری اپنی اور دوسروں کی خواہشات کو کچھ لے اور کچھ دے کی بنیاد پر ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے اگر ہم یہ نہ سیکھیں تو ہماری اور دوسروں کی زندگی اجیرن ہوجائے۔ اس ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ بچپن میں ہم زندگی کا کھوج، مزے اور تکلیف کے احساس کے پیمانے سے لگاتے ہیں۔ ہم مزے کی طرف لپکتے ہیں اور تکلیف سےدور بھاگتے ہیں اور کسی قسم کی ہم دلی اور ہمدردی کا شعور نہیں ہوتا لیکن بڑے ہو کر ہم یہ سیکھتے ہیں کہ ہمارے ہر عمل کا ہماری اور دیگر لوگوں کی زندگی پر براہ راست یا بالواسطہ، فوری طور پر یا مستقبل میں، اچھا یا برا نتیجہ مرتب ہوتا ہے اور باہمی تبادلے، سمجھوتے، سودے بازی اور توازن کے بغیر زندگی کے معاملات احسن طور پر نہیں چلائے جا سکتے۔ بچپن والے مزے اور تکلیف کے احساس کا پیمانہ اب بھی ذہن میں ہوتا ہے لیکن اب یہ براہ راست فیصلوں میں منعکس ہونے کی بجائے بالواسطہ طور پر سمجھوتے، سودے بازی ، سماجی ضابطوں اور اصولوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اور ہم اپنا ہر منصوبہ اور فیصلہ ان سماجی ضابطوں اور اصولوں کے مطابق ہر کرتے ہیں۔ یہ بچپن کے اصولوں میں ایک بہتری یا اصلاح کی ایک شکل ضرور ہے لیکن ایک کامل شکل نہیں ہے کیونکہ تبادلے کے ذریعے توازن کے اس اصول کی خامی یہ ہے کہ ہر چیز میں سودے بازی کرنا پڑتی ہے مثلاً میں ہر وہ کام کروں گا جس میں میرےباس کی خوشنودی شامل ہے کیونکہ بصورت دیگر مجھے مراعات سے محروم ہونا پڑے گا، میں اپنی پڑھائی دل لگا کر کروں گا ورنہ اچھی نوکری نہیں ملے گی، میں اپنے ماں باپ کی فرمابنرداری کروں گا کیونکہ بصورت دیگر مجھے مال، جائیداد وغیرہ میں وہ حصہ نہیں ملے گا جو میرے دیگر بہن بھائیوں کو مل سکتا ہے، سچ بولنے کی بجائے، جھوٹ بول کر دوسروں کو خوش کرنا پڑے گا ورنہ جب لوگ مجھے ایک اچھا اور عمدہ آدمی نہیں سمجھیں گے تو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

سمجھوتے اور سودی بازی کا آغاز تو اس خوف سے ہوتا ہے کہ مبادا دوسرے لوگ ہم سے ناراض ہو جائیں گے یا ہمارے بارے میں منفی رویہ رکھیں گے لیکن اس اصول کو اپنانے کے بعد ہماری زندگی کا ہر عمل اس سمجھوتے اور سودےے بازی کے تصویر بن جاتا ہے۔ یہ زندگی بھی کیا زندگی میں جس میں انسان کا اپنا کچھ بھی نہ ہو سب کچھ دوسروں کو دیکھ کر، دوسروں کو خوش رکھنے کی خاطر، دوسروں کی خواہشات کے تابع رہ کر کرے۔ ذہنی اور جذباتی لحاظ سے ایک صحت مند اور بالغ انسان تو وہ ہوتا ہے جو سمجھوتے اور سودے بازی کی سطح سے اوپر اٹھ کر ان سے زیادہ بہتر اخلاقی اصولوں کو اپنائے۔ لیکن عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بالغ وہ شخص ہوتا ہے جو اچھی جاب حاصل کر چکا ہو یا کم ازکم اسکے حصول کیلئے تیار ہو، صفائی ستھرائی رکھتا ہو، لباس اور گھر کی تزئین و آرائش کا اچھا ذوق رکھتا ہو، لین دین اچھی طرح جانتا ہو، روپے پیسے کا حساب کتاب رکھنا جانتا ہو اور معاملہ فہم ہو وغیرہ۔ یہ بات درست ہے کہ ایک بالغ آدمی میں یہ سب باتیں پائی جانا ضروری ہیں لیکن یہ وہ اوصاف نہیں جو ایک بالغ کو ایک بچے سے ممتاز کرتے ہوں یا کسی نابالغ کو بالغ بناتے ہوں۔ ایک نابالغ بچے کو بھی اگر ان امور کی ٹریننگ دے دی جائے تو وہ ان امور کو بخوبی سر انجام دےسکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سارے امور، سمجھوتےاور سودےبازی کے اصولوں کی ہی مختلف شکلیں ہیں لیکن ایک وقت کے بعد ہر انسان کو یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ پوری دنیا سےسودی بازی کا معاملہ نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہم اپنی زندگے کے ہر گوشے میں اس اصول کو لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ یقیناً اپنے ماں باپ، بہن بھائی، بیوی، بچوں اور پیارے دوستوں سے محبت کے جذبے کے معاملے میں کون سودے بازی کرنا چاہے گا؟اگر آپ کسی کو سودے بازی کے ذریعے آپ سے محبت کرنے کو کہیں گے تو کون مانے گا؟اسی طرح اگر آپ چاہیں کہ چاپلوسی اور خوشامد کے ذریعے دوسروں کو اس بات کا قائل کرلیں کہ وہ آپ کی دل سے قدر کرے یا آپ کو دل سے عزت دے تو ایسا ممکن نہیں۔ اسی طرح کیا ہم ساز باز کرکے حقیقی خوشی حاصل کر سکتے ہیں ؟ایسا ممکن نہیں۔ کچھ لوگ خود بالیدگی اور خود نموئی کیلئے دوسروں سے مشورے لے رہے ہوتے ہیں، ان کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی مجھے کامیابی کے گر بتا دے تو ان پر عمل کرکے یقیناً خوش و خرم زندگی گزاری جا سکتی ہے لیکن جوں جوں وہ ان گروں پر عمل پیرا ہوتے ہیں حقیقی خوشی اسی قدر ان سے دور بھاگ رہی ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہو اکہ دنیا کی سب سے اہم اور قیمتی متاع پر نہ سمجھوتا اور سودے بازی ہوتی ہے اور نہ اسے کسی چالاکی، عیاری اور ساز باز سےحاصل کیا جا سکتا ہے۔

Related imageجو لوگ دنیا وی کامیابیوں کو صرف سمجھوتوں، سودے بازیوں اور گروں سے سمیٹنا چاہتے ہیں، ایک وقت آتا ہے کہ وہ اپنی جذباتی زندگی میں بالکل تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ انسان کی جذباتی زندگی پر، سودے بازی کے اصولوں کے زہریلے اثرات پڑتے ہیں اور ان اصولوں کی بنیاد پر بننے والے رشتے نہ دیر پا ہوتے ہیں اور نہ ان سے حقیقی آسودگی حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح دوسروں کے خیالات اور خواہشات کا پیروکار کبھی اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ جس طرح ایک نوجوان کو جوانی میں قدم رکھتے ہی بچپنے کے اصولوں کو خیر آباد کہنا پڑتا ہے اسی طرح ایک بالغ کو بلوغت میں قدم رکھتے ہی لڑکپن کے اصولوں (سمجھوتہ، سودے بازی، خوشامد، پیروی، مقبولیت، منظوری، توثیق، جواز کاری، تسکین وغیرہ) کو بلوغت کے اصولوں سے بدلنا پڑتا ہے ورنہ وہ کبھی بالغ کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا۔ بلوغت دراصل اس احساس، شعور اور فہم کا نام ہے کہ حق، سچائی اور راستی بذاتہ اصول ہیں، انکو کسی سہارے، دلیل، منظوری، توثیق اورجواز وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور ایک بالغ آدمی کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت حق کو حق سمجھے اور برائی کو برائی سمجھے۔

ایک نوجوان بھی ایمانداری اور دیانتداری کو اچھا سمجھتا ہے لیکن اس نے یہ سیکھا ہوتا ہے کہ ایسا کہنا مفید ہے اور مقبول فعل ہے لیکن جب اسے اس سلسلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ڈانٹ اور نقصان نظر آتا ہے تو سچائی اور جھوٹ کو گڈ مڈ کرنے لگتا ہے، مبالغہ آرائی کرنا لگتا ہے اور اگر شدید نقصان کا خوف ہو تو سفید جھوٹ بھی بول دیتا ہے اور اپنے اولیں فیصلے پر قائم نہیں رہ پاتا۔ لیکن جب ایک بالغ سچائی، راستی اور دیانتداری کو اپناتا ہے تو اسے اس بات کا شعور ہوتا ہے کہ سچائی، مزے اور تکلیف سے زیادہ اہم ہے، یہ کسی مقصد کے حصول سے زیادہ اعلیٰ و ارفع ہے، یہ بذات خود اہم اور انمول چیز ہے۔ اسی طرح جب ایک لڑکا محبت کا اظہار کرتا ہے تو اس جذبے کے پیچھے کچھ خواہشات چھپی ہوئی ہوتی ہے اور یہ کسی نہ کسی چیز سے مشروط ہوتا ہے ، اس محبت کا اظہار اگر کسی بڑے سے ہو تو کسی چیز کے حصول کی خواہش ہوگی، استاد سے ہو تو علم کے حصول کی خواہش ہوگی، کسی ہم عمر سے ہو تو کسی چیز کے تبادلے کی خواہش ہوگی، مخالف صنف سے ہو تو جنسی خواہش ہوگی وغیرہ۔ لیکن جب ایک بالغ محبت کا اظہار کرتا ہے تو اسکے پیچھے لین دین، کسی چیز کے حصول کی خواہش نہیں ہوتی بلکہ صرف یہ سوچ اور جذبہ ہوتا ہے کہ انسان کو دوسرے انسانوں، ماحول اور کائنات کی ہر چیز سے محبت سے پیش آنا چاہیے۔ ایک نوجوان بھی فیاض اور مہربان ہو سکتا ہے لیکن جب وہ فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحفے، تحائف دیتا ہے یا کسی کی حمایت کرتا ہے تو اسکے پیچھے یہ خواہش ہوتی ہے کہ کسی موقع پر کسی نہ کسی شکل میں اسے بھی انکا بدلہ ملے گا لیکن جب ایک بالغ سخاوت، فیاضی یا مہربانی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اسکی یہ خواہش اور امید نہیں ہوتی کہ اسکے بدلے میں اسے بھی کچھ ملے گا بلکہ وہ اس لئے کرتا ہے کہ اسے اس بات کا شعور ہوتا ہے کہ یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو بالغ انسان بناتی ہیں۔

اب ذرا دوسرے پہلو پر ایک نظر ڈالئے۔ جب ایک بچہ کوئی پسندیدہ چیز چراتا ہے تو اسکی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ چیز اسے پسند ہوتی ہے لیکن میسر نہیں ہوتی اور وہ اس عمل کے انجام سے بے خبر ہوتا ہے۔ اسے اسکی پرواہ نہیں ہوتی کہ جب اسکی چوری کا راز افشا ہوگا تو کیا نتائج نکلیں گے لیکن جب ایک نوجوان ایسے کسی عمل سے پرہیز کرتا ہے تو اسکی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس عمل کے نتائج سے آگاہ ہوتا ہے اسے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس عمل کے نتائج سے عزت و آبرو کا جو نقصان ہوگا اسکی قیمت اس چیز سے کہیں زیادہ ہوگی اس لئے وہ اس عمل سے باز رہتا ہے اسے اس بات کا بھی شعور ہوتا ہےکہ آج کا معمولی فائدہ مستقبل کے بڑے نقصان سے بہتر نہیں ہے اور یوں وہ حال اور مستقبل میں ایک سودے بازی کرکے برے عمل سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے۔ لیکن ایک بالغ صرف اس لئے چوری نہیں کرتا کہ اسے اس بات کا شعور ہوتا ہے کہ سچائی اصل ہے اور برائی اصل نہیں ہے، چوری ایک برائی ہے اور اگر یہ پکڑی نہ بھی جائے، کسی کو اسکی خبر نہ بھی ہو تو بھی یہ ایک برائی ہی رہے گی اور اس برائی کا ارتکاب خواہ کسی بھی سطح پر کیا جائے اسکا احساس جرم ویسا ہی رہے گا۔

اب آپ کو یقیناً اس بات کا احساس ہو چلا ہوگا کہ دنیا بھر میں چلنے، پھرنے والے انسانوں کی ایک بڑی اکثریت یا تو بچپنے کی زندگی گزار رہی ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ لڑکپن کی۔ اور ہو سکتا ہے بہت سے لوگ ایسےبھی ہونگے جن کو بچپنے میں شمار کرنا بھی مشکل ہو، انہیں “بڑی عمر کے بگڑے ہوئے بچے “کہنے سے زیادہ شاید کچھ نہ کہا سکے۔ آخری بار آپ کی کسی بالغ سے کب ملاقات ہوئی ہے؟؟

یہ ایک المیہ ہے کہ (مجھ سمیت) انسانوں کی اکثریت عمر کے ابتدائی حصے سے، درمیانی، بڑے اور آخری حصے کی طرف منتقل ہو رہی ہے لیکن بالغ نہیں ہو رہی۔ اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس ہجوم میں سے ایک بڑی اکثریت کو بچپنے کی زندگی اور اسی دور کے اصولوں پر ہی جمے رہنے پر اصرار ہے۔ اور جو اس سے اوپر اٹھتے ہیں وہ لڑکپن اورجوانی کے حسین دور میں ہی محو خواب رہتے ہیں۔ بچپن میں ہمیں ہر مزیدار چیز اچھی لگتی اور ہر ناگوار چیز بری لگتی ہے اور ہمارے بڑے بھی ہمیں یہی سکھاتے ہیں۔ خاموش اور تمیز سے رہنے پر ہمیں انعامات سے نوازا جاتا ہے اور بدتمیزیاں کرنےپر سزا دی جاتی ہے۔ اور اس اصول کے پیچھے بڑوں کی یہ سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ اگر بچوں کو بچپن میں تمیز نہیں سکھائیں گے تو بڑے ہو کر تمیز نہیں سیکھیں گے اور پھر انکو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، بڑی عمر میں ان سے کوئی دوستی نہیں کرے گا، کوئی منہ نہیں لگائے گا، کوئ ان کے ساتھ کام نہیں کرے گا اور پھر اگر تمیز سیکھیں گے بھی تو بہت کچھ کھو کر سیکھیں گے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بد تمیز بچے کو بڑے ہو کر ہر قدم پر مذاق، تمسخر، جملے بازی، کنارہ کشی وغیرہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسکی تکلیف، من مانی کے مزے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن جسکو خوش اخلاقی پر انعامات اور بدتمیزی پر سزا کے اصول سکھا دئے جاتے ہیں وہ بھی تو زندگی کا ایک بڑا حصہ صرف انہی دو اصولوں کے مطابق گزار دیتا ہے اور خود شناسی کی وادی میں قدم ہی نہیں رکھ پاتا لیکن اس سے کم ازکم یہ امید تو رکھی جا سکتی ہے کہ وہ ان دو اصولوں کے بعد سمجھوتہ اورلین دین کے اصول سیکھے گا اور پھر شاید سچائی اور راستی کے اصول کی طرف بھی کبھی دھیان چلا جائے لیکن جن بچوں کے والدین صرف سزا دینے اور ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ کے اصول پر تکیہ کئے رکھتے ہیں ان کے بچے کوئی سا اصول بھی نہیں سیکھ پاتے کیونکہ سزا عموماً بےدلیل ہوتی ہے کبھی معمولی غلطی پر بہت بڑی سزا اور کبھی بہت بڑی غلطی پر کوئی سزا نہیں۔ اس لئے اس قسم کے ماحول میں پرورش پانے والا بچہ کسی قسم کا کوئی اصول بھی نہیں سیکھ پاتا اور عموماً اسکی جوانی اور بلوغت کا دور بھی بچپنےکے جیسا ہی ہوتا ہے۔ اور اس قسم کے ماحول میں پرورش پانے والا بچہ اگر حساس طبیعت کا ہو تو اسکے اور بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اندر کے نفسیاتی کرب اور اذیت کو بھلانے کیلئے کسی لت میں پڑ جاتا ہے اور یہ لت کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہیں اس میں نشہ، جوا، شراب، آوارہ گردی، فحاشی، چوری، جنسی بے راہ روی شامل ہیں۔ یہ سب چیزیں اس کرب کو وقتی طور پر بھلا دیتی ہیں جو بار بار اسکے ذہن میں آکر اسے تکلیف کا احساس دلاتا ہے۔ ذرا بڑے ہو کر ایسے بچے اپنے سے چھوٹوں اور کم زوروں پر تشدد کرکے اپنے آپ کو اور دوسروں کو اپنی شناخت اور اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔

جو لوگ بچپنے کے اصولوں(مزہ اور تکلیف) سے نکل بھی جاتے ہیں تو وہ سمجھوتے، سودے بازی دستکاری اور ہنرمندی کے اصولوں میں پھنس جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ان اصولوں میں بڑے مشاق اور ہنر مند ہوتے ہیں اور انکی شخصیت بھی بظاہر بہت سحر انگیز ہوتی ہے اور قدرت کی طرف سے انکو اپنی یہ صلاحتیں آزمانے کے مواقع بھی بھرپور ملتے ہیں تو وہ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ پوری دنیا ہی سودے بازی کی دنیا ہے، یہ صرف چالاکی، عیاری اورشعبدہ بازی کا کھیل ہے۔ اس دنیا میں ہر کسی کو اس ہنرمندی سے اپنا بنایا جا سکتا ہے۔ انکی نظر میں حقیقی محبت، سچائی، راستی اور اعتماد صرف الفاظ ہوتے ہیں جنکو کمزور، ڈرپوک اور بھولے لوگ اصول سمجھتے ہیں۔

اچھے والدین، اساتذہ، بزرگ اور باشعور بالغ افراد کا فرض ہے کہ وہ بچپن اور لڑکپن کے مذکورہ اصولوں کے سامنے کبھی ہتھیار نہ ڈالیں، انہیں کبھی مجبوراً تسلیم نہ کریں، ان سے کبھی عاجز نہ آئیں، کبھی انکے مطیع نہ ہوں، اور کبھی ان کے سامنے سر نہ جھکائیں۔ اور انکو چاہیے کہ نوجوانون کو باور کرائیں کہ سمجھوتے اور سودے بازی کے اصولوں سے تشکیل پانے والا کردار تو ایک نہ ختم ہونے والا شیطانی چکر ہے اسکے ذریعے آپ اپنی چالاکی اور عیاری سے دنیا سے بہت کچھ وصول کر سکتے ہیں لیکن ان سے حقیقی محبت، سکون، راحت، راستی اور اعتماد حاصل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ سب اقدار کسی چیز سے مشروط نہیں ہوتیں۔ اعتماد صرف دوسروں پر اعتماد کرکے حاصل ہوتا ہے، محبت صرف دوسروں سے بے لوث محبت کرکے حاصل ہوتی ہے، حقیقی عزت صرف دوسروں کو عزت دینے سے حاصل ہوتی ہے یہ کوئ مشروط سودا نہیں ہے۔ جو والدین اور بڑے اس سلسلے میں ناکام ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ خود اب تک بچپن اور لڑکپن کے دور میں زندہ ہیں، وہ خود اب تک دنیا کو سودے بازی کی نظر سے دیکھنے کے عادی ہیں، وہ خود محبت کا سودا جنسی اختلاط سے کرتے ہیں، خلوص اور پریم کو جسمانی ملاپ اور رغبت تک محدود سمجھتے ہیں، رومانس کیلئے خوشامد اور چاپلوسی کو معمول سمجھتے ہیں۔ جب تک بڑے، بچپن کی اخلاقیات سے باہر نکل کر بلوغت کے دور میں داخل نہیں ہونگے بچے اورنوجوان ان سے کیا سیکھیں گے؟

بچے اور نوجوان اس قسم کے بڑوں سے یہی سیکھیں گے کہ ہر مطلب براری کیلئے ایک مخصوص قسم کا لب و لہجہ اور مخصوص قسم کا بناوٹی کردار چاہیے چنانچہ ایسے ماحول میں پرکشش شخصیت بننے، جاذب نظر آنے، دوسروں کا دل چرانے کیلئے وہ یہی گر سیکھیں گے کہ کیسا لباس زیب تن کیا جائے، کیسا بنائو سنگھار کیا جائے، کیسے کیسے عطریات اورپرفیومز کا استعمال کیا جائے، کس سلیقےسے گفتگو کی جائے وغیرہ وغیرہ اور بڑے ہو کر بھی یہی سمجھیں گے کہ تمام انسانی تعلقات صرف ادلے کا بدلہ Tit for tat ہوتے ہیں۔ دوستی، قربت، بے تکلفی کی حیثیت انکے نزدیک ایک اداکاری اور ڈرامے سے زیادہ نہیں ہوگی جس میں باہم دگر صرف ذاتی فائدے کے حصول کیلئے شناسائی ہوتی ہے۔ کیونکہ جس بچے کو اسکول کے دنوں میں صرف اس لئے ذلیل ہونا پڑا ہو کہ اسکے اچھے گریڈ نہیں آتے تھے، اسے مختلف اوقات اور تقاریب کے مطابق لباس پہننے کا سلیقہ نہیں تھا، اسکی چال ڈھال اسمارٹ نہیں تھی، وہ مخالف صنف میں مقبول نہیں تھا، اسے دوستوں، یاروں کے ساتھ نبھانا نہیں آتا تھا اس سے بڑے ہونے پر آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں، وہ تو کئی دہائیوں تک اسکی کرب کا اسیر رہے گا اور نتیجتاً اس شیطانی چکر سے باہر نہیں آ پائے گا۔

ماڈرن جمہوریت اس مفروضے پر تخلیق ہوئی تھی کہ آج کا انسان صرف خواہشات کا اسیر ہے، اور اس مفروضے کے تحت یہ یقین کر لیا گیا کہ، تمام لوگوں کو ایک جمہوری پولیٹیکل و سوشل سسٹم کے تحت، باہم دگر، ما تحت اور مقفل کر دیا جائے تو ہر کوئی اپنی اپنی خواہشات کو تو پورا کر لیا کرے گا لیکن اس سے کسی دوسرے کو آزار پہنچنے کا احتمال نہیں رہے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ سودے بازی کے اس شیطانی چکر کو ختم کرنے، اصل اقدار کے مطابق معاشرے کے سدھار کیلئے کسی نہ کسی کو تو ذمہ داری لینا ہوتی ہے جو ہر کسی میں نہ صحیح، کم ازکم باشعور لوگوں میں ایک اعتماد پیدا کر سکے، صحیح اخلاقی اقدار پر خود جم جائے اور دوسروں کو ایسا کرنے کا حوصلہ دے اور سچ بات تو یہ ہے کہ یہ خود شناسی اور خود تعمیری کا ہی ایک عزم ہے اور اس کا حصہ وہی لوگ بنتے ہیں جن میں پہلے سے ایک جذبہ، ایک چنگاری موجود ہوتی ہے۔ بلوغت کی اخلاقی قدریں ہی وہ قدریں ہیں جن کو فضیلت اور راستبازی کہا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایک آجر کو ایک مزدور اور ورکر کے مسائل کا ذمہ لینا چاہیے، ایک مالک کو نوکر اور خانسامے کے گھر کی خبر گیر ی کرنی چاہیے، ایک استاد کو اپنے فارغ اوقات میں اپنے پیچھے رہ جانے والے طالب علموں کی معمول سے ہٹ کر تعلیم و تربیت کرنی چاہیے، ایک دوست کو اپنی دوستی دائو پر لگاکر ایک دوست کو صحیح مشورہ دینا چاہیے۔ ہم سب ان قدروں کو مقدس سمجھتے ہیں اور اس لئے بھی مقدس سمجھتے ہیں کہ ہمارے ارد گرد کہیں بھی یہ قدریں پائی نہیں جاتیں، ہم خود بھی اپنے آپ کو ان پر عمل درآمد کے اہل نہیں سمجھتے۔ ہم خود بھی ہمیشہ کہیں نہ کہیں سودے بازی اور سمجھوتے کی لڑکپن والی اخلاقیات میں ہی پھنس جاتے ہیں۔ جب بھی ہمیں کوئی ایسا موقع میسر آتا ہے جہاں ان میں سے کسی قدر پر عمل کرنے کی بات آتی ہے تو ہم یہی سوال کرتے ہیں کہ اس سے مجھے کیا ملے گا؟ اس سے مجھے کتنی رکعت کا فائدہ ہوگا؟ ہمارے لئے یہ جانچنا بہت ہی مشکل عمل ہے کہ ان اقدار کے معیار کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں، ہمارا شمار کہاں ہوتا ہے، بچپنے کے دور میں، لڑکپن میں یا بلوغت میں؟ کیونکہ ہمارے پاس ہمارے ہر عمل کا جواز اور دلیل موجود ہوتی ہے۔ ہم جوئے میں ہر دائو ہار رہے ہوں تو بھی زبان سے یہی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ابھی میں ایسا چھکا ماروں گا کہ سب واپس آ جائے گا، ہم اپنے خیالات اور محسوسات کے اسیر ہوتے ہیں اور طفل تسلیوں پر ہی یقین کر لیتے ہیں۔ خیالات، محسوسات اور توجیہات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن اعمال مستقل حیثیت رکھتے ہیں اس لیے یہ جانچنے کیلئے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، کن اقدار پر یقین رکھتے ہیں؟ اس کے لئے ہمیں اپنے اعمال اور ریوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر ہمیں یہ دعویٰ ہے کہ ہم ازدواجی زندگی میں خلوص اور دیانتداری کی اقدار پر یقین رکھتے ہیں اوراسکے ساتھ ساتھ ہم اپنے بہت سے اعمال کو اپنے شریک حیات سے اوجھل بھی رکھنا چاہتے ہوں یا دوسرے فریق کو کرید کرید کر اسکے خفیہ اعمال کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہوں یا ان کی عدم موجودگی میں موبائیل فون کی کالز اور میسجز کو ٹٹول ٹٹول کر انکے خفیہ اعمال جاننا چاہتے ہوں تو ہمارے یہ رویے اس بات کی گواہی دینے کیلئے کافی ہیں کہ ازدواجی زندگی میں خلوص اور دیانتداری کی اقدار پر ہمارا یقین برائے نام ہے اور بدقسمتی سے ہم بچپنے یا لڑکپنے کی اخلاقی اقدار کے حصار میں ہی ہیں یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم کسی ایک معاملے میں تو شاید اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر جمے ہوئے ہوں لیکن دیگر معاملات میں بیچ میں لڑھک رہے ہوں جیسے بہت سے لوگ اچھے دوست ہوتے ہیں لیکن اچھے والدین نہیں ہوتے، کچھ لوگ اچھے والدین ہوتے ہیں لیکن اچھے پروفیشنلز نہیں ہوتے، کچھ لوگ ہر معاملے میں غیر معقول ہوتے ہیں لیکن بہت نتیجہ خیز Productive ہوتے ہیں۔ ہم سب کا بلوغت اور عدم بلوغت کا اپنا اپنادائرہ ہوتا ہے، کہیں ہم بلوغت کا ثبوت دیتے ہیں اور کہیں عدم بلوغت کا۔ جذباتیت کا شکار لوگ عموماً بچپنے یا لڑکپن کے دور کے ہی اسیر ہوتے ہیں۔ آگے بڑھتے ہوئے ناکامیوں کا سامنا نہ کرنے کی صورت میں وہ بچپنے کے دور میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ ایک ماں آزاد اور خودمختار ہو جانے والے بچوں سے باقاعدگی کے ساتھ فون نہ کرنے پر اس لئے ناراض ہو جاتی ہےکہ اسکے ذہن میں تبادلے کا اصول پیوست ہوتا ہے اور اسے اپنی مامتا اور محبت کا بدلہ اسکی توقع کے مطابق نہ ملنے کی صورت مشتعل کرتا ہے، ایک دوست اپنی محبوبہ سے اور اسکے بالعکس دوسری صورت میں بھی سفید جھوٹ اس لئے بولا جاتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سےحاصل ہونے فائدے سے محروم نہیں ہونا چاہتے۔ ہمارے اپنے حوالے سے ہماری اپنی ذاتی اقدار کے حوالے سے یہ جاننے کیلئے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنا محاسبہ خود کریں اور اپنے ہر رویے کا خود جائزہ لیں۔ ہمارے وہ رویے جو ہمارے اپنے لئے یا دوسروں کیلئے تکلیف کا باعث ہیں، جنہیں ہم مسلسل جھوٹ بول کر چھپاتے ہیں یا جن رویوں کیلئے ہم ہمیشہ معافی کے خواستگار ہوتے ہیں وہ لازمی طور پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اقدار کی نچلی سطح پر یقین رکھتے ہیں۔ جھوٹ، عذر داری اور بار بار کی معافی کی درخواستیں بدیہی طور پر ہماری خودغرضی کا اظہار ہوتی ہیں۔ پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کسی شخص یا کسی چیز سےاپنے مطلب کے نتائج کا حصول ہی سودے بازی یا لین دین کہلاتا ہے۔ اسی طرح کسی کے سامنے وہ کچھ بولنا جسے وہ سننا چاہتا ہے یا وہ عمل کرنا جسے وہ ہوتا ہو ا دیکھنا چاہتا ہے، جوڑ توڑ ہے لیکن اتفاقی طور پر آپ کے کسی اظہار کا کسی کیلئے خوش کا باعث بن جانا ایک دیانتدارانہ عمل ہے کیونکہ آپ اپنا ما فی الضمیر بیان کر رہے ہوتے ہیں وہ کچھ لوگوں کیلئے خوشی کا باعث بھی ہو سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کچھ لوگ اس سے اتفاق نہ بھی کریں۔ مذکورہ جوڑ توڑ اور دیانتدارانہ طور پر ما فی الضمیر کے اظہار میں ایک موہوم سا فرق ہے جسے عام طور پر صحیح طور پر سمجھا نہیں جاتا۔ وہ رویے جو ٹھوس اخلاقی اقدار اور اصولوں پر مبنی ہوتے ہیں جن کیلئے ہم ہر طرح کی تکلیف گوارا کرنا بھی برداشت کرتے ہیں اور بعض اوقات انتہائی مشکلات سے بھی دوچار ہوتے ہیں اور جن پر ہمیں یقین کامل ہوتا ہے کہ وہ اصول و اقدار کسی خاص موقع اور محل یا کسی خاص مقصد کے حصول کیلئے نہیں ہوتے بلکہ انکی حیثیت آفاقی ہوتی ہے وہ اخلاقی اقدار اور اصول، بلوغت کے اعلیٰ درجے کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہی اقدار اور اصولوں کے ساتھ زندگی گزارنا اور انکے بغیر زندگی گزارنا ہی بلوغت اور عدم بلوغت میں واضح امتیاز ہے اور ہمارے رویوں کی ان اصولوں اور اقدار سے مطابقت اور عدم مطابقت ہی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم بلوغت اور پختگی کے کس معیار اور کس درجے پر کھڑے ہیں۔ ان اخلاقی اصولوں اور اقدار کو اپنے رویوں کے اندر لانے کے بعد ہمیں اصل خوشی اور طمانیت حاصل ہو جاتی ہے پھر ہمیں نہ کسی ذہنی و نفسیاتی معالج کے پاس جانے کی ضرورت باقی رہتی ہے اور نہ کسی جھاڑ پھونک اور ٹونہ ٹوٹکہ کرنے والے کے پاس جانے کی ضرورت رہتی ہے۔

ماڈرن جمہوریت اس مفروضے پر تخلیق ہوئی تھی کہ آج کا انسان صرف خواہشات کا اسیر ہے، اور اس مفروضے کے تحت یہ یقین کر لیا گیا کہ، تمام لوگوں کو ایک جمہوری پولیٹیکل و سوشل سسٹم کے تحت، باہم دگر، ما تحت اور مقفل کر دیا جائے تو ہر کوئی اپنی اپنی خواہشات کو تو پورا کر لیا کرے گا لیکن اس سے کسی دوسرے کو آزار پہنچنے کا احتمال نہیں رہے گا۔ اس نظام سے انسانوں کے درمیان سیاسی، معاشی اور معاشرتی سطح پر ایک سودے بازی، معاملہ فہمی، اور لین دین کے رویوں نے جنم لیا جنہوں نے ایک فرد سے لیکر ایک معاشرے تک اور ایک حکومت سے لیکر بین الاقوامی اداروں تک ہر کسی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس سسٹم میں ہر شخص، گروہ، پارٹی، قوم، ملک اور علاقے کا مفاد، خوشی اور خواہشات دوسرے شخص، گروہ، پارٹی، قوم اور ملک کے مفاد، خوشی اور خواہشات سے زیادہ اہم ہوتے ہیں نتیجتاً پوری انسانیت بچگانہ قسم کی اخلاقیات کی اسیر ہو کر رہ گئی ہے۔ انتہا پسندی، ماردھاڑ، تشدد، عسکریت پسندی وغیرہ بھی اسی لین دین اور سودے بازی کے اصولوں کی پیداوار ہیں۔ متشدد، انتہاپسند اور عسکریت پسند وہ ضدی بچے ہوتے ہیں جو صرف اپنی مرضی کے تحت سودے بازی کرنا چاہتے ہیں۔ انکے نزدیک اعلیٰ اخلاقی اصولوں اور اقدار کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی وہ ہر انسان اور ہر چیز کو صرف اور صرف اپنے مقصد کے حصول کی خاطر کسی بھی آگ میں جھونکنے کیلئے ہر وقت تیا ر ہوتے ہیں۔ ان انتہاپسندوں کے حوالے سے رائیٹ اور لفٹ، مذہبی اور غیر مذہبی وغیرہ کی تمیز نہیں کرنی چاہیے کیونکہ انتہا پسند خواہ کسی بھی عقیدے یا نظریے کا ماننے والا ہو وہ اپنے مقصد کے حصول کیلئے کسی بھی اصول اور قدر کو پھلانگنے کیلئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ اور جب کوئی سچائی اور راستی کا ساتھ دینے کے بجائے اخلاقی اصولوں کو روندنے کیلئے ہر وقت تیار ہو تو اسے “ضدی بچے” کے علاوہ کونسا نام دیا جا سکتا ہے؟ دنیا بھر کا میڈیا بھی انہی لوگوں کیلئے ہی نظریہ سازی کا کام کرتا ہے، انہیں زیادہ سے زیادہ کورج دیتا ہے، کاروباری ادارے بھی انہی شعبوں میں زیادہ سےزیادہ سرمایہ کرتے ہیں کیونکہ اس سے زیادہ منافع کی توقع ہوتی ہے اور انہیں معلوم ہے کہ بچگانہ خواہشات کو انتہا پر لےجانا ہی کاروبار کی بڑھوتری کی دلیل ہے۔ خواہشات کے اسیر لوگ تو اس نشہ کرنے والے کی طرح ہوتے ہیں جو نشے کے حصول کی خاطر نہ صرف اپنا جسم اور جان بیچنے یا دائوں پر لگانے کیلئے تیار ہوتا ہے بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول کا بھی ستیاناس کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اگر اسکے عوض اسکی کوئی چھوٹی سے چھوٹی خواہش بھی پورا ہونے کی کوئی امید ہو۔

فائدے اور نقصان، مسرت اور عدم مسرت کے اصولوں کے حوالے سے شاید کچھ لوگ یہ دلیل پیش کریں کہ مسرت کے حصول یا عدم مسرت سے دوری میں کیا مضائقہ ہے یہ تو انسانی کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ فائدے اور مسرت کی طرف لپکتا ہے اورعدم مسرت سے دور بھاگتا ہے لیکن یہاں بات صرف مسرت کے حصول یا عدم حصول کی نہیں ہو رہی۔ بات یہ ہے کہ جو شخص بچگانہ اخلاقی اصولوں (مسرت، عدم مسرت) کی بنیاد پر زندگی گزار رہا ہوتا ہے وہ ان اصولوں کو اپنی شناخت، خودداری، خود توقیری اوراپنی محسوسات کی بنیاد اور پیمانہ بنا لیتا ہے۔ جب اور جس قدر اسے لذت اور مسرت محسوس ہوتی ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اسکی شناخت، عزت اور توقیر میں اسی قدر اضافہ ہوا ہے اور جس قدر اس لذت یا مسرت میں کمی آتی ہے اسی قدر اسے محسو س ہوتا ہے اسکی شناخت، عزت، توقیر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مسرت کے حصول یا عدم حصول میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن اسکو اپنی شخصیت اور شناخت کی بنیاد بنا لینے میں یقینا برائی ہے کیونکہ اگر مجھے اپنے وجود کا احساس ہی صرف اس وقت ہوتا ہو جب میری کوئی ادنیٰ سی خواہش کی تسکین ہوتی ہو تو اس سے زیادہ اور بچگانہ بات کیا ہوگی؟ بلوغت کا معیار تو یہ ہے کہ مجھے اپنے وجود کا شدت کے ساتھ احساس اس وقت ہو جب میرے کسی رویے سے کسی اعلیٰ اخلاقی اصول اور قدر کا اظہار ہو اور مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہو جب مجھے اس میں ناکامی ہو۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بچگانہ اخلاقی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے والوں کو پند و نصائح سے بلوغت کی طرف لایا جا سکتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں ، وہ ایک مثال ہے کہ چور، چوری سے تو جا سکتا ہے لیکن ہیرا پھیری سے نہیں جاتا اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ آپ ایک شرابی اور نشوئی کو صحت کے نقصان کی اور ایک جواری کو پیسے کے نقصان کی نصیحت کرتے رہیں وہ اپنے عمل سے کبھی باز نہیں آئے گا اسی طرح آپ ہیرا پھیری کرنے والے کو دیانتدارانہ عمل اور رویے اپنانے کی لاکھ ترغیب دیں وہ اس پر عمل نہیں کرے گا۔ جبتک اسکا بچگانہ شعور ہیرا پھیری کے عمل سے لذت حاصل کرتا رہے گا وہ اسی شیطانی چکر کا اسیر رہے گا ہاں اگر اسکو خود سے اس بات کا احساس ہو جائے کہ یہ ایک بچگانہ عمل ہے اور اس سے جان چھڑانے کیلئے وہ خود آمادہ ہو تو پھر اسے اس چکر سے باہر آنے کے مواقع بھی قدرت سے مل ہی جایا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پندونصائح کی بجائے جو چیز بہت کارگر ہے وہ ہمارا دوسروں کے بارے میں رویہ ہے۔ اگر ہم چور، شرابی، جواری یا متشدد اور کٹر شخص کے ساتھ بغیر کسی غرض کے اچھا برتائو کریں تو وہ اس سے اچھا اثر ضرور لیتا ہے۔ یا ایسے لوگوں سے متعلقہ لوگوں کے بارے میں اگر انہیں احساس دلایا جائے کہ انکی وجہ سے ان پر کیا برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں تو پھر بھی کسی حد تک اسکا اثر ہوتا ہے جیسے کسی چور، شرابی، جواری وغیرہ کو یہ باور کرایا جائے کہ اسکے اس عمل سے اسکے بچوں پر کیا برے اثرات مرتب ہو سکتے ہین تو وہ اسکا کسی قدر اثر ضرورلیتا ہے۔ لیکن ان تمام مسائل کی اصل جڑ یہ ہے کہ اس طرح کے مسائل میں پڑے ہوئے لوگوں کا مائنڈ سیٹ ایسا بن جاتا ہے کہ محسوس بدلے کے بغیر وہ کوئی کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے، وہ ہر کام کو کرتے وقت صرف یہی سوچتے ہیں کہ اسکے بدلے میں انہیں کیا ملے گا؟ دیانتدار، ایماندار، مخلص، راستباز بننے سے کیا حاصل ہوگا؟ اس لئے یہ سب چیزیں ان کیلئے بے معنی ہو جاتی ہیں۔ جو لوگ بظاہر کسی غیر اخلاقی برائی یا جرائم وغیرہ میں نہیں پڑے ہوتے وہ بھی سوچتے اسی انداز سے ہیں، انکا مائنڈ سیٹ بھی وہی ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی نوجوان جاب چھوڑنے کا خطرہ اس وقت تک موہ نہیں لے گا جب تک کہ اس کے بدلے میں اسے کوئی زیادہ پرکشش جاب کی آفر نہ ہو، وہ باس کی کڑوی کسیلی باتیں سنتا رہے گا، کمپرومائز کرتا رہے گا، کام میں بے ایمانی، کام چوری کرتا رہے گا، باس کی جھوٹی خوشامد کرتا رہے گا لیکن جاب نہیں چھوڑے گا۔ وہ محبت کے جذبے کا اظہار اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک اس کو اس بات کا یقین نہ ہو کہ اسکے بدلے میں پرکیف لمحات میسر آ سکتےہیں یا تعلقات کو انجوائے کیا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے خیالا ت اور ما فی الضمیر کا اظہار اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک اس کو اس بات کا یقین نہ ہو کہ ان کو سراہا جائے گا اور اسے کسی کی خوشنودی حاصل ہوگی۔ یعنی وہ دنیا کی ہر چیز کو صرف بدلے اور بارگینگ کی نظر سے دیکھے گا اور اگر بارگینگ نہیں کر پائے گا تو پھر خود کو کوسے گا اور مایوسی کا شکار ہوگا اور بعض اوقات یہ مایوسی خود کشی کی آخری حد تک پہنچ جائے گی۔ کیونکہ بارگینگ میں اسکو ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا ہوتا اسے ہر صورت میں وہ بدلہ چاہیے جو ٹرانزکشن کے وقت اسکے ذہن میں موجود ہوتا ہے۔ اسکے نزدیک بدلے میں ناکامی اور موت ایک ہی چیز ہے۔ اس لئے بدلے اور بارگینگ کے اخلاقی اصولوں پر چلنے والے مائنڈ سیٹ کیلئے بدلے کے بغیر زندگی بے معنی ہو جاتی ہے۔ لیکن بلوغت میں قدم رکھنے کیلئے جو بنیادی شر ط ہے وہ خود آگہی اور خود شعوری و خود شناسی ہے۔ ایک بالغ شخص کوئی اچھا کام اس لئے نہیں کرتا کہ اسکے بدلے میں اسے کیا فوائد حاصل ہونگے بلکہ وہ اس لئے کرتا ہے کہ اسے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہ انسانیت کا شرف ہے۔ ایک بالغ شخص کے ہر فیصلے میں شعور اور خود شعوری کا عمل ظاہر ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تکلیف پر قابو پانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اس سے متاثر نہ ہوا جائے، وہ یہ بھی جانتا ہے کہ صداقت اور حق کا ساتھ دیکر تکلیف اٹھانے کا مزہ، باطل کا ساتھ دیکر مزے لوٹنے سے زیادہ بہتر ہے، وہ جانتا ہے کہ انسانیت سے بے غرض محبت کی وجہ سے کچھ گنوانا ، اس محبت میں پڑے بغیر کچھ بچا لینے سے زیادہ بہتر ہے۔ وہ کسی بدلے کی یافت میں ناکامی کی وجہ سے موت کو منہ نہیں لگاتا بلکہ وہ اعلیٰ اقدار اور اصولوں پر استقامت سے جمے رہتا ہے خواہ اس سلسلے میں کتنے ہی مصائب اور تکالیف کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے اور ان مصائب کو جھیلتے ہوئے خواہ موت ہی کیوں نہ آجائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20